Skip to content

Siyah rang ke hisar mein by Sehrish Raees Complete novel

  • by

میری ننھی سی گڑیا بڑی ہو گئی ہے مجھے اپنی بیٹی پہ پورا اعتماد ہے اگر ساری دنیا کھلی آنکھوں سے بھی کہے گی کہ عنایا عنایت غلط ہے تو میں بند آنکھوں سے کہوں گا میری بیٹی غلط نہیں ہو سکتی مجھے اس پہ یقین ہے”…. میں نے تو بہت پہلے سے سوچ رکھا تھا کہ عنایا کے میٹرک کے رزلٹ کے بعد اس کا داخلہ شہر کے کسی اچھے کالج میں کرواؤں گا میری بیٹی کسی سے پیچھے کیوں رہے بھلا!… ارسلان اپنے بابا کے باتیں اور ان کی عظیم سوچ دیکھ کر آنکھوں میں آنسو لیے مسلسل انہیں دیکھ رہا تھا اچانک سے خیال آیا لوگ کیا کہیں گے؟…

آپ کیوں پریشان ہو بیٹا آپ کے بابا ہیں نا کوئی میرے ہوتے آپ دونوں پر بات نہیں کر سکتا بس اپنی بہن کا جیسے خیال رکھتے ہو اور فکر مند ہوتے ہو دوسروں کی بہنوں کے لیے بھی ایسے ہی انسانیت دل میں رکھنا اپنی بہن کے محافظ اور دوسروں کی بہنوں کےلیے بھیڑیا کبھی مت بننا اگر آپ دوسروں کی بہنوں کو بھی عزت دیں گے تو آپ کی بہن بھی خوش رہے گی” یاد رکھنا میرے بیٹے بیٹیاں سب کے سانجھی ہوتی ہے گھر کے اندر کی عورت اور بیٹی کے محافظ اور باہر کسی کی بیٹی کے لیے راستے تنگ کر دینا مردوں کی فطرت نہیں جانوروں اور حیوانوں کا کام ہے”

Pyar mera nafrat bhara by Aiman Akmal Complete novel

  • by

پھر تو تم بھی اس کے ساتھ مخلص نہیں لگتے کیونکہ ایک غیرت مند مرد کو تو یہ بات گوارا نہیں کہ اسکی بیوی کے کسی دوسرے مرد کے ساتھ تعلقات ہوں

رایان نے بھی قدرے سنبھل کر اسے جواب دیا۔۔۔ کیا کیا گمان کر بیٹھا تھا کہ اتنی جلدی جیت گیا وہ لیکن یہاں اس کا کھیل اس پر ہی الٹ چکا تھا۔۔۔۔ مگر وہ ہار نہیں مان سکتا تھا وہ ابھی بھی کوشش کرے گا

کچھ لوگ اپنی زندگی اچھے سے گزارنے کے بجائے دوسروں کی زندگی برباد کرنے کی سعی کرتے رہتے ہیں۔۔۔ اور پھر وہ اپنی اس زندگی کے ساتھ ساتھ آخرت کی زندگی بھی تباہ کر لیتے ہیں

اور رایان ان کچھ لوگوں میں سے ہی ایک تھا

تو تمہیں کیا لگتا ہے مسٹر رایان شاہ میری غیرت اس میں ہے کہ میں گھر جا کر اپنی بیوی کی کردار کشی کروں؟؟۔۔۔۔۔۔۔ دوسروں کے سامنے اسے بدکردار کہوں اور بےعزت کروں؟؟۔۔۔۔۔۔ اس کی تزلیل کروں؟۔۔۔۔۔ کیا اس کو مردوں کی غیرت کہتے ہیں ؟

ارحم دوبارہ سے آگے کو ہو کر بیٹھا۔۔۔۔ چہرے پر اب سنجیدگی برقرار تھی۔۔۔ آخر میں وہ تمسخرانہ ہنسا

ہاں شاید اگر میں اس کے کردار کو داغ دار کہتے طلاق کے کاغذات اس کے منہ پر مار دوں تو میں بہت غیرت مند مرد کہلاؤں گا۔۔۔۔ ارحم استہزایہ ہنسا

