Skip to content
Home » Social media writers » Page 148

Social media writers

Wehshi lams novel by Fatima Kazmi

  • by

کک کون ہو تُم؟

میں کون ہو اور یہ سب کسے

پتہ چلا اُسکی ایک شرت ہے

کک کون سی؟

نکاح کرنا ہوگا تھمے مج سے

نکاح؛؛؛؛؛؛؛ نن نہیں

تُم بتاتے ہو یا نہیں جسی ہی

حمز کی گرفت ہلکی ہوئی

ڈیانا نے گن اسکے ماتے پر رکھی

بتاؤ مجھے کون ہو تُم!!!!!!!

ہاہااہاہاہا اتنی جلدی نہیں نہیں

میں مار دوگی تھمے بتاؤ!!!!!!

چلاؤ گولی fire ،،،،،،

ڈیانا نے گن چلائی مگر کچھ نا

ہوا

ٹک ٹک ٹک گن کی آواز

یی یہ چل کیو نہیں رہی

ڈیانا حیرت سے گن کو دیکہنے لگی

گولیوں والی جگہ اوپن کی تو

اُسکے اندر ایک بھی گولی نہیں

تھی

ہاہااہاہاہا کیا ہوا اتنی کام عقل

کسے ہو سکتی ہو تُم

یہ رہی ساری گولیوں ہمزہ نے

اُسکی آنکھوں کے سامنے سے وہ

ساری گولیوں بہت ونڈو سے باہر پھینک

دی

تھمے میں ،،،،،، ڈیانا غصّے میں ۔اگے

اہی

صبر صبر ابھی اپنے پارٹنرز کی تو

جان بچا لو

Pukar by Fatima Ali Complete novel

  • by

“تت تم” وہ ہکلائی۔ “کیوں لائے ہو مجھے یہاں اور میرے بال” وہ ارد گرد بکھرے اپنے بال دیکھ کر پسینے میں نہا گئی۔

“بڑا غرور تھا تمہارے بالوں کو تمہارے جسم کا حصہ ہونے پر ” وریشہ کو وہ اس وقت کوئی ذہنی بیمار شخص لگا جو اپنی ناکام حسرتوں کا بدلہ اس سے لینا چاہتا ہو۔

اسے اپنا آپ چھڑانے کی کوششیں کرتا دیکھ اسفند بہت لطف اندوز ہورہا تھا۔ جلد ہی کھردری رسی سے اس کی کلائیاں اور پیر چھل گئے اور خون رسنے لگا۔

اسفند آگے بڑھا اور ایک گونج دار تھپڑ وریشہ کے گالوں پر ثبت کیا۔

درد کے مارے وریشہ کی چیخیں نکل گئیں مگر ان ساؤنڈ پروف دیواروں سے آج کوئی آواز باہر نہ جانے والی تھی۔ یا شاید باہر کھڑے وفادار ملازم اندھے بہرے اور گونگے تھے۔

اسفند نے کھینچ کر اس کا دوپٹہ جسے وہ ہمیشہ اپنے سر پر سجائے رکھتی تھی اتارا۔ وہ اسے تکلیف دینے سے زیادہ تڑپانا چاہتا تھا۔

وریشہ چلائی

“خدا کیلیے مجھے چھوڑ دو… مم مججھے جانے دو

“میرے بابا۔ وہ یہ صدمہ جھیل نہیں پائیں گے۔ تم نے مجھے تھپڑ مارنے ہیں؟ مار لو۔ میرے ہاتھ توڑ دو پاؤں توڑ دو۔ مگر میری عزت میرے پاس رہنے دو۔ میرے پاس بس یہی ہے ” اس کے پاس واقعی اب عزت ہی بچی تھی۔

اسفند اسے تڑپتا دیکھ مزید خوش ہوا۔

“اور؟ ” اسفند نے اس کی آنکھوں میں جھانک کر سوال کیا۔ جیسے جاننا چاہتا ہو وہ اور کتنی منتیں کر سکتی ہے۔

“اور پلیز …دیکھو تمہیں کتنا پیسہ چاہیے میں دینے کو تیار ہوں” وہ اس کی مالی حیثیت سے بخوبی آگاہ تھی مگر پھر بھی یہ بول رہی تھی۔

“ہاہاہاہاا میں تمہاری سات نسلیں خرید سکتا ہوں وریشہ بی بی۔ عزت بنانا چاہتا تھا تمہیں اپنی اور تم نے ۔۔۔ “

اسے تھپڑ والی بات دہرانا اپنی ہتک لگا۔

اس نے آگے بڑھ کر اس کی کلائیاں اور پیر کھول دیے وریشہ اٹھ کر دروازے کی طرف بھاگی مگر وہ باہر سے لاکڈ تھا۔ وہ چلائی اور ہذیانی انداز میں دروازہ کھٹکھٹانے لگی۔ جواب نہ پا کر وہ پلٹی اور اسفند کو زور سے دھکا دیا۔

