Skip to content
Home » Social media writers » Page 154

Social media writers

Ishq E Borzam (Season 2 Of Jaan e Bohram) by Sam Asif Complete novel

  • by

آئزہ کیا ہوا ہے؟

کچھ نہیں بس اندر گھٹن سی محسوس ہو رہی تھی اس لیے باہر آگئی

وفا کا سوال سنتے آئزہ مسکراتے بولی تو وفا بھی اس کے پاس آتی جھولے

پر بیٹھی تبھی باقی بچے(برزم،الیحا،برہان،ارمغان،روحیل،زوبیا،عارب،

حوریہ) بھی باہر آتے ان دونوں کے پاس اردگرد کے صوفوں پر بیٹھے

اسے کیا ہوا ہے؟

روحیل بھائی بابا کے ایک دوست نے آئزہ کا رشتہ بھیجا ہے اور بابا نے

انہیں ہاں بھی کر دی ہے اگلے ہفتے اس کی منگنی کی رسم رکھی ہے بابا

آج یہ بات سب کو بتانے والے ہیں بس اسی لیے اس کا منہ بنا ہوا ہے

روحیل کے سوال پر برہان فوراً بولا تو سب نے آئزہ کو مبارکباد دی جسے

آئزہ نے بجھے دل سے وصول کیا

کیا بات ہے پرنسیس کیا تم اس شادی سے خوش نہیں ہو؟

آئزہ کی خاموشی دیکھتے برزم فوراً اس کے پاس بیٹھتا اس کے گرد اپنا بازو

پھیلاتا بولا تو آئزہ نے سے جھکاتے نفی میں سر ہلایا

اور کیا میں وجہ جان سکتا ہوں؟

برزم بھائی مجھے یہ شادی نہیں کرنی

کیوں تم کیا کسی کو پسند کرتی ہو بتاؤ بتاؤ

آئزہ کے ہلتے سر کو دیکھ کر برزم نے سوال کیا تو آئزہ فوراً بولی جس پر حوریہ

ایکسائٹڈ سی ہوتی بولی

ہممم اگر ایسی کوئی بات ہے تو بتا دو میں بڑے بابا سے بات کر لونگا

نہیں بھائی ایسی کوئی بھی بات نہیں ہے بس مجھے ابھی شادی نہیں کرنی

آپ سب کو چھوڑ کر ابھی نہیں جانا

حوریہ کی بات سنتے برزم بھی مسکراتے بولا تو آئزہ نے فوراً جواب دیا جس

پر سب نے مسکراتے اسے دیکھا اس سے پہلے کے کوئی کچھ بولتا آئزہ فوراً

برزم کے سینے سے لگتی رونے لگی اور سب کو پریشان کر گئی

آئزہ یار کچھ نہیں ہوا ابھی تو ویسے بھی انگیجمینٹ ہو رہی ہے تو اس میں

رونے کی ضرورت نہیں ہے شادی ہم تمہاری مرضی سے کر لیں گے

جب تم کہو گی ہم بڑے بابا سے بات کر لیتے ہیں

سچ میں بات کرو گے نا مجھے ابھی شادی نہیں کرنی

Aakhri Manzil by Dua Fatima Complete novel

  • by

“کون کہہ سکتا ہے کہ تم وہی حیدر ہو جو ہر وقت چوں چراں کرتا رہتا تھا۔۔۔چپ بیٹھنا تو حیدر نے سیکھا ہی نہیں تھا۔ اب اتنے خاموش ہو۔ مجھے تو ٹینشن ہو رہی ہے۔”، صائم ٹلنے والا نہیں تھا۔ حیدر ہلکا سا مسکرایا۔

”تو آپ کیا چاہتے ہیں کہ ہسپتال کے بیڈ پہ بیٹھ کے ڈانڈیا کھیلوں؟”، اس نے مذاق میں کہا تو صائم مزید قریب آیا۔

”زائرہ آئی تھی تم سے ملنے۔”، اس نے حیدر کے سر پہ بم پھوڑا تھا۔ حیدر آنکھیں پھیلاۓ اسے دیکھے گیا۔

