Skip to content
Home » Social media writers » Page 155

Social media writers

Dastan e mohabbat saleem anarkali novel by Fatima Nazir Khan

  • by

یہ ایسی داستان کی کہانی ہے جو

کبھی نہ دیکھی ہوگی اور نہی

سونی ہوگی مگر یہ داستان

کیا اس داستان کی طرح ہوگی کیا

اُسکی طرح اُسکا نصیب ہوگا

یا یہ داستان بلکل مختلف ہوگی

جاننے کیلئے پڑے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Mohabbat humsafar meri by Rashida Riffat

  • by

“اماں آگئی ہیں ابا اور ساتھ میں ایک دلہن بھی لائی ہے اتنی پیاری اتنی خوبصورت بالکل ڈراموں والی۔”
“کون دلہن۔ابا نے اسے ٹوکا۔
“اماں کہہ رہی تھی تمہاری بھابھی ہے۔”اجو نے وفور مسرت سے اگاہ کیا۔
“میری بھابھی۔”ابا نے اچھنبے سے پوچھا شاید ان کے حواس اب تک پوری طرح بیدار نہیں ہوئے تھے۔
“افوہ ابا آپ کی نہیں ہماری بھابی۔آپ کی تو بہو ہوئی نا بس اب جلدی سے آجائیے بھابھی بہت پیاری ہیں ابا بھائی کے ساتھ جوڑی خوب سج رہی ہے۔”اجو بتا کر پھر ڈرائنگ روم کی طرف بھاگا۔ حیران پریشان ابا اس کے پیچھے تھے۔
“آآئیں عمر کے ابا دیکھیں اللہ نے بیٹھے بٹھائے اپنی رحمت سے نواز دیا ہمیں۔ بہو ہے یہ آپ کی۔”انہوں نے مسرور سے انداز میں آگاہ کیا تھا پھر دلہن سے مخاطب ہوئی۔
“چلو بیٹا اپنے ابا کو سلام کرو۔”اور دلہن نے دھیمی سی اواز میں سلام کر کے فورا اماں کے حکم کی تعمیل کی تھی۔
“دنیا سے نرالے ماں باپ۔”عمر بیزار کن تاثرات چہرے پر سجا کر اپنے کمرے میں آگیا۔
“بہت ہو گئی عمر اپنے چہرے کے زاویے درست کر لیں۔”اماں الٹا اس پر ہی بگڑی پھر عفی کا شانہ پکڑ کر ہلایا تھا۔
“سونے دیں نا صبح ملے گا اپ کی بہو سے۔”وہ بیزاری سے بولا تھا۔
“کیسے سونے دوں پھر بہو کہاں سوئے گی۔”اماں نے جیسے اس کی عقل پر ماتم کیا اور وہ تو گویا کرنٹ کھا کر اٹھا تھا۔
“کیا مطلب ہے اپ کا اپنی بہو کو اپنے پاس سلائیں میرا کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے اس سے۔”
“تیرا دماغ تو نہیں چل گیا عمر۔”اماں نے خفگی سے اسے دیکھا۔

Woh masoom si short novel by Maham Sheikh

  • by

اس لڑکی پر منحصر ہے جو بہت ہی خوب صورت ہے۔ یہ کہانی ایک معصوم سی لڑکی کی ہے اور اس کے خواب اور خواہشیں بھی اتنی ہی معصوم اور خوبصورت ہیں۔ جس کا نام ماہی ہے اس کے خاندان میں ماں باپ اور دو بڑے بہن بھائی ہے۔ جو کہ جڑواں ہیں۔ بہن کا نام دی نینا ہے اور بھائی کا نام وقار ہے۔ باپ کا نام احمد شاہ ہے اور ماں کا نام عالیہ ہے۔ آج سے 22 سال پہلے احمد شاہ کی شادی عالیہ سے ہوئی جو کہ ان محبت کی شادی تھی احمد شاہ اور عالیہ شاہ دونوں کزن تھے یہ ایک دوسرے سے بے حد محبت کرتے تھے۔ احمد شاہ شادی کے بعد می اپنی بیگم سے سے ویسے ہی محبت کرتے رہے جیسے ہمیشہ کرتے تھے