اسفند حملے کیلیے تیار تھا۔ آج وہ ہر متوقع صورتحال کیلیے تیار تھا۔ فورا سنبھلا اور پھر سے ایک زور دار تھپڑ رسید کیا۔ وریشہ تاب نہ لاتے ہوئے دور جا کر گری۔ اس کا سارا جسم کانپ رہا تھا مگر وہ پھر سے اٹھی اور اسفند کے چہرے پر ناخنوں سے وار کیا۔ سفند نے اس کی زخمی کلائیاں مروڑ کر اسے زمین پر پھینکا۔ وہ اس کی مزاحمت ختم کرنا چاہتا تھا۔

زمین پر گری ہوئی وریشہ ہولے ہولے کانپ رہی تھی جب اسفند نے اسے گریبان سے پکڑ کر اٹھایا۔ اس کا ننھا منھا سا وجود ہوا میں لہراتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ ہتک کے مارے وریشہ کا دل چاہا وہ زمین میں گڑ جائے مگر اذیتوں کے اندوہناک دور سے اسے ابھی گزرنا تھا۔

اسفند اس کی طرف بڑھا تو وہ نہیں نہیں چلاتی پیچھے ہٹنے لگی جلد ہی وہ دیوار سے جا لگی۔ اس نے جھک کر اسفند کے پاؤں پکڑے آج وہ ہر حد تک جانا چاہتی تھی مگر اسفند نے اسے اٹھا کر پھر سے زمین پر پٹخا۔ یہ آخری حملہ تھا۔ اس کی مزاحمت دم توڑ چکی تھی۔

Dilon ki dastan by Fatima Noor Complete novel

  • by

صبح کا ٹائم تھا۔سب اٹھ گئے تھے۔۔انہیں کب سے گیس کی بدبو آ رہی تھی۔۔ریان نے کچن میں جا کر چیک کیا تو گیس لیک ہو رہی تھی۔۔اسے گڈبڑ لگی۔۔کچھ عجیب سا ہوا۔۔اچانک سے اس کے دماغ میں کچھ کلک ہوا۔۔

باہر نکلو سب جلدی جلدی۔۔”ریان لاؤنج میں آ کر چلایا۔۔

کیوں بھائی۔۔”شیراز نے پوچھا۔۔

ٹائم نہیں ہے بتانے کا۔نکلو۔۔”وہ سب بوکھلا کر لاؤنج سے باہر نکلے۔۔

شیراز ان سب کو گھر سے دور لے کر چلو۔۔” ریان کے کہنے پر وہ سب مین گیٹ سے باہر نکلے اور اریب حمید بابا کو لیتا مین گیٹ پار کر گیا۔۔

سب آ گئے ہیں۔۔” ریان نے باہر نکل کر پوچھا۔

نہیں ماما اندر ہے وہ آرام کر رہی تھی۔۔”عائشہ آگے بڑھ کر بولی۔۔

کیا۔۔ریان اس سے پہلے واپس مڑتا کہ اک زوردار دھماکہ ہوا۔۔ان کا آشیانہ بکھر گیا۔۔اور آگ نے پورے گھر کر لیپیٹ میں لے لیا۔۔

چاچی جان۔۔”۔ ریان چیخا۔۔

قندیل اور عائشہ ساکت نظروں سے سامنے کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔وہ آج صیح معانوں میں یتیم ہوئی تھی۔۔وہ ہوش میں آتی گھر کی طرف بھاگی۔۔شیراز نے قندیل اور ماہ بیر نے عائشہ کو پکڑا۔۔

ماما ہماری ماما۔وہ چلی گئی۔”دونوں روتے ہوئے بولی اور زمین پر بیٹھ گئی۔۔ایمن نے شہرام اور ہیر نے ملائکہ کو پکڑا ہوا تھا۔۔وہ سب رو رہے تھے اپنے اس نقصان پر۔

سب کی آنکھوں میں سعدیہ بیگم کے ساتھ گزرے لمحے گزر رہے تھے۔۔ہیر کی نفرت میں اور اضافہ ہو گیا تھا شہیر ملک کے لیے۔۔

