Skip to content
Home » Social media writers » Page 162

Social media writers

Basil novel by Mahnoor Shahid Season 1

کچھ بتایا اس نے یا ابھی بھی زبان نہیں کھولی ؟ایک نظر وہ حسن پر ڈالتے ہوئے بولا

نہیں میجر ،اس نے کچھ نہیں بتایا ۔اس کے مطابق یہ نہیں جانتا یہ کس کے کہنے پر کام کر رہا تھا

انٹرسٹنگ !سعد مائنی خیز مسکراہٹ لیے بولا ۔۔اس دوران سات کے دونوں گالوں میں کچھ حد تک ڈمپلز نمایاں ہوئے ،وہ چلتے ہوئے سامنے موجود ٹیبل پر سے ایک فائل اٹھا کر واپس حسن کے سامنے کھڑا ہو گیا

جانتے ہو حسن اس میں کیا ہے وہ اپنے دوسرے ہاتھ میں موجود فائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا ۔حسن نے ایک نظر فائل پر دوڑائی اور سر نفی میں ہلایا

اس میں تمہارے انجام دیے گئے تمام گناہ درج ذیل ہیں اس میں تمہارے کالے کارناموں کی ایک طویل لسٹ موجود ہے جو تم ماضی سے لے کر اب تک سر انجام دیتے ائے ہو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ تمہیں پھانسی ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا اس لیے بہتر یہی ہے کہ مرنے سے پہلے کوئی تو فائدہ پہنچاتے جاؤ اپنے ملک کو ۔۔

کس ملک کی بات کر رہے ہو میجر جس ملک میں ہم جیسے غریبوں کا خون چوسا جاتا ہو ،جہاں کی گورنمنٹ خود اپنی عوام کو لوٹنے میں مصروف ہیں یا پھر وہ ملک جس میں انسان اگر جھوٹ کے خلاف اواز اٹھائے تو اسے دن دہاڑے قتل کر دیا جاتا ہے ،جس ملک میں انسان رہتے ہوئے خود کو غیر محفوظ محسوس کرے اس ملک کے فائدے کی بات کر رہے ہو تم ؟؟

حسن مانا کے گورنمنٹ کچھ نہیں کر رہی لیکن ہمیں دیکھو ہم لوگ یہاں سرحدوں پر کیوں تعیینات کیے گئے ہیں تاکہ ہم اپنے ملک کی حفاظت کر سکیں ہم اپنے ملک کی عزت اور سلامتی کے لیے جانیں قربان کرنے کا بھی حوصلہ رکھتے ہیں اور پاکستان کے ہر ایک فرد کے دل میں بھی اگر اتنا حوصلہ آ جائے نہ تو یقین مانو یہاں کی گورنمنٹ بھی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔لیکن اس سے پہلے ہمیں خود پر اور ایک دوسرے پر یقین کرنا ہوگا ہمیں ایک دوسرے کا سہارا بننا ہوگا ۔

حسن نے کہکا لگایا ،کیا کہا میجر تم نے۔ یقین ؟؟

چلو میجر یہ بتاؤ کیا تمہیں یقین ہے کہ اس وقت تمہارے ساتھ اور تمہارے علاوہ جتنے بھی فوجی یاں جنرل یہاں کام کر رہے ہیں کیا وہ سب حق کے راستے پر ہیں، کیا ان کی سوچ بھی تمہاری سوچ کی طرح ملتی ہے بولو ؟

Ek khawab ek umeed afsana by Momina Zahra

آپی ہم بہت پریشان ہیں مجھے آپ سے بار بار کہتے ہوئے شرمندگی ہوتی ہے لیکن آپی یقین کریں مجھ سے میرے والدین کی یہ حالت نہیں دیکھی جا رہی۔ ابو جی کی بیماری کی وجہ سے ہمارا پچھلے دو ماہ کا کرایہ ابھی دینے والا رہتا ہے۔ ابو ان دنوں کوئی کام نہیں کر پا رہے، بھائی چھوٹے ہیں، میں خود پرائیویٹ سکول میں جاب کرتی ہوں۔ گھر کا گزارہ تو جیسے تیسے مشکل سے کر رہے ہیں لیکن گھر کا کرایہ دینا آزمائش بنا ہوا ہے۔ آپ کو بتایا تھا کہ ابو جی کی رپورٹس میں دمہ بتایا ہے انھیں، کچھ دن پہلے ان کی میڈیسن بھی ایک کزن سے ادھار پیسے لے کر خریدیں ہیں۔ آپی اس گھر کا کرایہ پندرہ ہزار ہے ہم اتنا افورڈ نہیں کر سکتے ہم اور گھر ڈھونڈ رہے ہیں جس کا کرایہ کچھ کم ہو جیسے ہی ہمیں ملا ہم یہ گھر چھوڑ دیں گے لیکن تب تک اس گھر کے کرایے کا انتظام کرنا بہت ضروری ہے اب تو مالک مکان نے بھی پریشان کرنا شروع کر دیا ہے۔ آپی انھوں نے اتوار تک کا ٹائم دیا ہے ہمیں کچھ نا کچھ کرایہ لازمی دینا ہو گا۔ آپ ہمارے بارے میں بات کریں کسی سے پلیز! آپی کیا ایسا نہیں ہو سکتا کوئی ہمارا دو یا تین ماہ کا کرایہ ادا کر دے کیا آپ کسی سے اس معاملے میں بات کر سکتیں ہیں؟ میں آپ کا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گی ہمیشہ آپ کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھوں گی۔

