Skip to content

Aey Ishq Mera kamla Jiya by Maryam Rajpoot Complete novel

  • by

یہ تو آغازِ محبت ہے تو میری شدتوں کا یہ حال ہے

تو نے ابھی دیکھا ہی کہاں ہے عروجِ محبت۔۔!!!💗✨

وہ گاڑی کو پارک کر کے تیز تیز قدم اٹھاتے اندر کی جانب بڑھی تھی

لیکن جیسے ہی اسکا پہلا قدم گھر میں پڑا اسکے سر پر آکر کشن لگا تھا۔۔

اسنے جوتے ایک طرف اتارے اور سامنے دیکھا تو اسفی اسکو ہی گھور رہا تھا

وہ معصوم سا چہرا بناتے اسکی جانب بڑھی تھی ۔۔

اسفی۔۔یار وہ ۔۔ابھی اسکی بات مکمل ہوتی وہ دوسرا کشن بھی اسکی جانب پھینک چکا تھا

اس حملے کے لیے وہ تیار نہیں تھی

سو اسک محنت سے سٹریٹ کیے ہویے بالوں کی حالت کچھ عجیب ہو گیی تھی

Cheekh by farhan bhayo Complete Novel

  • by

“کیوں ظلم کر رہی ہو ہم دیوانوں پر؟”
شاہ زیب کے اس عجیب رویے کو دیکھ کر انمول لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ تیزی سے باہر جانے لگی۔
کمرے کا دروازہ باہر سے کسی نے “دڑہم”کی آواز کے ساتھ بند کر دیا۔
انمول کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں، اور وہ دروازے کو کھولنے کی کوشش کرنے لگی۔
مگر دروازہ باہر سے لاک ہو چکا تھا۔
وہ زور زور سے دروازے کو پیٹنے لگی:
“کوئی ہے؟ کس نے دروازہ بند کیا؟ دروازہ کھولو!”
وہ زور زور سے چیخنے لگی۔
تبھی پیچھے کھڑا شاہ زیب اس کے قریب چلا آیا۔
“اب یوں چیخنے کی کوئی ضرورت نہیں۔”
اس کے الفاظ اتنے زہر آلود تھے کہ انمول کی روح تک کانپ گئی۔
انمول پلٹی، اس کی آنکھوں میں خوف صاف دکھائی دے رہا تھا۔
وہ دروازے کے ہینڈل کو پکڑے زور زور سے گھمانے لگی، مگر دروازہ بند ہی رہا۔
شاہ زیب نے اس کے قریب آیا۔
“تمہیں پتہ بھی نہیں، انمول، تم کتنی دلکش ہو۔”
اب انمول شاہ زیب کے منہ سے آنے والی بو کو پہچان چکی تھی۔
وہ شراب کی بو تھی۔
ہاں، شاہ زیب نے آج ڈرنک کیا تھا۔
وہ اب سب کچھ جان چکی تھی۔
وہ جان چکی تھی کہ وہ پھنس چکی ہے۔
وہ جان چکی تھی کہ اس کے اعتماد اور بھروسے کا بری طرح سے جنازہ نکالا گیا تھا۔
“شاہ زیب بھائی، آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟”
اس کی آواز بھرا گئی۔
“مجھے جانے دیں، دادی جان کی طبیعت خراب ہے۔ وہاں سب میرا انتظار کر رہے ہیں، مجھے جانا ہے۔”
اس نے سکتے ہوئے کہا۔
شاہ زیب نے اس کے منہ کے سامنے انگلی رکھتے ہوئے “ششش…” کہا ۔
اور کچھ کہنے ہی والا تھا کہ اس کی نظر انمول کے ہاتھ پر لکھے ہوئے “شہریار” پر جا کر تھم گئی۔
“اوہ… تو ہماری مسز انمول کو بھی پیار ہو چکا ہے!” اس نے اپنے بالوں میں ہاتھ گھماتے ہوئے کہا۔
اور ایک بار پھر درندوں کی طرح اس کے قریب آتے ہوئے بولا، “چلو، آج کے لیے ہمیں شہریار ہی سمجھ کر قبول کر لو۔”
انمول نے ایک زوردار تھپڑ شاہ زیب کے منہ پر رسید کیا۔