”مگر تم ہوش میں ہی نہیں تھے تو میں نے ہی اسے کمپنی دے دی۔” صائم نے کاندھے اچکا کے کہا اور حیدر کے بے یقین چہرے کو دیکھا۔

”منہ بند بھی کر لو بھائی۔ مکھی گھس جاۓ گی۔”، اس نے شرارت سے کہتے ہوۓ حیدر کا منہ بند کیا۔

”کیا کہہ رہی تھی؟”، حیدر نے گجھ نارمل ہو کر پوچھا۔

”کہہ رہی تھی کہ کیا ہو گیا میرے فیوچر ہسبینڈ کو؟ میں کہیں شادی سے پہلے ہی بیوہ نہ ہو جاؤں؟”،صائم نے شرارت سے کہتے ہوۓ حیدر کی آنکھوں میں بڑھتی بے یقینی کو دیکھا اور ہنس پڑا۔

”ارے عیادت کرنے آئی تھی تمہاری اپنی ممی کے ساتھ۔۔۔لاہور سے اسپیشیلی تمہارے لیے آئی تھی۔”، صائم نے کہا تو حیدر نے تھوڑا سانس لیا۔

”اس کی ممی نے کچھ بتایا تھا ہماری ممی کو۔۔۔”، کچھ دیر کی خاموشی کے بعد صائم نے سنجیدگی سے کہا تو حیدر کے کان کھڑے ہو گۓ۔

”رشتہ آیا ہے اس کا۔۔۔وسیم انکل کے کسی دوست کا بیٹا ہے۔ ان کے فیملی ٹرمز بھی ہیں اس فیملی کے ساتھ۔”، صائم نے کہا تو حیدر رخ موڑ گيا۔

“ابھی بھی وقت ہے حیدر۔۔۔رشتہ بھجوا دو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ کسی اور کے نام کی مہندی لگا کر تمہیں اپنی شادی کے کارڈ کے ساتھ ساتھ مٹھائی کا ٹوکرا بھی بھیجے۔”، صائم نے کہا تو حیدر نفی میں سر ہلانے لگا۔

”نہیں۔ اسے میں نے کہا تھا کہ وہ میری پڑھائی ختم ہونے کا انتظار کرے۔ مگر وہ بضد ہے کہ ابھی ہی شادی کروں۔تو میں یہ نہیں کر سکتا۔”، اب کے وہ بولا تو آواز اور لہجے میں سنجیدگی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔

”اور اگر تمہاری اسی ضد کے چکر میں واقعی مٹھائی آ گئی نا تو رونے کے لیے اپنا کاندھا میں ہر گز مہیا نہیں کروں گا۔”، صائم نے کہا تو حیدر نفی میں سر ہلانے لگا۔

”نہیں، وہ ہاں نہیں کرے گی اس رشتے کو۔”، حیدر نے کہا تو صائم اسے گھورنے لگا۔

”کیوں؟ کیوں ہاں نہیں کرے گی؟”، صائم نے پوچھا تو وہ ہلکا سا مسکرایا۔

”وہ مجھ سے محبت کرتی ہے بھائی۔ اور میں بھی اسی سے شادی کروں گا۔”، حیدر نے کہا تو صائم نے گہرا سانس لیا اور کچھ قریب ہوا۔

”کبھی اپنی انا اور خوش فہمی کے خول سے نکل کر دیکھنا۔ دنیا بہت الگ ہے۔ ویسی بالکل نہیں ہے جیسی تمہیں نظر آتی ہے۔ زائرہ ایک لڑکی ہے۔۔۔اور وہ کب تک بنا کسی وجہ کے رشتوں کو ریجیکٹ کرتی رہے گی؟ ایک نہ ایک رشتے پہ تو ہاں کرنی ہی ہو گی نا اسے۔”، صائم نے کہا تو حیدر نے چہرہ موڑ کے اسے دیکھا۔

“کیا میری محبت کافی نہیں ہے رشتوں کو ریجیکٹ کرنے کے لیے؟”، اس نے پوچھا تو صائم نے ہلکے سے نفی میں سر ہلایا۔

