Skip to content
Home » Social media writers » Page 160

Social media writers

Sapno se haqeeqat ka safar novel by Esha Ahmed

  • by

زارہ رکو تو کہیں خوشی سے میرا بازو نا توڑ دینا۔

فکر نا کرو نہیں توڑوں گی ۔ ا۔ چلو بھی

اچھا بولو تو سہی کرنا کیا ہے ۔

یار ماہم آپی کب سے اکیلئ ڈکورشن پے لگی ہوئی ہیں ان کی ہیلپ کرنی ہے ۔ اور کیا ۔

تو اس میں کیا ہے دوستی کا فرض ادا کر رہی ہے ۔ اب اتنے سالوں بعد دوست آ رہی ہے اتنا تو بنتا ہی ہے۔

بے شرم لڑکی تم بھی کزن ہونے کا تھوڑا فرض نبھا لو ۔ وسے تو میری آپی کے لیے میں خود ہی کافی ہوں ۔لیکن میں نہیں چاہتی تم لوگ فری کا پیار دیکھاو ۔ ہاہاہاہاہا خد ہے یار زارہ کتنا سوچتی ہو تم ۔

پانچ سال پہلے جس ائرپورٹ پر جاتے ہوئے آنکھوں میں آنسو تھے ۔ آج وہی کھڑے آنکھوں میں چمک لیے وہ اپنوں سے ملنے آ رہی تھی ۔

ایک بہت ہی شاندار ویلکم کے بعد سب باتوں میں مصروف تھے ۔ کوئی ریان سے پوچھ رہا تھا تو کوئی شماء سے ۔

یا مناہل دیکھو تو سہی یہ شہزاد کتنا کیوٹ ہے ۔ ویسے آپی اپکا بیٹا کورین پے ہی گیا ہے ۔ زارہ جو کب سے دو سال کے شایان کے ساتھ کھیل رہی تھی ۔ شماء کو دیکھتے ہوئے کہا جس پر شماء نے مسکراتے ہوئے اشارے سے خاموش رہنے کا کہا ۔

Naqab e roop novel by Rumaisha Zareen

  • by

کہانی ہے ایک معصومیت اور نقاب میں پیچھے چھپے رشتوں میں وفا ڈھونڈنے والی کی۔۔۔۔ جسے محبت ہے اپنوں سے۔۔۔۔ بابا کی باتوں کو ہمیشہ یاد رکھنے والی کی۔۔۔دوستوں پر جان دینے والی کی۔۔۔۔۔ اور اس سب کے باوجود ہمیشہ اکیلی ہی رہ جانے والی کی۔۔۔ کہانی ہے المیرا کی!

Mohtaaj afsana by Uyoon Abdul Sattar

  • by

“عائشہ پتر مینو معاف کردے۔ میں تیرے نال چنگی نہیں کیتی۔ میری دھی کاش میں تیری گل من لئی ہوندی۔ کاش میں اپنیاں دا محتاج نہ ہوندا۔ کاش میں محتاج نہ ہوتا۔ مجھے پیسوں کی محتاجی سے زیادہ اپنوں کے ساتھ کی محتاجی مارگئی۔ میرا تو سب کچھ چلا گیا۔ میں خالی ہاتھ رہ گیا۔ پتر میں تیری قدر نہیں کیتی۔ کاش میں تجھے نوکری کرنے دیتا۔ تجھے اپنے قدموں پہ مضبوط ہو لینے دیتا۔ کاش میں محتاج پرست نہ ہوتا۔ کاش میں اپنے فیصلوں میں محتاج نہ ہوتا۔” وہ اپنی پیشانی پہ ہاتھ مارتا جاتا ۔ اپنی بیٹی کی قبر پر بیٹھے اور آنسو بہاتا جاتا تھا۔

