Skip to content
Home » Social media writers » Page 151

Social media writers

Sargoshiyan novel by Sarah Tahir

  • by

“تم چاند سے اتنے گھنٹوں تک باتیں کیسے کر لیتی ہو؟”

“جن کو آپ پسند کرتے ہیں، ان کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے آپ کو وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا ۔”

“تم چاند کو پسند کرتی ہو ؟”

“ہاں بلكل .”

“اور چاند کے علاوہ؟”

“اماں، ابا، احمد ،علی ،صفیہ … اور ہاں کشمالہ خالہ اور طفیل چچا کو بھی۔”

کشمالہ خالہ اور طفیل چچا کا بیٹا مرمرا گیا ہے کیا؟ راحم کو بہت برا لگا مگر یہ بات وہ صرف دل میں ہی سوچ سکا .

“اور سب سے زیادہ کون پسند ہے تمھیں؟”

اس کے اس سوال پر عبیرہ نے جھٹ جواب دیا۔

“چندا”

“حالانکہ باقی سب تمھیں چاند سے زیادا پیار کرتے ہیں، پھر بھی؟ تم جانتی ہو ناں چاند بے جان ہے۔”

چاند بے جان نہیں ہے۔ تم سب کے لیے ہوگا مگر میرے لیے نہیں ہے۔”

Aseer e mohabbat novel by Angel Sani 

  • by

مجھ۔۔ مجھے۔۔ بھوک۔۔ لگی ہے۔۔ وہ چہرا ایک بار پھر جھکا کر شرمندہ لہجے میں بولی تھی۔۔

تم بیٹھو میں لے آتا ہوں۔۔ وہ کہتا ہوا بغیر اسکی جانب دیکھے کمرے سے باہر نکلا تھا۔۔ سنائیہ نے اسکی پشت کو نظروں سے اوجھل ہوتے دیکھا تھا۔۔ اور ہچکیوں میں روتی ہوئی بیڈ پر آ بیٹھی تھی۔۔ وہ اسکی بے رخی سہہ نہیں پا رہی تھی۔۔

تقریباً پانچ منٹ بعد ہی وہ ہاتھ میں ایک ٹرے پکڑے کمرے میں داخل ہوا جس میں ایک دودھ کا گلاس اور دو تین سینڈوچ تھے۔۔ سنائیہ نے اسے اندر آتے دیکھ اپنی گال پر بہتے آنسو صاف کیے اور چہرہ جھکا کر بیٹھ گئی۔ سنان کو تکلیف تو ہوئی تھی اسے ایسے دیکھ کر پر فلحال وہ اپنے اوپر کھول چڑھائے ہوئے تھا۔۔ اس نے خاموشی سے ٹرے لے جا کر سنائیہ کے پاس رکھ دیا۔ اور خود واپس جا کر صوفے پر بیٹھ گیا۔۔ سنائیہ نے فوراً پلٹ کر اس کی جانب دیکھا تھا وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا خاموش اور سنجیدہ نگاہوں سے۔ کچھ اور چاہیے کیا؟ اسے خود کی جانب تکتا پا کر سنان نے نرمی سے پوچھا۔۔اس کا یہ نرم لہجہ اسے پھر سے رلا رہا تھا۔ اس کے گلے میں ایک گلٹی ابھر کا معدوم ہوئی۔ وہ محض نفی میں سر ہلا گئی۔۔ پھر کھا کیوں نہیں رہی ہو؟ اس نے فوراً پوچھا۔۔ آ۔۔ آپ نے کچھ کھایا تھا؟ وہ چور سے لہجے میں کہتی نظریں جھکا گئی۔ سنان بس اسے دیکھتا رہ گیا تھا۔ اس وقت اسے سامنے بیٹھی اس لڑکی پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا۔ ہاں میں نے کھا لیا تھا۔ اس نے کہا تو سنائیہ نے پھر اسے دیکھا۔ وہ جانتی تھی وہ جھوٹ کہہ رہا تھا اس نے کچھ نہیں کھایا ہوگا اور نا ہی وہ اب کچھ کھانے والا تھا۔ اس لیے خود بھی ٹرے کو سائیڈ پر دھکیل کر رکھتی واپس لیٹنے لگی۔سنان نے ماتھے پر بل ڈال کر اسے دیکھا۔۔ سنائیہ کھانا کھا کر سونا نہیں تو میں بہت برا پیش آؤں گا۔۔ وہ ذرا سختی سے اسے دیکھ کر بولا جو تقریباً لیٹ ہی چکی تھی۔ مجھے نہیں کھانا۔۔ خفگی بھرے لہجے میں کہتی وہ اسکی جانب پشت کیے سسکیاں بھر رہی تھی۔ سنان نے اس کی پشت کو دیکھ کر ایک گہرا سانس ہوا کے سپرد کیا پھر اٹھ کے اس کے سر پر جا کھڑا ہوا۔۔ سنائیہ چپ چاپ اٹھو یہ سینڈوچ کھاؤ اور دودھ پیو پھر میڈیسن کھا کر سونا۔۔ وہ قدرے سنجیدگی سے بولا۔۔ سنائیہ نے لیٹے لیٹے ہی نظروں کا زاویہ اسکی جانب گھمایا پھر صاف غضے اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کروٹ دوسری جانب موڑ لی۔ سنان نے لب بھینچ تکیے پر بکھرے اس کے بالوں دیکھا پھر اس کے پاس ہی بیٹھ گیا۔۔ سنائیہ نے بخوبی اس کے اپنے پیچھے بیٹھتا محسوس کیا تھا۔ سنائیہ اٹھو۔۔؟ سنان نے اس کا کندھا ہلایا پر وہ ٹس سے مس نا ہوئی۔ مجھے بھوک نہیں ہے۔۔ اس نے بغیر رخ موڑے کہا۔ سنان کا ضبط جواب دے رہا تھا۔ اس نے گہرا سانس لیتے ہوئے اسے زبردستی بازو سے پکڑ کر اٹھانا چاہا۔ میں نے کہا نا مجھے نہیں کھانا کچھ بھی۔ آپ جائیں اور جا کر سو جائیں۔ آپ کو کیا ہے میں کھاؤں یا نا کھاؤں جیوں یا مرو۔۔ وہ با مشکل خود کو رونے سے باز رکھتے ہوئے بولی۔۔ تمہارے جینے مرنے یا کھانے یا نا کھانے سے مجھے ہی فرق پڑتا ہے اور پڑتا رہے گا سنا تم نے اب

