Shua digest September 2024 complete pdf
Shua digest September 2024 complete pdf This is a the most famous Pakistani Monthly Digest . The Digest contains many stories . Episode Stories ,… Read More »Shua digest September 2024 complete pdf
Shua digest September 2024 complete pdf This is a the most famous Pakistani Monthly Digest . The Digest contains many stories . Episode Stories ,… Read More »Shua digest September 2024 complete pdf
خواب اور خواہش ہر انسان کے ہوتے ہے۔ چاہے وہ کوئی 10 سال کا بچہ ہو یا 60 سال کا بزرگ۔ اور ہر کوئی اپنے خواب اور خواہشات کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ اور یہ وہ دو چیزیں ایسی ہوتی ہے جن کے پورا ہونے کے بعد جو خوشی انسان کو ملتی ہے اُس کا کوئی ٹھیکانہ نہیں ہوتا۔آپ اور آپ کے نزدیک کافی لوگ ایسے ہونگے جن کی زندگی کا سب سے اچھا دن جسے کبھی بھلایا نہ جا سکے (unforgettable) وہ دن وہی ہوگا جب ان کا کوئی خواب یا کوئی خواہش پوری ہوئی ہوگی۔ انسان کبھی نہیں چاہتا کے اُس کا کوئی خواب ادھورہ نہ رہ جائے مگر انسان کے بہت سے خواب اور خواہشات پوری نہیں ہوتی۔ لیکن آپ کو مایوس نہیں ہونا چاہئے کیوں کے ہماری زندگی میں ہمیں وہ ہی ملتا ہے جو ہمارے لیے بحتر ہوتا ہے۔ انسان جب بچہ ہوتا ہے اُس کے کافی خواب اور خواہشات ہوتی ہے۔ جیسے جیسے وہ بڑا ہوتا ہے اس کے خواب اور خواہشات بھی پہلے جیسی نہیں رہتی اور کافی جیزیں ایسی ہوتی ہے جو وہ نہیں کر سکتا لیکن ایسا بلکل نہیں ہونا چاہیے کے وہ یہ سوچتا رہے کہ وہ کوئی کام نہیں کر سکا کیونکہ اُس درمیان ہم بہت سی اور جیزیں بھی حاصل کرتے ہے۔ انسان کو ہمیشہ (positive) سوچنا چاہیے۔ اور ہر وقت ہر حال میں اللّٰہ تعا لیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
” قتل میں نے نہیں کیا آپ نے کیا ہے۔” اس کے یہ الفاظ وہاں پر موجود ہر شخص کو حیران کر گئے ۔
” تم اپنے ہوش میں تو ہو؟ ” جج نے بے یقینی کی حالت میں پوچھا ۔
” میں بالکل ٹھیک کہہ رہا ہوں کہ میں نے قتل نہیں کیا بلکہ آپ نے کیا ہے ، اور نہ صرف آپ نے بلکہ اس کے ملک کے تمام امرا نے کیا ہے۔ ” مقابل نے بالکل پر اعتماد جواب دیا۔
وہاں ہر ہو کوئ ساکن تھا کیونکہ کسی کو بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر مقابل کیا کہہ رہا ہے؟ وہ کہہ رہا ہے کہ قتل اس نے نہیں بلکہ باقی سب نے کیا ہے، جبکہ سارے ثبوت اس کے خلاف ہیں ۔ کسی کو بھی اس کی بات سمجھ میں نہ آئ ۔
” کیا تم بتا سکتے ہو کہ ہم نے قتل کیسے کیا؟” جج نے تمسخرانہ لہجے میں پوچھا۔
