Skip to content
Home » Social media writers » Page 150

Social media writers

Mehram namehram novel by M. Mughal

  • by

کیس بہت بڑا ہے ۔اور ہرنے کا خطرہ زیادہ ہے ۔مجھے ہرنے کا تو ڈر نہیں لیکن اس میں مشکلات بہت ہیں ۔۔اس نے پریشانی سے بتایا ۔۔۔

ایسا کیا کیس ہے ۔۔۔اس نے تجسّس سے پوچھا

گرلز سمگلنگ کیس ہے ۔۔۔احمد رضا کی تحقیق کے مطابق سب سے زیادہ لڑکیاں انڈیا اور پاکستان سے سپلائی ہوتی ہیں۔اور سپلائی ہوکر آئلی آتی ہیں ۔پاکستان کے ایک بلڈر عاطف بلوچ کی بیٹی آج سے چار مہینے پہلے غائب ہوئی تھی لیکِن پولیس کا کہنا ہے کہ وہ گھر سے اپنی مرضی سے بھاگی تھی ۔لیکن عاطف صاحب نے اس بات کو منع سے انکار کر دیا کیونکہ ان کی بیٹی کی ایک ماہ بعد شادی تھی اور ان کے مطابق وہ اس شادی سے خوش بھی تھی ۔۔اس لیے انہوں سے یہ کیس ڈیٹکٹوو احمد رضا کی حوالے کیا ۔۔دو مہینے احمد رضا نے اس کیس پر کام کیا ۔اس نے عاطف بلوچ کی بیٹی کی آخری لوکیشن چیک کی تو وہ کراچی کے ایک بندر گاہ کی تھی ۔۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ عاطف بلوچ کی بیٹی کے غائب ہونے کے بعد سترہ لڑکیاں اور عاطف بلوچ کے علاقے سے غائب ہوئیں ۔حیرانی تو مجھے تب ہی کہ سب کی آخری لوکیشن وہ بندر گاہ ہی ہے ۔۔احمد نے بندر گاہ میں چھان بین کروائی تو اس کو کوئی ثبوت نہیں ملا ۔۔پھر آج سے پندرہ دن پہلے ہی عاطف بلوچ کے پاس ایک کال آئی ۔وہ کال ان کو ان کی بیٹی نے کی تھی ۔۔۔اور پتا ہے کہاں سے ؟ ۔۔اس ہی پاس والی شوپ سے ۔۔ایڈی نے سامنے والی ایک چھوٹی سی جوس کی شوپ کی جانب اشارہ کرتے کہا

وہ جو بلکل سنجیدگی سے ساری بات سن رہا تھا کہ اس کی آخری بات پر حیران ہوا

اس کا مطلب وہ یہاں اٹلی میں تھی ؟ اس نے حیرانی سے پوچھا

ہاں وہ پورے تین ماہ دس دن اٹلی میں فریڈی یلڈر کے گھر میں تھی ۔۔۔

Wahshi novel by Mah Bint e Sajjad 

  • by

“راہی بیٹا آپ یہاں ہو میں کب سے آپ کو ڈھونڈ رہی ہوں”

آمنہ بیگم کی آواز پر وہ مڑا سفید رنگ کے شلوار قمیض پر بھورے رنگ کی شال دونوں کندھوں پر ڈالے سرمئی آنکھوں میں کسی بھی قسم تاثر کے بغیر کھڑا وہ راہی تھا راہی مرزا بلوچ دس سال کا راہی لیکن اس کی شخصیت میں اس وقت بھی ایک رعب تھا

” میں یہیں تھا چھوٹی امی آپ کو کوئی کام تھا”

راہی نے آمنہ بیگم کو خاموش کھڑا پایا تو بولا اپنی باتوں اپنی عادتوں سے وہی کہیں سے بھی تو دس سالہ بچہ نہیں لگتا تھا

“ارے آج کے دن تم سے کیسا کام وہ تو بس تمہارے چاچو نے کہا کہ تمہیں اسٹیج پر لے آؤں تو اس لیے ڈھونڈ رہی تھی”