فضول باتیں کرنا بند کرو اور چپ چاپ کھانا کھاؤ۔نہیں تو اچھا نہیں ہوگا۔۔وہ تنبیہ کرتا ہوا کہتا اسے بازو سے پکڑ کر زبردستی اٹھانے لگا۔۔

Ahmed ki Hoor novel by AS Writer

  • by

بابا آپ ایسا نہیں کر سکتے”۔”

“میں یہ کیوں نہیں کر سکتا”

“بابا وہ بچی ہے۔ ”

”میں جانتا ہوں”

”پھر”

وہ ایک سمجھدار بچی ہے وہ آپ کے بچوں کا خیال رکھے گی۔

بابا ہر عورت بے وفا ہوتی ہے۔

آپ اس کی شادی میرے ساتھ کیوں کر رہے ہے؟

کیونکہ وہ ایک ذمہ دار لڑکی ہے اور اس کے والد نے اس کی اچھی تربیت کی ہے۔

بابا پلیز

پچھلی بار تم نے اپنی پسند سے شادی کی تھی لیکن اب تم میری پسند سے شادی کرو گے مجھے یقین ہے کہ وہ تمہارے لیے پر فیکٹ ہے۔

ٹھیک ہے بابا احمد نے غصے سے یہ کہا اور اپنے کمرے میں چلے گیا

Safar masoomiyat se qaid tak short novel by Muskan Khan

  • by

ہوئی ایک صبح ایسی سی۔۔

ہوا تھی جس دن نم۔

بارش کا تھا موسم۔

جنمی ایک ننھی سی جان۔

چہرہ اس کا حوروں سے کم نہ تھا۔

وہ معصوم ہوئی جب ایک برس کی۔

گھر میں خوشیوں کا سما تھا۔۔

وہ معصوم کب کس کو پتہ تھا۔

اس کی زندگی کے نصیب و راز کا۔

جب وہ حسین بڑی ہوئی۔

18 برس کی ۔آیا اس کی زندگی میں ایسا موڑ۔۔

لڑنا تھا اسے اپنے نصیبوں سے میں نے کیا۔

جیت گئی وہ ہر لڑائی میں لیکن خود کو ہار بیٹھی وہ معصوم نادان لڑکی۔

اسے نہ پتہ تھا جیت کے کھیلوں میں وہ ایک دن خود کو ہار بیٹھے گی۔

خود کی لگائی بازیوں سے وہ کیسے جیت پائے گی۔

وہ معصوم نادان لڑکی!

