Skip to content

Ar-Rahman by Hoor Ain Sikandar Complete novel

  • by

“یار کیوں اتنے الٹے کام کرتی ہو؟” وہ دانت ہچکچاتے اسے گھوریوں سے نواز رہا تھا۔

“بس مزہ آتا ہے۔” مقابل نے کندھے اچکائے۔

“تمہارے مزے کی تو ایسی کی تیسی۔۔۔۔تمہیں سیدھا کرنا پڑے گا۔” عیسیٰ نے نچلے لب کا بایاں کنارہ دانتوں تلے دبایا۔

“آپ ہی کی ٹیڑھی پسلی ہوں کر سکتے ہیں سیدھا تو کر لیں۔” وہ ایک ادا سے بولتی عیسیٰ کو حیران کر گئی۔ عیسیٰ نے اس کی حاضر جوابی آنکھوں سے داد دی تھی اور آگے بڑھ کر اسے اپنے حصار میں لیا۔

“ٹیڑھی چیزوں کو ٹیڑھے پن کے ساتھ ہی قبول کرنا چاہیے۔ سیدھا کرنے کی کوشش انہیں توڑ دیتی ہے۔ اور عیسیٰ سکندر کو حورعین عیسیٰ سکندر اپنے ٹیڑھے پن کے ساتھ دل کی گہرائیوں سے، دل و جان سے قبول ہے۔” وہ مسکرا کر کہتا مقابل کو معتبر کر گیا تھا۔

Gul aashiyana by Rimsha Riaz Complete novel

  • by

میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں! وہ اس میسج کو دیکھ کر حیران ہوا تھا۔
مسٹری!
کچھ دیر بعد وہ اپنے سامنے ایک نوجوان کو دیکھ رہا تھا ، جو مشرقی تھا ، پیارا سا ۔
کیوں ملنا تھا! سپاٹ لہجے میں سوال کیا گیا۔
بھائی سے ملنا ہے اگر دوہری شخصیت کو سائیڈ میں رکھیں تھوڑی دیر تو! وہ معصومیت سے بولا۔
ایک منٹ کے لئیے دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔
پھر اس نے بازو پھیلائے ارمغان اس کے گلے لگا تھا۔ ارمغان نے اسے خود میں بھینچا ۔
کیسے ہو مسٹری ، ارمغان نے اس کا شانہ چوما۔
آپ کا انتظار کرتا ہوں آج بھی ! وہ مسکرایا
یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں نہیں آؤں گا؟ وہ مسکرایا۔
ابھی بھی تو آئے ناں؟ وہ ہنسا۔
تم بہت سمجھدار نہیں ہو گئے۔
ہمم مما کہتی تھی!
وہ دونوں دکھی تھے۔
بابا کو آپ نے مارا تھا ناں بھائی اس کے سوال پہ لوسفر نے ماتھا مسلا۔
بدلہ لو گے؟ وہ سنجیدگی سے بولا۔
ہو سکتا ہے؟ وہ مسکرایا ۔
میری ماں پہ ظلم ہوا تھا۔
وہ میری ماں بھی تھی! مگر وہ آپ سے اتنی محبت کیوں کرتی تھیں؟ وہ معصومیت سے بولا۔
مسٹری مجھے کام ہے وجہ بتاؤ بلانے کی؟ وہ تپا۔
مجھے آپ سے بھائی اور خاندان والا پیار مل سکتا ہے؟
اگر امتحان پاس کر لو تو!
کیا امتحان ہے؟ وہ فورا بولا۔
میرے خاندان کی نگہبانی ۔
اور آپ کا خاندان کون ہے؟ وہ بازو سینے پہ باندھ کہ بولا۔
ہمارے مامو کی بیٹی! اس نے اتنا کہا۔ اور چلنے لگا ۔
ماں کی ڈائری لایا تھا۔اپ کو دینے کا بولا تھا ۔صیحیح وقت آنے پہ! وہ آواز پہ رکا تھا۔
پلٹ کے آیا ڈائیری دیکھی۔پھر لے کر چلا گیا ۔وہ۔لڑکا۔پھر سے بینچ پہ بیٹھ چکا تھا۔
اینجل لوسیفر کی ناکام کوشش کرتا ہوا۔وہ منہ بنا کر بولا اور پھر ہنس دیا۔

