Skip to content

Revenge by Mirha Rajpoot Complete novel

  • by

” عشمہ تمہیں یاد ہے آج کیا تاریخ ہے ”

عیشام نرمی سے پوچھتے ڈرنک کا گلاس اپنے لبوں سے لگایا

” جی عیشام بھلا میں کیسے بھول سکتی ہوں ”

یہ بولتے ہوئے اسکے گال سرخ ہوئے وہ دن سوچتے ہوئے چہرے پر خوشی بکھر گئی

” دیکھو آج بھی وہی دن ہے وہی تاریخ ہے تم ہو میں ہوں اور ہمارا عشق ” …..

عیشام نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا یہ وہی دن تھا جب اس نے عشمہ کو پرپوز کیا تھا اور آج بھی وہی دن تھا جب اس نے دوبارہ اسے پرپوز کیا

مگر فرق صرف اتنا تھا کے وہ ڈئیر تھا اور یہ حقیقت ….

اتنے ہی وقت میں عیشام کا خاص طور پر تیار کروایا کیک بھی آ چکا تھا ہلکے سے میوزک میں انہوں نے کیک انجواۓ کیا

تو عیشام نے اسے ڈانس کی آفر اسکے قریب ہو کر اس نے اسکی قمر پر ہاتھ رکھا تو اسکے دل میں ہلچل مچ گئی

” آپکو ترس نہیں آیا مجھ پر ” ؟

اسکے شانو پر دونوں ہاتھ رکھتی وہ منہ لٹکا کر بولی وہ جب بھی ایسے بات کرتی تھی عیشام کو بہت پیاری لگتی تھی

” میں جاننا چاہتا تھا کہ تم بھی میرے لئے وہی فیل کرتی ہو جو میں تمہارے لئے کرتا ہوں تو تمہارے چہرہ کے اڑتے رنگوں نے مجھے میرے سوال کا جواب دے دیا “

اسکی قمر پر گرفت مضبوط کرتے وہ اسکے تھوڑا اور قریب ہوا

” تم نے جو چار سال تڑپایا مجھے تو خود چار گھنٹوں میں ہی تھک گئی ”

اسکی ناک پر ناک رگرتے وہ چھیڑنے والے انداز میں بولا تو اس نے نظریں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا

بغیر کچھ بولے عشمہ نے ناراضگی ظاہر کی بہت ڈرتی تھی وہ اسے کھونے سے ……

وہ ناراض ہو رہی تھی اب عیشام پر فرض تھا اسکے نخرے برداشت کرنا جو وہ خوشی خوشی کرتا تھا

عشمہ اس سے ایک سال بڑی تھی اسے اچھا نہیں لگتا تھا کہ عیشام اسے آپ بولے اس لئے اس نے عیشام کو صاف بولا تھا میں آپکو آپ بولوں گی اور آپ مجھے تم

جسے وہ مسکراتے ہوۓ مان گیا تھا عشمہ عیشام کی کمزوری تھی اور وہ یہ بات پچپن سے ہی جانتی تھی

عیشام شاہ صرف اپنی ڈول سے عشق کرتا تھا مگر وہ یہ سمجھ کیوں نہ سکی کے کہ وہ شخص اسے چھوڑ کر کسی اور کے پاس کیوں جائے گا ……

Pyar hua chupke se by Eman Fatima Complete novel

  • by

اس لڑکی کا میں ایسا گیم بچاو گی نہ کیسی کو مو دیکھانے قابل نہیں رہے گی کیا سوچھا تھا ہم سے بج جائے گی۔۔۔۔
بس ایک بار نظر آ جائے پھر ایسا خال کرو گی کے کسی کو مو دیکھانے قابل نہیں رہے گی میری بیٹی کی زندگی اچاڑی ہے میں اس کی نازل اچاڑ دو گی وہ دش میں آ گے بولی تھی اسے یہ نہیں بتا تھا ایسا کر کے خود اپنی موت کو دعوت دے رہی ہے ۔۔۔۔۔۔

Tabeer e hayat by Juhaina Arwish Complete

معلوم نہیں زندگی_ کیا ہے. ۔۔۔۔۔۔،؟؟؟ سراب ہے یا حقیقت کچھ زندہ ہو کر بھی مردے ہیں اور کچھ مردے ہو کر بھی اس کو جی رہے ہیں۔۔۔۔۔۔حقیقت کیا ہے؟؟؟؟ہر کسی کے منطق اور ماننے والے کو اپنا ہی سب کچھ حقیقت لگتا ہے۔ ہر کوئی اسے مختلف زاویے سے دیکھ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔کسی کے لیے مال و دولت زندگی ہے۔ تو کسی کے لیے عزت نفس خودی اور انا ۔۔۔۔۔کسی کے لیے محبت اور محبوب زندگی ہے۔۔۔۔۔ تو کسی کے لیے اپنا اونچا ماتا اور نہ جھکنا زندگی سے زیادہ عزیز ہے۔۔۔۔۔ یہ بالکل صحیح ہے میرے خیال سے ۔۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ اگر میں غلط ہوتی تو کوئی شخص دوسرے دن اپنے انا کی تسکین کے لیے کسی دوسرے کو اپنے سامنے نہیں مارتا۔۔۔۔۔ ہر دوسرے دن دو محبت کرنے والے ایک دوسرے سے جدا نہ ہوتے۔۔۔۔۔ اگر ان میں سے ایک بھی تھوڑا سا جھکنے لگتا کوئی شخص اپنے ہی خون اور خود کو موت کے منہ میں نہ دھکیلتا اگر یہ مال و دولت زندگی کو تصور نہیں کیا جاتا۔۔۔۔۔ اور نہ ہی کسی شخص کے شریانے پٹتے اس خبر سے کہ جس کو اس نے محبوب مانا یا اس کو سب سے زیادہ چاہا اپنی زندگی سے بھی بڑھ کر اہمیت دیا وہ کسی اور کا ہو گیا۔۔۔۔یہ کہانی بھی کچھ لوگوں کی ہے۔ جو زندگی اپنے اپنے لحاظ سے جینے کے متمنی ہیں۔ ہر لحاظ کے دو پہلو ہیں اچھا اور برا کون کس پہلو کے پیچھے جاتا ہے یہ اسی شخص کے ہاتھ اور احتیارمیں ہے۔۔۔۔۔جو پہلو جو اپناتا ہے اس کو اپنی زندگی تصور کر لیتا ہے ہر چیز واضح ہے یا پھر سب کچھ ہی دھندلا ہے ۔۔۔۔؟؟؟؟انہی ذکر شدہ چیزوں کے علاوہ بھی کچھ ہے جس سے ہم نہیں دیکھ سکتے؟؟؟ یا ہم دیکھنا ہی نہیں چاہتے؟؟؟؟؟