آمنہ بیگم نے مامتا بھرے لہجے میں کہتے ہوئے اس کی پیشانی چومی وہ آج بہت خوش تھیں آخر ہوتی بھی کیوں نہ آج ان کی اکلوتی بیٹی کی منگنی تھی وہ بھی ان کے جیٹھ کے اکلوتے بیٹے کے ساتھ بیشک انیس بلوچ جانتے تھے کہ ابھی پریشہ اور راہی بہت چھوٹے ہیں منگنی کے لیے لیکن پھر بھی وہ یہ تقریب رکھنا چاہتے تھے وہ چاہتے تھے کہ تمام گاؤں والوں اور خاندان والوں کو علم ہو جائے کہ پریشہ ان کے بھتیجے کی منگ ہے یہی وجہ تھی کہ انہوں نے منگنی کی تقریب اتنے بڑے پیمانے پر منعقد کروائی تھی

“آپ چلیں چھوٹی امی میں آتا ہوں”

Shab e intezar by Ayna Baig

  • by

“تم شادی کے بارے میں کیوں نہیں سوچتے؟”

“کیا کروں گا سوچ کر؟ مجھے کوئی اپنے معیار کی لڑکی نہیں ملتی اور ابا کا بس چلے تو اماں کی بہن کی بیٹی کو بیاہ دیں میرے ساتھ۔۔” اس نے پتیلا نکال کر اس پر آئل ڈالا اور چولہا جلانے لگا۔

“کیا مطلب؟ تایا ابا نے تمہارے لیے لڑکی دیکھی ہوئی ہے؟ اور کیا ہے تمہارا معیار؟”

“بہت سادہ سا معیار ہے۔ سیدھے سادھے لوگ جو مجھے جج نہ کریں۔ یہ زندگی گزارنے کا معاملہ ہے۔”

“کون ہے وہ لڑکی؟”

“واقعی کون ہے وہ لڑکی؟” وہ تیزی سے چھپا گیا۔

“بدتمیزی نہ کرو۔ تم نے کہا تمہاری خالہ زاد ہے میں نے سنا تھا اب چھپاؤ نہیں۔۔” وہ نگٹس تلنے لگی البتہ وہ اب کباب بنانے کی تیاریوں میں تھا۔

“میں نہیں چاہتا۔ تم عابد صاحب کو سمجھاؤ۔”

“تم پہلے مجھے بتاؤ اور ملواؤ بھی!”

“میں آخری بار خود دو مہینے پہلے ملا تھا۔ وہ بہت بے وقوف سی اور معصوم سی ہے۔شاید معصومیت کا ناٹک کرتی ہے۔”

“تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا؟” اس نے خالی بوتل اس کے کندھے پر ماری۔

“تم نے بھی تو پہلی بار ہی پوچھا۔”

“کیا نام ہے؟ اور تمہاری کزن ہے تو تم ملتے ہی رہتے ہو گے۔” اسے تجسس ہوا۔

“نہیں بالکل نہیں۔۔ بتایا تو ہے دو مہینے پہلے ملا تھا۔ اصل میں ہمارے خالو کو بیٹوں کی زیادہ چاہ تھی اور یہی بات ابا کو خالو سے خار کھانے کا موقع دیتی ہے۔ میرا ننھیال میں کسی کے بھی اچھے حال نہیں ہیں اور عابد صاحب کو اپنی بیوی سے بہت عشق ہے وہ ان کی ہی بھانجی سے میری شادی کروائیں گے۔” وہ کھیرا کھا رہا تھا اور زمل مسکرا رہی تھی۔

Khawahir o baraadar novel by Iqra Nasir

  • by

اس کی سنہری آنکھیں انگوٹھی پر ٹکی ہوئی تھی۔ وہ اس کو دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی۔

” کیا اس انگوٹھی میں اتنی طاقت ہے کہ یہ میرے رشتے کو بچا سکے؟ بلکل نہیں۔ پھر ہم رشتے بناتے وقت انگوٹھی کیوں پہناتے ہے؟ اگر ہم اپنے رشتوں کی شروعات اپنے آپ سے اس رشتے کو وفا اور عزت سے نبھانے کا وعدہ لے تو کیا یہ زیادہ اچھا نا ہو گا؟”

اس نے اب اپنی نظریں اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا۔ اس کے اندر پچھتاوے کی لہر اٹھی ” کاش میرے ساتھ اتنا برا نہ ہوتا! کاش میں نے سب کی بات مان لی ہوتی! میرے ساتھ محبت کے نام پر اتنا بڑا دھوکا نا کھیلا جاتا۔ لیکن کیا واقعی میں دھوکا صرف محبت کے رشتے سے کھیلا گیا تھا؟ اس کے ساتھ تو دھوکا دوسرے رشتوں کے نام پر بھی کھیلا گیا تھا۔”

