Skip to content
Home » Social media writers » Page 154

Social media writers

Intaqam e ishq novel by Maheen Ahmad

  • by

سر..؟

“ہمممم..”

سر وہ باہر کوئی لڑکی آئی ہے کہہ رہی ہے آپ سے ملنا چاہتی ہے۔

نام کیا بتایا؟ وہ ہنوز کام میں مصروف بولا تھا۔

اسکی خاموشی پر وقاص نے نظریں اٹھائے اسے گھورا۔

کچھ پوچھ رہا ہوں میں۔حوالدار کے پسینے چھوٹ رہے تھے۔

سس۔۔سر۔۔ووہ۔۔لڑکی بول رہی ہے کہ وہ آپ کی وائف ہے اور نام نہیں بتا رہی۔وقاص نے پچھلے دونوں سے جیسا برتاؤ اپنے تھانے میں سب کے ساتھ رکھ کھا تھا ان سب کی جان جاتی تھی وقاص کے سامنے آتے ہی اور اب یہ بات اسے پتہ تھا اسکے سر کی شادی بھی نہیں ہوئی ہے وہ تو اب اپنی خیر منا رہا تھا۔

اوکے اندر بھیجو اسے۔وقاص کے اتنے نارمل ری ایکٹ پر حوالدار کو تو جیسے کرنٹ ہی چھو گیا۔

کھڑے کھڑے منہ کیا دیکھ رہے ہو میرا جاؤ اب۔وقاص خاصے سخت لہجے میں دھاڑا۔

حوالدار جی سر بولتے وہاں سے نو دو گیارہ ہو گیا۔

وہ باخوبی جانتا تھا اپنی نقلی بیوی کے بارے میں۔

اسلام علیکم۔وقاص نے آواز کے تعاقب میں سامنے کھڑی اس برقع پہنے لڑکی کو گھور کر دیکھا

جی فرمائیے۔کیا کام ہے آپ کو محترمہ۔۔۔؟

واقعی نہیں پہچانا یا جان کے انجان بن رہے ہو۔ملائکہ منہ پر سے برقع اٹھاتی اسکے ٹیبل پر ہاتھ رکھے اسکے سر پر پہنچی تھی۔

جی نہیں میں نہیں پہچانتا۔اپ کام بتائیے اور نکلیئے مجھے اور بھی بہت کام ہیں۔ وقاص فائل دیکھتا مصروف سے انداز میں بولا۔

توبہ توبہ استغفرُاللہ یہ کیسا انسپکٹر ہے اپنی بیوی کو ہی پہچاننے سے انکار کر رہا ہے۔ملائکہ اونچی آواز میں کہتی رونے کی ایکٹنگ کرنے لگی۔

بیوی کے ذکر پر وقاص نے عجیب نظروں سے اسے دیکھا تھا۔

وہ اسوقت اپنے آفس میں تھا جہاں اسکی اجازت کے بغیر کسی کو آنے کی اجازت نہیں تھی اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ ملائکہ یہ سب ڈرامہ کیوں کر رہی ہے مگر ملائکہ نہیں جانتی تھی کہ وہ یہ ڈرامہ کر کے کتنی بُری پھنسنے والی ہے۔

بیوی۔وقاص نے بہت دلچسپ لہجے میں دوہرایا۔

ملائکہ کے دل کو کچھ ہوا تھا۔چئیر پر سے اٹھتا اپنے قدم اسکی جانب بڑھائے تھے۔ اسکی آنکھوں میں ابھرتی چمک ملائکہ کا دل ہولا رہی تھی۔وقاص اسکی طرف بڑھتا ملائکہ اپنے قدم پیچھے کی جانب لے رہی تھی اتنے میں وہ دیوار سے جا لگی وقاص نے سرعت سے اپنے دونوں ہاتھ اسکے دائیں بائیں جوڑے تھے۔

تو آپ کا فرمانا ہےآپ میری بیوی ہیں۔

مم۔۔میں۔۔مذاق کر رہی تھی وقاص پلیز دور ہٹو۔

پر میں مذاق نہیں کر رہا۔میری بیوی ہو تو ظاہر ہے میں کچھ بھی کر سکتا ہوں۔وہ تنفر سے کہتا قریب ہوا۔

