Skip to content
Home » Social media writers » Page 156

Social media writers

Apne man mein doob kar pa ja suragh e zindagi novel by Jaweria Bint e Zubair

دادی جان مجھے تو یہ سب کا بدلہ رویہ سمجھ میں نہیں آ رہا؟

ماہی اداسی سے بولی۔

٫٫بیٹا ہم جب اللّٰہ کی راہ اختیار کرتے ہیں تو بظاہر کوئی مشکل اور رکاوٹ نظر نہیں آتی۔ ہم اسے بہت آسان سمجھتے ہیں مگر بعد میں سب اپنے لوگ بھی منہ پھیر لیتے ہیں کہ انسان کا دل چھلنی ہو جاتا ہے۔ صبر کرو اللّٰہ کی راہ میں آزمائش ضرور ہوتی ہے۔ مگر اسکا اجرو انعام بھی اتنا بڑا ہے صبر کرو،،

وہ پیر پٹختی ہوئی اندر کی طرف چل دی۔

اس نے سرمئی گھٹنوں تک آتی قمیض پہنی اور گاڑی میں ڈرائیور کے پیچھے جاکر بیٹھ گئی ڈرائیور نے اسے صادام کے گھر چھوڑا۔

وہ گھر کے اندر داخل ہوئی۔ گھر میں خاموشی تھی۔

تم مجھ سے کتنی محبت کرتے ہو صادام؟

ڈرائنگ روم سے نسوانی آواز آئی۔ وہ آواز سن کر اسکا دل دھڑکا۔

وہ ڈرائنگ روم کے دروازے کی اوٹ میں کھڑی ہو گئی۔ اسے صادام کے جواب کا انتظار تھا۔

٫٫ بے انتہا،،

صادام کے جواب پر اسکا دل چھن سے ٹوٹا۔

اس نے کمرے میں جھانکا نوجوان لڑکی مغربی طرز کے کپڑے پہنے صادام کے ساتھ بیٹھی تھی۔

واہ!صادام واہ! وہ کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولی۔

اسکی آنکھوں سے دو آنسو نکل کر گال پر پھسل گئے۔

یہ کون ہے بےبی؟

لڑکی نے سوال داغا۔

یہ کیا بتائے گا میں خود بتاتی ہوں۔وہ دو قدم آگے بڑھی۔

میں اسکی منگیتر ہوں جسے ابھی کل یہ اپنے نام کی انگوٹھی پہنا کر آیا ہے۔ وہ دکھ سے بولی پھر اس نے صادام کی طرف رخ کیا اور بولی

٫٫تمہیں پتا ہے جیسا مرد ہوتا ہے اسے ویسی عورت ملتی ہے۔ تمہیں پتا ہے تم اسی کو ڈیزرو کرتے ہو۔ اس نے انگوٹھی اتار کر اسکے منہ پر ماری اور فوراً وہاں سے نکل گئی۔

***

آج صادام کے گھر کیا ہوا تھا؟

اس کے ڈیڈ نے سوال کیا۔

بابا وہاں ایک لڑکی تھی اس نے اتنا کہا تھا کہ اسکی آنکھوں میں آنسو آ گئے وہ مزید کچھ کہتی اس سے پہلے اسکی امی بول اٹھیں

وہ اسکی دوست تھی۔

مما وہ غلط بات کر رہی تھی جو چیز میری ہے وہ صرف میری ہے۔ میں ماہجبین شاہ ہوں میں چیزیں بانٹنا نہیں جانتی وہ چلائی۔

اپنی آواز نیچی رکھ کر بات کرو اسکے ڈیڈ غصے سے بولے۔

تمہارے بھی تو لڑکے دوست تھے صادام نے تو کبھی کچھ نہیں کہا اسکی امی نے طنز کیا۔

تم انگوٹھی اتارنے کا مطلب سمجھتی ہو نہ رشتہ توڑنے کے مترادف ہوتا ہے اسکی امی غصے سے بولیں۔