وہ شدید ذہنی تناؤ کا شکار تھی۔ اس کے کانوں میں ماضی کی آوازیں گونجنے لگی۔ سنہری آنکھوں میں کرب اترنے لگا۔ اس نے زور سے اپنی مٹھی بند کی۔ ٹکڑا اس کے ہاتھوں میں چبھ رہا تھا لیکن وہ اس نے مزید سختی سے مٹھی بند کیں۔ آوازیں بند نہیں ہورہی تھی۔ اس نے مٹھی کھول کر اپنے ہاتھ کانوں پر رکھ دیا۔ لیکن آوازیں تھی کہ دم توڑنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ وہ آہستہ واش روم کے فرش پر بیٹھتی چلی گئی۔ہاتھوں سے کانوں کو ڈھانپے وہ اپنا سر نفی میں ہلا رہی تھی۔

لبوں سے بس یہی نکل رہا تھا “خاموش ہو جاؤ، خدا کے لیے ، اللّٰہ کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔”

The evil lady novel by Mahi Shah 

  • by

کہ۔۔۔۔ کون ہے۔۔۔ وہ لڑکی ڈر کے مارے بولی تھی۔۔۔

گمنام ہے کوئی۔۔۔بدنام ہے کوئی۔۔۔کس کو خبر کون ہے وہ۔۔انجان ہے کوئی۔۔۔گمنام ہے کوئی۔۔۔

یہ آواز سن کے وہ لڑکی تھر تھر کانپنے لگی تھی۔۔۔

اا۔۔۔۔ایول۔۔۔

ایول نے اپنا چاکو نکال کر اس لڑکی کے ہونٹوں پر رکھا تھا وہ لڑکی مہندی کے ڈریس میں سامنے کھڑی سفاک لڑکی کے سامنے کانپ رہی تھی

تمہیں میرے عشق سے ایول کے عشق سے شادی نہیں کرنی چاہیے تھی ۔۔۔۔۔

اس لڑکی کو تو سامنے کھڑی موت نظر آرہی تھی وہ اس کی باتیں سن ہی کب رہی تھی۔۔۔۔۔

میں تمہیں مار نہیں سکتی تم کیونکہ تم کوئی گنہگار نہیں ہو نا لیکن تم بے گناہ بھی نہیں ہو۔۔۔۔

میں میں نے کیا کیا ہے وہ لڑکی ہمت کرتی بولی تھی میں میں تو کایا۔۔۔۔

اس لڑکی کا اتنا کہنا تھا کہ ایول نے ایک زوردار تھپڑ اسے مارا تھا کہ اس کا سر زور سے سامنے دیوار کے ساتھ لگا تھا وہ وہاں ہی گری تھی۔۔۔۔۔

سر سے خون نکلنے لگا تھا ایول نے اپنا چمکدار چاکو نکالا تھا اتنی چمک تھی اس چاکو اور چاکو کے اوپر لکھا بڑا سا ایول کہ کسی کو بھی خوف میں مبتلا کر دیتا تھا وہ لڑکی ایول کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ خوف سے آواز نکالنے کی کوشش کرنے لگی تھی لیکن نکال نہیں پا رہی تھی۔۔۔۔۔

وہ آرام سے اس کے پاس بیٹھ کے اور اس لڑکی کا ہاتھ پکڑ لیا وہ لڑکی کے سر سے خون نکل رہا تھا

تمہیں میرے عشق کو اپنی ہاتھوں کے لکیروں میں لکھنا چاہا تھا نا تو ایسا کرتے ہیں جن ہاتھوں کے لکیروں میں میرا عشق ہے ان لکیروں کو مٹا دیتے ہیں وہ آہستہ آہستہ اس کے ہاتھوں کے لکیروں میں اپنا چاکو چلانے لگی تھی اس لڑکی کی ضبط سے چیخیں دب گئی تھی۔۔۔۔