ملائکہ کا دماغ پل میں گھوم گیا۔اپنی گن نکالے اسکے سینے پر رکھی۔

دور رہو مجھ سے ورنہ۔ ملائکہ نے بات اُدھوری چھوڑی۔

تم مجھے اپنے لفظوں سے پہلے ہی مار چکی ہو اس کھلونے سے کسی اور کو ڈرانا۔ اسکا لہجہ کوڑوں جیسا تھا۔

وقاص پلیز میری بات سنو۔ضبط کے باوجود وہ رو پڑی۔

کیا بات سنوں ہاں۔۔کیا سناؤ گی۔میں نے بھی ایسے ہی منتیں کی تھی نا تمہاری ایک بار نہیں بار ہا دفعہ کہا تھا۔ایک بار میری بات سن لو۔۔تم نے سنی تھی۔۔تو آج میں کیوں سنوں۔

تم سنو گے کیونکہ تم میرے جیسے بےحس نہیں ہو۔ملائکہ نے اسکا بازو تھاما۔

بدلے میں وقاص نے اسکا بازو پوری قوت سے جھٹک دیا۔

بےحس تو تم ہو مگر بےرحم بھی انتہا کی ہو ملائکہ صدیقی۔اسکے لہجے کی نفرت ملائکہ کو اپنا دل کرچی کرچی ہوتا محسوس ہوا۔

دفع ہو جاؤ یہاں سے اور اب میرے سامنے آنے کی کوشش مت کرنا میں اب وہ انسپکٹر وقاص نہیں رہا جو تمہارے سامنے کتے کی طرح دم ہلاتا پھرتا تھا۔بہت کر لی تم نے میری تذلیل اب بس میرے سہنے کے حد بس اتنی ہی ہے۔میں کوئی سخت قدم اٹھاؤں اس سے پہلے میری زندگی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دور چلی جاؤ۔

Zeesham e ishq novel by Rida Writes

  • by

اس نکمی اولاد کی بھی کوئی خبر لی ہے کہ نہیں،، بی اماں نے دانت پیستے مراد سے رامز کے بارے میں استفسار کیا۔۔ جی بی اماں وہ ابھی فریحہ کے ساتھ وہی رہنا چاہتا ہے کچھ ٹائم۔۔ اور اس کے کہے کہ مطابق اس کے لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں وہ اپنی بیوی کے ساتھ وہاں اکیلا بہت خوش ہے،، پہلہ جملہ مراد نے جب کہ دوسرا جملہ حریم نے کسی رٹو طوطے کی طرح بتایا۔۔ مراد نے اس کو گھوری سے نوازا جسے اس نے اگنور کیا۔۔ جب مراد کی رامز سے بات ہوئی تو حریم بھی موجود تھی۔۔ سب بے شرم اولاد اس گھر کی پیداوار ہے مجال جو زرا بھی شرم و حیا رکھ لے وہ نواب تو نمبر ون پر آتا ہے اس کام میں،، بی اماں نے حریم کی بات پر رامز کو خوب سلواتے سنائی ساتھ ساتھ ولی کو بھی آڑے ہاتھوں لیے،، جو شام میں ہی اقصیٰ کو لے کر حویلی آیا تھا۔۔ یار بی اماں مجھے تو مت گھسیٹا کریں درمیان میں کام آپ کا وہ کمینہ پوتا کرتا ہے واٹ میری بھی ساتھ فری میں لگتی ہے،، ولی نے سلگتے ہوئے رامز کو گالیوں سے نوازتے بی اماں سے جھنجھلاتے کہا۔۔ دیکھ یہ تیرے منہ سے پھول جھر رہے نہ جو میں تمہیں نہ گھسیٹوں بیچ میں ایک سے بڑھ کر ایک نمونہ ہے اس گھر میں،، بی اماں کا غصہ کسی بھی صورت کم نہیں ہو رہا تھا جس کی زد میں ولی آیا ہوا۔۔ جب کہ غصہ حریم کی بات سنتے اپنے لاڈلے سپوت پر تھا۔۔ اب کیا کر سکتے ہیں یہ تو بابا کو پہلے سوچنا چاہیے تھا،،ولی نے کندھے اچکاتے بے باکی سے جواب دیا۔۔ بغ۔۔۔۔یرت بے شرم انسان باپ کو بھی نہیں بخش رہا،، بی اماں نے اس کی بے باکی پر سرخ ہوتے پاس پڑا اپنا موبائل اس کی طرف مارا جو اس نے مہارت سے کیچ کر لیا۔۔ زرنش بیگم بھی اپنے سپوت کو دیکھتے دانت پیسے بیٹھی تھی اگر کچھ بولتی تو ضرور سب کا سامنے انہیں اپنی بے شرمی دیکھا کر شرمندہ کر دیتا۔۔ باقی سب نے اپنی مسکراہٹ دبائی۔۔ ارے مائے ڈیئر لیڈی اگر موبائل کو کچھ ہو گیا تو داجی کیسے گاؤں کے کام نبٹا سکے گے وہ تو زوجہ سے دن میں دس بار محبت بھرے لفظ اپنی لیڈی کے کان میں نہ ڈال لیں ان کا دن نہیں گزرتا،، ولی نے داجی کو اندر داخل ہوتے دیکھ کر آنکھ ونک کرتے اپنی زبان کے جوہر دیکھائے۔۔ مراد خاموش بیٹھا خود بھی ان کی نوک جھوک کو انجوائے کر رہا تھا۔۔ تو روک زرا بے شرم کہی کہ آج میرے ہاتھوں نہیں بچو گے،، بی اماں ولی کو لاؤنچ سے ڈور لگاتے دیکھ کر اس کی پیٹھ کا نشانہ لیتے بولی جو کہ چونک گیا۔۔ دیکھ لے اپنے مزاجی خدا کو دیکھ کر آج آپ کا نشانہ بھی چونک کگیا،،