٫٫تمہارا نکاح صرف صادام سے ہوگا،،

***

رک جائیں قاضی صاحب۔

ہال میں آواز گونجی۔ پولیس انسپکٹر اپنے حوالداروں کے ساتھ ہال میں داخل ہوا۔

سب پولیس انسپکٹر کی طرف دیکھنے لگے۔

زین شاہ آگے بڑھے

یہ کونسا طریقہ ہے کسی کے ذاتی فنکشن میں گھسنے کا وہ غصے سے بولے۔

ہمارے پاس صادام اکبر کے گرفتاری کا وارنٹ ہے صادام اکبر کو اسمگلنگ کے جرم میں گرفتار کیا جاتاہے۔

انسپکٹر نے کہا۔ ایک حولدار صادام کو ہتھکڑی پہنا رہا تھا۔ جبکہ اسکی امی چلا رہی تھی۔ ماہجبین حیرانی سے یہ سارا تماشا دیکھ رہی تھی۔ پولیس صادام کو گرفتار کرکے لی جا چکی تھی۔

زین بھائی میرے بیٹے پر الزام لگا ہے۔ یہ کسی کی سازش ہے پلیز آپ کچھ کریں صادام کی امی روتے ہوئے بولیں۔ کچھ کرتے ہیں وہ سر ہلاتے ہوئے بولے۔

Qalb-e-ulfat novel by Hooria Ahmad

  • by

“دور رہو میری بہن سے! خبردار اگر میری بہن کے پاس آئے تو! بہت ماروں گا تمہیں، گندا ولی!”

ہارون نے حورین کو ولی سے دور کرتے ہوئے کہا۔ ولی کا دل پہلی بار کیا کہ وہ ہارون کو مارے، مگر وہ چاہ کر بھی اس پر عمل نہیں کر سکا۔ دونوں کے درمیان یہ بےوجہ دشمنی تب سے ہی شروع ہو گئی تھی جب سے دونوں پیدا ہوئے تھے۔ ان دونوں میں صرف تین دن کا فرق تھا، ہارون ولی سے تین دن بڑا تھا۔

مزاج کے لحاظ سے، ہارون اپنے ماموں حیدر پر گیا تھا جبکہ ولی اپنی پھوپھو حورم جیسا تھا۔ جتنا ہارون ضدی اور اکھڑ تھا، ولی اتنا ہی پرسکون اور خوش مزاج تھا۔

“وہ میری دوست ہے! میں اس کے ساتھ کھیلوں گا۔ اور اگر تم نے مجھے مارا، تو میں بھی تمہیں ماروں گا اور انکل سے تمہاری شکایت کروں گا! گندا ہارون!”

Ishq maan mehram by Mahnoor Baloch

  • by

کیا ہوا کہاں ہے میری بچی۔۔۔؟؟ زینب بیگم روتے ہوئے سوال کیا تھا
ایک ماں اپنے سارے بچوں سے برابر ہی پیار کرتی ہے چاہے دنیا والے جیسا بھی سوچ لیں۔۔ماں کے لیے کبھی بھی ایک اولاد دوسری پر ترجیح نہیں دیتی
انس خاموش تھا۔۔۔
زارون کی آنکھوں میں انگارا تھا جیسے اسے اب اس نام سے بھی نفرت ہو۔۔۔۔
انس بتاؤ کہاں ہے زائیشہ۔۔۔اس بار زینب بیگم تقریباً چیخیں تھی
بھاگ گئی ہے وہ۔۔۔کسی آوارہ لڑکے کے ساتھ۔۔۔ زارون نے کہا تھا اس کی آواز کسی کھائی کے اندر سے آئی تھی
تمہارا دماغ خراب ہے میری بیٹی پہ بہتان لگا رہے ہو۔۔۔ مقدم شاہ اس بار آگے آئے تھے انہوں نے زارون کا گریبان پکڑ کر کہا تھا
صحیح کہہ رہا ہوں میں بھاگ گئی ہے وہ اگر یقین نہیں۔۔۔تو پوچھیں اپنے بیٹے سے زارون نے مقدم صاحب کے ہاتھ سے اپنا گریبان چھرایا تھا
پہلے اپنے گریبان میں دیکھیں پھر دوسروں کا گریبان پکڑنا۔۔۔زارون نے طنزیہ نظر ڈال کر کہا
انس جو کب سے چپ کھڑا تھا زارون کا ہاتھ پکڑ کے اسے گھر سے نکال دیتا ہے
زبان کو لگام دو تم سے یہ امید نہیں تھی۔۔۔ آئیندہ مجھے اپنا دوست نا کہنا۔۔
تمہارے جیسا دوست میں مر کر بھی نا بناؤں زارون نے قدر غصہ سے کہا تھا

