Rooh e amar by Tarab Shah Complete novel
Rooh e amar by Tarab Shah Epi 1 to 4 Rooh e amar by Tarab Shah Complete novel This is social romantic Urdu novel based… Read More »Rooh e amar by Tarab Shah Complete novel
Rooh e amar by Tarab Shah Epi 1 to 4 Rooh e amar by Tarab Shah Complete novel This is social romantic Urdu novel based… Read More »Rooh e amar by Tarab Shah Complete novel
Man raqsam by Arfa Awan Complete novel Man raqsam by Arfa Awan Complete novel This is social romantic Urdu novel based on fiction and some… Read More »Man raqsam by Arfa Awan Complete novel
Qalb mein dharky by Fatima Noor Complete novel Qalb mein dharky by Fatima Noor Complete novel This is social romantic Urdu novel based on fiction… Read More »Qalb mein dharky by Fatima Noor Complete novel
Mai rajan afsana by Uqba Ahmed Shah Mai rajan afsana by Uqba Ahmed Shah This is social romantic Urdu novel based on fiction and some… Read More »Mai rajan afsana by Uqba Ahmed Shah
Preet Adab Magzine October 2024 download pdf Free download read online Pakistani monthly Urdu digest/magazine Preet Adab Magzine October 2024 complete in pdf. Novels are… Read More »Preet Adab Magzine October 2024 download pdf
Bisaat by Mehak Episode 1 Bisaat by Mehak Complete novel This is social romantic Urdu novel based on fiction and some of them are true… Read More »Bisaat by Mehak Complete novel
آج سے وہ لڑکی نہیں تھی،آج سے وہ ماہیر خان تھی—
ایک لڑکا ،جو دنیا کے سامنے اپنے لیے نئی شناخت بنا کر کھڑا ہوگا۔
جلدی سے اُس نے شاور لیا ،اور پھر نئے گیٹ اپ میں تیار ہونے لگی۔ اُس نے وائٹ ٹی شرٹ پہن لی اُس کے ساتھ بلیک پینٹ اورجوگرز
ساتھ میں بلیک جیکٹ اُس کے بھورے بال اب ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے آئینے میں کھڑی ماہیر اب ایک ٹین ایجر لڑکے کی طرح نظر آ رہی تھی جو اپنی دنیا کو چیلنج کرنے کے لیے تیار ہو چکا تھا۔
اس نے اپنا ڈریسنگ اور حلیہ اس سے تبدیل کر لیا تھا کہ بالکل ہی لڑکا لگ رہی تھی۔
ہممم …اب لگ رہے ہو نہ ،ماہیر خان!” اُس خود کو آئینے میں دیکھتے ہوئے کہا ،اور اپنی بات پر خود ہی مسکرا دی۔
ماہیر نے گہری سانس لی اور دروازے کی طرف بڑھی۔
آج وہ پہلی بار اپنے نئے گیٹ اپ
میں دنیا کے سامنے جا رہی تھی۔ دروازے کے پار ایک ایسی دنیا تھی۔
جہاں دنیا کے سامنے اب ماہیر خان کھڑا تھا—
عثمان ایک کٹھن وقت سے گزر کے زندگی کا وہ راز سیکھ گیا جو شاید ہر ایک کے لیے آسان نہیں۔ ایک ایسا جذبہ جس کی سب کو اشد ضرورت ہے۔ کیا عثمان اپنی مشکلات سے نکل کر منزل پالے گا؟ اور آخر کیا ہے وہ راز ؟