Tu mily mil jaey rahat novel by Maryam Rajpoot

  • by

یہ کہانی ایک ایسے شخص سے شروع ہوتی ہے جس نے فقت ایک شرط کی حاتر ایک معصوم سی لڑکی کو اپنے جال میں پہنسایا تھا محبت کے جال میں

یہ کہانی ہے سردار وہاج سلطان

کے عشق کی ۔۔۔اسکے ہجر کی ۔۔اسکے جنون کی۔۔

یہ کہانی ہے دوہا میر کی جسکے اپنوں نے اسے ہود جہنم میں دھکیلا تھا اسکے پیارے نانا نے اسے ایک سنگی انسان کے ساتھ باندھا تھا اسکی زندگی میں زہر گھولا تھا ۔۔

ایک حاسد کی جسنے دوہا میر کو تباہ کرنے کی قسم کھایی تھی اسکو درد دیا تھا ۔۔

یہ کہانی ہے دوہا میر کی ۔۔اسک عشق کی۔۔۔اسکے درد کی ۔۔۔اسکے سردار کر عشق میں قید ہونے کی۔۔

یہ کہانی ہے شاہ کے انتقام کی اور دلربا کے عشق کی۔۔

یہ کہانی ہے وامق سلطان کی محبت کی ۔۔روشانی راہب کمال کے ونی ہونے کی ۔۔۔ان دونوں کی کہانی۔۔

یہ کہانی ہے انتقام کی ۔۔جنون کی۔۔کسی کے عشق کی تو کسی کے ہجر کی ۔۔تو کسی کے حسد کی۔۔دو خاندانوں کی کہانی

Khud se khudi tak novel by Ayesha Tariq Ali

  • by

دائرے میں، “خود سے خود تک” ایک یادگار کام کے طور پر ابھرتا ہے جو کہ کہانی سنانے کی حدود کو عبور کر کے انسانی تجربے کی گہرائی تک پہنچ جاتا ہے۔ ایک ممتاز پاکستانی مصنف کی طرف سے لکھا گیا، یہ عظیم نظم انسانی جذبات، رشتوں اور خود کی دریافت کی جانب پیچیدہ سفر کی ایک ٹیپسٹری کو ایک ساتھ باندھتا ہے، جس کا تجربہ سالار اور امامہ کے کرداروں نے کیا ہے۔

سالار، زندگی کے اسرار سے پردہ اٹھانے کے جذبے کے ساتھ ایک سوچنے والی روح، خود آگاہی سے خود پسندی تک ایک تبدیلی کی تلاش کا آغاز کرتی ہے۔ اس کا سفر خود شناسی، اندرونی انتشار، اور گہرے انکشافات کے لمحات سے نشان زد ہے جب وہ اپنی نفسیات اور رشتوں کی پیچیدگیوں کو نیویگیٹ کرتا ہے۔ اس کے ساتھ امامہ ہے، جو ایک پرجوش اور ہمدرد فرد ہے جس کی موجودگی سالار کی داستان میں گہرائی اور وسعت پیدا کرتی ہے۔