Guman novel by Tayyaba Rafiqe

  • by

“امی ی ی ی ی ی ی ی ی ی ی”

اس کے گلے سے ایک دلخراش چیخ فضا میں بلند ہوئی

“امی اٹھیں ۔۔۔۔امی آنکھیں کھولیں کیا ہوا ہے امی ی ی ی یی۔ ۔۔۔۔”

دعا نے اپنا فون اٹھایا اور ابو کا نمبر ملایا لیکن آؤٹ آف کورج ۔۔۔۔۔۔

“یا اللہ”

دعا کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کرے ۔۔۔۔وہ دوڑ کر باہر گلی کسی کی مدد لینے آئی لیکن وہاں سواۓ سنسان سڑک کے کچھ بھی نہیں تھا۔

وہ بھاگ کر امی کے پاس آئی

“امی ۔۔۔۔۔امی پلیز آنکھیں کھولیں نا ۔۔۔۔امی ی ی ی “

ساتھ ساتھ وہ زرمینہ کا نمبر ملانے لگی

“آپی ۔۔۔۔آپی امی۔۔۔۔۔بھائی۔۔۔۔۔۔آآ۔۔۔آپی پلیز گھر آ جاؤ”

وہ روتے ہوۓ بات بھی نہیں سمجھا پا رہی تھی ۔

“کیا ہوا ہے دعا ؟؟؟سب خیریت ہے نا ۔۔۔۔؟؟؟؟امی کہاں ہیں ؟؟کیا ہوا امی کو ؟؟؟ذور دانی کہاں ہے؟؟ابھی تک گھر نہیں پہنچا؟؟؟”

زرمینہ اس کی آواز سن کر بوکھلا گئی تھی۔

” آپی بھائی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے اور امی بے ہوش۔۔۔۔آپی کوئی نہیں ہے گھر میں ۔۔۔۔۔ابو کو بھی فون نہیں ۔۔۔۔لگ رہا۔۔۔۔۔آپی پلیز آ جاؤ۔۔۔۔”

“اللہ ۔۔۔۔۔۔۔میں ۔۔۔میں ابھی آ رہی ہوں پریشان نہیں ہو ۔۔۔”

Sarma ki jalti raat afsana by Uqba Ahmed

عیسیٰ احمد اور سکینہ بی بی کا کنبہ بچوں سمیت آٹھ افراد پر مشتمل تھا، ساری زندگی صبر و شکر سے گزار دی اور یہی درس بچوں کو دیا پر بھلا کیا سب نہیں جانتے کہ پانچوں انگلیاں کاہے کو برابر ہوویں، اور کہاں لکھا ہے کہ ماں باپ مشکل صبر و شکر سے کاٹ لیں تو اولاد سکھی رہتی ہے۔ جو دنیا میں آگیا، اس نے مشکل بھی دیکھنی ہے اور خالق ساتھ آسانی بھی رکھتا، پرآسانی تلاشنی پڑتی ہے۔ بچے جوں جوں جوانی کی دہلیز میں قدم رکھتے گئے، دونوں میاں بیوی سر جوڑ کے بیٹھ جاتے۔ بڑی حمیرا اور سمیرا تو خاندان میں ہی مانگ لی گئیں، پھر بیٹوں کے لئے بھی نظر میں خاندان کی لڑکیاں موجود تھیں اور دونوں میاں بیوی کی عادات ایسی تھیں کہ کوئی بھی بن مانگے دے دے پر مہرو کے معاملے میں کوئی بھی مہرو کے ماں باپ کے مزاج کی صرف گارنٹی پر مطمئن نہ تھا۔ سب اس کی سستی، جو منہ میں آیا کہہ دینا، اور ایسی ہی لاپرواہی والی عادات سے خوب واقف تھے اور اب جبکہ وہ بھی بڑے بہن بھائیوں کی طرح میٹرک سے نبردآزما ہو چکی تھی اور اس کو کھونٹے سے لگانے کا سوچا جا رہا تھا خواہ چٹ منگنی پٹ بیاہ ہی کرنا پڑے، خواہ گھر میں بڑوں کی شادی کے ارمان کو ابھی تک کے لئے ملتوی کرنا پڑے۔ کیونکہ مہرو کو عقل دینے اور سگھڑ بنانے کا یہی تو صحیح وقت تھا پھر جو وہ اور بے لگام ہو جاتی تو کون سے کھونٹے باندھا جاتا، ماں باپ کو ہی لتاڑتی۔

