Roop aashaon k jungle mai by Shaheen Malik
Roop aashaon k jungle mai by Shaheen Malik Roop aashaon k jungle mai by Shaheen Malik This is social romantic Urdu novel based on fiction… Read More »Roop aashaon k jungle mai by Shaheen Malik
Roop aashaon k jungle mai by Shaheen Malik Roop aashaon k jungle mai by Shaheen Malik This is social romantic Urdu novel based on fiction… Read More »Roop aashaon k jungle mai by Shaheen Malik
Bus ik Aarzoo tumhari by Rizwana Irshad Bus ik Aarzoo tumhari by Rizwana Irshad This is social romantic Urdu novel based on fiction and some… Read More »Bus ik Aarzoo tumhari by Rizwana Irshad
Bohat be aabroo ho kar by Umaira Arif Bohat be aabroo ho kar by Umaira Arif This is social romantic Urdu novel based on fiction… Read More »Bohat be aabroo ho kar by Umaira Arif
یہ ناول سعدین حویلی کے مکینوں کی کہانی ہے جس میں کئی کرداروں کی زندگیوں کو دکھایا گیا ہے۔ یہ انتقام، دھوکے، دوستی، نفرت، محبت اور ایک جن زادے کی محبت کی کہانی پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ، ناول میں مافیا کے عناصر بھی شامل ہیں اور گرے کرداروں کا بھی تذکرہ ہے، جو اپنے پیچیدہ تعلقات اور اندرونی کشمکش سے نبرد آزما ہیں۔ کردار اپنے ماضی، خواہشات اور تاریک پہلوؤں کا سامنا کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں جذبات، رازوں اور تقدیر کے ساتھ ایک طاقتور سفر شروع ہوتا ہے۔
تم اتنے پتھر دل کیسے ہو سکتے ہو زید ۔۔ کتنی محبت کرتی تھی وہ تم سے ۔۔ کتنا چاہا تھا اس نے تمہیں ۔۔۔ تمہارے لیے اس نے خود کو بدل لیا ۔۔۔۔ سب کچھ چھوڑ دیا اس نے تمہارے لیے ۔۔ اپنی انڈسٹری کلبز پارٹیز سب کچھ حد تک کہ اپنے دوست بھی اور تم نے اس کی اتنی محبت اتنی چاہت کا بدلہ کیا دیا ۔۔۔ باسط کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے تھے وہ تعبیر کو اس حالت میں دیکھ کر تڑپ گیا تھا اس کی یک طرفہ محبت سسک اٹھی تھی۔۔ جس طرح تعبیر نے زید کو چاہا تھا ویسے ہی باسط نے بھی تعبیر کو چاہا تھا ۔۔ مگر تعبیر کی محبت نے اس کے لب سی دیئے تھے ۔۔ وہ بس تعبیر کو خوش دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔ باسط کے منہ سے یہ انکشافات سن کر زید کا اپنے پیروں پہ کھڑا رہنا مشکل ہو گیا تھا ۔۔ اس کے دل میں درد اٹھا تھا ۔۔ ناقابل برداشت درد ۔۔ وہ وہی اپنا سینہ تھام کر رہ گیا ۔۔ پچھتاوے ناگ کی مانند اسے ڈسنے لگے تھے وہ وہیں بیٹھتا چلا گیا ۔۔۔
ایک زمانے تک میں یہی سمجھتی تھی۔کہ پھولوں کی خوشبو،گردونواح پر پھیلی خوشبو، فطرت کی خوشبو میری روح تک حلول ہو جاتی ہے۔۔۔
لیکن میں غلط تھی۔۔۔
سخت لہجوں کی خوشبو۔۔
محبوب لہجوں کی خوشبو۔۔
اصل میں یہ دو خوشبوئیں ہی انسانی جسم میں حلول ہوتی ہے۔
جس کو جو خوشبو میسر ہوگی انسان ویسا بنتا جائے گا