ششش۔۔۔۔ کچھ دیر بعد تم پر سکون ہو جاؤ گی اس کے ہاتھ خون سے بھر چکے تھے وہ ایک ایک کر کے اس کے ہاتھ پر چاکو چلاتے اس کا ہاتھ زخمی کر چکی تھی اور وہ لڑکی درد نا برداشت کرتے ہوئے بے ہوش ہو چکی تھی۔۔۔۔۔۔

یہ تو بے ہوش ہو گئی ایول نے اپنی پاکٹ سے ایک ڈیوائس نکالی تھی جو کہ الیکٹرک شاٹ تھا ایول اسے بس تب ہی استعمال کرتے تھے جب کسی انسان کو زندگی اور موت کے بیچ لٹکانا ہو ورنہ وہ سیدھا اپنا تیز دار چاکو اس انسان کے دل پر وار کرتی تھی اور وہ انسان دوسرا لفظ بولنے سے قاصر ہو جاتا تھا۔۔۔۔۔

ایول نے پہلے اسے تھپڑ مار کر اسے ہوش میں لانا چاہا تھا اور وہ لڑکی ہوش میں آئی تھی وہ لڑکی اس ڈیوائس کو دیکھ کر خوفزدہ نظروں سے ایول کو دیکھنے لگی تھی۔۔۔۔

ایول نے بغیر اس کی نظروں کو دیکھے وہ ڈیوائس اس لڑکی کی گردن پر لگا دی تھی وہ لڑکی تڑپی تھی 10 سیکنڈ کے بعد اس لڑکی کا وجود ساکن ہوا تھا اور ایول مسکراتی اس کو چھوڑ کر اٹھی تھی۔۔۔۔

شکر کرو اور تمہیں میں نے مارا نہیں تم نے میرے عشق پر نظر رکھ کر برا کیا تھا اب تم جاؤ سیدھا کومے میں یا اوپر۔۔۔۔

Teri arzoo meri chahat novel by Laveeza Abid

  • by

“تو مسز عالیان شاہ کیا آپ کو کبھی کسی سے پیار ہوا ہے؟” وہ اس کی آنکھوں کے آگے چٹکی بجاتا بولا

وہ نظریں چرانے لگی

“پہلے آپ بتائیں کیا آپ سچ میں مجھ سے پیار کرتے ہیں؟” وہ چمکتی آنکھوں سے پوچھنے لگی

“ہاں” اس کے لب ہلکا سا مسکائے

“تو پھر آپ بتائیں کہ ‘میں آپ کیلیے کیا’ ہوں؟” وہ نادان لڑکی یہ کیا پوچھ بیٹھی تھی عالیان نے مسکراہٹ ضبط کرتے ایک گہری سانس لی تو سنو!

تم وہ ہو

جس کو دیکھ کر

میرے دل کی خالی ٹہنی پر

پھول گلابی کھل جاتے ہیں

جس کو دیکھ کر

مجھ کو اپنی مرضی کے

سارے موسم مل جاتے ہیں!°

عائشہ کے چہرہ سرخ ہوگیا

“آی ایم سوری اس رات جو کچھ میں نے کیا تھا میں اس کیلیے بہت شرمندہ ہوں آپ وہ تھپڑ دیزرو نہیں کرتے تھے” عائشہ کی آنکھوں میں نمی گھلنے لگی

“تو پھر میں کیا ڈیزرو کرتا ہوں؟”

“ایک ایسی لڑکی جو آپ سے آپ ہی کی طرح سچا پیار کرے” وہ نجانے کس خیال کے تحت یہ بول رہی تھی

” ہاں پر شاید میری قسمت ہی خراب ہے کیونکہ مجھے تو ایسی لڑکی ملی ہی نہیں” وہ افسوس کرتا کاندھے اچکا گیا

“آپ جانتے ہی کیا ہیں میرے بارے میں؟” وہ آنکھیں سکیڑ کر پوچھنے لگی

“وہ سب کچھ جو تم خود بھی نہیں جانتی”

“اچھا جیسے کہ؟”

“جیسےکہ تم جھوٹ بہت بولتی ہو” وہ سنجیدہ تھا

اس کی مثال میں تمہیں ابھی دے دیتا ہوں”تو بولو کیا تم مجھ سے پیار نہیں کرتی؟”

” نہیں”

“دیکھا میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ تم جھوٹ بہت بولتی ہو پر تمہاری آنکھیں سب سچ بتا دیتی ہیں

