Skip to content

Mere charagar by Aqsa Tehreem Complete novel

  • by

تم ہو ونی میں آئی ہوئی لڑکی ۔۔ وہ کڑوے سے لہجے میں بولیں ۔۔

ج ۔ جی ۔۔ اس نے مجرموں کی طرح سر جھکا کر کہا ۔۔۔

پھر جانتی بھی ہو گی کہ ونی میں آئی ہوئی لڑکی کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے ۔۔ وہ چبا چبا کر اس کو گھورتی ہوئی بولیں ۔۔۔

جی جانتی ہوں سب ۔۔۔ اس نے ہولے سے کہا تھا ۔۔ عابدہ بیگم نے اس کو بغور دیکھا ۔۔۔

چلو یہ تو اچھی بات ہے ۔۔ ہمیں تم پے محنت نہیں کرنی پڑے گی ۔۔۔ اب اس حویلی کا سارا کام تم کرو گی ۔۔۔ حویلی کی ساری صاف صفائی سے لے کر کچن کے تمام معاملات تم سنبھالو گی ۔۔۔ اور مجھے کوئی کوتاہی ملی تو یاد رکھنا ۔۔ تمھارا وہ حشر ہو گا کہ تمھاری سات پشتیں بھی یاد رکھیں گی ۔۔۔ آخر میں ان کا لہجہ پتھریلا تھا ۔۔ وہ خاموشی سے سر جھکا گئی ۔۔۔

جی ٹھیک ہے ۔۔ اس نے ہر حکم پے سر جھکایا تھا ۔۔۔ عابدہ بیگم نے ایک ملازمہ کو آواز دی ۔۔

اس لڑکی کو لے جاؤ اور ساری حویلی دیکھا کر سارے کام سمجھا دو ۔۔۔ مجھے کوئی شکایت ملی تو اس لڑکی کے ساتھ تمہیں بھی بھون ڈالوں گی ۔۔ وہ بگڑے تیور لیے بولیں تھیں ۔۔ سمن خاموشی سے اس ملازمہ کے ساتھ چل دی ۔۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Kahani ab bhi baqi hai Qurrat Ul Ain Qaisrani Complete novel

  • by

….یہ کیا ڈرامہ چل رہا ہے …..اسغر نے کہا ……

کونساڈرامہ …..اسغر بھائ …

وہ تینوں شریف ہونے کی ایکٹگ کرتے صدیوں کے معصوم لگ رہے تھے… پھر چاروں نے دوڑ لگائ اور آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل…..

حمزہ تو نے تو کہا تھا……اسغر نے بے یقینی کے ساتھ اسے دیکھا…..جو اعتراف محبت تو کر چکا تھا مگر قسمت نے الٹا وار کر کے ساری بازی ہی پلٹ دی….

مزاق نہیں کر رہا تھا میں یار ….وہ صبح مان گئ تھی…….تجھے پتہ تو ہے میرا..

نہیں یار تو ایسے معاملے میں مزاق کر بھی نہیں سکتا میں جانتا ہوں …..میری آنکھوں میں دیکھ کے بول …. دیکھ بھائ یہ زندگی کا معاملہ ہے کوی عام بات نہیں ہے ….نظریں کیوں چرا رہا ہے تومجھ سے دیکھ ادھر …کیا کرنے والا ہے تو…

….تو نے کہا تھا بات کرے گا …..تو اسے مناے گا …..اور اب تو کیا کسے گا…..

اگر تو مزاق کر بھی رہا تھا تو یار محبت تجھے مزاق لگتی ہے ……وہ حمزہ کا بیسٹ فرینڈ تھا حمزہ اپنی دل کی ہر بات اسغر سے شیعر کرتا جب جب کہ بلال احمد اور زالے سے …….

ہاں میں نہیں مزاق کر رہا تھا بھائ تجھے سمجھ کیوں نہیں آتا میں مزاق نہیں کر رہا تھا …..وہ مزید ضبط نہ کرسکا تو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا…..(ایک تو ہر وقت لڑکیوں کی طرح رو دیتا ہے یہ اسغر نے دل میں کہا)

کیسے ….بھای …کیسے رخصت کردوں اسے اپنی آنکھوں کے سامنے ….کیسے وہ خواب توڑ دوں کیسے….. وہ رو رہا تھا ہچکیوں میں ایک چھوٹے بچے کی طرح اسغر کے گلے لگ کے….

