Skip to content
Home » Social media writers » Page 158

Social media writers

Ain Sheen Qaaf novel by Sibgha Hussain Sibbi

  • by

دوست؟ آپ جانتے ہیں نا دوست کتنا بڑالفظ ہے وفا محبت عزت ناجانے کتنے کتنے لفظوں کا محتاج ہر مشکل گھڑی میں ساتھ رہنے کا نام جب کوئی آپ کے ساتھ نا ہو جب یہ دنیا آپ کا ساتھ چھوڑدیں تو اس دوست کا ہمیشہ ساتھ کھڑے رہنا ہمیشہ ساتھ دینا کہ کوئی نا ہو اس کا آپ کے ساتھ کھڑے رہنا آپ کی طاقت بن جانا بہت بڑا لفظ ہے یہ دوست وہ اکیس بائس برس کی لڑکی اس ستائیس برس کے لڑکے کو دوستی کا مطلب سمجھا رہی تھی وہ خاموشی سے اس کی بات سن رہا تھا کیاآپ نبھا سکتے ہیں ہیں ایسی دوستی وہ سوالیہ انداز میں بولی۔

جی بالکل نبھا سکتا ہوں اگر آپ ساتھ دیں میں وعدہ نہیں کرونگا نا قسم کھاؤنگا کیونکہ وعدے اکثر کسی نا کسی مجبوری کے تحت ٹوٹ جاتے ہیں زندگی کا کیا بھروسہ میں آپ سے وعدہ کرکے مر جاؤں پھر تو میں وعدہ خلاف کہلاؤنگا نا۔

ارے ارے ایسا نہیں کہتے اللّٰہ آپ کو ہمیشہ سلامت رکھے

لُیکن مجھے زندگی اچھی نہیں لگتی جب سے میرے بابا مجھے چھوڑ کر چلے گۓ میں بہت پیار کرتا تھا ان سے وہ بھی مجھ سے بہت محبت کرتے تھے وہ اتنی جلدی ا مجھے چھوڑ کر چلے گۓ مجھے زندگی ادھوری لگتی ہے ۔

ایسا نہیں کہیں اللّٰہ کی امانت تھی وہ انھوں نے لے لی آپ ان کے لئے دعا کیا کریں دیکھیں میرے بابا کو بھی اللّٰہ نے اپنے پاس بُلالیا میں اللّٰہ کی رضا میں راضی ہوں ہاں کبھی کبھی بابا کی بہت یاد آتی ہے مگر پھر میں قران پڑھتی ہوں نماز پڑھتی ہوں اللّٰہ تعالیٰ سے ان کی مغفرت کی دعا کرتی ہوں اور یقین مانیں میں خود کو بہت پرسکون پاتی ہوں۔ وہ اپنی آنکھ سے گرے آنسو صاف کرتے ہوا بولی وہ خاموشی سے سن رہا تھا

زندگی اللّٰہ کی دی ہوئی امانت ہے وہ جیسے چاہے گا جب چاہے گا لے لے گا آپ کو یا مجھے نہیں پتا ہمارے کتنے دن ہے اس دنیا میں کیاآج یہاں ہوں کل قبر کی اس مٹی میں سما جاؤں خیر بہت ٹائم ہوگیا اب میں چلتی ہوں

Yakhbasta Judaiyaan novel by Rabail Saleem

  • by

“Be ready for meet up tomorrow”

“کل ملنے کے لیے تیار رہیں “

لیپ ٹاپ بند کیا ہی تھا کہ نفیسہ کمرے میں آ داخل ہوتے ہیں برہم ہوتے ہوئے بولی ۔

“شاباش بھائی کی شادی ہے اور تم ادھر بھی کام میں مگن ہو ، تھوڑی سی شرم کرلو ، کچھ دن کے لیے کام روک نہیں سکتے”

نفیسہ آپی آپ شروع ہی ہو گئی ہیں سانس تو لیں، چھوٹی سی جان ہے دم نکل جائے گا “

“شرم کرو، میں کیا کہہ رہی ہوں اور تم کیا کہہ رہے ہو”

“اوہو یہ غصہ تو مت کریں ، چھوٹی سی ناک ہے اس پر بھی غصہ بٹھایا ہوا ہے “

شامییییر! تقریبا چلاتے ہوئے بولی

اچھا اچھا سوری اب نہیں کہتا ، مگر کام تو کام ہے یہ تو کرنا ہی ہے ، مگر وعدہ میں سب فنکشنس میں بھرپور حصہ لوں گا”

“بالکل اور اب تم میرے ساتھ چل رہے ہو کیوں کہ ہم نے ڈھولکی رکھی ہے ، اور کوئی بہانہ نہیں چلے گا”

“اوکے مسز عادل ، شامیر سرنڈر کرتے ہوئے بولا”

نفیسہ اس کے انداز پر مسکرا دی اور مڑنے ہی لگی تھی کہ شامیر کی آواز پر پھر رکی

“آپی وہ کب آ رہی ہے ؟”

“کتنے بے صبرے ہو رہے ہو ، آ جائے گی وہ بھی”

“کیا کروں اتنا وقت ہو گیا ہے اسے دیکھے ہوئے “

“انتظار کرو!” یہ کہتے ہوئے نفیسہ کمرے سے نکل گئی

“وہی تو کر رہا ہوں اتنے سالوں سے” شامیر نے کہا اور چینچ کرنے کے لیے مڑ گیا، ور نہ نفیسہ اس کا لیپ ٹاپ ہی توڑ دیتی!