Rang zindagi ke afsana by Nadia Anwar

  • by

کیا بات ہے احمد تم مجھے کچھ پریشان لگ رہے ہو۔ مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگی ہے دیا بلکہ یہ کہنا چاہے کہ بہت بڑا گناہ ہو گیا ہے میں خود کو شاید کبھی معاف نہ کر پاو۔

ہوا کیا ہے احمد دیکھو تم یوں پریشان مت ہو مجھے بتاو کیا ہوا ہے اس کے کہنے پر احمد نے اسے ساری بات بتا دی۔

کل جب میں نے بھای کی بات سنی نا دیا تم سوچ بھی نہیں سکتی مجھے کتنی شرمندگی ہوی میں ان کا سامنا کیسے کرو گا کیا کچھ نہیں کیا انہوں نے میرے لیے اور میں کتنا کم ظرف نکلا مجھے لگتا تھا کہ اگر میں سب کو سچ بتا دو گا تو سب میرا مذاق بناے گے مجھے ایک جوکر کا بھای کہے گے اور تم بھی مجھ سے دور ہو جاو گی یہ سب جاننے کے بعد تم مجھ سے کبھی شادی نہیں کرو گی۔ لیکن اب مجھے کسی کی کوی پروا نہیں ہے کوی کچھ بھی کہے میرے لیے میرے بھای اہم ہے وہ بھای جو میری خوشی کے لیے ایک جوکر بن گیا وہ جوکر جو دوسروں کو ہنساتا تھا آج وی خود رو رہا ہے کس کے لیے اس بھای کے لیے جس کے لیے اس نے اتنا سب کیا ساری دنیا انہیں کچھ بھی کہتی تھی دیا انہوں نے کبھی کچھ نہیں کہا کبھی شکايت نہیں کی مگر میرے الفاظ نے انہیں بہت تکلیف دی میں اس سب کے لیے خود کو کبھی معاف نہیں کر پاو گا۔

Hina afsana by Khadija Irshad

  • by

“میم، کیا ہر چیز، میرا مطلب ہے کہ اللہ کی طرف سے ہونا فکس ہوتا ہے؟ میرا مطلب کہ ہر چیز فکس ہوتی جو ہماری زندگی میں ہونا ہوتا؟”

جو کہ اب مکمل خاموشی سے اسے سن رہی ہوتی ہے۔

کلاس میں خاموشی چھا جاتی ہے۔ سب اس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔

نہایت شائستگی کے ساتھ مسکراتے ہوئے لب کھولتی ہے۔

“دیکھیں بیٹا، کسی حد تک کہہ سکتے ہیں کہ ہر چیز فکس ہوتی ہے۔ کچھ چیزیں مکمل طور پر انسان کی بھی کوشش درکار ہوتی ہے۔”

“جو چیز فکس ہوتی ہے. جو ہماری نہ چاہتے بھی ہماری زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔ ہماری لاکھ کوشش کے بعد بھی ہمیں اسے فیس کرنا پڑتا ہے۔”

“میں سمجھتی ہوں، یوں کہہ لیں کہ ایک شخص کا ایکسیڈنٹ سے موت ہونی ہے، وہ سڑک پر ہو جاتا ہے، اسے پتہ نہیں چلتا یہ فکس موت ہے۔ کچھ لوگ اوور سپیڈنگ سے مر جاتے، یہ فکس نہیں ہوتی۔”

Kaash novel by Nataliya Gull Tamweel

  • by

آپ نے کہا اسے میں تصویر اچھی نہیں لیتی تمویل اور اس کی تھوڑی کر پکڑتی مسکرائی تھی ؛!!

اس نے مجھ سے سوال کیا تھا جیسیرا —

بس میں نے جواب دیا یہاں کہیں بھی تمھارا زکر نہیں تھا

پر ہاں اس نے کہا تھا وہ کسی نا کسی کو ایک دن یہ بات بولے گا

ضرور اور فلاسفر میں اپنا نام لکھوائے گا یعنی اس نے تمھیں بول دیا تم اس کی کسی نا کسی بن گئی !!