Ajnabi si zindagi by Eman Babar Complete novel

  • by

“محبت محبت محبت …..” اسٹڈی ٹیبل پر بیٹھی قلم ہاتھوں میں گھماتی وہ مسلسل اس لفظ کی گردان کر رہی تھی۔

بھوری آنکھوں میں حد درجہ کی سنجیدگی اور اُلجھن تھی۔ اپنے کالے بالوں کو جوڑے میں باندھے جس سے اگے کے کچھ بال لٹوں کی صورت میں چہرے پر آرہے تھے۔ وہ اُن کو غصے سے پیچھے کرتی تقریباً چیڑ سی گئی تھی ۔

“بھاڑ میں جاؤ ۔۔۔” غصے سے ڈائری بند کرتی وہ اُٹھ کھڑی ہوئی ۔ آپ اُس میں اور ہمت نہیں تھی ۔ ایسا اُس کے ساتھ تقریباً دو مہینے سے ہورہا تھا ۔

“مجھے لگتا میں کبھی رائٹر تھی ہی نہیں افف ۔۔۔” بالوں کو آزاد کرتی وہ ڈریسنگ ٹیبل کی طرف گی ۔ اُس کے بال زیادہ لمبے نہیں تھے بس کندھے تک ہی آتے تھے ۔ بال اب بکھر کر کندھوں تک اگئے تھے۔اُس کے بال نہ بلکل سیدھے تھے نہ ہی کرل ۔ وہ حد درجہ کہ سلکی مگر کناروں سے کرل تھے ۔

دونوں ہاتھوں کو چہرے پر رگڑتی وہ اب چارجنگ پر لگا اپنا موبائل دیکھ رہی تھی ۔

“محبت…” وہ ہلکا سا بولی ۔

Ibrat short story by Kainat Shahid download pdf

  • by

سنسان سی جگہ پر موجود کھڑا وہ وجود انتہائی خوفزدہ تھا۔ وہ یہ جاننے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ اس وقت کہاں پر موجود ہے۔ کافی دیر کے بعد جب اس نے اپنے خوف پر قابو پایا تو اس نے جگہ پہچاننے کی کوشش کی، لیکن اسے یہ جگہ بالکل مختلف لگی۔ سنسان راستہ ، ہر سو ویرانی، اردگرد دوردور تک کوئ ذی روح موجود نہ تھا ، وہ جس جگہ پر موجود تھا وہ ایک خستہ حال سڑک تھی جس کے گرد کچی مٹی موجود تھی ،ہر طرف دھول ہی دھول تھی، اگر دور تک دیکھو تو وہاں پر کوئ مشکل سے آپکو ایک بالکل زرد اور مردہ حالت میں درخت ملے گا۔ یہ سارا منظر دیکھ کر وہاں پر موجود وہ انسان بھی سکتے میں تھا کہ وہ آخر کہاں ہے۔ کافی دیر بعد بھی جب اسے کچھ سمجھ نہ آیا تو اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اس جگہ کو دیکھے گا کہ آخر یہ کونسی جگہ ہے جو اس کونہیں معلوم ، اور پھر یہاں سے ہوتا ہے عبرت کا ایک سفر شروع ۔ کیا تم تیار ہو اس سفر کے لیے ؟