Adhoray mukamal novel by Elena Qureshi Complete novel

  • by

ادھوری محبت اور نفرت کی داستان، ادھورے ہجر اور وصال کی داستان، ادھوری زندگی اور موت کی داستان، ادھورے اپنے اور پرائوں کی داستان، ادھورے غم اور خوشیوں کی داستان، ادھوری بہار اور خزاں کی داستان، ادھوری روشنی اور اندھیرے کی داستان، ٹوٹ کر مکمل جڑنے کی داستان

مختصر یہ کہ ادھورے کرداروں ”

کی مکمل داستان ”

یہ ناول کرداروں کے گرد گھومتا ہے جو اسلام، مذہب، دین، خدا اور نیکی جیسے الفاظ سے ناآشنا ہیں۔انکے لئے زندگی کا مقصد” *میں اور میری مرضی” ہے۔ بقول ان کے، جو بھی دنیا میں انسان حاصل کرتا ہے وہ اس کی اپنی قابلیت کی بنا پر ہے جبکہ ایک کردار تو سرے سے اللہ کے ہونے پر بھی یقین نہیں رکھتا(نعوذبااللہ)۔

یہ تینوں دو لڑکے اور ایک

لڑکی زندگی

کے کچھ موڑ پر ملتے ہیں, جس سے یہ آپس میں جڑ جاتے ہی، لیکن اپنی غلطیوں اور گناہوں کی وجہ سے تینوں الگ ہو جاتے ہیں۔

ان سالوں میں ان تینوں کی الگ الگ سٹوری چلے گی جن میں کچھ tragadies انہیں اسلام کی طرف لے جائیں گی۔ اس میں ہماری فیمیل لیڈ ایک ہندو لڑکی سے ملے گی جس کے ساتھ مل کر وہ اسلام کو ایکسپلور کرے گی۔

اصل میں ہندو لڑکی *رتیقا* کی سائڈ سٹوری ہے جس میں رتیقا” عشق مجازی سے عشق حقیقی کا سفر” کر کے اپنے مذہب کو بدلے گی،” اسلام “قبول کرے گی

ادھورے مکمل داستان آپ لوگوں کو کچھ سکھائے یا نہیں مگر امید ہے کہ آپ کی ادھوری زندگیوں کو کہیں نہ کہیں مکمل کرنے کی ادنیٰ سی کوشش ضرور کرے گی، یقیناََ کچھ جگہوں پر آپ کو آپ کے رب کے نزدیک بھی کر دے گی۔ ” بس ایمان پختہ اور نیت صاف ہونی چاہیے۔”

# *انسان تو پھر ادھورے مکمل کی سب سے بہترین مثال ہے ۔*✨

Pyar mera nafrat bhara by Aiman Akmal complete novel

  • by

زری ایک لڑکی تمہارا نام پوچھ رہی تھی میں ایج سے لے کر گھر کے ایڈریس تک سب بتا آئی۔ عشاء تو ایسے بتا رہی تھی جیسے کوئی کارنامہ کر دیا ہو

بس فون نمبر رہ گیا. عشاء اداس ہوئی

کیا مطلب کس کو بتا آئی ہو؟ زریام کے تو ہوش اڑے تھے

دعا دو گے مجھے فری میں ایک گلر فرینڈ مل گئی

شکریہ ادا مت کرنا۔ ایسے چھوٹے موٹے کام میں کرتی رہتی ہوں۔ ویسے مبارک ہو تمہیں اب تم سنگل نہیں رہے

عشاء تو مسکرا رہی تھی لیکن زویا کے چہرے کا رنگ اڑ چکا تھا

یار عشاء یہ کوئی طریقہ۔۔۔۔۔

اوہ کملی جی ناں پوچھدی۔۔۔۔ کیندی ہاں یاں کہ نا پوچھدی

او لبھدی بہانے پھردی۔۔۔۔۔۔ کدے کافی کدی چاہ پوچھدی

زریام کچھ کہنے ہی لگا تھا جب عشاء گنگنانے لگی

میں پھیرا اگنور ماردا کیوں کہ ٹوٹیا ہے دل یار دا

یار ہی نے جیرے سانبھی جاندے نے عشاء نے خود کو مہان محسوس کرتے بائیں پھیلائی

زریام حیران و پریشاں بیٹھا ایک نئی مووی کا ٹریلر دیکھ رہا تھا

بس کر دو عشاء ہر بات مزاق نہیں ہوتی۔ زویا غصے سے کہتی اٹھ کر چلی گئی

اسے کیا ہوا؟ زریام نے اسے غصے میں جاتے ہوۓ دیکھ پوچھا

میں دیکھ کر آتی ہوں؟ عشاء بھی اس کے پیچھے جانے کے لیے کھڑی ہوئی لیکن دو قدم چلنے کے بعد بھاگ کر واپس زریام کے پاس آئی