“خود سے خودی تک” کے مرکز میں تبدیلی اور ترقی کا ایک لازوال پیغام ہے، جو اس کے عنوان “خود سے خودی تک” کے پُرجوش ترجمے میں شامل ہے۔ سالار اور امامہ کی آپس میں جڑی منزلیں خود شناسی کی عالمگیر جستجو کی آئینہ دار ہیں، کیونکہ وہ اپنے خوف، خواہشات اور خواہشات کا مقابلہ کرتے ہوئے زندگی میں اپنے اصل جوہر اور مقصد کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے تعاملات، مکالموں اور مشترکہ تجربات کے ذریعے، ناول انسانی فطرت کی پیچیدگیوں، خود شناسی کی آزمائشوں، اور خود شناسی کی تبدیلی کی طاقت کو بیان کرتا ہے۔

Position holder short novel by Rashna Aziz

  • by

“زندگی بھی کیسے عجیب کھیل کھیلتی ہے۔”یہ جملہ آپ اکثر سنتے رہ گئیتے ہیں۔کیا کھیل کھیلتی ہے زندگی ؟کتنی آسانی سے اپنی کی گئی غلطیوں کا ذمےدار ٹھہرا دیتے ہیں ہم زندگی کو۔قصور اپنا ٫غلطیاں اپنی اور الزام سارا زندگی کے کاندھوں پر ۔زندگی دراصل کھیل نہیں ہے ۔زندگی امتحان ہے۔ایک ایسا امتحان جس میں آپ کوئی بھی چیٹنگ کریں گے تو معاملہ اللّٰہ کی عدالت میں جائے گا اور سزا اور جزا بھی منصفانہ ہوگی۔جس کی جتنی غلطی اس کی اتنی سزا۔ایک غلطی مجھ سے بھی ہوئی تھی ۔زندگی کی سب سے بڑی غلطی۔جس اب میں آنسو بہانے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتی۔کیا کروں زندگی نے کھیل ہی ایسا کھیلا میرے ساتھ ۔دیکھا ڈال دی نا اپنی غلطی میں نے بھی زندگی کے کاندھوں پہ ۔

Sahira novel by Anum Ahmed

  • by

“آپ کو ایسا نہیں تھا کرنا چاہیے” طاہرہ عام سے حلیے میں کھڑی آنکھوں میں دبہ دبہ سا غصہ لیے کہہ رہی تھی اس کے عام سے حلیے میں بھی ہیل کی ٹک ٹک لبوں کی لپ اسٹک بالوں کا جوڑا کہیں غائب نہ ہوتا تھا

“میں… نے وہی کیا…. جو مجھے کرنا تھا” بلاج حسین نے رک رک کے اپنی بات مکمل کی

“لیکن یہ کوئی اصول نہیں ہے کہ ایک بیٹے کو آپ زیادہ حصہ دیں اور دوسرے کو کم”

وہ دبا دبا سا چلائی

“تم بھول رہی ہو ۔۔میں نے ۔۔۔۔۔دونوں کو ۔۔برابر برابر دیا ہے سب” انہیں بولنے میں دشواری ہو رہی تھی

“مجھے پتہ ہے تمہیں مسلہ اس بات سے نہیں ہے ، اصل مسلہ تمہیں ساحرہ کو دیے گے اثاثے پر ہے” انہوں نے بہت کوشش سے ایک ہی سانس میں اپنی بات مکمل کرنی چاہی

ساحرہ کے نام پہ طاہرہ کے چہرے پہ ایک سایہ سا آیا اور اگلے ہی لمحے گزر گیا

“ہاں مجھے اسی سے مسلہ ہے آخر اپ کیسے اس کو یہ سب دے سکتے ہیں ، حلانکہ خدمت ساری زندگی میں نے کی اپ کی بجائے آپ یہ سب مجھے یا میرے بیٹوں کو دیں آپ اس کے حوالے کر رہے ہیں” اس نے ہاتھ جھلا جھکا کر چینج کہ کہا اس بات کا خیال کیے بغیر کے اسے اپنے سسر کا خیال رکھنا تھا جو چند دن کے ہی مہمان تھے