Naqab posh novel by Romina Samra Ibraham

  • by

تم یہاں کیا کرنے آئے تھے؟؟

ڈیوٹی سے تو ہٹوادیا مجھے ،سب کی نظروں میں گرا بھی دیا تو پھر اب کیوں آئے تھے ادھر ؟”

جب ریحان کے ذہن میں یہ بات آئ تو اس نے پوچھا ۔

“کچھ نہیں صرف تمھاری حالت دیکھنے آیا تھا کہ تم بے بس کیسے دکھتے ہو ،

اب جب تمھیں ایسے تڑپتے ہوئے دیکھا تو دل کو سکون سا ملا ،اب میں چلتا ہوں”

آتش دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا ۔

“اگر اتنا ہی سکون مل رہا تھا تمھیں مجھے تڑپتا ہوا دیکھ کر تو خود کیوں تڑپے تھے مجھے دیکھ کر آتش اسفند !! کیوں پھر مجھے تسلیاں دے رہے تھے ،

کیوں میرے آنسو پونچھے ،

کیوں میرے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کررہے تھے ہاں بتاو !!!

کوئ جواب ہے تمھارے پاس!!

ریحان اچانک سے بھڑکتا ہوا بولا تھا جس سے آتش کے قدم وہیں ٹھہرے رہ گئے۔

“کیونکہ تم نے میرے آنسو نہیں پونچھے تھے ریحان اسفند جب مجھے تمھاری ضرورت تھی ،

تم نے میرے زخموں پر مرہم نہیں رکھا جب میرے زخم کسی تلوار کے گھاو کی طرح گہرے تھے ،

تم نے مجھے تسلی نہیں دی تھی جب مجھے چند اچھے الفاظ کی ضرورت تھی

کیونکہ تم نہیں تڑپے تھے جب میں تڑپ تڑپ کر مر رہا تھا ریحان اسفند!!!!

اور میں تمھارے جیسا ہر گز نہیں بننا چاہتا!!!

یہ کہتے ہوئے آتش اپنی

آنکھوں سے بہتے اشک صاف کرتا ہوا ریحان کے آشیانے سے نکل گیا جبکہ ریحان اس کی کہی گئ باتوں سے مزید شرمندہ ہو چکا تھا۔

Dosti ka bharam novel by Ayesha Malik

“ہی۔۔ہیلو پلیز یار میری بات سنو کال مت کاٹنا ” اس کے فون اٹھاتے ہی وہ بولا شروع ہوئی مبادلہ کہی پیچھے دو مہنوں کی طرح وہ پھر سے نہ فون بند کر دے لیکن مقابل کی طرف سے خاموشی تھی

“پلیز میری بات کا یقین کرو میں نے ایسا کچھ نہیں کیا تم تو جانتی ہو نا مجھے میں بھلا ایسا کیوں کروں گی ” وہ آنسو بہاتی بولی مقابل اب بھی کچھ نہیں بولا تھا

“تم سن رہی ہو نا میری بات؟ تمہیں میری بات پر یقین ہے نا ؟ وہ کیسی خدشے کے تحت بولی جب مقابل کا طنزیہ قہقہہ سپیکر سے گوجا اور اس کا خدشہ سچ ثابت ہوا اسے اس پر یقین نہیں رہا تھا

“ی ۔۔یار میں مر جاؤں گی تمہاری بے روخی مجھے مار دے گی ” وہ ازیت سے کہتی ہوئی بولی

“تو مر جاؤ لیکن آئندہ مجھے کال کرنے کی ہمت مت کرنا ” وہ بے روخی سے کہتی کال کاٹ گئی جبکہ اسے لگا وہ واقعی ہی مر جائے گی ہاں وہ مر ہی تو رہی تھی اسے اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہوا تو بے اختیار اپنے سینے کو مسلا وہ جلدی سے کھڑکی کھول کے تازہ ہوا کو اپنے اندر اتارنے کے لیے گہرے گہرے سانس بھرنے لگی جب اچانک اس نے دوبارہ اپنے سینے کو مسلا آنکھوں سے آنسو لڑیوں کی طرح بہنے لگے اسے آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں بند ہوتی محسوس ہوئی تو ایک دم سے نیچے گری بند آنکھوں کے سامنے بھی اسے وہ سفاک بے رحم ہی دیکھائی دے رہی تھی جس کی وجہ سے وہ اس حالت میں پہنچ چکی تھی وہ مر رہی تھی آہستہ آہستہ سب کچھ آنکھوں کے آگے مٹتا ہوا محسوس ہوا

کیوں دیا درد ہمہیں ۔۔

ہم آج تک نہ سمجھے ۔۔

برے ہے کیا اتنے ۔۔

تم آ نہ سکے جو ملنے ۔۔

تو ہم کو بھول گیا۔۔

بس یار ہم ہی پاگل تھے ۔۔

سوچا تمہیں جو رات دن ۔۔۔

——————–

Ehsan Ishq novel by Zohra Shaikh

یہ ناول ادھورے عشق ادھوری محبت کی ہے۔بعض اوقات ہم احسانوں تلے اتنے دبے ہوتے ہیں کہ ہم اپنی زندگی کا قیمتی اثاثہ کھو دیتے ہیں۔ بس یہ کہانی اسی پر مبنی ہے۔