وہ شاید ام الخبائث پینے میں مصروف تھا،
“بس کرو اب یہ ماتم۔۔۔۔۔” گلاس رکھ کر وہ مڑا
“ہو گیا نا جو ہونا تھا۔۔۔۔ اب؟۔۔۔کیا اب بھی یہ پاکبازی کے ڈرامے کرنے ہیں” برے موڈ میں کہتا ہوا وہ آگے بڑھ رہا تھا اور عین اس پر آکر جھکا۔۔۔ عائشہ نے پھر سے جیسے خود کو بچانے کی کوشش کی ۔۔۔
گلے میں لٹکا اسکا سانپ والا لاکٹ اس کے منہ پر گر رہا تھا بے بسی سی بے بسی تھی
“ڈیمانڈ کرلو۔۔۔۔ میں اب بھی پے کرنے کو تیار ہوں، میں یہ سب نہیں چاہتا تھا، تمہیں میری ماں کو گالی نہیں دینی چاہیے تھی۔۔۔۔میں یہ سب نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔” وہ گلٹ میں لگتا تھا۔۔۔۔۔۔عائشہ خود نشے کی وجہ سے مفلوج تھی لیکن عزت پر وار ایک عورت کے لئے کاری ہوتا ہے۔۔۔ عائشہ نے اسکے منہ پر تھوکا اور منہ پر لگتا وہ لاکٹ ایک جھٹکے میں کھنچ کر پھینکا
Khawab e khayal by Zainab Chaudhary Episode 2 Khawab e khayal by Zainab Chaudhary Complete novel This is social romantic Urdu novel based on fiction… Read More »Khawab e khayal by Zainab Chaudhary Complete novel
Dark spell’s by Serien Kazmi Episode 3 Dark spell’s by Serien Kazmi Complete novel This is social romantic Urdu novel based on fiction and some… Read More »Dark spell’s by Serien Kazmi Complete novel
Ro aur Rawish by Asia Raees Khan Ro aur Rawish by Asia Raees Khan This is social romantic Urdu novel based on fiction and some… Read More »Ro aur Rawish by Asia Raees Khan
مجھے تمھاری پل پل کی خبر ہے اور یہ تم حنید کے ساتھ گھوم رہی بند کر دو مجھے ذرا بھی پسند نہیں ۔
اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے۔
وہ کہتی ہے
کیسا فیصلہ
کی ہمارا نکاح آج ہی ہوگا۔
ماہا ہونقوں کی طرح دیکھتی ہے ۔
یہ کیا کہہ رہے ہو۔
وہی جس کے لیے میں نے بیس سال انتظار کیا ۔
ماہا نے محسوس کیا کہ اس نےیہاں آکر کتنی بڑی غلطی کر دی۔
ایسا نہیں ہو سکتا۔
تم ایک دوکھے باز انسان ہو۔
تم نے مجھے یہاں کسی ثبوت کے لیے بلایا تھا ۔
وہ مسکراتا ہے ۔
کون سے اور کن ثبوتوں کی بات کر رہی ہو۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ میری دسترس سے بھاگ نہیں سکتی ۔ لیکن خیر کوئی بات نہیں ۔
یہ جتنے دن تم نے موج مستی کرنی تھی کر لی اب تم میری ہوں۔
تم میرا عشق ہو بچپن کا ۔
اتنے نازو سے رکھا ۔ آمنہ نے عابد نے ایک آنچ نہیں آنے دی ایک کلی کی سینچا۔
وہ چینخ کر کہتی ہے نام مت لو ان کا میں مر گئی ان دونوں کے لیے۔
ماہا اس وقت جتنی بے بس تھی وہ کبھی نہیں ہوئی کس کو بتاتی ۔
