Skip to content

Talash e hayat by Qalmi Complete novel

  • by

ٹی وی میں اماں کی حویلی تھی جو پوری طرح سے جل کر راکھ ہوچکی تھی اور مرنے والوں میں بہت سے لوگوں کے ساتھ اس کا بھی نام تھا۔ اپنا نام سنتے ہی اسے ایک دھچکا لگا۔ اس نے کرسی سے اٹھنے کی کوشش کی تو اس کے ہاتھ پاؤں کرسی کے ساتھ بندھے تھے۔ اس نے زور لگاتے خود کو چھڑوانے کی کوشش کی اور جب وہ ناکام ہو گیا تو اپنے آس پاس نظر دوراتا زخمی سا غرایا،

کون ہو تم اور کیا چاہتے۔۔۔۔۔

اپنے آس پاس کا منظر دیکھتے ہی باقی کے لفظ اس کے منہ میں ہی رہ گئے اور وہ اپنے آس پاس کے منظر کو دیکھتا آنکھیں جھنپکانے لگا۔ جیسے اسے یقین نا ہوں کہ جو وہ دیکھ رہا ہے اس کے سامنے وہی سب ہے یا سب اس کی آنکھوں کا دھوکا ہے مگر افسوس یہ سب سچ تھا۔ وہ اپنی سن ہوتی رگو کے ساتھ اس منظر میں ہی کہیں کھوگیا۔

Mr and Mrs Beast by Mariam Fayyaz Complete Novel

مسٹر اینڈ مسز بییسٹ کی کہانی: محبت، حسد اور انتقام کی پیچیدگیوں کا حیرت انگیز سفر

مسٹر اینڈ مسز بییسٹ کی کہانی ایک دلکش اور جذباتی سفر ہے جو محبت، حسد، انتقام اور خاندانی رشتوں کے پیچیدہ رنگوں کو بہترین انداز میں پیش کرتی ہے۔ اس کہانی کی ہر لمحے کی موڑ اور ہر کردار کی گہرائی آپ کو اپنے دل کی گہرائیوں میں لے جاتی ہے۔

پہلا مرحلہ شمس پیلس کے گرد گھومتا ہے، جو اپنی عظمت کے ساتھ ایک سنگین راز دفن کیے ہوئے ہے۔ یہ محل اینٹوں اور پتھروں کی عمارت سے زیادہ ہے، اس کی رودیوار میں چھپے ان کہے قصے وقت کے ساتھ اور بھی پراسرار ہوتے گئے۔ انوشے شمس خان کی محبت اور المناک موت کا راز اس کہانی کی بنیاد بنتا ہے، جس کی موت کے بعد اس کی سوتیلی بہن نے ایک سفاک روپ دھار لیا۔

دوسرا مرحلہ کارابے مینشن اور سلطان حویلی کے گرد گھومتا ہے۔ باران کارابے کا کردار اس کہانی میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے، جس کا سفر نفرت سے محبت تک ایک آئینہ ہے، جس میں ایک مرد کی اصل پہچان واضح ہوتی ہے۔ وہ مرد جو عورت کی عزت کرنا جانتا ہو، جو محبت کو صرف جذبات تک محدود نہ رکھے، بلکہ اسے اپنے کردار سے ثابت کرے۔

کہانی کا مرکزی خیال ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حسد اور لالچ پورے خاندانوں کو برباد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ رشتے خون کے تعلقات سے نہیں، بلکہ دلوں کی قربت سے قائم ہوتے ہیں، اور اصل محبت وہی ہوتی ہے جو سچائی اور ایثار پر مبنی ہو۔ یہ داستان پڑھنے والوں کو ہر لمحہ ایک نئے موڑ پر حیران کرتی ہے اور سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ اصل طاقت محبت میں ہے یا نفرت میں؟

مسٹر اینڈ مسز بییسٹ کی کہانی محض ایک داستان نہیں، بلکہ جذبات، رشتوں، محبت، حسد اور انتقام کی پیچیدہ گرہوں کو کھولنے کی ایک کوشش ہے۔ یہ کہانی آپ کو اپنے دل کی گہرائیوں میں لے جاتی ہے اور آپ کو یہ سکھاتی ہے کہ اصل محبت وہی ہوتی ہے جو سچائی اور ایثار پر مبنی ہو۔

Qais fiza by Aleena Mughal Complete novel

  • by

کچھ رشتوں کا تعلق دل کی گہرائیوں سے ہوتا ہے اور کچھ کا روح کی گہرائیوں سے کچھ ریشتے ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہماری زندگی میں بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں جن سے ہماری کوئی دلی وابستگی نہ ہو پھر بھی وہ ہمیں اچھے لگتے ہیں ….

ہر رشتے اپنے اپنے احساسات رکھتے ہیں ….