“آپ میرے منہ سے اقرار سننے کی حسرت میں رہ جائیں گے پر میں کبھی نہیں بولوں گی اور ویسے بھی یہ ضروری تو نہیں کہ جس کو میں پسند کروں وہ آپ ہی ہوں” عائشہ ہنس کر بولتی اسے تپا گئ

“میرے علاوہ کس کو پسند کرتی ہو تم؟”اس نے عائشہ کا بازو تھام کر خود کے قریب کرلیا “جواب دو” اب کی بار وہ سختی سے بولا عائشہ اچھل پڑی “کس سے پیار کرتی ہو تم؟” غصے سے پوچھا گیا عائشہ اپنے دل کی بغاوت پر کانپ اٹھی تھی جو دھڑک دھڑک کر سامنے کھڑے شخص کو پکار رہا تھا وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ کب سے اس کو پسند کرتی تھی بس خوف کی سبب کبھی بول نا پائ

“اپنے ش..شاہ کو” عائشہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی اقرار کر گئ عالیان کے لبوں پر دلکش مسکراہٹ ابھری تھی

“تبھی تم مجھے کلاس میں چور نظروں سے دیکھتی رہتی تھی؟” اس کی آنکھوں میں شرارت اتری

“جی نہیں میں آپ کو نہیں دیکھتی تھی” وہ شرم سے سرخ پڑتی اس کے ہاتھ کے نیچے سے نکل کر باہر بھاگ گئ عالیان نے بالوں پر ہاتھ پھیرتے مسکراتی نگاہوں سے اس دشمن جاں کو فرار ہوتے دیکھا

“جھوٹی!”

Sahab novel by Areeba Khalid

  • by

ہائے ائی ایم اجر یور کزن اج اچانک یاد انے پر اس نے پھوپھو کے دیے ہوئے نمبر پر میسج کیا چند منٹ بعد ہی جوابی ٹیکس اگیا ہائے ائی ایم علیزے مجھے بہت شوق تھا اپ سے بات کرنے کا۔ امی نے بتایا تھا مجھے کہ وہ اپ کو میرا نمبر دے کے نہیں ہے بس اسی دن سے میں اس انتظار میں ہوں کہ کب اپ کا میسج ائے اجر کیا اپ مجھے اپنی تصویر بھیج سکتے ہیں دیکھیں نا کتنی عجیب بات ہے کہ ہم دونوں کزنز ہیں اور ہم نے ابھی تک ایک دوسرے کو دیکھا تک نہیں ہے اگر اپ کو کوئی ایشو نہیں ہے تو پلیز اپ مجھے اپنی پک بھیج دیں۔ اور بالاخر اج اپ نے مجھے میسج کر ہی لیا۔جی وہ بس میرے ذہن سے نکل گیا تھا اس کا دل کھٹک رہا تھا اور دماغ کسی خطرے کا پیغام دے رہا یوں لگ رہا تھا کہ جیسے کسی بپھرتے سمندر کا بند کھول دیا گیا ہو اور ایک طوفان اس کی جانب آ رہا ہو۔آپی آپ رات کو اتنی دیر تک دیر کس سے باتیں کر رہی تھیں۔ وہ میں علیزے بات کر رہی تھی۔ اپ بھی اپ کو پتہ ہے نا کہ اگر بابا کو معلوم ہوا تو وہ کتنا غصہ کریں گے اچھا اچھا ٹھیک ہے میرا سر پہلے ہی درد سے پھٹ رہا ہے مزید میرا دماغ خراب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

اجر کیسی ہیں اپ۔الیزے پلیز تم نا یہ مجھے اپ مت کہا کرو اب تو ہم دوست ہیں اور دوستی میں تکلف سے نہیں محبت سے بنتی ہے۔وہ اس کے اپ کہنے سے زچ ہو کر بولی۔