Sanam re novel by Khanzadi

  • by

بلیغ کی سرخ آنکھیں اسے ہمیشہ ڈرا دیتی تھیں۔۔۔ اور آج تو شاید اسکی آنکھیں جلا کے خاک کر دینے کا ارادہ رکھتی تھیں۔۔۔

وہ اس کی سرخ آنکھوں سے نظریں چرا گئی تھی۔۔۔ جن میں غصہ تھا۔۔۔

شفق تم جا کر اپنے شوہر کو دیکھو اس کی بازو کا زخم بار بار شاور لینے سے خراب ہو چکا ہے۔۔۔ رنیب کو میں اکیلا لے جائوں گا۔۔۔ تم اپنے شوہر پر توجہ دو۔۔۔

بلیغ نے سرخ آنکھیں رنیب پہ ٹکاتے کاٹ دار لہجے میں کہا تھا ۔۔۔ جہاں شفق کا دھیان اس کے کہنے پہ درید کی جانب گیا جس کے زخم کے خراب ہونے کا سن اسکا دل بے چین ہوا تھا وہیں۔۔۔ وہیں ۔۔۔ اسکے لہجے کہ سرخ مہری پہ عجیب کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے ۔۔ جبکہ ہتھیلیاں پسینے سے بھیگے گئی تھیں۔۔۔ وہ چہرہ جھکا ہونے کے باوجود بلیغ کی سرد نظریں اپنے آر پار ہوتی محسوس ہو رہی تھیں ۔۔۔ وہ خوف سے کانپ گئی تھی۔۔۔۔

تمھیں اب کیا گاڑی تک آنے کے لیے انویٹیشن دینا پڑے گا۔۔۔ شفق کے جانے کے بعد بھی جب وہ اپنی جگہ کھڑی رہی۔۔۔ تو بلیغ غصے سے دھاڑا تھا ۔۔۔ جہاں وہ اپنے جگہ سے اچھلی تھی۔۔۔ وہیں آنسو بھی پلکوں کی باڑ توڑتے باہر نکلے تھے۔۔۔ بلیغ نے بغیر اس کی پرواہ کیے۔۔۔ بازو سے کھینچ۔۔۔ فرنٹ سیٹ پہ پٹخا تھا ۔۔۔۔ بلیغ کی اس حرکت پہ۔۔۔ رنیب نے با مشکل اپنی چیخ روکی تھی۔۔۔ پریشانی۔۔۔ ساتھ بخار ۔۔۔ آنکھوں کے آگے چھاتا اندھیرا۔۔۔ اور اوپر سے بلیغ کا بے دردی سے کھینچنا۔۔۔ وہ با مشکل ہی اپنے حواس بحال رکھ پائی تھی۔۔۔۔ بلیغ نے گاڑی میں بیٹھ اسکی جانب جھکتے۔۔۔ اسکا سیٹ بیلٹ باندھا تھا۔۔۔ اس دوران بلیغ کا کندھا دو بار رنیب کے کندھے سے مس ہوا تھا۔۔۔ جہاں رنیب نے ۔۔ اسکے لمس پہ آنکھیں زور سے میچیں تھیں۔۔۔ وہیں بلیغ اسکے تپتے جسم اور غیر ہوتی حالت۔۔۔ کو نظر انداز کیا تھا ۔۔۔

Ashkon ke moti novel by Aqsa Ali

  • by

یہ کہانی ہے صحبتوں کے اثرات کی..

محبت کی، دھوکے کی، آنسوں کی..

یہ کہانی ہے دوستوں پر اندھا اعتبار کرنے والی کی..

اعتبار کے کرچی کرچی ہونے کی..

اپنوں کی محبت کو بھول جانے والوں کی..

کہانی ہے دُنیا کے تعلق سے خُدا کے تعلق تک کی..