یہ گانا پرفیکٹ میچ تھا لیکن ایک مسئلہ ہے یار تمہارا دل ٹوٹا ہوا نہیں ہے تو پھر ایسا کرو پہلے اپنا دل تڑواؤ اور پھر ہم یہی سے شروع کریں گے ۔ عشاء اسے آنکھ مارتی زویا کے پیچھے جانے لگی جبکہ زریام نفی میں سر ہلا کر رہ گیا

زویا منہ بناۓ بینچ پر بیٹھی تھی جب عشاء اس کے ساتھ آکر بیٹھی

ایسے کیا دیکھ رہی ہو تمہارا ہی ہے۔ عشاء نے اس کے کندھے سے کندھا مس کیا

ک۔کیا مطلب

زویا جو زریام کو ہی دیکھ رہی تھی جس کے پاس کچھ لڑکیاں کھڑی تھیں اور وہ بھی ایسے بات کر رہا تھا جیسے اس کے ماموں کی بیٹیاں ہوں اپنی چوری پکڑے جانے پر ہڑبڑا کر بولی

تمہیں کیا لگتا ہے میں نہیں جانتی اس بارے میں۔ بچپن کی دوستی ہے میری تم سے چہرہ بھی پڑھ لیتی ہوں

اور وہ تاثرات تو واضح جھلک رہے ہوتے ہیں جو زریام کو کسی لڑکی کے ساتھ دیکھ کر تمہارے چہرے پر آتے ہیں۔ عشاء نے اس کے گرد باہیں پھیلاتے اس کی تھوڑی پر انگلی رکھتے اسکا چہرہ اپنی طرف موڑتے کہا

عشاء میں بہت کوشش کرتی ہوں اس سب سے نکلنے کی لیکن یہ میرے بس میں نہیں رہا یار۔ میں کیوں اس کے بارے میں سوچتی ہوں۔ اس کا کسی سے بات کرنا مجھے کیوں اچھا نہیں لگتا مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا ہے یار میں کیا کروں؟ مجھے ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے۔ جب بھی وہ کسی لڑکی سے ہنس کر بات کرتا ہے تو دل میں خوف پیدا ہو جاتا ہے

زویا اپنے جذبات بتانے سے بھی ڈرتی تھی اور زریام کے کسی اور کے بارے میں جذبات جاننے سے بھی ڈرتی تھی

اگر وہ کسی سے۔۔۔۔۔۔

تمہیں لگتا ہے ایسا کچھ ہو گا ہر لڑکی کو تو وہ ایسے ٹریٹ کرتا ہے جیسے اس کی گرل فرینڈ ہو لیکن یار اسکا وہ ڈائیلوگ ساری لڑکیاں میری بہنیں ہیں

Watan ki matti gawah rehna by Memona Noman Complete novelette

  • by

“شیرازی صاحب آپ کو یاد ہے کہ چند مہینوں پہلے میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایک لڑکے نے خود کو آپ کا بیٹا کہا تھا؟”

اس سوال پر ان کی رنگت اڑ چکی تھی۔

” تت۔۔ تم کس ویڈیو کی بات کر رہے ہو۔ میری یادداشت میں ایسی کوئی ویڈیو نہیں ہے؟”

ان کے ہکلانے کا وقت شروع ہو چکا تھا۔

“اگر آپ کو یاد نہیں پڑتا تو میں آپ کو یاد کروائے دیتا ہوں کہ آپ کا ایک اور بیٹا ہے جس کا نام زین شیرازی ہے جو آپ کی پرانی محبوبہ سمینہ بٹ کا بھی بیٹا ہے۔۔۔ ویسے آپ دونوں کی شادی کب ہوئی تھی۔ سمینہ بٹ نے اطلاع نہیں دی اور نہ ہی آپ نے؟؟”