مگر اجر احترام بھی تو ضروری ہوتا ہے۔

وہ تو ٹھیک ہے علیزے مگر احترام چاہنے والے اور چاہت کے درمیان ایک دیوار ہوتا ہے اور دوستی میں اگر احترام ا جائے تو پھر وہ دوست نہیں مروت بن جاتی ہے۔ویسے اجر ایک بات کہوں اگر تم مائنڈ نہ کرو تم نہ مجھے بہت اچھی لگتی ہو اگر میں لڑکا ہوتی تو تم سے شادی کرتی۔ اجر! سجاد صاحب کے آتے ہی اس نے جھٹ سے موبائل بند کر کے تکیے کے نیچے چھپا دیا۔ ج ،ج، جی بابا وہ اپنی گھبراہٹ پرقابو پاتے ہوئے بولی۔علایہ بتا رہی تھی کہ مہوش تمہیں اپنا نمبر دے کر گئی ہے۔ اجر میری باتk کان کھول کر سن لو وہ عورت کسی کی سگی نہیں ہے۔خبردار اگر تم نے اس سے کوئی رابطہ رکھا۔وہ اپنی بات کہ کر اُسکے سر پر ہاتھ رکھ کر چلے گئے مگر اس کا چہرہ یہ سنکر خوف کی وجہ سے نہ صرف پیلا پر گیا تھا بلکہ ایسا لگتا تھا کے جیسے اسکی رگوں میں دوڑتا ہوا خون بھی کسی نے نچوڑ لیا ہو۔

Koh e ana novel by Rimsha Riaz 

  • by

بولو کیوں بلایا ہے ؟ ارسلان سلور شرٹ بلیک پینٹ میں ملبوس ماتھے پہ تیوریاں لیے ہانیہ کے سامنے کھڑا تھا۔

ارے سانیس تو بحال کریں۔ آرام سے بیٹھ جائیں ۔ ہانیہ ڈھٹائی سے بولی ۔

وہ سامنے کی سیٹ پہ براجمان ہوا ۔ چہرے پہ ناگواری کے تاثرات تھے۔

بولو جلدی ٹائم نہیں ہے! وہ گھڑی دیکھتے بولا ۔

ارسلان آپ اچھے سے جانتے ہیں کہ میں اپ سے بہت پیار۔۔۔۔

ہانیہ تمھارے دماغ میں یہ بات کب بیٹھے گی ہاں کہ میں نہیں کرتا پیار وار کچھ بھی۔

دیکھو ارسلان ؟ اس نے بے باکی سے اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھا ارسلان نے جھٹک دیا۔

ہاتھوں کو قابو میں رکھو ہانیہ ۔ مجھ سے دور رہا کرو میں نہیں کرتا پیار ۔

تو کیا اس عنائشہ سے کرتے ہو ہاں ۔ سننا چاہو گے کہ وہ تمھارے بارے میں کیا سوچتی ہے۔ سنو گے تو سنو پھر۔ اس نے ریکارڈنگ چلا دی۔

وہ اک دن پھٹی نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔ ارسلان کے چہرے کے تاثرات بدلنے لگے۔مگر سن کے وہ مسکرایا اور اس کا ہاتھ پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے فون لیا ۔

کیوں اپنے آپ پہ ہنس رہے ہو کیا؟ وہ استہزاء سے تکنے لگی۔

ارے نہیں تم پہ۔ تمھیں کیا لگا تمھاری اس حرکت سے تم پہ دل آجاے گا۔ ہاں وہ پاک ہے تم سے بے باک نہیں ، وہ مردوں سے نہیں چپکتی اور مجھے فخر ہے اپنی پسند پہ۔ اور ہاں آئندہ اس کا نام بھی اپنی زبان سے مت لینا ورنہ ۔ اس نے انگلی سے تنبیہ کی۔وہ اک دم سہم گئی ۔

Señorita kertenkele novel by Haniya Meow

  • by

خود کی دریافت کا سفر:**

یہ کہانی مسکراہٹ میں چھپی درر، اور اذیت کی۔۔ ایک ٹوم بوائے کی ، جو اپنے خود بین ماحول میں اپنے جذبات اور ادھوری خواہشات کو رنگوں کی مدد سے تصویر میں قید کرتی ہے۔ کہانی ایک پراسرار اجنبی سے اس کے روح پوش ہونے تک کے سفر کی ہے۔ ایک پراسرار روبوٹک انسان جو اپنے گہرے سوالات سے دوسروں کو کھردتا ہے۔ اور خود کو گہری تہوں میں بند کیا ہوا۔

یہ کہانی ہے دو انسانوں کی جن کا ماضی ایک دوسرے سے جوڑا ہوا ہے۔ کہانی ہے بدلے کی، ان کہی محبت کی، اذیت کی، روح پوش ہونے کی، انتظار کی۔۔۔