اس دنیا میں ہر کوئی اسے مطلبی لگتا تھا لیکن آج اسے حنید کی یاد آرہی تھی ۔
وہ بڑی مضبوط بن کر کہتی ہے میں یہ نکاح نہیں کروں گی ۔
جس کو تم عشق کہہ رہے ہو وہ تمھاری ضد ہے اور کچھ نہیں ۔
میرے ماما بابا سے مجھ کو دور کر دیا ۔ ساری زندگی میں ان سے دور رہی اور جنہوں نے مجھے پالا بڑا کیا کسی ماں کا پیار جھوٹا کیسے ہو سکتا ہے اور کوئی باپ اولاد کی عزت کیسے کر سکتا ہے۔
صرف تمھاری وجہ راحیل شاہ صرف تمھاری وجہ سے مجھے تم سے بہت نفرت ہے ۔ اور شادی کا کہہ رہے ہوں ۔
٭٭٭٭
۔”تمہیں منع کیا تھا یہاں مت آنا ۔”دانیال نے کہا تو منہال کو لگا ہاں وہ صحح کا اسے یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔
۔”میری ۔۔ میری تصاویر وہ. ہٹا دو ۔”وہ اٹھتے ہوئے بولی ساتھ ہی نقاب بھی درست کر چکی تھی مگر اسے یہ بے معنی لگا وہ شخص جب چاہے اسے دیکھ سکتا تھا پھر وہ کیسے اس سے پردہ کرتی ۔
وہ یہی تو نہیں چاہتی تھی ۔ کسی غیر محرم کے خیالات کا مرکز بننا ۔
۔”کمرے سے تو ہٹا دوں گا دل پر سے کیسے ہٹاؤں ۔”وہ پوچھ رہا تھا بےبسی اس کی آواز سے عیا تھی مگر وہ کیا جواب دیتی ۔
۔”یہ غلط ہے تمہیں کوئی حق نہیں ہے ۔”منہال نے کوشش کی وہ روئے نہیں مگر آنسو کب ہماری سنتے ہیں ۔
۔”میں یہ گھر بیچ دوں گا ۔”دانیال نے جیسے حل نکالا ۔
۔”تم شادی کر لو ۔”منہال نے ایک اور حل پیش کیا ۔
۔” میں کسی کی زندگی خراب نہیں کر سکتا ۔”وہ زینے اترتے بولا ۔
۔”جب تمہاری زندگی میں کوئی آئے گی تو تم بھول جاؤ گے سب ۔ میں بھی تو بھول گئی سب ۔”وہ اب اسے حجت دے رہی تھی ۔
۔”تم نے کبھی مجھ سے محبت نہیں کی تھی ۔”بولتے پھیکا سا مسکرا دیا ۔
۔” ہاں مگر تمہاری بیوی کرے گی ۔ تم کوشش تو کرو ۔”
“تو کیا کسی سے بھی شادی کر لو ۔”
“نہیں تم بتاؤ تمہیں کیسی لرکی چاہیے میں ڈھونڈوں گی نہ ۔”منہال جلدی سے بولی تبھی دانیال کے قدم رکے وہ پلٹا تھا منہال کی تمام تر توجہ اس پر تھی ۔
۔”منہال دانیال اسفندیار ۔”وہ بولا تو منہال کو پہلی دفہ رات کی گہری خاموشی سنائی دی تھی ۔ وہ اس سے دو قدم کے فاصلے پر تھا ۔
اس کی وہ سرخ آنکھیں ۔ پیشانی پر بکھرے بال ۔نم پلکوں کا خم اس پر سیاہ پیوپل کے گرد سرخی منہال نے نظریں چرائی ۔وہ آنکھیں کسی پر بھی سحر کر سکتی تھی ۔
۔”مگر شیطان گمراہ کر سکتا ہے ۔” حسن کے الفاظ سماعت سے ٹکرائے تو منہال کے منہ سے “توبہ”کا لفظ پھوٹا ۔
دانیال مسکرا دیا ۔
۔”تمہاری یہی بات تو متوجہ کرتی ہے مجھے جتنا میں نے تمہارے پیچھے خود کو زلیل کیا ہے اگر کسی اور کے پیچھے جاتا وہ نہ صرف مجھے سوچتی بلکے اب تک میری ہو چکی تھی ۔