اور ان رشتوں میں سب سے زیادہ خوبصورت رشتہ محبت کا ہے خوبصورت احساساتوں کا رشتہ یہ ہمیں ان سے ہی ہوتا ہے جو ہمارے دل کے بہت قریب ہوں …

محبت کا مل جانا دنیا میں جنت جیسا ہے تو بچھڑ جانا دوزخ سے بھی برا کیوں کے اس میں محبت کرنے والا ان دیکھی اگ میں جلتےہیں اس کی جلن صرف وہی محسوس کر سکتے ہیں جو اس میں جل رہے ہوتے ہیں…

Allah ke waste by Umaima Shafeeq Qureshi Complete novel edited Season 1

  • by

“ملک سے باہر جا رہے ہو؟”اس کے قریب آتے

چند انچ کا فاصلہ رکھے وہ مسکرائی تھی۔اسے اپنے اتنے قریب دیکھتے شایان کو اب سانس بھی مشکل ہی آئی تھی۔

“ہاں!لیکن تم یہاں۔۔۔!”

“ہاں میں یہاں۔۔۔!”مزید قریب ہوتے اپنی انگلی

اس کے دل کے مقام پر رکھے عنادل آج اسے

چاروں خانے چت کر گئی تھی۔

“کون سے ملک جا رہے ہو؟”دو قدم دور ہوتے ہاتھ باندھے عنادل نے لبوں پر دل فریب مسکراہٹ

بکھیرے خوشدلی سے پوچھا تھا،جبکہ آنکھوں میں ہنوز شرارت تھی۔

“لندن۔۔۔!”شایان کے چہرے کا رنگ بالکل فق تھا۔

“کب کی فلائٹ ہے؟”آنکھوں کو معصومیت سے

گھماۓ ایک اور سوال پوچھا گیا تھا۔

“آج رات کی۔۔۔!”عنادل یہاں کیوں آئی تھی اور

ان سب سوالات کا مقصد۔۔۔؟

“ہممم۔۔۔!”عنادل نے سمجھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا تھا۔

“لیکن تم۔۔۔!”

“چٹاخ۔۔۔!”

معمول کے طابق آج شایان کو پھر اپنی متاع جان کا محبت بھرا تمانچہ پڑا تھا۔وہ بیچارا ابھی شاک کی کیفیت میں ہی تھا کہ

عنادل نے ایکدم ہی غصے سے آگے بڑھ اس کا

گریبان پکڑا تھا۔

“کیوں۔۔۔؟وہاں تمہاری بیوی رہتی ہے یا بچے۔۔۔؟جن کے پاس جانے کے لیے تم اتنے بےتاب ہو

رہے ہو۔۔۔؟”

“عنادل میں۔۔۔!”

“کیا میں۔۔۔ہاں کیا میں۔۔۔جب تمہاری

بیوی پاکستان

میں ہے تو تم لندن کیا کرنے جا رہے ہو؟بولو۔۔۔!”وہ رو دی تھی۔

“دل۔۔۔!”شایان نے اس کی آنکھ سے گرتے موتیوں

کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے چنا تھا۔

“پلیز مت رو۔۔۔!”اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں

کے پیالے میں بھرتے شایان نے التجا کی تھی۔

“تمہیں کیا فرق پڑتا ہے،تم تو جا رہے ہو نا مجھے

چھوڑ کر۔۔۔!”اس کی گہری آنکھوں میں دیکھے اس نے معصومیت سے شکوہ کیا تھا۔

“تم نے خود ہی تو کہا تھا کہ چلے جاو۔”

“میں نے کہا اور تم نے مان لیا۔”اسے پیچھے کی

طرف دھکیلتے وہ اب شکوے پر شکوہ کر

رہی تھی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

“ہائے مجھے اتنی خوشی ہو رہی ہے کہ میرے پاس تو الفاظ ہی نہیں ہیں۔”عنایہ

نے آکسائیڈ ہوتے ہوۓ کہا تھا۔وہ دونوں

اس وقت کافی پینے کیفٹیریا آئے تھے۔

“مجھے بھی۔۔۔!”ارمان بھی مسکرایا تھا۔

“اب اگلا نمبر ہمارا ہے۔”ٹھوڑی پر ہاتھ جمائے عنایہ نے ارمان پر محبت بھری نگاہ ڈالی تھی۔

“ہائے۔۔۔!”وہ بھی آکسائیڈ ہوا تھا۔شایان اور

عنادل کی شادی سے وہ دونوں ہی بہت

خوش تھے۔

“مجھے تو بہت حیرت ہو رہی ہے کہ میری بہن

کی شادی آپ کے دوست سے ہو رہی ہے۔”

“مجھے بھی۔۔۔!”وہ دونوں ہی ہر چیز سے بے خبر

تھے۔

“ویسے رشتہ کب بھیجوں۔۔۔؟”عنایہ کے بغیر

رہنا اب اس کے لیے بہت مشکل ہو چکا تھا۔

“ابھی ان دونوں کی شادی تو ہونے دیں،اور ویسے

بھی میری کچھ شرائط ہیں۔”

“کیسی شرائط۔۔۔؟”اس کا ماتھا ٹھنکا تھا۔

“میں آپ سے اسی شرط پر شادی کروں گی

جب آپ مجھے ساری اسائمنٹس بنا کر دیں

گے اور مجھے ہمیشہ ہر ٹیسٹ اور پیپر میں فل

مارکس دیں گے۔”

“What…?”