“کیا لڑکی کو گولیاں لگیں ہیں؟
“لیکن آواز تو ہم نے نہیں سُنی
“بنا آواز کی ہوگی نہ
“پیٹھ اور کندھے پر لگتا ہے گولیاں لگیں ہیں
“ہر کوئی اپنے انداز مطابق بول رہا تھا لیکن ایک میثم تھا جو مشک کی بند ہوتی آنکھوں کو دیکھ کر تڑپ رہا تھا
“مش آن آنکھیں کھولو شاباش۔۔”میثم نیچے بیٹھتا چلاگیا۔۔”مشک کا سر اپنی گود میں رکھتا وہ پاگلوں کی طرح اُس کو ہوش میں لانے کی ناکام کوشش کرنے لگا
“بیٹا دیکھا پہلے زندہ بھی ہے یا نہیں۔۔”ورنہ جلدی سے ہسپتال لے جاؤ ٹائم ضائع نہیں کرو۔۔”ایک بزرگ نے اُس کی حالت کو دیکھ کر مشورہ دیا تو میثم نے سرخ نظروں سے اُنہیں دیکھا
“بیوی ہے میری اور زندہ ہے۔۔”مشک کو کسی چھوٹے بچے کی طرح اپنے سینے میں چُھپاتا وہ سب کو غُصے سے دیکھنے لگا
“کوئی پولیس اور ایمبولینس بلاؤ یہ لڑکا تو شاید ہوش گنوا بیٹھا ہے۔۔”ایک نے کہا تو سب نے اُس کی بات سے اتفاق کیا
“مش آنکھیں کھولو میں کیا بول رہا ہوں۔۔”آپ کو سُنائی نہیں دے رہا کیا؟”آپ کو شیزی بھائی کو سی آف کرنا ہے تو آئے اُٹھے اُنہیں سی آف کرنے چلتے ہیں کالج جانا ضروری نہیں۔۔”آپ کی سالگرہ ہے نہ آج؟”سرپرائز ابھی سے بتادیتا ہوں اُس کے لیے آپ کو یہ ڈرامہ کرنے کی ضرورت نہیں جلدی سے مسکراکر اپنی آنکھیں کھولیں ورنہ میں بُرا پیش آؤں گا آپ سے۔۔”میثم اُس کے وجود سے بہتے خون کو جیسے دیکھ تک نہیں پارہا تھا۔ “یہ جو کچھ ہوا تھا وہ غیرمتوقع تھا جس کے ساتھ ہوا وہ اُس کی لاڈلی ہستی تھی اُس کو کچھ ہوا ہے یہ بات میثم جیسے سمجھدار مرد کے لیے قبول کرنا مشکل تھا میثم کا دماغ اِس بات کو ایکسپیٹ نہیں کرپارہا تھا۔۔”کچھ وقت بعد ایمبولینس آگئ تھی اسٹریچر لایا گیا تھا لیکن میثم مشک کو خود سے دور ہونے نہیں دے رہا تھا سختی سے اُس کو خود میں بھینچے میثم اُن سب پر برس رہا تھا جس سے مجبوراً کچھ آدمیوں نے اُس کو پکڑ کر روکا تو وہ سب مشک کو اسٹریچر پر ڈالنے لگے تو میثم خود کو آزاد کراتا اُن کے ساتھ ایمبولینس میں بیٹھتا مسلسل مشک کو ہوش میں لانے کی کوشش کررہا تھا اُس کا گِرے فراک خون میں لت پت ہوگیا تھا خوبصورت چہرہ زردی مائل ہوگیا تھا۔۔”میثم کے کپڑوں تک مشک کا خون لگ گیا تھا
“یہ سب کیا؟”کیسے؟”اُس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیتا میثم بڑبڑانے لگا
“مش۔۔”میثم کھسک کر اُس کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ کیا
بہت فرسودہ لگتے ہیں مجھے اب یار کے قصے
گل و گلزار کی باتیں لب و رخسار کے قصے
یہاں سب کے مقدر میں فقط زخم جدائی ہے
سبھی جھوٹے فسانے ہیں وصالِ یار کے قصے
بھلا عشق و محبت سے کسی کا پیٹ بھر تا ہے
سنو تم کو سناتا ہوں میں کاروبار کے قصے
میرے احباب کہتے ہیں یہی اک عیب ہے مجھ میں
سر دیوار لکھتا ہوں پس دیوار کے قصے
میں اکثر اس لئے لوگوں سے جا کر خور نہیں ملتا وہی بیکار کی باتیں ،وہی بیکار کے قصے