۔”ہم پہلے جیسے رہ سکتے ہیں ایک دوسرے کو تنگ کرنے والے کزنز ۔ کرائم ہاٹنرز ۔ “منہال نے اک آس سے کہا مگر وہ خاموش ہو گیا وہ آخری زینے پر رکا ۔
۔”ہم دوست بن سکتے ہیں”منہال نے ایک اور آپشن دیا ۔
۔”اب تمہارا دوست ناراض نہیں ہوگا کیا ۔”دانیال نے پرانی بات کا حوالا دیا۔
۔”نہیں میرے جزبات بدل چکے ہے ۔ ویسے بھی ہماری تربیت ایسی نہیں ہوئی ہمارے ہاں لرکا لرکی میں شوہر اور بیوی کے علاوہ صرف ایک رشتہ ہوتا ہے ۔ اور میرے جزبات اس سے بہت الگ ہے ۔”وہ بولا تو منہال نے اس کی پشت کو دیکھا ۔ وہ اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا ۔
“ہاں ہالہ، یہ کیا کہہ رہا ہے شاہ نواز؟؟
ایک بات سن لو میری اگر اس نے تمہیں چھوڑ دیاتو میرے پاس آنے کی زحمت بھی مت کرنا” اسکے ہیلو کہنے سے پہلے وہ شروع ہو چکے تھے۔
” بتایا ہے ا س نے مجھے ، اپنی ماں کی طرح نکلی تم بھی اس نے بھی کبھی میرا ساتھ نہیں دیا تھا۔
تم بھی اسی کی طرح شوہر کو خاطر میں نہیں لاتی ہو۔
تمہیں بھی جانے دیتا میں اس دن تمہاری ماں کے ساتھ، جیسے ژالے چلی گئی تھی”وہ آگے اور بھی کچھ کہتے رہے تھے۔
مگر اس کا دماغ ماں اور ژالے میں اٹک گیا تھا۔
اسکی ماں کہاں تھی؟؟
اور ژالے کون تھی؟؟
اس سے پہلے کے وہ ان سوالوں کے جواب ڈھونڈتی، علی الصبح اسے طلاق کی رجسٹری موصول ہوئی تھی۔
جس کے بعد اس نے ہمیشہ کے لیے وہ گھر چھوڑ دیا تھا۔
چلتے چلتے وہ کہاں سے کہاں پہنچ گئی تھی ۔
وہ پاس سے گزرتی ایک بس میں سوار ہو گئی تھی۔
یہ جانے بغیر کے اسکی منزل کیا ہو گی
“کل بازار میں تم نے اسی کو دیکھا تھا نا؟” اس کے پوچھنے کی دیر تھی۔
اور ہالہ کا اپنے آنسوؤں پر اختیار نہ رہا تھا۔
“اوہوں ۔۔۔رونا نہیں جو کہنا ہے آج کہہ دو،وہ کیا چیز ہے جو تمہیں مکمل خوش نہیں ہونے دیتی؟؟
نکال دو آج اس پھانس کو” اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیکر اس نے کہا تھا۔
کچھ توقف کے بعد اس نے بولنا شروع کیا۔
“میں تین سال تک ایک abusive marrige میں تھی۔۔۔” شروع سے لے کر اس دن تک سب کچھ اسنے کھول کر زید کے سامنے رکھ دیا تھا۔
آگے اسکی مرضی چاہے تو اسکے ماضی سمیت اسکو سمیٹ لے،چاہے تو ٹھوکر مار دے۔
“تم جب یہاں آئی تھی تو مجھ سے پردہ کرتی تھی۔کیا تم اپنی عدت پوری کر رہی تھی؟” زید نےپوچھا تھا۔
اور اس نے دھیرے سے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
“بس مجھے اور کسی وضاحت کی ضرورت نہیں۔
تمہارا یہ ایک عمل ہر وضاحت پے بھاری ہے،مجھے تمہاری کہی ہر ایک بات پر یقین ہے ہالے” اس نےمضبوط لہجے میں کہا تھا۔
اورہالے نور تو جیسے آج خود اپنی نظروں میں معتبر ہو گئی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