Mera ishq ho tum novel by Aneesa Shafqat

کہاں جا رہی ہو تاشہ؟

زرتاشہ : اپنے گھر۔

برہان : اب تمہارا گھر یہی ہے۔

زرتاشہ: اپنی امی کے گھر۔

اب کی بار تو برہان اسے ہرگز نہیں جانے دینا چاہتا تھا ۔

برہان : تم نہیں جاؤ گی تاشہ ۔

زرتاشہ نے بھی ہمیشہ کی طرح ضد کی۔ مگر آج برہان بھی زرتاشہ کی ضد تسلیم کرنے والا نہیں تھا۔

زرتاشہ : میں تو جاؤں گی اور ضرور جاؤں گی۔

برہان: کبھی تو میری بات مان لیا کرو زرتاشہ ۔ چار دن سے ہماری آپس میں کوئی بات نہیں ہوئی کیا تمہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا؟ کیا تمہیں میری یاد نہیں آئی ؟ یا میں یہ سمجھوں کہ میری محبت اب بھی یک طرفہ ہے اور تمہیں مجھ سے کوئی سروکار نہیں۔

زرتاشہ نے بھی اپنے دل کی بھراس نکال دی۔

زرتاشہ : تو کیا میں اتنی بے مایا ہوں کہ جب جس کا دل چاہے گا مجھے اپنا لے گا اور جب جس کا دل چاہے گا وہ مجھے چھوڑ دے گا۔

انسان ہوں میں کوئی مٹی کا کھلونا نہیں کہ جب دل چاہا اس سے کھیل لیا اور جب دل چاہا اسے چھوڑ دیا ۔

برہان : میں نے تمہیں چھوڑنے کا کبھی تصور بھی نہیں کیا تاشہ تمہیں معلوم ہونا چاہیے۔

زرتاشہ : تو پھر شایان کے کہنے پر آپ مجھے وہاں کیوں چھوڑ آئے تھے؟

بقول آپ کے میں تو آپ کی محبت تھی، مجھ میں تو آپ کی جان بستی تھی۔ تو پھر آپ کیوں اپنی محبت کو وہاں چھوڑ آئے ؟

کیوں آپ نے مجھے وہ میسج کیا؟

کیوں اپنا موبائل بند کر لیا؟

آپ نے ایک بار بھی نہیں سوچا تھا کہ مجھ پر کیا گزرے گی ۔ جب آپ میرا فون نہیں اٹھا رہے تھے تو میرا دل پھٹ رہا تھا ۔ آپ جانتے ہیں مجھے کتنی فکر ہو رہی ہے کہ آپ کی۔

برہان : سوری تاشہ! آئندہ ایسا کبھی نہیں ہوگا میں وعدہ کرتا ہوں۔

وہ برہان کی بات ماننے کے بالکل موڈ میں نہیں تھی ۔

زرتاشہ : سوری ناٹ ایکسیپٹڈ! (Sorry not accepted)