جو خود کو ہار بیٹھی۔

وہ ہر قید سے آزاد تھی۔

اسے نہ پتہ تھا کہ وہ سفر قید کی مجرم ہوگی۔

ایک دن قید اس کا مقدر ہوگی۔

وہ ہر قید اسے آزاد تھی اسے نہ کسی راجا کی ضرورت تھی۔ نہ کسی شہزادے کا خواب تھا۔

وہ خود کے لیے فقط خود ہی کافی تھی۔

اس کی زندگی میں جب آیا وہ معصوم شہزادہ۔وہ کوئی شہزادہ نہ تھا لیکن وہ کسی شہزادے سے کم نہ تھا۔

اس کی محبت میں گرفتار ہوئی کہ مجرم بنی۔

وہ محبت کے آغاز میں بھول گئی۔ اپنی سرکشیاں، جدوجہد، قربانیاں، جو کھویا تھا وہ بھی بھول گئی۔

معصوم تھی نادان لڑکی۔

بھورے بال ہری انکھیں تھی۔ اس کی گوی رنگت یوں مانو جسے آسمان سے اترا ہو دیکھنے میں زمین زادہ نہ لگتا تھا۔ کوئی جیسے چاند کا ٹکڑاؤ۔

اس کی ہری آنکھیں جان لیتی تھی۔

وہ دل ہار گئے اس پر تب سے شروع ہوا ہے یہ سفر “سفر معصومت سے قید تک” ۔

Zeenat novel by Naila Jutt 

  • by

کون ہو تم جانے دو مجھے۔۔۔منال چلائی تھی۔۔۔

جانے دوں گا۔۔۔ صبر رکھو۔۔۔آج سارے قرض تم سے وصول کروں گا۔۔۔ پھر چلی جانا۔۔۔اس نے منال کو دیکھتے ہوئے اس کا دوپٹہ کھینچ کر دور پھینکا۔۔ اور ہنسنے لگا۔۔۔

نہیں ایسا نہیں کرو۔۔۔۔۔ اس سے پہلے اس کا ہاتھ منال کو دوبارہ چھوتا۔۔۔ ایک جاندار شخص نے اس کا ہاتھ دبوچا۔۔۔ اسے مکا مار مار کر اس کا حال بڑا کیا۔۔۔ منال کو کھولا۔۔۔ منال بے اختیار اس کے گلے لگی۔۔۔ اس نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔۔۔

لالا آپ اگئے۔۔۔ منال نے ہچکیوں کے درمیان کہا۔۔۔اس نے اپنا کوٹ منال کو دیا۔۔۔اور سامنے وال کا کام ختم کر دیا۔۔۔

کہاں گھر ہے گڑیا تمھارا۔۔۔ اس نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے منال سے کہا۔۔۔منال نے حیرانگی اور پریشانی سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔ تبھی ایک گاڑی کے سامنے آنے سے اس نے گاڑی روکی۔۔۔

ارحام ارمان منال کو دیکھ کر گاڑی سے نکلے۔۔۔ منال بھی جلدی سے باہر آئی۔۔۔

تم ٹھیک ہوں۔۔ارحام نے اسے اپنے حصار میں لیتے ہوئے کہا۔۔۔ جس پہ ارمان نے اسے گھوڑا۔۔۔

جی لالا۔۔۔لالا آگئے تھے۔۔۔ منال نے ارحام کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔ تبھی مقابل باہر آیا۔۔۔

اب میں چلتا ہوں۔۔ خیال رکھنا گڑیا کا۔۔۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔

اذان تجھے کیسے پتہ منال کہاں تھی۔۔۔ ارحام نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔

سوری۔۔میرا نام اذان نہیں رہان ہے۔۔۔ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔

اچھا مزاق ہے۔۔۔ ارحام نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔ تبھی اذان بھی پہنچا۔۔۔

لالا منال مل گئی۔۔۔ ارحام ارمان ان دونوں کو دیکھ کر حیران تھے۔۔۔ دونوں بلکل ایک جیسے۔۔۔ سفید رنگت براؤن بال ایک جیسا قد۔۔ ایک کی سبز اور ایک نیلی آنکھیں۔۔۔