Hidat e ishq by Maryam Rajpoot Complete novel

  • by

وہ لڑکی دو دن پہلے یہاں آئی تھی۔۔!!! گورکن کی بات پر وہ جھٹکے سے مڑا تھا

کون؟

یہی جس کا جنازہ ابھی لایا گیا ہے

آپکو کیسے پتا یہی تھی؟ صالح کو یقین نہیں آرہا تھا

کیونکہ وہ کہ گئی تھی اسکی قبر تیار کر دوں وہ ٹھیک دو دن بعد یہاں دفنائی جائے گی میں نے وجہ پوچھی تو بولی سردار کا حکم ہے اور یہ حکم میری جان لے لے گا اور بس پھر وہ روتی ہوئی چلی گئی تھی جبکہ گورکن کی بات سنتے صالح جبریل جیسے مر گیا تھا ۔۔

آہہہ اسمارہ حمید تم سے کیا کہوں؟ کیا گلا کروں؟ اتنا یقین تھا تمھیں کہ تم میرے علاوہ کسی کو قبول نہیں کر پاؤ گی ۔۔دیوانی لڑکی خدا گواہ ہے صالح جبریل کو تم سے عشق ہو گیا ہے اور یہ کہتے کہتے وہ رو دیا تھا اتنا اونچا لمبا مرد کسی لڑکی کی قبر پر بھیٹا رو رہا تھا عشق تھا اور اس حدتِ عشق میں وہ اب ہمیشہ جلنے والا تھا۔

December ki barish by Arfa Ali Complete novellette

  • by

دسمبر کی بارش از قلم ارفع علی محبت پہ مبنی ایک خوبصورت سا ناولٹ یہ کہانی عارف اور اقصیٰ کی محبت کے گرد گھومتی ہے عارف جس کو اقصیٰ سے پہلی نظر میں محبت ہوجاتی ہے یہ کہانی ہے دسمبر کے خوبصورت موسم پہ یہ چھوٹا سا ناولٹ ہمیں بہت کچھ سیکھا دیتا ہے کچھ لوگوں کو ہم سے محبت ہوتی ہے لیکن وہ لفظوں میں اظہار نہیں کرتے کچھ لوگوں کو مجبوریاں ہوتی ہیں ہمیں کبھی بھی لوگوں سے بدگمان نہیں ہونا چاہیے بدگمانی میں ہم اپنے سے دور چلے جاتے ہیں اس ناولٹ میں ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ کبھی بھی لوگوں سے بدلا لینے میں اتنا آگے نہیں جانا چاہے کہ اپنا ہی برا کر لیں یہ کہانی ہے بیٹیوں کی مرضی پہ شادی کے لیے رضا مندی بیٹیوں کا حق ہے بلاوجہ ان پہ اپنے فیصلے نہیں تھوپنے چاہیے اس کہانی میں بتایا گیا ہے کہ اگر محبت سچی ہو تو معجزے ہو ہی جاتے ہیں رائٹر کا انداز بیان اچھا تھا انتہائی اہم موضوع پہ بہت سلجھا ہوا لکھا ہے کہانی اور پلاٹ بھی اچھا تھا ایک چھوٹا سا خوبصورت ناولٹ لیکن بہت ہی پر مزہ اچھوتا سا۔۔

Tu mera hai sanam by Saira Khan Complete novel

  • by

عورت کو کبھی نیچ نا سمجھنا خدارا ۔۔

عورت کبھی حوا کبھی مریم کبھی زہرا ۔۔

میں تم سے بات کر رہا ہوں اسما۔۔شہیر احمد اس کی جانب دیکھتے جتاتا ہوا بولا۔۔

مگر میں آپ سے کوئ بات نہیں کرنا چاہتی بہتر ہے مجھے چپ چاپ گھر چھوڑ دیں نہیں تو مجھے یہں اتار دیں میں ٹیکسی سے چلی جاتی ہوں۔۔

وو دو ٹوک بولی تھی۔۔

شہیر احمد نے لب بھینچ کے گاڑی کا رخ موڑا ۔۔

یہ کہاں جا رہے ہیں آپ ؟

گاڑی وو رش والی جگہ سے نکال کے سنسان سڑک کی جانب لایا تو اسما نے حیران ہو کر اسے دیکھا۔۔