Allah ka rasta by Gul Gandapur Complete novel

  • by

دیکھو زونین جو کچھ بھی ہوا میں جانتا ہوں اِس میں تمھارا کوئی قصور نہیں اور میں تمہیں چھوڑ کر نہیں گیا تھا مُجھ پر اعتبار کرو زوینی،اِس سب میں صوفیہ ہی کا قصور تھا اُس نے نہ صرف ہمارا بلکہ خود کا بھی بہت نقصان کیا،

میرا یقین کرو زوینی اُس وقت حالات کُچھ سہی نہیں تھے پاپا کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا جاناں میری مجبوری تھی مُجھے سمجھنے کی کوشش کرو یار میں نہیں جاتا تو نجانے کیا ہو جاتا پلیز زوینی،

زونین نے ایک ٹھنڈی اہ بھری

وہ دونوں سمندر کے کنارے ایک بینچ پر بیٹھے تھے، زونین سامنے دیکھ رہی تھی،

عبدان خانزادہ بار بار وضاحتیں وہ لوگ دیتے ہیں جو گنہگار ہوں اور رہی بات اعتبار کی تو اعتبار توڑنے والوں پر دوبارہ بھروسہ کرنا ایک بہت بڑی بیوقوفی ہیں جو کہ میں نہیں کر سکتی۔۔

Tasawwur e musawir by Kainat Jameel Abbasi Complete novelette

  • by

کہتے ہیں کہ خود سے محبت کرنے کے لیے۔۔

انسان کا خوبصورت ہونا لازم ہوتا ہے۔

مگر انسان کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ۔۔

ہر انسان منفرد انداز میں خوبصورت ہوتا ہے۔

اور جان لو تم یہ بات کہ۔۔

خوبصورتی خوداعتمادی کا نام ہے۔

خوداعتمادی کے دو ہی اصول ہیں۔

یا تو تم خود کو جان کو

یا پھر اپنے خدا کو جان لو۔

خالق اور مخلوق کے درمیان

رشتہ صرف محبت کا ہے۔

جیسے کسی تصویر اور مصور کے درمیان

محبت کا تصور ہوتا ہے۔

تصویر کا حسن، مصور کے تصور کا حسن ہے

اور مخلوق کا حسن، خالق کی قدرت کا حسن ہے۔

کسی تصویر کی توہین دراصل مصور کی توہین ہے۔

اور کسی مخلوق کے حسن کی توہین، دراصل خالق کی قدرت کی توہین ہے۔

اگر تم خود سے کبھی محبت نہ کر سکے تو۔

تم حقیقی طور پر خدا سے محبت نہیں کر سکو گے۔

Insta I’d: @kainatjameelabbasi._.official

Gehri manzil by Syeda Noor Ul Ain Complete novel

  • by

یہ کہانی ینگسٹرز کی پرسنل لائف پر لکھی گئی ہے….

جو کہ عام طور پر والدین نہیں سمجھ پاتے…..

یہ کہانی دو اہم کرداروں پر مشتمل ہے-

پہلی “نور” جو کہ حلال کو اہمیت دیتی حرام سے بچتی پر پھر بھی اسے حلال کے لئے بھی سخت محنت کرنی پڑتی اور انتظار کیونکہ اسکے گھر کا ماحول معاشرے کی باتوں اور والدین سے کھل کر نہ بول پانے کی وجہ سے وہ اس سب میں بڑی مشقت اٹھاتی ہے….

اور دوسری جانب “جیف” جو کہ ایک بہت ہی گندی دنیا میں جا بسا تھا صرف اور صرف پڑھائ اور دنیاوی کامیابی کی خاطر اسکے والدین نے اسکی اٹھتی جوانی پر نظر نہیں کی….

اسہی طرح مختلف انداز میں اس کہانی میں آپ مختلف کرداروں کو گناہ میں پرتے گناہ سے بجتے اور گناہ سے روکتے ہوئے دیکھے گے….

اور ایسی سچی محبت کا احساس جس کی وجہ سے ایک ایسا گناہ گار جسے خدا یاد تک نہیں تھا وہ عشق مجازی سے ہوتے ہوئے عشق حقیقی کو بھی جان لے گا….!