“عشق کی بیماری جس کو لگ جائے وہ لوگ کم ہی بچتے ہیں عشق کا علاج صرف اوپر والے کے پاس ہے جو کہ آپ کی شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔” حکیم بخش نے پہلے اوپر کی طرف اور پھر شہہ رگ طرف اشارہ کر کے کہا عشق کا نام سن کر بڑی بیگم صاحبہ کے قدموں تلے سے زمین نکل گئی وہ حکیم سے کچھ کہے بنا ہی فوراً وہاں سے نکل آئیں دل بار بار منہ کو آ رہا تھا وہ ماں تھیں وہ کیوں نہ جان سکیں کہ ان کی بیٹی کون سا روگ خود کو لگا بیٹھی ہے ۔ وہ ان کے سامنے تڑپتی رہی اور وہ سمجھ ہی نہ پائیں
ہر رات کی اب یہی حقیقت ہے
کہ ایک دل ہے۔
جس کی آنکھوں میں امید روتی ہے
میرا دل ہے
جو ہوچکا ہے کیا وہ اس
حقیقت کو روتا ہے
یا جو ہو نہ سکا وہ ہو جائے
اس امید کو روتا ہے
میرا دل نہ سمجھ ہے
مانتا نہیں ہے میں چاہوں بھی
تو تم کو پا نہیں سکتا
اور یہ بات کسی کو سمجھا نہیں سکتا
Shua digest December 2024 Complete pdf Shua digest December 2024 Complete pdf This is social romantic Urdu novel Digest based on fiction and some of… Read More »Shua digest December 2024 Complete pdf
یہ اٹلی کی شام کا حسین منظر تھا جہاں سب مرد اور عورتیں اس شام کے حساب سے خوبصورت ملبوسات میں ملبوس دنیا کی سب سے بڑی نیلامی کی تقریب میں موجود تھے بڑے بڑے بزنس مین اور سیاستدان کے ساتھ شاہی خاندانوں کے بڑے بڑے لوگ لیونیراوڈو دا ونسی( Leonardo da Vinci)
کے آرٹ کی تخلیق کی دنیا کی دوسری مہنگی پینٹنگ کی نیلامی ہونے جا رہی تھی اور دنیا کے خرب پتی اور ارب پتی لوگ
بے چینی سے اس نیلامی کے شروع ہونے کا انتظار کر رہے تھے
لیو نیراوڈو ر دا ونسی کے آرٹ کی بہترین تخلیق میں سے ایک تھی جسے Salvator Mundi کے نام سے جانا جاتا تھا اور اس وقت اسکا مالک “بدر بن عبدا ﷲ بن السعود” تھا جو کہ سعودی عرب کا کلچر منسڑ اور شاہی خاندان سے تھا۔ اسنے اٹلی
کے Doge’s Place میں اس نیلامی کی تقریب کا انعقاد کیا تھا۔
اتنے میں پیلس کے مین گیٹ پر نیوی بلیو رنگ کی
Mercedes Maybach Exelero
آ کر رکی تھی۔اور اسکے پیچھے اسکے گارڈز کی گاڑیوں بھی موجود تھی ایک گارڈ نے آ کر گاڑی کا ڈور اوپن کیا۔
جس میں سے تقریباً پینتیس برس کا جوان آنکھوں پر بلیک گلاسز لگائے باہر نکلا تھا جو اس وقت آف وائٹ برانڈڈ فور پیس میں ملبوس تھا ہاتھوں میں مہنگی ترین گھڑی پہنے پیروں میں براؤن لیدر کے شوز پہنے بالوں کو نفاست سے جیل سے سیٹ کیے
وہ پیلس کے مین دروزے کی طرف بڑھا جہاں ریڈ کارپٹ بچھا ہوا تھا۔اندر داخل ہوتے ہی ایک انگریز لڑکی جو یونیفارم میں پہنے سب کے انیوٹیشن کارڈ کو سکین کرتے انہیں ویلکم کر رہی تھی۔
Welcome Sir please Show me your Invitation card…!
وہ لڑکی مسکراتے ہوئے بولی تو اسنے اپنے کوٹ کی پاکٹ سے اپنا انیوٹیشن کارڈ نکال کر اس لڑکی کو دیا جو وہ ڈیوائس پر سکین کرتے چیک کرنے لگی ڈیوائس سے اپروول ہونے کے بعد اس لڑکی کے انیوٹیشن واپس کیا۔
Thanks Goldy Sir Her The way you can go and
Have a good day…!