Qasi al qalb novel by Maliha Shah

  • by

یہ میں کہاں ہوں؟وہ اس پاس کی جگہ دیکھتے ہوئے بولی۔وہ ایک نہایت شاندار کمرہ تھا جیسے کوئی محل ہو باہر کے منظر کچھ یوں جھیل بہہ رہئ تھی اور برف باری ہورہی تھی ایسے جیسے وہ کسی جنت میں ہو اس وقت تو داریہ کو یہ لگا کہ وہ جنت میں ہے۔

مجھے یہاں کون لایا وہ اپنی سوچوں میں گم تھی کہ دروازے پر دستک ہوئ۔یہ لو کھانا کھاؤ ڈیمن کمرے میں داخل ہوا لیکن وہ اپنے آپ کو کور کئے ہوئے تھا اس طرح کے داریہ کو صرف اس کی نگاہیں نظر آرہیں تھیں۔کون ہوتم؟مجھے کہاں لاۓ ہو؟یہ کون سی جگہ ہے؟اور میری بی جان!ایک دم سے وہ رونے لگی۔بی جان مجھے کیوں چھوڑ کہ چلیں گئیں۔وہ سفید فراک پہنے اور تنگ پاجامہ پہنے بہت خوبصورت لگ رہئ تھی ڈوپٹہ گلے سے غائب تھا جو کہ شاید ڈیمن کو انجانے میں بھی بہکا رہئ تھی۔ ڈیمن نے ایک نظر اس پہ ڈالی اور چلا گیا۔داریہ روتی رہئ۔ایک گھنٹہ اسے یوں ہی بیٹھے بیٹھے گزر گیا۔جب دوبارہ دستک ہوئ۔اب کی بار ڈیمن کے ہاتھ میں ڈوپٹہ تھا جو اس نے داریہ کی طرف پھینکا۔یہ لو ڈوپٹہ یہاں تم مخفوظ ہو پریشان مت ہو جلد ہی تمہارے رہنے کی جگہ کا بندوبست ہوجائے گا تو میں تمہیں چھوڑ آؤں گا تب تک تمہیں یہیں رہنا ہوگا۔اور ایک ضروری بات تمہیں بتا دوں تم اس وقت روس میں ہو۔یہ کہہ کے ڈیمن چلا گیا اور داریہ کی آنکھیں بھیگ گئیں۔اس نے اس چیز کی بہت دعا کی تھی مگر وہ اس طرح سے پوری ہوگی اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔جب رو رو کے وہ تھک گئ تو خاموشی سے کھانا کھایا اور باہر کھڑکی سے پار دیکھنے لگی شاید اس کی زندگی اب ایسے ہی گزرنے والی تھی،لیکن قسمت کا کسے پتا ہوسکتا ہے۔اسے یہاں آۓ ہوئے مہینہ ہوگیا تھا،ایسے ہی ڈیمن روز آتا کھانا دیتااسےاور چلا جاتا۔

Malika e qalb novel by Sania Hussain

  • by

اداکاری سیکھو….

کرنے کے لیے نہیں…..

اپنے اردگرد موجود منافق لوگوں کی اداکاری سمجھنے کے لیے….

Khawab qaid nahi kiye ja sakte afsan by Sana Ramzan

  • by

ڈاکٹر تو میں بن کے رہو ں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے نفرت کرتی ہو ں میں تم جیسے اوچھے انسان سے طلحہ ہو نق بنا کھڑا اسے خود پہ چیختے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھر اچانک اسکا بازو پکڑ کر کمرے میں دھکا دے کر دروازہ بند کر دیا وہ غم و غصے سے چیختے اسے دروازہ کھولنے کا کہ رہی تھی جبکہ وہ تو کانوں پہ پردے ڈال چکا تھا ۔جب دروازے سے نکلتے اسکے قدم تھمے اسنے مڑ کر بند دروازے کو دیکھا جہاں سے آواز آرہی تھی

تم مجھے تو قید کر سکتے ہو لیکن میرے خوابوں کو نہیں میں ڈاکٹر بن کے رہوں گی یہ میری ضد ہی ہے میں کبھی تمہیں معاف نہیں کروں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور پھر غصے سے تنی رگوں کے ساتھ وہاں سے نکل گیا بند آنکھوں سے کون خواب دیکھتا ہے خواب تو وہ ہو تے ہیں جو انسان کو سونے نے دے وہ بس سوچتا ہی رہے کہ خواب کو پورا کیسے کرنا ہے ۔اسکا خواب تھا ڈاکٹر بننا جسک ا سوچ سوچ کر وہ ہلکان ہو جاتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔😥

وہ ہاتھ میں پکڑے اپنا شاندار رزلٹ دیکھ رہی تھی جس کے لئے اسکی نے پوری جان لگا دی تھی وہ اللہ سے دعا گو تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اللہ میرے پیارے اللہ———–!تھام لے نہ مجھے آپ پتھروں سے چشمے نکال سکتے ہیں منزل میرے سے تھوڑے قدم دور ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور میں قدم نہیں بڑھا پا رہی کچھ تو ایسا کر دیں کہ میں اپنے خواب کو پا لوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آسمان سے بارش کا قطری اسکے دعا مانگتے ہاتھوں پہ گرا تھا یقیناً اس کی سنلی گئ تھی۔۔۔۔

Gul e siyah afsana by Rabail Saleem

  • by

گل لالہ مجھے عشق ہے تم سے ہمارے بیچ پاک رشتے اور تمہارے ان سرخ گلابوں سے ۔۔۔

علی مجھے بھی عشق ہے تم سے تمہاری محبت سے اور ہر اس گل سرخ سے جس میں تمہاری محبت موجود ہے ۔

یہ آوازیں تو حسین تھیں مگر نہ جانے کیوں اس کو لگا تھا کہ اس کا دل پھٹ جائے گا۔

اس نے ان آوازوں کی سرسراہٹ کو روکنے کے لیے کانوں پر ہاتھ رکھ لیے اور زور سے چلائی

خاموش ہو جاؤ خدا کا واسطہ ہے خاموش ہو جاؤ ورنہ میں مر جاؤں گی ہاتھ میں موجود سرخ محملی سکارف جو پوٹلی کی صورت بندھا تھا نیچے گر گیا تھا

مگر ہنوز وہ ان آوازوں کو روکنے کے لیے چلا رہی تھی اسے لگ رہا تھا کہ قدرت اس کا تمسخر اڑا رہی ہے یہ حسین وادیاں اور جنت نما راستے اس کی قسمت پر چپکے چپکے مسکرا رہے ہیں ۔۔

جب وہ ان آوازوں کی بازگشت سے لڑنے میں ناکام ہو گئی تو خود سے ہار کر ادھر ہی زمین پر بیٹھ گئی اور محملی سکارف کو اٹھا کر سینے سے لگا لیا

کہیں سے لوٹ آؤ علی دیکھو اب ان راستوں پر سے گزرتی ہوں نہ تو مجھے دیکھ کر ہنستے ہیں یہ اکیلے

مجھ سے یہ وادی کے کنارے چیخ چیخ کر پوچھتے ہیں کہ گل اکیلے کیوں آتی ہو ہمیں تم علی کے ساتھ ہی بھاتی ہو اکیلے مت آیا کرو۔

۔آنسو بھی نہ جانے کہاں سے راستہ بنا کر نکل آئے تھے ۔۔

مگر اسے ہوش کہاں تھی ۔؟

Shehr e ishq novel by Mari Khan

  • by

مہر تم نے شاہ زین بھائی سے کیوں کہا تم ان سے دوستی کرکے پچھتا رہی ہو؟ تمہیں پتہ ہے انھیں کتنا ہارٹ ہوا ۔

زویا میں نے بس اس سے مزاق کیا تھا ۔وہ سیرس ہوگیا ہے ۔

مہر ایسا مزاق کون کرتا ہے تم ہمیشہ ایسا کرتی ہوں انکے ساتھ ؟ نہیں پسند تھے تو دوستی کیوں کی؟ دوست بھی ہے پسند بھی ہے اور پچھتا بھی رہی ہوں سوچ سمجھ کر بولا کرو سمجھی؟

زویا ۔مہر کی آ نکھیں نم ہونے لگی ،

مہر اگر کوئی تمہیں بولے گا تمہیں کیسا لگے گا

زویا میں لڑکوں کو پھنسا نے والی ہوں ؟ از نے روتے ہوئے کہا؟

میں عمر سے محبت کرتی ہوں ان سے شادی کرنا چاہتی ہوں میں ابھی تک ان سے بدتمیزی نہیں کرتی اور تم انھیں اتنا سناتی ہو۔

نہیں کرتی میں اسکے بے عزتی میں اسکی عزت کرتی ہوں پیار سے بات کرتی ہوں ۔زویا میں نے ایک نامحرم سے دوستی کی ہے لکین مجھے اس سے انسیت ہوگی ہے م کیوں اسے مانگ رہی ہوں بار بار ۔میں نے بس مزاق کیا اسے کیا مجھے چھوڑ کر نہیں جانا زویا میں اس سے محبت کرتی ہوں عارض کے بعد میں سے صرف اسے رب سے مانگا ہے میری نیت نکاح کی ہے تم کیوں مجھے اتنا سنا رہی ہوں وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی ۔