بے پردے سے پردے تک کے سفر کی..

کہانی ہے ماں جایو کی محبّت کی..

لوگوں کے اصل چہروں کی..

کہانی ہے اللّٰہ پر توکّل رکھنے والے ایک لڑکے کی..

لوگوں کی صحبت میں خُدا کو بھول جانے والی لڑکی کی..

کہانی ہے اپنوں کے ہاتھوں رُسوا ہونے والی ایک اور لڑکی کی..

پردے سے عشق کرنے والے ایک اور لڑکے کی..

یک طرفہ محبّت کی، عشقِ حقیقی کی،ادھُوری محبّت کی..

کہانی ہے موتی کی صورت بہنے والے قیمتی اشکوں کی..

اشکوں کے موتی۔۔۔از قلم اقصٰی خان

The Evil Love novel by Maliha Fatima

  • by

تم کون ہو ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

اخر چاہتے کیا ہو مجھ سے۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

کیوں لائے ہو مجھے یہاں پر اس کی نڈھال ہوتی حالت اور بگڑتی جا رہی تھی

میں جو چاہتا ہوں مجھے وہ بہت جلد ملنے والا ہے۔۔۔!!!

لڑکی میں اس کا سب کچھ چھین کر اسے برباد کر دوں گا اس کا سب میرا ہوگا اور پھر میں اس کی بھی جان لے لوں گا بس میرا راج ہوگا ہر جگہ سمجھ ائی وہ غصے میں دھاڑ رہا تھا

تم کس کو مارنا چاہتے ہو ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

کس کے لیے لائے ہو مجھے یہاں زبردستی الفاظ منہ سے اٹک اتک کر نکل رہے تھے۔۔۔۔۔

میں کس کو ماروں گا وہ اپنا ہاتھ کی ایک انگلی اپنی تھوڑی پہ رکھ کے سوچنے والا ایکشن کرتے ہوئے بول رہا تھا او میں کس کو ماروں گا وہ جو تمہاری

شاید جان ہے کہیں ۔۔۔۔۔

وہی تو نہیں ہنس رہا تھا

وہ کسی کی محبت برباد کر کر وہ کیسے ہس سکتا تھا شرم انی چاہیے ۔۔۔۔۔۔!!!!

نہیں نہیں پلیز ایسا مت کرنا ت تمہیں خدا کا واسط کہہ ایسا مت کرنا میں اس کے بنا مر جاؤں گی پلیز وہ گڑگڑا رہی تھی اسکی جان سے پیاری چیز کو مارنے کی بات کر رہا تھا وہ کسے نہ گھبراتی اور ہاتھ چھڑانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی

میں تو کروں گا۔۔۔۔

وہ ہاتھ ہوا میں لہراتے ہوئے بولا

جو کر سکتی ہو کر لو اب مجھ سے تم کو اور تمہارے جانشین کو کوئی نہیں بچا سکتا سمجھی وہ ایک ادا سے بول رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

تم پڑی رہو ہی پر جب تک میرا کام نہیں ہو جاتا ڈارلینگ۔۔۔۔!؛

ایک دم سے اس کے شہرے سے کپڑا ہٹ گیا تھا اور شاید وہ ڈر گیا تھا اور واپس دیر کیے بہنا اپنا چہرا ڈاپ چکا تھا

تتتتتمممممم۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

میں اس کو بتا دوں گی تم اسے دوکا دے رہے ہو جو تم سے اتنا پیار کرتا ہے

وہ جا چکا تھا ہا وہ اکیلا اس معصوم جان کو اس ویران جنگل میں چھوڑ گیا تھا

اب عنوا وہاں سے بھاگنے کے لیے کوشش کر رہی تھی کبھی ہاتھ کی راسی توڑتی تو کھبی پیر زمین پر پاتکتی ۔۔۔۔۔۔۔