دنیا کے سامنے اپنی بیوی کی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے بجاۓ میں اسے رسوا کر دوں تو میں غیرت مند مرد کہلاؤں گا۔۔۔ وہ ٹھہرا اور رایان کی آنکھوں میں جھانکا

ایسا ہی ہے نا۔۔۔۔ اس نے رایان کی آنکھوں میں دیکھتے تصدیق چاہی تھی لیکن وہ تو جیسے حیرت کے سمندروں میں ڈوب چکا تھا۔۔۔ وہ شل سا بیٹھا اسے سن رہا تھا

اگر ایسا کرنے سے میں غیرت مند مرد کہلاؤں گا تو معزرت کے ساتھ میں بے غیرت ہی سہی ہوں۔۔۔۔

مجھے غیرت مند مرد بن کر اپنی بیوی کو اسکی خود کی نظروں میں نہیں گرانا۔۔۔

WAR by SJ Writes Part 2 Complete novel

  • by

ہاں تو مسٹر دران..آراء زخمی وجود کے ساتھ آگے آئی..

آپ نے پاشا ملک کے ساتھ مل کے اُن 109 لوگوں کا قتل کیا..اور پھر آپکی اُمید پہ پورا نہ اترنے والا پاشا ملک..

وہ بلند آواز سے بول رہی تھی..

کو آپ نے جان سے مار دیا..

اُسے رات کے پہر بُلوایا اور بُلوانے کے بعد اُسے اُس کی گن سے گولیاں ماری گئی..وہ تو قسمت اچھی تھی آپ کی کہ ایڈم کی لوکیشن اُس وقت بلکل قریب تھی..

ایڈم میرے کلائینٹ جو بے قصور ہونے کے ساتھ ساتھ آپکو بُرے کام سے روک رہے تھے..آپکے کام کی اڑاوٹ تھے..

Right mr Duran..

آراء نے طنزیہ لہجے میں کہا..

یہ جھوٹ ہے..دران ملک نے بے ساختہ کہا..

Objection my Lord..

غیلانی صاحب اٹھ گئے تھے..یہ میرے کلائینٹ پہ جھوٹا الزام ہے..یہ من گھڑت کہانی ہے..عدالت کو باتوں کی نہیں ثبوت کی ضرورت ہوتی ہے..کیا آپکے پاس کوئی ثبوت ہے..؟

مسٹر غیلانی نے طنز سے زرا رک کے پوچھا تھا..

یہ عدالت ہے مسٹر غیلانی..آراء نے مضبوط لہجے میں کہا تھا..

ایڈم کا سر اب بھی جھکا ہوا تھا..صارم بھی خاموش تھا..

حُنین نے ایک نظر ولی کو دیکھا تھا..جو خود بھی صارم کے نمبر سے سپیکر پر آتی آواز سے پریشان تھا..حُنین نے ابھی صرف بازو پر مرحم رکھوایا تھا باقی چوٹ ابھی ویسے ہی تھی..ولی نے بھی اپنے زخموں پر پٹی نہیں کروائی تھی..

آراء کم اون تم کر سکتی ہو..

حُنین پریشان لہجے میں بولی تھی..

آپ جانتے ہیں نا مسٹر غیلانی..کہ عدالت میں تو ثبوت ہی چلتے ہیں..آراء کے چہرے پر اب دل جلا دینا والی مسکراہٹ تھی..ہر کوئی اس فیصلے سے پریشان تھا..حُنین کے گھر والے بھی سب انتظار میں تھے..

my Lord..

مسٹر دران نے نا صرف 110 قتل کئے اور ان کا بیٹا جو کہ سب کی نظر میں ایک بے گُناہ بزنس مین تھا اُس کے ساتھ مل کے کئے..وہ بے دردی سے قتل کرتا..اور مسٹر دران لاش کو غائب کرواتے..

وہ دران کو دیکھتے ہوئے چبا چبا کے بول رہی تھی..

یہ جھوٹ ہے..دران نے چیخ کے کہا تھا..