اب آپ کو یقین ہو گیا ہو گا میں چلتا ہوں۔۔

Night Of Fury novel by Nabia Subhan

آپ نے ان دو جنرلسٹ کے بارے میں ایکشن لینے کا کہا تھا بٹ اب تو ایک مر چکا ہے جبکہ دوسرے کو غائب کیا گیا ہے آپ اس بارے میں کیا کہنا چاہینگے؟

جی میں نے ایکشن لینے کا کہا تھا آپ لوگ بے فکر رہے میرا کام جاری ہے۔

سر آپ نے انہیں vip روم فراہم کیا اسوقت اور آپ نے کافی دعوے بھی کیے تو وہ بس وقتی تھے یا پھر واقعی آپ ان کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں ؟

جی بلکل میں نے انہیں روم فراہم کیا میرا مقصد انہیں سہولت دینا تھا اور میں ایسے بہت سے لوگوں کی مدد کر رہا ہو یہ میں نے کوئ احسان نہیں کیا ہے یہ میرا فرض تھا جو میں نے کیا ۔

سر بٹ اب تو وہ غائب ہو چکا ہے تو آپ اس بارے میں کیا کہینگے کوئ ایسا قدم اٹھائینگے آپ کہ ان کے دشمن کا پتہ لگایا جاۓ ؟

جی بلکل کیونکہ میرے ایریا میں کسی کو مارا گیا تو میں اگنور نہیں کر سکتا تھا نا ہی کرونگا اور ان کے دشمن کو میں بہت جلد آپ سب کے سامنے لاؤنگا ۔

اپنے گھر کے لاؤنج میں صوفے پر عمر رسیدہ شخص پہاڑ جیسی مضبوط کسرتی جسامت لیے اسکے ساتھ 35 سالہ جوان اسکی طرف رخ کیے بیٹھا ہوا ہے ۔

کہ کرنل داؤد خان طنزیہ مسکراتا ہے اور پاس بیٹھے شخص سے کہتا ہے کہ خضر یہ دیکھو اس خبیث کو پھر ڈراما شروع ہوگیا اسکا ۔

خضر کہتا ہے کہ سر ، یہ شخص کیسے اتنی آسانی سے ان لوگوں کو Manipulate کر دیتا ہے ؟

کرنل کہتا ہے کہ ، یہ ہماری public speaking کی skills میں آجکل ہمارے New Cadets کو پڑھایا جارہا ہے ۔

یاد رہے ؛ public speaking میں پہلا حربہ Ethos کہلاتا ہے ، اس لمحے سامنے بیٹھے لوگوں کو اپنی علم کی بنیاد پر متاثر کیا جاتا ہے ۔

Muqeed e Adl novel by Zunera Zulfiqar

  • by

“ندیدوں کو چاہیے اپنی نظریں ہٹا لیں۔ بندے کو نظر بھی لگ سکتی ہے،” عشھب کی نظریں محسوس کرتے ہوئے ابرام صاحب نے دل جلانے والی مسکراہٹ سجاتے کافی کا گھونٹ حلق میں اتارتے ہوئے کہا تومقابل بل کھا کر رہ گیا۔ سب جانتے تھے کہ عشھب کافی کا دیوانہ ہے اور اس کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا، اور اگر کافی اس نے خود بنائی ہو تو بالکل بھی نہیں۔

“پرائی چیزیں چھیننے والوں سے اللّه پاک قیامت والے دن الگ حساب لے گا،” عشھب نے ڈرانے کی ناکام کوشش کی مگر سامنے بھی اس کا باپ تھا۔

“ہمم، مگر،” کچھ پل رک کر ابرام صاحب نے کہا، “اگر وہ چیز آپ کے پیسوں سے لی گئی ہو تو؟” آئبرو اچکاتے ہوئے استفسار کیا۔ جیسے بتانا چاہ رہے ہوں کہ “بیٹا جی، یہ جو کافی آپ نے بنائی ہے یہ انہی کے پیسوں سے لی گئی ہے۔”

جس پر وہ تپ اٹھا مگر پھر یاد دہانی کروائی، “ہاں تو جب آپ میرے کیفے آتے ہیں تو میں آپ کو مفت میں کافی پلاتا ہوں۔”