فکر نا کرو اغوا نہیں کر رہا۔۔وو غصے سے بولا۔۔

آپ کی اتنی ہمت بھی نہیں ہے لا وارث نہیں ہوں میں۔۔وو اسی انداز میں بولی تو شہیر احمد کی آنکھوں میں سرخی اترنے لگی۔۔

اس نے گاڑی جھٹکے سے ایک سائڈ پر روک دی ۔۔

گاڑی کیوں روک دی اب۔۔؟اسما نے اس کی جانب دیکھا۔۔جو آنکھوں سے گلاسز اتار رہا تھا۔۔۔

تم مجھ سے اس طرح بات کیوں کر رہی ہو ۔۔کتنا بڑا ہوں تم سے تمیز لحاظ بھول بھیٹھی ہو؟شہیر احمد افسوس سے بولا

تو کس طرح بات کروں ۔۔وو طنزیہ بولی تھی۔۔

ویسے ہی جیسے پہلے کرتی تھی۔۔وو سنجیدگی سے بولا

اسما نے حیران ہو کر اسے دیکھا جو اتنا کچھ ہونے کہ باوجود چاہتا تھا اسما اس کے ساتھ پہلے جیسا رویہ رکھے ۔۔

آپکو لگتا ہے کہ آپ کی جانب سے اتنا بڑا دھوکہ ملنے کے باوجود میں آپ سے پہلے کی طرح بات کروں گی۔۔

کیا دھوکہ دیا ہےمیں نے تمہیں؟

شہیر احمد کی سنجیدگی برقرار تھی۔۔

آپ نے میرا اعتماد توڑا ہے۔۔وو سرخ چہرہ لیے بولی تھی۔۔

وو کیسے؟

شہیر احمد اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔۔

آپ اچھی طرح جانتے تھے کہ میں آپکو اپنا سگا بھائ مانتی ہوں ۔۔پھر بھی آپ نے میرے متعلق ایسی گھٹیا سوچ رکھی۔۔

اور کیا گھٹیا سوچ رکھی میں نے تمہارے متعلق؟

کیا کبھی تمہاری کم عمری یا تمہاری معصومیت کا فائدہ اٹھایا؟کیا تمہارے اعتماد کا فائدہ اٹھایا

کیا تم سے کبھی غیر اخلاقی بات کی ۔۔

وو یکدم غصے میں آتا تھوڑا تیز لہجے میں بولا تھا۔۔اسما سہم سی گئ وو تو بچپن سے اس کے کیئرنگ رویہ کی عادی تھی۔۔

بولو جواب دو؟

نہیں۔۔بے اختیار اس کا سر نفی میں ہلا۔۔

پھر کیسے اعتماد توڑا میں نے ؟شہیر احمد نے سوچ لیا تھا آج وو اس لڑکی کا دماغ سیٹ کر کے رہے گا۔۔

آپ نے مجھ

سے میرا ایک بھائ چھین لیا۔۔

ایک کزن چھین لیا ایک دوست چھین لیا یکدم ہی وو آنسو بہانے لگی تھی۔۔

شہیر احمد لب بھینچ گیا۔۔

کون کہہ رہا ہے چھین لیا میں اب بھی تمہارا کزن ہوں تمہارا دوست ہوں پہلے کی طرح ۔۔

تم کچھ بھی مجھے بعد میں سمجھنا پہلے مجھے اپنا دوست اور کزن ہی سمجھو ۔۔

وو اسے سمجھاتا ہوا بولا تو اسما کے اندر تھوڑا سکون اترا ۔۔اتنے دن سے جو بات تکلیف دے رہی تھی اس میں زرا کمی آۓ تھی۔۔

شہیر احمد بھی اس کا چہرہ تھوڑا پر سکون ہوتا ریلیکس ہوا تھا۔۔

میں بس نہیں چاہتا تھا کہ میری فیلینگز تمہیں پتہ چلے ۔۔کیوں کے میں جانتا ہوں ماما تمہیں کبھی قبول نہیں کریں گی۔۔