Gum hain hum tery pyar main by Abdulahad Butt Complete Season 1

  • by

” کون ہو تم اور کیوں لائے ہو مجھے یہاں پر ؟ ”
سادان اس شخص کی طنزیاتی آواز سنتا ہوا ایک لمحے میں ہوش میں آیا تھا۔۔۔۔ اس نے غصے سے پھنکارتے ہوئے کہا تو سامنے کھڑا شخص طنزیہ مسکرایا اور اس کی آواز صاف طور پر سادان درانی کے کانوں تک پہنچی تھی۔۔۔۔!
” میں کون ہوں ؟ دیکھنا چاہتے ہو تم ؟ ”
ایک آواز اس کے کانوں میں آئی تو سادان نے حیرانگی سے اس پرچھائی کی طرف دیکھا جو اندھیرے میں نظر آ رہی تھی!!!
وہ ایک لمحے میں ہی سادان کے بالکل سامنے آیا لیکن اندھیرا اس قدر چھایا ہوا تھا کہ سادان اب بھی اس شخص کا چہرہ دیکھ نہیں سکا تھا۔۔۔۔
” بوم !!! ”
اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے سادان کے تو جیسے ہوش ہی اڑ سے گئے تھے۔۔۔۔! اس نے کبھی بھی نہیں سوچا تھا کہ سامنے کھڑا شخص وہ ہو گا۔۔۔ جب کہ مقابل کی طرف ایک شوخ آواز اسے سننے کو ملی تھی۔۔۔۔
” و۔۔ج۔۔د۔۔ان ت۔۔م ؟ ” ( وجدان تم )
سادان نے حیرت انگیز انداز میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے حیرانگی سے بھرپور لہجے میں کہا۔۔۔ اس کےکچھ الفاظ تو اس کے گلے میں ہی اٹک گئے تھے۔۔۔۔
جب ہی ڈان یعنی کہ وجدان درانی ایک قہقہ لگا گیا۔۔۔۔
” نو نو نو !!! وجدان نہیں ہوں میں یہاں پر ! یہاں پر تو میں ڈان ہوں۔۔۔۔ وجدان تو میں درانی ہاؤس میں یوں تمھیں شائید معلوم نہیں ہے”
وجدان کے اس روپ کو دیکھتے ہوئے ادان کے رونگھٹے کھڑے ہو گئے تھے۔۔۔۔۔ جیسے اسے اپنی آنکھوں اور کانوں سے سنی ہوئی باتوں پر یقین ہی نا آ رہا ہو !!!
” م۔۔طل۔۔۔ب ؟ ” ( مطلب )
وہ حیرانگی سے سوال کر گیا۔۔۔۔

Adamzad or Bintehawa novel by Umaima Shafeeq Qureshi

  • by

“زارون چلو گھر چلتے ہیں۔”یہ وہی جانتی تھی کہ اس نے یہ بات کیسے کہی تھی۔

“ٹھیک ہے تو چلتے ہیں۔پہلے تمہاری غنڈی کزن کے ہاتھ کی چائے تو پی لوں۔”

“اپنے گھر جا کر نا اپنی معصوم بیوی کے

ہاتھ کی کافی پی لیجیے گا۔”انارا نے تڑک کر جواب دیا تھا۔

“تم مجھے گھر سے نکال رہی ہو؟”زارون نے بےیقینی سے پوچھا تھا۔

“ہاں نکال رہی ہوں۔”اس کے جواب پر وہ جل بھن گیا تھا۔

“مجھے پینی بھی نہیں ہے تمہارے ہاتھ کی بدمزہ چائے۔جا رہا ہوں میں…!”زارون نے اٹھتے ساتھ کہا تھا۔

“اگر اتنے ہی غیرت مند ہیں نا تو واپس اس گھر کا رخ مت کیجیے گا۔”انارا نے شان بےنیازی سے کہا تھا۔

“چند پیسے کیا آ گئے ہاتھ میں،لوگ خود کو پتا نہیں کیا سمجھنے لگ گئے ہیں؟”اسے ایک گھوری سے نوازتے زارون نے اپنی گاڑی کی چابی اٹھائی تھی۔ذکیہ بیگم نے اسے روکنے کی بھرپور کوشش کی تھی مگر وہ داریاء کا ہاتھ پکڑے جا چکا تھا۔اس کے گھر سے جانے کے بعد انارا نے مسکرا کر اپنے ہاتھ جھاڑے تھے۔زندگی اپنے معمول پر لوٹ آئی تھی۔ان دونوں کی دشمنی کا آغاز پھر سے ہو چکا تھا۔

Woh meri qismat ka sitara novel by Noor Baig

  • by

حورین تمہیں پتہ ہے جب تمہاری کال ائی تو میں کتنا ڈر گیا تھا۔ اگر میں وقت پر نہ پہنچتا یا میں نہ فون اٹھاتا تو کیا ہوتا تم کس کو کہتی ؟