“بالکل، اور وہ کیفے بھی میرے پیسوں سے بنایا گیا ہے،” آہ ! ابرام احمد کا احسان جتانے والا انداز۔

“ہاں تو یہ پراپرٹی بھی تو دادا سے ملی ہے،” عشھب نے صرف سوچا، کہنے کی ہمت نہیں تھی۔ ویسے بھی بھلا عشھب، ابرام احمد سے جیت سکتا ہے؟ یقینا نہیں۔ اسی لئے وہ محض پیر پٹھکتے سیڑھیوں (جو کچن اور لاونج کے درمیان میں تھیں) پر چڑھنے لگا مگر اپنے پیچھے سے آنے والی آواز پر اس کے قدم رک گئے۔

“آئے ہائے، کیا کافی ہے یار، مزہ آ گیا۔ بس آج کا سارا دن بغیر تھکن کے گزر جائے گا، واہ بھائی واہ!”

Pyaar hua tha by Zeenia Sharjeel Complete

  • by

“آج ریان کافی خوش دکھائی دے رہا ہے”
وہ عرا کو مخاطب کرتی چلتی ہوئی اس کے پاس آنے لگی عرا اس کی بات کے جواب میں کچھ نہیں بولی ہلکا سا مسکرائی اور کرسی سے اٹھ گئی
“ویسے تمہیں تو خوش رکھا ہوا ہے ناں ریان نے”
مائے نور کے دوبارہ مخاطب کرنے پر عرا کو حیرت ہوئی
“جی ریان ہر لحاظ سے کوشش کرتا ہے کہ میں خوش رہو بہت کیرئنگ ہے میرے لیے”
مائے نور کے پوچھنے پر عرا اس کی بات کے جواب میں بولی
“اور پھر بدلے میں تم کیسے خوش کرتی ہو ریان کو، مطلب ایسا کیا کرتی ہو جو وہ تم سے خوش رہے”
مائے نور کے عجیب سے سوال پر عرا کنفیوز ہوکر اسے دیکھنے لگی عرا کو سمجھ نہیں آیا کہ مائے نور اس سے پوچھنا کیا چاہ رہی تھی
“بہت بھولی ہو ناں تم، سمجھ میں نہیں آرہی میری باتیں کہ میں کیا پوچھنا چاہ رہی ہوں تم سے۔۔۔ واہ بھئی واہ بچہ پیدا کرلیا، دو مختلف مردوں سے محبت پالی مگر معصومیت وہی کی وہی برقرار ہے ابھی تک”
مائے نور باقاعدہ تالی بجاتی ہوئی عرا پر طنز کرتی بولی جس پر عرا کو ڈھیروں شرمندگی نے گھیرے میں لے لیا
“اتنی جلدی بھول گئی تم زیاد کی محبت کو، اسی کے بھائی کے ساتھ وقت گزارتے ہوئے تمہیں زیاد کی یاد نہیں آتی یہ بھی یاد نہیں آتا کہ زیاد کس قدر محبت کرتا تھا تم سے۔۔۔ ایسے ہی کل کو ریان کو بھول کر کسی تیسرے مرد کے پاس بھی چلی جانا جو تمہیں ریان سے زیادہ خوش رکھنے کی کوشش کرے دراصل تم جیسی چھوٹی سوچ رکھنے والی لڑکیاں ایسی ہی تربیت حاصل کرتی ہیں اپنے بڑوں سے، وفا نام کی کوئی چیز ہوتی ہی نہیں تم تھرڈ لڑکیوں کے اندر۔۔۔ میں نے اپنی ساری جوانی، اپنی ساری عمر اس شخص کی وفا میں گزار دی جس نے اپنی زندگی میں مجھے کبھی اہمیت دینا ضروری ہی نہیں سمجھا اور ایک میری بہو ہے جو آرام سے اپنے شوہر کے مرنے کے بعد اب اسی کے بھائی سے محبت وصول کرنا اپنا حق سمجھ رہی ہے۔۔۔ تف ہے تمہارے اوپر شرم سے ڈوب مرنا چاہیے تمہیں”
مائے نور کی باتیں سن کر وہ روتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی اور بیڈ پہ گرتی ہوئی بری طرح سسکنے لگی آج مائے نور نے جس طرح اس کو ذلیل کیا تھا اتنی ذلت اور سبکی اُس کو آج سے پہلے کبھی بھی محسوس نہیں ہوئی