آؤ آؤ بے بی،تمہاری جیسی قیامت میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی، اور اس شادی کے جوڑے میں تو آہ آہ ہاکیا مست چیز لگ رہی ہو۔
سردار نے ارحا کی اپنی زہنیت کے مطابق تعریف کی تھی، اور ارحا نے فٹ سے مہر کو خود سے الگ کیا اور سردار کی طرف قدم بڑھا دیے۔اور پھر جیولر کے شو پیس کے پاس ایک دم رک گئ۔
مجھے تو تم نے پہچانا ہی نہیں، میں تمہاری کال فرینڈ love،جس نے تمہیں اس میجر کے یہاں ہونے کا بتایا اور اسکی اصلی تصویریں تمہیں دیں۔
کیا اوہ بے بی وہ love تم ہو، تمہارا احسان تو میں ہمیشہ یاد رکھوں گا، تم نے مجھ سے محبت کا ثبوت دیا ہے آج۔
تو پھر میری خواہش پوری کرو نہ، مجھے یہ پازیبیں لے کے دو نہ اور اپنے ہاتھوں سے پہناؤ بھی،تب میں مانوں گی کی تم بھی مجھ سے محبت کرتے ہو۔
ارے میری love بس اتنی سی خواہش لو ابھی پوری کیے دیتا ہوں۔
کہتے ہی سردار نے گن اپنے ساتھ کھڑے آدمی کو پکڑائ اور خود چلتا ہوا ارحا کے پاس آیا۔
(تو اسکا مطلب ارحا ان لوگوں کے ساتھ ملی ہوئ ہے،اس دن ارحا رات کو ،مطلب اس دن
بھی وہ انکے کام سے نکلی تھی، ارحا تم ایسا کیسے کر سکتی ہو،میرے ملک سے غداری تمہیں بہت مہنگی پڑے گی،اپنے ملک کے لیے مجھے تمہاری بھی جان لینی پڑی تو نہیں چھوڑوں گا میں تمہیں)مائل نے سوچتے ہوئے لال انگارہ آنکھوں سے ارحا کو دیکھا جو شو کیس میں سے پازیبیں نکال رہی تھی ۔
لاؤloveتمہاری یہ خواہش بھی پوری کروں ،سردار نے ارحا سے پازیبیں پکڑتے ہوئے کہا،اور پھر اس کے قدموں میں بیٹھ گیا۔
ارحا نے جھک کر اپنا ہاتھ سردار کے کندھے پہ رکھا اور اپنا پاؤں اس کے گھٹنے پہ۔سردار نے زرا سا لہنگا اٹھا کر جیسے ہی ارحا کا پاؤں ننگا کیا حیران رہ گیا۔
اس کے پاؤں پہ پسٹل بندھا تھا،اور پھر ہنس پڑا اور پسٹل کھول کر ارحا کی طرف بڑھا دیا۔
ارے love اب یہ پسٹل یہاں چھپانے کی کیا ضرورت ہے۔
ہاں صحیح کہا،یہ پسٹل اب چھپانے کی کیا ضرورت ہے، کہتے ہی ارحا نے سردار کو دھکا دیا جس سے وہ ایک دم پیچھے کی طرف گرا،ارحا نے تیزی سے اپناپاؤں جس میں اس نے وہ سنیکرز جو وہ ہمیشہ گھر سے باہر نکلتے وقت پہنے رکھتی تھی،جو کسی کو بھی قتل کرنے کے لیے کافی تھے،اس کے سینے پہ رکھ دیا اور پسٹل اس پہ تان لی تھی۔
اور اونچی آواز میں ایک دم ایکشن بولا تھا، اور ارحا کے ایکشن کہنے کی دیر تھی کہ ایک دم بیت سے آرمی کے لوگ جو سویلین کے روپ میں تھے ،انہوں نے تمام ڈاکوؤں کو قابو کر لیا تھا۔
سر آپ ٹھیک تو ہیں؟ ایک آرمی آفیسر جلدی سے مائل کے پاس آیا تھا ۔اور مائل نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
کیوں کیسا لگ رہا مسٹر عظیم چوہدری، اپنی بازی پلٹتے دیکھ کر،کیا کہا کہا تھا کہ اس ملک کو برباد کرو گے اور وہ بھی میجر مائل کے ہاتھوں،ارحا نے اسے زور سے کک کی تھی اور وہ چیخ پڑا تھا(آخر ارحا نے یہ سپیشل سنیکرز لوگوں کی حالت خراب کرنے کے لیے ہی بنوائے تھے)۔
تتتتتم تم تو میری love پھر اتنا بڑا دھوکا۔
ہاہاہاہاہاہا تمہاری love نہیں ، سیکرٹ ایجنٹ love queen، نام تو سنا ہی ہو گا۔
_____________________________________
ہاہاہاہاہا تمہاری love نہیں،سیکرٹ ایجنٹ love queen ,نام تو سنا ہوگا۔
ارحا ہنستے ہوئے اس کے پاس بھیٹتے ہوئے سرگوشی میں کہا تھا، اور یہ جان کر وہ ایجنٹ love qeen اسکا منہ کھلے کاکھلا رہ گیا تھا۔
ایییییییییءءی ایسا نہیں ہو سکتا میں نے خود پتہ کیا وہ ملک سے باہر گئ ہے،اس نے تڑپنے والے انداز میں کہا تھا۔