جیسیرا تمویل کی بات سن کر ہنسی تھی اب وہ غصہ کر کے بھی کیا کرتی

کیا تھامس پر اثر کر جاتا یقینن نہیں !

جیسیرا تمویل کو دیکھتی ہوئی بولی تھی میں بہت تھک گئی ہوں

اب گھر چلیں ؟ تمویل مسکرائی تھی جیسی ہوٹل گھر نہیں ہوتے

جیسیرا نے نفی میں سر ہلایا تھا ہم بنجاروں کے لئے گھر ہی ہوتے ہیں تمویل ! تمویل ہنسی تھی اور کہا تھا تم میں سے اب بنجاروں کی خوشبو آتی ہے جیسیرا میں نے تمھیں چھپ چھپ کر روتے بھی

دیکھا تھا گھر کے لئے ایک وہ وقت تھا اور ایک یہ کہ تمھاری روح اب دنیا کو ہی اپنا گھر کہتی ہے

جیسیرا ہنسی تھی ایک کھوکھلی ہنسی کبھی کبھی خواب پورے کرنے کے لئے کچھ چیزوں کو لوگوں کو بھولنا پڑتا ہے نا !

Be panah ishq e tawaif novel by Fatima Nazir Khan

  • by

اس کہانی میں آپکو مجبوری کی خاطر اور صبر کی انتہا کا پیمانہ لبریز سے بڑا ہؤا دکھایا جاے گا معصوم کے نام پر دہبا مگر ہمیشہ کہا سب اسا ریتا ہے کوئی اے گا اور ضرور اے گا مگر دیر سی بہت دیر سے لیکِن اے گا ضرور پر مشکلات سے بھر پور آخر کیا ہوگا اس معصومانہ کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Noor e Ashnayi novel by Dur e Nayab

  • by

“یاااہوووو! میں اس بار بھی جیت گیا۔” وہ چہکتے ہوئے بولا۔

“یار میں نہیں مانتا، تم نے اس بار بھی چیٹنگ کی ہے۔”

وہ اس کے سامنے کھڑا سینے پر بازو لپیٹے خفگی سے کہہ رہا تھا۔

“ہا ہا ہا۔۔ ارے مان لیں حامد ماموں! میں باسکٹ بال میں چیمپئن ہوں اور آپ مجھ سے نہیں جیت سکتے۔” وہ ایک ہاتھ میں فٹبال پکڑے سینے سے لگائے اور دوسرا ہاتھ پیٹ پر رکھے قہقہہ لگاتے ہوئے بولا۔ وہ جو منہ پُھلائے دوسری طرف دیکھ رہا تھا اس کے اس طرح ہنسنے پر اسے آنکھیں سُکیڑتے ہوئے دیکھنے لگا۔

ایسا کرتے ہیں میں آپ کا ایک مینٹلی ٹیسٹ لیتا ہوں، دیکھتے ہیں آپ کتنے ذہین ہیں۔” وہ ابھی مزید اس کی ٹانگ کھینچنے کے موڈ میں تھا۔

“مم۔۔ میرے خیال سے ماما ویٹ کررہی ہیں۔” وہ جانے کے لیے ُمڑا۔ وہ ہمیشہ اس کے سوالوں سے یوں ہی کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر بچ جاتا تھا۔

“حامد ماموں۔۔ یار آپ ہمیشہ ایسے ہی کرتے ہیں۔” وہ چِڑ کر بولا۔

“یااار۔۔ حماد بھائی سے پوچھنا نا سارے سوال۔۔ پتہ نہیں کہاں سے ڈھونڈتے ہو اتنے ٹف کویسچنز۔۔ جو میں نے بچپن میں بھی اپنی اسلامیات کی کتاب میں کبھی نہیں پڑھے۔” اس نے پریشانی سے سر کُھجاتے ہوئے جواب دیا۔

“سیدھا کہیں نا حماد ماموں آپ سے زیادہ ٹیلنٹڈ ہیں۔”