Skip to content
Home » Social media writers » Page 160

Social media writers

Adamzad or Bintehawa novel by Umaima Shafeeq Qureshi

  • by

“زارون چلو گھر چلتے ہیں۔”یہ وہی جانتی تھی کہ اس نے یہ بات کیسے کہی تھی۔

“ٹھیک ہے تو چلتے ہیں۔پہلے تمہاری غنڈی کزن کے ہاتھ کی چائے تو پی لوں۔”

“اپنے گھر جا کر نا اپنی معصوم بیوی کے

ہاتھ کی کافی پی لیجیے گا۔”انارا نے تڑک کر جواب دیا تھا۔

“تم مجھے گھر سے نکال رہی ہو؟”زارون نے بےیقینی سے پوچھا تھا۔

“ہاں نکال رہی ہوں۔”اس کے جواب پر وہ جل بھن گیا تھا۔

“مجھے پینی بھی نہیں ہے تمہارے ہاتھ کی بدمزہ چائے۔جا رہا ہوں میں…!”زارون نے اٹھتے ساتھ کہا تھا۔

“اگر اتنے ہی غیرت مند ہیں نا تو واپس اس گھر کا رخ مت کیجیے گا۔”انارا نے شان بےنیازی سے کہا تھا۔

“چند پیسے کیا آ گئے ہاتھ میں،لوگ خود کو پتا نہیں کیا سمجھنے لگ گئے ہیں؟”اسے ایک گھوری سے نوازتے زارون نے اپنی گاڑی کی چابی اٹھائی تھی۔ذکیہ بیگم نے اسے روکنے کی بھرپور کوشش کی تھی مگر وہ داریاء کا ہاتھ پکڑے جا چکا تھا۔اس کے گھر سے جانے کے بعد انارا نے مسکرا کر اپنے ہاتھ جھاڑے تھے۔زندگی اپنے معمول پر لوٹ آئی تھی۔ان دونوں کی دشمنی کا آغاز پھر سے ہو چکا تھا۔

Woh meri qismat ka sitara novel by Noor Baig

  • by

حورین تمہیں پتہ ہے جب تمہاری کال ائی تو میں کتنا ڈر گیا تھا۔ اگر میں وقت پر نہ پہنچتا یا میں نہ فون اٹھاتا تو کیا ہوتا تم کس کو کہتی ؟

حورین پوری انکھیں کھولے حیرانگی سے عباس شاہ کو دیکھ رہی تھی۔ یہ تو کوئی اور عباس شاہ تھا یہ وہ نہیں تھاجس کو وہ دیکھتی ا رہی تھی۔۔۔۔”مجھے پتہ ہے تم حیران ہو” لیکن میں ان مردوں میں سے نہیں ہوں جو اپنی بیویوں پہ ہاتھ اٹھاتے ہیں یا پھر اپنی انا کی تسکین کے لیے ان کو نیچا دکھاتے ہیں۔ ہاں میں تیار نہیں تھا اس سب کے لیے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ میں اس کا بدلہ تم سے لیتا۔ مجھے یہ بات کہنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں ہو رہی کہ تم نے پہلے دن سے ہی میرے دل میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ بس میں یہ کہنے سے ہچکچار رہا تھا یا پھر میں خود پہ بھی یہ بات ظاہر نہیں کر رہا تھا لیکن اج مجھے لگا کہ مجھے کہہ دینا چاہیے ۔یہ کہتے ہوئے اس نے ایک گہری سانس لی جیسے اپنے اپ کو تیار کر رہا ہو کہ وہ اس کو کہہ سکے ۔۔۔۔میں تم پہ یقین کرنا چاہتا ہوں حورین میں چاہتا ہوں کہ میں تمہارا ہاتھ پکڑوں اور سب پریشانیوں کو بھلا دوں۔ لیکن ایک برے تجربے نے میرے دل میں میاں بیوی کے رشتے کو لے کر جو گرہ لگائی ہے وہ پتہ نہیں کیوں لیکن وہ کھل نہیں پا رہی اور میں چاہتا ہوں کہ ہم دونوں مل کے اس رشتے کو ٹھیک کریں۔ میں تمہارے ساتھ ایک خوشحال اور بہت اچھی زندگی گزارنا چاہتا ہوں لیکن میں فوری طور پر اس پہ عمل نہیں کر پا رہا لیکن میں چاہتا ہوں کہ تم میرا یقین کرو اور میرا ساتھ دو۔ تھوڑا وقت لگے گا حورین لیکن مجھے یقین ہے کہ اس وقت میں تم میرے ساتھ ہوگی اور اگے بھی ہم بہت اچھی اور خوشحال زندگی گزاریں گے ۔اس نے یہ کہتے ہوئے حورین کی طرف دیکھا۔ “کیا تم میرا ساتھ دو گی