میں انجان بنتے ہوئے ان کے تاثرات سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ مجھے مزا آرہا تھا۔ شیرازی صاحب کی بینڈ بجنا شروع ہو چکی تھی۔ ان کا چہرہ پسینے سے تر ہو رہا تھا۔ انہوں نے ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کی۔ شاید ان کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔

“آپ کی جانب سے مستقل خاموشی ہے۔ کیا میں اپنے سوال کا جواب یہ سمجھوں کہ آپ دونوں کے درمیان شادی ہی نہیں ہوئی تھی؟”

“وہ میرا بیٹا نہیں ہے۔”

وہ ضبط سے بولے ورنہ ان کی آنکھیں مجھے سالم نگلنے کو بےتاب تھیں۔

“کوئی ثبوت ہے آپ کے پاس ان گھٹیا الزامات کا؟”

“ارسلان آفریدی ثبوت کے بغیر کوئی بات نہیں کرتا۔ ثبوت ہے آپ کی اور آپ کے بیٹے کی ڈی این اے ٹیسٹنگ رپورٹ جو کہ 95 پرسنٹ پوزیٹو ہے۔”

میں ایک ایک لفظ چبا کر بولا۔

“آپ میری انسلٹ کر رہے ہیں۔”

اپنے ہاتھ میں پکڑی رپورٹ پر نظریں دوڑائے بغیر انہوں چہرے پر بمشکل مسکراہٹ قائم رکھتے ہوئے کہا لیکن چہرے کے برعکس ان کی نظریں آگ اگل رہی تھیں۔

” آپ کی انسلٹ کرنے والا میں نہیں آپ خود ہیں، آپ کے کرتوت ہیں۔ انسان وہی کاٹتا ہے شیرازی صاحب جو وہ بوتا ہے۔” میں نے اپنی بات دہرائی جو میں نے ان سے اپنی پہلی ملاقات پر کہی تھی۔

“ہاں جی تو ناظرین اب وقت ہوتا ہے ایک چھوٹے سے بریک کا۔ پھر ملتے ہیں۔”

میں نے بریک کا کہا کیونکہ میری پیچھے اسٹوڈیو میں طوفان برپا ہوچکا تھا۔ شیرازی کے بیٹے کے ذکر پہ جو ہلچل شروع ہوئی تھی وہ صدیقی صاحب کے آجانے پہ بھی نہیں تھمی تھی۔ اب مجھے مستقل بریک لینے کی ہدایات موصول ہورہی تھیں۔

“بریک کی ضرورت نہیں کیونکہ مجھے ارجنٹ کام ہے۔ میرے پاس صرف آدھے گھنٹے کی فراغت تھی.ل اور وہ آدھا گھنٹہ میں آپ کو دے چکا ہوں تو اب میں چلتا ہوں۔”

وہ سکون سے گویا ہوۓ لیکن یہ سکون آگے آنے والے طوفان کی پیش گوئی تھا۔

“چلیں شیرازی صاحب آپ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے میں آج کا پروگرام یہیں ختم کرتا ہوں۔ وہ الگ بات ہے کہ مجھے آپ سے ابھی مزید کئی سوالات پوچھنے تھے۔”

میں نے آخر میں بھی ان کو جتانا ضروری سمجھا کہ ابھی تو میں آپ کو چھوڑ رہا ہوں لیکن اگلی دفعہ باندھ کے رکھوں گا۔ جب کہ وہ مجھ سے ہاتھ ملاتے ہوئے اپنی آنکھوں سے مجھے بہت کچھ باور کرواتے ہوئے وہاں سے واک آؤٹ کر چکے تھے۔ اب انہیں باہر بے شمار رپورٹرز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بے شمار سوالات ان کے سامنے رکھے جائیں گے، جن کے جواب یقیناً ان کے پاس نہیں ہوں گے۔ ظاہر ہے جھوٹ بولنا جتنا آسان ہے سچ بولنا اتنا ہی مشکل۔

