Skip to content
Home » Social media writers » Page 161

Social media writers

Ishq e dewan novel by Amara Qureshi

  • by

ساری دنیا کے رواجوں سے بغاوت کی تھی
تم کو یاد ہے جب ہم نے محبت کی تھی
ایک دوسرے کو رازدار مان کر بتایا تھا حالِ دل اپنا
پھر دنیا نے ہم سے عداوت کی تھی
جب ہماری یادوں نے آنکھوں کو بھگو دیا
تب تسبیح پہ محبت کے نام کی تلاوت کی تھی
محبت چھوڑ کر جب ہنستے ہوئے گھر آئے
اتنا روئے کہ آنکھوں نے شکایت کی تھی
ہمارے اجڑنے کا سبب جب کوئ پوچھتا ہے اب
بس اتنا کہہ ديتے ہیں اس دنیا میں محبت کی تھی_

Woh qadir hai by Minahil Ali Complete Novel

  • by

تھک ہار کر وہ عربہ کی جانب بڑھی جو وہاں موجود سیلز مین سے کسی جوڑے کی قیمت پوچھ رہی تھی۔
حالانکہ اس پر لگا ٹیگ وہ پہلے ہی دیکھ چکی تھی لیکن نہ جانے کیا کنفرم کرنا چاہ رہی تھی۔
عربہ کے پوچھنے پر سیلز مین منہ کے زاوے بگاڑتا ہوا بولا
Mam 15 Thousand only.
اس کے کانفیڈنس پر عربہ نے آئی برو اچکا کر اسے داد دی۔ کس بیس پر آپ لوگ اس ڈریس کی اتنے قیمت چارج کر رہے ہیں۔
برینڈڈ ہے میم سیلز مین کوفت سے بولا۔
مجھے نہ بتاؤ کہ یہ برانڈڈ ہے یا نہیں کیونکہ میں تو خود ایک برینڈ کی شیئر ہولڈر ہوں اور روزانہ کئی برینڈز کو پروموٹ کرتی ہوں۔
عربہ کے اس طرح کہنے پر سامنے موجود سیلز مین ہنسنے لگا لیکن اس کی ہنسی کو بریک تو تب لگی جب ظفر کا ڈرائیور مسکراتے ہوئے عربہ کی جانب آیا اور سلام کیا۔
میم سر کہہ رہے ہیں پہلے کچھ کھا لیں پھر شاپنگ کر لیجئے گا۔
عربہ: اچھا کہاں پر ہیں بابا؟
تھرڈ فلور پر میم ڈرائیور بولا۔
اس کے بابا کہنے پر تو سیلز مین کے پسینے ہی چھوٹ گئے یعنی وہ اس مال کے اونر کی بیٹی تھی۔
نہیں میں تمہاری شکایت نہیں کروں گی بابا سے عربہ اس کا سپید پڑتا چہرہ دیکھ کر بولی۔
ظفر کے آفس میں تسلی سے روزہ افطار کرنے کے بعد اگلے دو گھنٹوں میں ان دونوں نے بمشکل اپنی شاپنگ مکمل کی اور باہر کی جانب بڑھی۔