وہ لڑکی ہاتھ کے اشارہ سے اسے راستہ بتاتے مسکراتے ہوئے دوسرے مہمانوں کی طرف متوجہ ہو گئی۔
اسنے اندر داخل ہوتے اپنی شارپ نگاہوں سے چارو طرف کا جائزہ لیا سکیورٹی کا ہائی انتظام کیا گیا تھا۔
جب وہی کی انتظامیہ لڑکی نے اسے چہرے پر لگانے کے لیے ماسک کی ٹرے پکڑے ماسک آفر کیا۔
No Grazie
(نہیں شکریہ)
وہ اٹالین زبان میں بولتے شکریا ادا کرتے آگے بڑھنے لگا تو وہاں پاس کھڑے پچاس برس افریقن آدمی نے اسے روکا۔
آپکو یہ ٹرائے کرنے چاہیے دیکھیں کتنے خوبصورت ہیں اس افریقن حبشی آدمی نے اسے فرینڈلی لگانے کا کہا یقیناً وہ بھی کوئی بزنس مین تھا جو اس نیلامی میں آیا تھا۔
نہیں شکریا میں ایسے ہی ٹھیک ہوں وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔
تو وہ افریقن حبشی آدمی اسے دیکھ کر مسکرایا جیسے اسے بہت اچھے طریقے سے جانتا ہو ۔۔۔۔
ہال میں سب کیسا لگ رہا ہے وہ آگے بڑھتے وہ اپنے کان میں لگے ائیر پیس میں ہال میں موجود بڑے بڑے بزنس مین اور سیاستدانوں کو دیکھتے بولا ان میں کہی لوگ شاہی گھرانوں سے بھی موجود تھے۔
بہت رئیسوں والی فیلنگ آ رہی ہے ایک خوبصورت نسوانی آواز گولڈی نے اپنے ائیر پیس میں سنی جو یقیناً ایما کی تھی
وہ لیڈیز تھری پیس سوٹ میں ملبوس تھی وہاں موجود کئی لوگ اسے مڑ مڑ کر دیکھتے وہ ایک خوبصورت بلونڈ بالوں کے ساتھ سبز آنکھوں والی خوبصورت لڑکی تھی اور کوبرا کی ٹیم کا حصہ تھی لیکن کوبرا کی ٹیم کا حصہ ہونا وجہ اسکی خوبصورتی نہیں بلکہ اسکی کام میں قابلیت کے ساتھ مہارت تھی۔
اتنے میں بدر بن عبدا ﷲ السعود بھی وہاں آ گیا تو سب لوگ کرسیوں پر بیٹھ گئے اور نیلامی کی تقریب کا آغاز ہوا۔
اور ایک ہوسٹ سٹیج پر آ کر وہاں موجود ڈائیس پر کھڑی ہوئی…!!!!
میں ہو اپ کی ہوسٹ ایما۔۔۔۔۔
جی تو لیڈیز اینڈ جینٹل مین آپکے آنے کا بہت شکریہ جیسے کہ آپ سب جانتے ہیں آپکو یہاں صدی کی سب سے شاندار پینٹنگ کی نیلامی کے لیے مدعو کیا گیا دیکھتے ہیں کون قسمت والا ہوگا جو اسے حاصل کرے گا لیکن باقی سب دیدار کر سکتے ہیں اس شاہکار کا وہ اپنے ہاتھ سے سامنے موجود لال کپڑے ڈھکی ہوئی پینٹنگ کی طرف اشارہ کرتے بولا اور وہ لال کپڑا پینٹنگ سے ہٹا دیا گیا پینٹنگ ایک ڈیجیٹل تجوری میں موجود تھی جسکے لاک کو ان لاک کرنے کے تین مراحل تھی پہلا مرحلہ صرف اسکے مالک کے چہرے کو سکین کرتی تھی پھر دوسرے مرحلے میں اسکی مخصوص آواز کے کوڈ سے اور تیسرا مرحلہ اسکے فنگر پرنٹس سے کھلتی تھی پینٹنگ کو دیکھتے سب لوگ تعریف کرتے تالیاں بجانے لگے۔جی تو باقاعدہ نیلامی کا آغاز کرتے ہیں۔
کیوں نا پچاس پانچ کروڑ سے شروع کیا جائے وہ ہوسٹ پینٹنگ کی طرف اشارہ کرتے بولا