یہ سب..؟

Ishq by Arfa Awan Complete novel

  • by

زندگی میں کم از کم ایک بار تو سبھی پیار کرتے ہیں۔یہ ایک معارف جملہ ہے ۔جس کی سچائی سے مجھے کوئی بحث نہیں۔مگر میں سوچتی ہوں کہ ایک جملہ ایسا ہے جو سو فیصد سچ ہے لیکن اسے زبان پر لاتے ہوئے سب ہی گھبراتے ہیں شاید اس لیے جملہ اعتراف ہے اور تاہیؤں کا۔۔۔۔انسان خطا کا پتلا ہے اس لئے پچھتانا اس کا مقصد ہے۔۔۔۔!

Zindagi shajar aur main by Bint e Mehmood Complete novel

  • by

“ماہا تم کب تک اپنا وقت ضائع کرتی رہو گی” میں نے فون اٹھاتے ہی پوچھا تھا۔

“جب تک آپ مان نہیں جائیں گے”اس کا اطمینان قابل دید تھا۔

“میں کبھی بھی نہیں مانوں گا” میں نے دو ٹوک انداز میں کہا۔

“مجھے یقین ہے آپ مان جائیں گے”اس نے فورا کہا تھا۔

“میں مان بھی جاؤں تب بھی ایسا نہیں کروں گا۔

میں اپنے پیشے اور ادارے پر کسی کی اٹھی انگلی برداشت نہیں کر سکتا” میں نے تھکے ہوۓ انداز میں کہا تھا۔

“آپ ایک بار ہاں بول دیں میں یونیورسٹی جانا چھوڑ دوں گی۔

کلاس میٹس سے نہیں ملوں گی کسی کو پتا ہی نہیں چلے گا’اس نے کہا تھا۔

اس کی بات پر میں کچھ پل کو خاموش ہو گیاتھا۔

“اور اگر تمہارے گھر والے نا مانے تو۔۔۔

کیا تم ان کی مرضی کے بغیر مجھ سے شادی کر لو گی؟” میں دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ کس حد تک جا سکتی ہے۔

“ایسا نہیں ہو سکتا کہ بابا میری کوئی بات نا مانیں”اس نے ہنستے ہوۓ کہا تھا۔

“اگر ایسا ہو جاۓ تو” میں نے پوچھا تھا۔

“نہیں ہو سکتا”

“فرض کر لو”

“جس چیز کا مجھے معلوم ہے،میں خوامخواه کیوں فرض کروں”اس نے ہنستے ہوۓ کہا تھا۔

“اچھا تمہارے بابا تو مان جائیں گے اور اگر تمہاری امی نا مانیں تو”؟پتا نہیں یہ سب میں اس سےکیوں پوچھ رہاتھا ۔

Kari dhoop ke baad by Bint e Mehmood Complete novel

  • by

“معاذ!!لیکن وہ کیوں آیا تھا؟

“پتا نہیں ،اسے آریز چھوڑ کے گیا تھا۔”مہر کی بھرائی ہوئی آواز سنائی دی۔

“تو اس وقت فارس تمہاری کلاس میں تھا” امی نے پوچھا۔

اس نے روتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔

“میں نے اسے پورے دو ماہ بعد آج دیکھا وہ میرے ساتھ تھا۔

میرے بالکل قریب ،میرے گھٹنے پر ہاتھ رکھے مجھے پکار رہا تھا۔اور میں ایسی بدنصیب اسے گود میں اٹھا کر پیار بھی نہیں کر سکی”۔ وہ پھر سے سسکنے لگی تھی۔

وہ ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہی تھی،اس کی چیخیں یوں لگ رہا تھا عرش ہلا رہی ہیں۔

اتنی تڑپ۔۔۔۔۔

اتنی شدت۔۔۔۔

وہ برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔

وہ فیصلہ جو ڈیڑھ سال سے وہ نہیں کر پا رہا تھا،ان چند لمحوں میں اس سے ہو گیا۔

کیا دیوار پارکے لوگوں کو مہر پر رحم آ گیا تھا۔۔؟؟

یا اس کی مامتا پرترس کھایا گیا تھا؟؟

وہ جس طرح خاموشی سے آیا تھا اسی طرح خاموشی سے واپس کو مڑ گیا ۔اور دروازہ اسی طرح مقفل کر دیا جیسے اب سے کچھ دیر پہلے تھا۔