وہ تقریبا چیخ اٹھا تھا۔

“آپ اپنے پروفیسر سے اسائمنٹس بنوائیں گئی؟”وہ جیسے یقین کرنا چاہتا تھا۔

“اگر ان محترم پروفیسر صاحب کو مجھ سے

شادی کرنی ہے تو یہ تو کرنا ہی پڑے گا۔”معصومیت سے آنکھیں مٹکاۓ وہ ارمان کو بہت بڑا جھٹکا دے گئی تھی۔

“یہ زیادتی ہے۔”ارمان نے دبا دبا سا احتجاج کیا تھا۔

“جو بھی ہے۔۔۔!”عنایہ نے لاپروائی سے شانے اچکائے تھے جس پر ارمان نے نفی میں سر ہلایا تھا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تم نے میرے لیے کوئی ویڈنگ گفٹ تو نہیں لیا نا۔۔۔؟” شہادت کی انگلی کو اپنے دانتوں تلے

دبائے وہ اضطراب سے گویا ہوئی تھی۔

“اگر تم نے ابھی تک نہیں لیا نا تو مت لینا۔۔۔!”

“کیوں۔۔۔؟”ماتھے پر شکنیں ابھری تھیں۔

“گفٹ مجھے اپنی مرضی کا چاہئے۔”وہ ایکدم

ہی ریلیکس ہوا تھا۔

“وہ تو تم لے لینا مگر ویڈنگ گفٹ تو

میں اپنی مرضی سے دوں گا۔”

“نہیں!میرا مطلب ہے کہ میں نے

ہمیشہ سے یہ

سوچا ہوا تھا کہ جب بھی میری شادی ہو گی

تو میں شادی کی پہلی رات اپنے شوہر سے یہی

تحفہ مانگوں گی۔”وہ اب بھی مضطرب تھی۔

“اچھا!تو کیا چاہیے میری جان کو۔۔۔؟”

“جو مانگوں گی دو گے؟”ایک لمحے میں شایان کی مسکراہٹ سمٹی تھی۔وہ کہنا چاہتا تھا کہ

آخر میرے پاس ہے ہی کیا؟

“ہممم۔۔۔۔!”مگر وہ بس اتنا ہی کہہ سکا تھا۔

“کیا تم کل رات شادی کے تحفے کے طور پر مجھے

سورت محمد سنا سکتے ہو،میرا مطلب ہے میری ہمیشہ

سے یہی خواہش تھی کہ میرا شوہر جو بھی

ہو میں اس سے یہی فرمائش کروں گی کہ وہ

مجھے ایک سورت حفظ کر کے سنائے۔میں جانتی

ہو یہ بہت مشکل ہے مجھے تمہیں پہلے بتانا

چاہیے تھا مگر تم فکر مت کرو تم جتنی آیات

باآسانی یاد کر سکو کر لینا نہیں تو دیکھ کر پڑھ دینا۔”عنادل کی اس لمبی تمہید پر وہ مسکرا

دیا تھا۔وہ خاص تھی بہت خاص تو اس کی

فرمائش کیسے عام ہو سکتی تھی؟

Wabal e ishq by Saira Ramzan Complete novel

  • by

آپ پھر آگئے۔۔۔۔
میں ایف آئی آر درج کروانے آیا ہوں ۔۔۔تو آپ مجھ سے عزت سے پیش آئے۔۔۔
مہروش نے بڑے غور سے اس کے چہرے پر دیکھا ۔
وہ بلکل سیریس بیٹھا تھا ۔
جی لکھوائیے۔۔۔۔۔کس کے خلاف لکھوانی ہے۔۔۔۔
مہروش نے دانت پیستے کہا۔
اپنی بیوی کے خلاف۔۔۔۔۔۔۔۔
مہروش نے اپنی ہنسی کو ضبط کیا ۔
کیوں لکھوانی ہے اپنی بیگم کے خلاف۔
وہ میرے ساتھ ہنی مون پر نہیں جا رہی۔
کیونکہ وہ کام میں بزی ہے اسی لئے۔۔۔۔۔
پھر وہ ہنس پڑی۔
اچھا میری بات سنیں ۔۔۔۔ مہروش کے کہنے پر وہ اسکی جانب متوجہ ہو گیا۔
مہروش نے ایک چیک نکال کر اس کے سامنے رکھا ۔
زوار نے دیکھا تو وہ 90 کروڑ کا کیش تھا۔
زوار نے گردن اوپر کر کے دیکھا ۔
زوار اگر تم چاہتے ہو ہماری زندگی پرسکون گزرے تو تمہیں یہ رقم رکھنی ہوگی۔۔۔پلیز۔۔۔۔۔
مہروش۔۔۔۔ہم اس رقم سے ایک یونیورسٹی بنوا لیتے ہیں۔۔۔۔۔ ہر طالبعلم مفت تعلیم حاصل کرے گا۔۔۔۔۔۔ہم دونوں مل کر اس یونیورسٹی کو چلائے گے۔