حورین پوری انکھیں کھولے حیرانگی سے عباس شاہ کو دیکھ رہی تھی۔ یہ تو کوئی اور عباس شاہ تھا یہ وہ نہیں تھاجس کو وہ دیکھتی ا رہی تھی۔۔۔۔”مجھے پتہ ہے تم حیران ہو” لیکن میں ان مردوں میں سے نہیں ہوں جو اپنی بیویوں پہ ہاتھ اٹھاتے ہیں یا پھر اپنی انا کی تسکین کے لیے ان کو نیچا دکھاتے ہیں۔ ہاں میں تیار نہیں تھا اس سب کے لیے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ میں اس کا بدلہ تم سے لیتا۔ مجھے یہ بات کہنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں ہو رہی کہ تم نے پہلے دن سے ہی میرے دل میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ بس میں یہ کہنے سے ہچکچار رہا تھا یا پھر میں خود پہ بھی یہ بات ظاہر نہیں کر رہا تھا لیکن اج مجھے لگا کہ مجھے کہہ دینا چاہیے ۔یہ کہتے ہوئے اس نے ایک گہری سانس لی جیسے اپنے اپ کو تیار کر رہا ہو کہ وہ اس کو کہہ سکے ۔۔۔۔میں تم پہ یقین کرنا چاہتا ہوں حورین میں چاہتا ہوں کہ میں تمہارا ہاتھ پکڑوں اور سب پریشانیوں کو بھلا دوں۔ لیکن ایک برے تجربے نے میرے دل میں میاں بیوی کے رشتے کو لے کر جو گرہ لگائی ہے وہ پتہ نہیں کیوں لیکن وہ کھل نہیں پا رہی اور میں چاہتا ہوں کہ ہم دونوں مل کے اس رشتے کو ٹھیک کریں۔ میں تمہارے ساتھ ایک خوشحال اور بہت اچھی زندگی گزارنا چاہتا ہوں لیکن میں فوری طور پر اس پہ عمل نہیں کر پا رہا لیکن میں چاہتا ہوں کہ تم میرا یقین کرو اور میرا ساتھ دو۔ تھوڑا وقت لگے گا حورین لیکن مجھے یقین ہے کہ اس وقت میں تم میرے ساتھ ہوگی اور اگے بھی ہم بہت اچھی اور خوشحال زندگی گزاریں گے ۔اس نے یہ کہتے ہوئے حورین کی طرف دیکھا۔ “کیا تم میرا ساتھ دو گی

Khataey bashar novel by Bakhtawar Ismail

  • by

دل میں ارزو جاگ رہی ہے

انسان خطاؤں کے پتلے بن رہے ہیں

دن بدن انسان سرکشی کی حد پار کر رہا ہے

روزانہ لاکھوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے

ہم صرف دیکھ رہے ہیں

خواہشات کو پورا کرنے کے لیے ہر غلط کام کر رہے ہیں

ہر زبان پر جھوٹ ہے

ہر گناہ عام ہے

نام کے مسلمان بڑھ رہے ہیں

ہر کسی کے دو چہرے ہیں

اب ایسا ماحول بن گیا ہے کسی پہ یقین نہیں ہوتا کہ یہ وہی ہے یا اس کا دوسرا چہرہ ہے!

Woh kon thi novel by Asma Afzal 

  • by

وہ پالر کی ڈریسنگ مرر کے سامنے کرسی پہ بیٹھی ہوئی تھی۔اور بیوٹیشن لڑکی بڑی مہارت سے آئی شیڈو لگارہی تھی۔اس نے آج لال رنگ کا کامدار لہنگا پہنا ہوا تھا۔میک آپ تقریبا ختم ہو گیا تھا۔بال آپ اپنی مرضی سے بنوائے گئی بیوٹیشن نے لب سٹک کا آخری ٹچ دیتے ہوئے پوچھا۔نہیں آپ اپنی مرضی سے دیکھ لے جو میری میک اپ لک کے ساتھ سوٹ کرے۔رودابا نے موبائل اٹھاتے ہوئے جواب دیا۔موبائل کی سکرین پلے کرتے رودابا کے چہرے پہ ایک خوبصورت سی مسکراہٹ آئی۔جب سے رودابا پالر آئی تھی۔یہ مسکراہٹ ہر دو منٹ کے بعد آنے والے میسج اور کال کے بعد آرہی تھی۔میڈم آپ چاہیں تو پہلے بات کرلے بیوٹیشن نے رودابا کے چہرے پہ ہر دو منٹ بعد آنےوالی مسکان دیکھ کر کہا۔نہیں آپ بنائیں بال میں بعد میں بات کرلوں گئی۔رودابا کے ہونٹوں پہ شرمیلی مسکراہٹ آئی جیسے چوری پکڑی گئی ہوں۔رودابا کا ارادہ اپنے ہونے والے ہسبنڈکو کو ترپانے کا تھا