Khataey bashar novel by Bakhtawar Ismail

  • by

دل میں ارزو جاگ رہی ہے

انسان خطاؤں کے پتلے بن رہے ہیں

دن بدن انسان سرکشی کی حد پار کر رہا ہے

روزانہ لاکھوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے

ہم صرف دیکھ رہے ہیں

خواہشات کو پورا کرنے کے لیے ہر غلط کام کر رہے ہیں

ہر زبان پر جھوٹ ہے

ہر گناہ عام ہے

نام کے مسلمان بڑھ رہے ہیں

ہر کسی کے دو چہرے ہیں

اب ایسا ماحول بن گیا ہے کسی پہ یقین نہیں ہوتا کہ یہ وہی ہے یا اس کا دوسرا چہرہ ہے!

Woh kon thi novel by Asma Afzal 

  • by

وہ پالر کی ڈریسنگ مرر کے سامنے کرسی پہ بیٹھی ہوئی تھی۔اور بیوٹیشن لڑکی بڑی مہارت سے آئی شیڈو لگارہی تھی۔اس نے آج لال رنگ کا کامدار لہنگا پہنا ہوا تھا۔میک آپ تقریبا ختم ہو گیا تھا۔بال آپ اپنی مرضی سے بنوائے گئی بیوٹیشن نے لب سٹک کا آخری ٹچ دیتے ہوئے پوچھا۔نہیں آپ اپنی مرضی سے دیکھ لے جو میری میک اپ لک کے ساتھ سوٹ کرے۔رودابا نے موبائل اٹھاتے ہوئے جواب دیا۔موبائل کی سکرین پلے کرتے رودابا کے چہرے پہ ایک خوبصورت سی مسکراہٹ آئی۔جب سے رودابا پالر آئی تھی۔یہ مسکراہٹ ہر دو منٹ کے بعد آنے والے میسج اور کال کے بعد آرہی تھی۔میڈم آپ چاہیں تو پہلے بات کرلے بیوٹیشن نے رودابا کے چہرے پہ ہر دو منٹ بعد آنےوالی مسکان دیکھ کر کہا۔نہیں آپ بنائیں بال میں بعد میں بات کرلوں گئی۔رودابا کے ہونٹوں پہ شرمیلی مسکراہٹ آئی جیسے چوری پکڑی گئی ہوں۔رودابا کا ارادہ اپنے ہونے والے ہسبنڈکو کو ترپانے کا تھا

Mohabbat ke baans novellette by Rabail Saleem download pdf

  • by

“محبت کے بانس” یخ بستہ جدائیاں اور مامتا کے بعد تیسرا ناول ہے ۔ رشتوں میں مٹھاس، اپنایت ، خلوص جو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہوتا جارہا ۔

رشتوں میں موجود محبت اور ہمارے رسم و رواج کو اپنا اصل کھو رہے ہیں اور ان کی جگہ مغربی رسم و رواج کو پذیرائی ملنے لگی ہے ۔

بس اسی بات نے مجھے اس موضوع پر قلم اٹھانے پر مجبور کیا ۔ کہانی کے کرداروں میں زمل ثمن اور ارحم کا کردار کھٹا میٹھا سا ہے جبکہ بی جان میرا پسندیدہ کردار ہیں جنہوں نے خاندان اور روایات کو ایک لڑی میں پرو کر رکھا ہوا