ٹائیگر پوزیشن پر پہنچ گئے وہ سامنے موجود پینٹنگ کو اپنی شارپ نگاہوں سے دیکھتے بولا جسے وہ جیسے شکاری اپنے شکار کو دیکھتا ہے۔
ہاں میں پہنچ گیا ہوں کوبرا اور سکارپیو کے قریب لوکیشن لے رہا ہوں وہ جیٹ بوٹ میں موجود سامنے ٹاور پر موجود اپنے سنائیپر ساتھی کو دیکھتے بولا جو دور بین کی مدد سے آس پاس کا جائزہ لے رہا تھا
تو پھر آج انہیں ڈی گینگ کا کمال دکھا دیتے ہیں وہ سامنے موجود پینٹنگ کو دیکھتے ہوئے بولا۔
برو تجھے یاد ہے نا اپنی شرط اگر یہ پینٹنگ تو نا لے پایا تو تیری وہ
بلیک لگژری یاٹ میری ہوگی سکارپیو کی آواز ائیر پیس سے گونجی۔
دنیا کا ایسے کوئی کام نہیں ہے جو کوبرا نا کر سکے تم لوگ پارٹی کی تیاری کرو کیوں کہ آج یہ پینٹنگ تو ہم حاصل کر کے رہیں گے وہ سائیڈ سمائل پاس کیے بولا تو دوسری طرف سے ٹائیگر اور سکارپیو کا قہقہہ اسکے ائیر پیس میں گونجا۔
بالکل پیلس کے سامنے موجود بلڈنگ میں سی۔آئی۔اے کی ساری ٹیم موجود تھی جو کیمروں کی مدد سے اس تقریب پر نظر رکھے ہوئے تھی انہیں مخبری کی گئی تھی کہ آج یہاں دنیا کی
دوسری مہنگی ترین پینٹنگ گولڈی چورانے والا ہے اس لیے وہ پوری ٹیم اپنی انسپکٹر ریچل کے ساتھ وہاں موجود سب لوگوں پر نظر رکھ رہی تھی وہ کتنے مہینوں سے گولڈی کو پکڑنے کی کوشش کر رہے تھے مگر وہ تھا کہ قابو آنے سے پہلے فرار ہو جاتا تھا۔
ذرا اس آدمی پر زوم کرنا انسپکٹر ریچل کمپیوٹر پر بیٹھے اپنے ٹیم میمبر کو دیکھتے بولی تو اسنے زوم کیا۔
مطلب خبر پکی تھی وہ گولڈی کے چہرے کو کمپیوٹر سکرین پر دیکھتے دانت پیستے بولی۔
Sono un agente di polizia, Rachel, dell’Unità Culturale Haritage, sei qui?
میں پولیس آفیسر ریچل ہوں کلچر ہیری ٹیج یونٹ سے کیا تم لوگ وہاں موجود ہو وہ کان میں لگے ائیر پیس میں بولی۔
تو نیلامی کی تقریب میں موجود پولیس والے جو عام کپڑوں میں ملبوس تھے انہیں نے اوکے بولا۔
آج دیکھتی ہوں گولڈی تم کیسے میرے ہاتھوں سے بچ کر جاتے ہو وہ غصے سے گولڈی کے چہرے کو سکرین پر دیکھتے ہوئے بولی۔
آج کی شام کے سب سے خاص مہمان کا بھر پور تالیوں میں سے استقبال کریں جو نا صرف سعودی عرب کے کلچر منسڑ ہیں بلکہ اس شاہکار کے مالک بھی ہیں وہ ہوسٹ بدر بن عبدا ﷲ السعود کو سٹیج میں آنے کی دعوت دیتے ہوئے بولا تو سب نے تالیاں بجاتے اس سعودی منسٹر کا استقبال کیا۔
جی تو قیمت لگانا شروع کرتے ہیں ایما پینٹنگ کی طرف دیکھتے بولا۔
تو وہاں موجود ایک آدمی اپنا ہاتھ اٹھاتے مائک میں پانچ ملین بولا۔
جی تو جرمنی سے پانچ ملین ایما بولی تو وہاں موجود دوسرے آدمی نے ہاتھ اٹھاتے بیس ملین بولا۔
جی تو آسڑیلیا سے بیس ملین ایما پھر سے بولی
پولیس والوں کی نظر گولڈی پر تھی جو ان آدمیوں کو بولی لگاتے دیکھ رہا جو کہ پچاس ملین تک پہنچ گئی تھی۔