جبکہ دوسری طرف مہر معاذ کو پیار کرتی جاتی تھی اور بھیگی آنکھوں سے ہنستی جاتی تھی۔

Ibtada e Mohabbat by Umm e omama Complete

  • by

“کیا دیکھا تم نے”

اسکے قریب آکر وہ پسٹل اسکی شہہ رگ پر رکھتا سخت لہجے میں پوچھنے لگا

“ک–کچھ نہیں”

“میں نے پوچھا کیا دیکھا تم نے”

”م–میں کسی کو کچھ ن-نہیں بتاؤں گی”

اسکی پہلے سے زیادہ سخت ہوتی آواز پر وہ جلدی سے کہنے لگی

“ڈیرل کسی سے ڈرتا نہیں ہے بھری دنیا کو بتا دو”

“مجھے جانے دو”

“میں نے تمہارا راستہ کب روکا تم خود اپنی موت کے انتظار میں کھڑی ہو جانا چاہتی ہو تو جاؤ اس سے پہلے میرا موڈ مزید خراب ہو اور اگر میرا موڈ مزید بگڑا تو میں یہاں پر دوسرا قتل کرنے میں بھی دیر نہیں لگاؤں گا”

اسکی بات پر وہ اپنے شل ہوتے وجود کو گھسیٹتی بھاگتے ہوئے وہاں سے چلی گئی
اور آریز بس اسکے دور جاتے قدموں کی آواز اپنے کانوں میں سنتا رہ گیا
°°°°°

Kahani ek ghar ki by Bint e Mehmood Complete novel

  • by

“اور حاضرین محفل یہ بات جان کر آپ کو نہایت حیرانی ہو گی کہ آپ سب کے درمیان ایک لکھاری۔۔۔

یعنی کے رائٹر۔۔۔

یعنی کے ناول نگار موجود ہے۔

ہاں جی۔۔۔”

فائزہ نے بات مکمل کرنے کے بعد حاضرین پر نظر ڈالی ہے تو کیا دیکھتی ہے کہ سب منہ کھولے اسے ہی تک رہے ہیں۔

ارے کیا ہے بھئ سچ کہہ رہی ہوں میں بلکل!پلیٹ سے بیر اٹھا کر منہ میں رکھتے ہوۓ اس نے کہا

“اچھا تو کون ہے وہ؟”

سب سے پہلے سوال پوچھنے والا اور کون ہو سکتا تھا ابو بکر کے علاوہ، جو خود کو “ایکسٹرا” ہی جینئس سمجھتا تھا اور سکول و کالج کے بعد اب یونیورسٹی میں بھی اساتذہ سے سوال کر کر کے ان کے دماغ کی چولیں ہلانے میں کسر نا چھوڑتا تھا۔

ہاں ہاں بتاؤ نا کون ہے وہ؟ سب یک زبان ہو کر بولے، ماسواۓ انشا کے۔

“وہ ہیں۔۔۔”

نیوز اینکر کے سٹائل میں ہاتھوں کو ہلا ہلا کر (بلاوجہ) اور چہرے پر بھر پور سنسی کے تاثرات سجاتے ہوۓ فائزہ نے دو سیکنڈ کا pause لیا تھا۔۔

“ہماری پیاری راج دلاری انشا اعظم۔۔۔۔”

بات کے اختتام پر تالیاں بجا کر اس نے داد طلب نظروں سے حاضرین محفل کو دیکھا۔

جن سب کی نظروں کا واحد مرکز انشا تھی۔

اور انشا،فائزہ کو خونخوار نظروں سے دیکھتے ہوۓاُس وقت کو کوس رہی تھی جب اس نے پچھلی رات باتوں ہی باتوں میں فائزہ کو یہ بات بتائی تھی۔

“لیکن تم کہاں لکھتی ہو انشا؟؟”

“کسی اخبار میں۔۔۔۔؟؟

یا وہ جو خواتین کے شمارے ہوتے ہیں ان میں لکھتی ہو؟؟”