Safar zindagi ka by Amna Tariq complete novel

  • by

“آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں؟”۔

بڑی مشکل سے ٹائپ کیا تھا

چند ثانیے بعد اس کی کال آگئی۔

“ہاں تو کیا پوچھ رہی تھی تم؟”۔

وہ خاموش رہی۔

“تو تم پوچھ رہی تھی کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں کہ نہیں؟”۔

“جی”۔

“آفکورس محبت کرتا ہوں تم سے”۔

“آپ شادی بھی مجھ سے کریں گے؟”

چند سیکینڈ خاموشی رہی پھر اس کا قہقہہ ابھرا

“حیات یہ کیسا سوال ہے؟”۔

“آپ بس جواب دیں”۔

“تم سے پیار کرتا ہوں تو شادی بھی تمہی سے کروں گا حیات”۔

دل کا اک گوشہ پرسکون سا ہوا

“مامی مان جائیں گی؟”۔ ڈر بجا تھا

“تم ٹینشن مت لو۔ امی کو میں منالوں گا۔۔ تم مجھ پر بھروسہ رکھو آئی پرامس شادی میں تمہی سے کروں گا”۔

اس کا دل مطمئن ہوا۔

امید تھی وہ اپنا پرامس پورا کرے گا ۔۔۔

پر کیا انسانوں سے امید لگانی چاہئے؟؟

کیا انسان ہمیشہ اپنا وعدہ پورا کرتے ہیں؟؟

کیا انسان بھروسہ کرنے کے قابل ہیں؟؟

Mera masoom bacha by Areeba Sikander complete novel

  • by

یہ بہت مشکل تھا وہاج کے لیے لیکن اپنے عزیزوں کا اخری دیدار بھی بڑا عزیز ہوتا ہے❃

وہ پینک ہو رہا تھا لیکن وہ اپنے عزیز کا اخری دیدار نہیں چھوڑ سکتا تھا اس نے بہت ہمت پیدا کی تھی ان کو اپنے کندھے میں اٹھایا تھا قبرستان جاتے وقت بھی اس کی انکھیں پل پل بہہ رہی تھی بڑی مشکل سے انہیں قبر میں اتارا تھا مٹی ڈالتے وقت تو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ بس ابھی اس کے پاؤں سے جان نکل جائے گی۔ ❃لیکن ایسا نہیں ہوتا محبت میں بھی انسان کے پاؤں سے جان نہیں نکلتی وہ دعویدار ضرور ہوتا ہے کہ اگر اس کا کوئی پیارا زندہ نہ رہا تو وہ بھی مر جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوتا پر ہاں ایسا ضرور ہوتا ہے کہ وہ زندہ ضرور ہے لیکن اس کی خواہشیں مر جاتی ہے❃

Strangers by Ayesha Asif Complete English novel

  • by

“Strangers” ایک جذباتی اور سبق آموز کہانی ہے جو ماضی کے تجربات سے سیکھنے اور خود کو اس معاشرے کا سامنا کرنے کے لیے مضبوط بنانے پر مبنی ہے۔ ناول کا مرکزی خیال یہ ہے کہ زندگی میں آنے والے حالات، دکھ اور دھوکے ہمیں بدلتے ہیں، لیکن اصل امتحان یہ ہے کہ ہم ان تجربات سے کیا سیکھتے ہیں اور کس طرح اپنی شخصیت کو نکھارتے ہیں۔

کہانی کا مرکزی کردار اپنے تلخ ماضی سے نکلنے اور زندگی میں ایک نئی راہ تلاش کرنے کی جدوجہد کرتا ہے۔ وہ اپنے اندرونی خوف اور کمزوریوں کو شکست دے کر خود کو ایک مضبوط اور خودمختار شخصیت میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔

یہ ناول قاری کو سکھاتا ہے کہ اگرچہ لوگ اور حالات ہمیں توڑنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ماضی کے زخم ہمیں مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔ اگر ہم سیکھنا چاہیں تو ہر مشکل ہمیں ایک بہتر انسان بنا سکتی ہے۔

یہ کہانی ان لوگوں کے لیے ایک حوصلہ افزا سبق ہے جو ماضی کی تلخیوں میں الجھے ہوئے ہیں اور آگے بڑھنے کی جستجو رکھتے ہیں۔

************