کوی بھاگ رہا تھا یہاں سے وہاں

وہ پاگلوں کی طرح ڈھونڈ رہا تھا بس

پر وہ اسے کہیں نہیں مل رہی تھی

اس کا دل پھٹ رہا تھا اس کو لگ رہا تھا اج سب ختم ہو جائے گا

وہ کہاں چلی گئی تھی ابھی تو یہی تھی

اب تم ملی مجھے تو میں تمہیں مار ڈالوں گا ۔۔۔۔۔۔غصے سے اس کے ہال ہکھلال ہوتی جا رہی تھی

عنوا بھاگتے بھاگتے اب تھک چکی تھی کھانا تو اس نے کل رات سے نہیں کھایا تھا پانی بھی شاید اور اتنے زخموں کے بعد کون ہی چل سکتا تھا

وہ لڑکھڑاتی چلتی پھر گرتی پھر سنبھلتی چلتی جا رہی تھی اب وہ اس محل کے سامنے کھڑی تھی جسے لوگ عیول کیسیل کے نام سے جانتے تھے

بس پیچھے سے کچھ چیز ٹک کر کر اس کو لگ گئی تھی

جو اس کا سینہ چیر چکی تھی

اور یہ منظر دو لوگوں نے نہیں بلکہ تین لوگوں نے اپنی نظروں میں قید کیا تھا

وہ گرے انکھیں بھی اس وقت اسے ہی دیکھ رہی تھی وہ چیخا تھا چیخنا تو فرض تھا اس پر اس کی دنیا اجڑ گئی تھی اس ایک لمحے میں عنوااااااااااا

Dhoop aur chaon novel by Biya Naz

تم ایک عام عورت نہیں ہو ایک بہادرسپاہی کی بیوی ہو جو کہ کبھی ہمت نہیں ہار سکتی اسکا حوصلہ چٹانوں جیسا ہے اور وہ مضبوط ہے جیسے کہ پہاڑ ہو۔ لاریب میری جان تمہاری آنکھوں میں آنسو تمہاری کمزوری کی علامت ہے۔ اگر تم اداس رہو گی تو میں اپنے فرض اورمان کو کیسے نبھا سکوں گا۔ تم مجھ سے وعدہ کرہ کہ کبھی ان حسین آنکھوں میں آنسو نہیں آئیں گے چاہے کہ میرے جسد خاکی پرچم میں لپٹا ہواکیوں نہ آئے میں ضرور لوٹ کر آؤں گا غازی بن کر یا شہید بن کر۔ میری خواہش ہے کہ میں اپنے بچوں کو اپنے ہا تھوں میں لو ں انکو اپنی گود میں کھیلاؤں لیکن زندگی اور موت صرف اس باری تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے مجھ سے وعدہ کرو تم میرے بچوں کو ایک چٹان کی طرح مضبوط بناؤ گی۔ اور چاہے میں ساتھ ہوں یا نہیں لاریب نے تڑپ کے میجر ریحان کے منہ پر ہا تھ رکھ دیئے اور شکوہ بھر نظروں سے دیکھا۔ آپکی لاریب کمزورنہیں ہے ریحان وہ ایک بہادر سپاہی کی بیوی ہے۔ آپ مطمئن رہیں یہ کہنے کی دیر تھی کہ ریحان کے اندر سکون کی لہر دوڑ گئی۔ اور لاریب کے ماتھے پر اپنے ہونٹ ثبت کیے اور اسکو بانہوں میں بھینچ لیا کیونکہ یہ لمحہ انکے لیے بھی بہت مشکل تھا کافی دیر دونوں نے اپنے بچوں کے بارے میں مستقبل کے بارے میں بات کی اور بی جان کی آواز پر ڈائنگ ہال میں کھانے کی میز پر پہنچ گئے تھے کیونکہ آج ولی ہاؤس میں عید کا سماں تھا کہ سب اکٹھے ایک ساتھ میجر ریحان کو دعاوں کے سائے میں رخصت کرنے کے لیے آئے تھے کہ ملک و قوم کے لیے جان دینے کیلئے ولی ہاؤس کا بچہ بچہ تیار تھا۔