رو لے میرے بھائ رو لے ….من کا بوجھ ہلکا ہو جاے گا……. صبح جب بھائ نے کہا تھا کہ میں اپنا دل چھوڑ کے جارہا ہوں تو مجھے لگا وہ زالے کی بات کر رہیں ہیں….

لیکن کچھ بھی ہو جاے میری شادی تو عائشہ سے ہی ہوگی…. وہ آنسوں صاف کرتا اٹھ کھڑا ہوا…..

اور زالے…….. اسغر نے پوچھا

تجھے ڈر لگ رہا ہے وہ بھی میں نہ لے لوں..

چل اوے چولیاں نہ مار میری ہے وہ یاد رکھیں ورنہ یہ جو تیرا روتو چہرا ہے نہ اسے توڑ دینا ہے میں نے

تجھے پتا ہے عائشہ سے وعدہ لے چکا ہوں کہ وہ مجھ سے شادی کرے گی اور ہاں وہ مجھ سے بھی وعدہ لے گئ ہے کہ میں زالے سے شادی کروں گا..

نہ کر بول جھوٹ ہے اور تونے کر لیا سچ بتا… اسغر کے کان کھڑے ہوگے ماحول منٹوں میں بدلہ رونے کی جگہ ہنسی لے گی وقت نے پاسہ پلٹا

ہاں اور کیا کرنا تھا میں نے…

نہ کر حمزہ آج میرے ہاتھوں تیرا قتل ہوجانا ہے …اسغر نے چڑ کر کہا

چل پہلے میرا ساتھ دے میں تیرے ساتھ ہوں …حمزہ نے ہاتھ آگے کیا

پکا نہ ….اسغر نے اس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھتے ہوے دوبارہ یقین دہانی چاہی اسے معلوم تھا زالے اس کی پھپھی زاد ہے

نہیں میرا اور تیرا مزاق ہے …حمزہ نے اس کے بال بگاڑے

ایسے ہی ہنستا رہا کر …پھر پتا نہیں نصیب میں ہنسنا لکھا ہو کہ نہ …اسغر نے کہا

بندے کا منہ اچھا نہ ہو تو بات ہی اچھی کر لیتا ہے …..حمزہ نے کہا

Mere bakht ki siyahi by Aqsa Tehreem Complete novel

  • by

جاؤ یہاں سے ۔۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔ زین کو اس کے لفظوں پے اور دکھ ہوا ۔۔

ایسے کیسے چلا جاؤں روشنال ۔۔ یہ کس طرح کا سلوک کر رہی ہو میرے ساتھ ۔۔ مجھے تکلیف ہو رہی ہے ۔۔ اس کی آواز میں نمی آنے لگی تھی ۔۔ وہ رخ موڑ گئی ۔۔۔ اس کی آنکھوں میں مرچیں لگنے لگیں تھیں ۔۔۔

روشنال میں اس طرح نہیں جاؤں گا ۔۔ کوئی وجہ تو ہو اس طرح کے سلوک کی ۔۔ ہمارے بیچ تو کوئی لڑائی کوئی جھگڑا نہیں ہوا ۔۔ پھر اس طرح سے منہ موڑ کر کیوں کھڑی ہو ۔۔ وہ اس کے لہجے سے ٹوٹ کر بولا ۔۔ روشنال ابراہیم سے اس نے دل کی گہرائیوں سے محبت کی تھی ۔۔۔ اس کا اس طرح کا رویہ اسے دکھی کر گیا تھا ۔۔۔

یہ لو اپنی امانت اور میری جان چھوڑ دو ۔۔ روشنال نے اچانک مڑ کر منگنی کی انگوٹھی اس کی ہتھیلی پے رکھ دی تھی ۔۔۔ وہ ساکت رہ گیا ۔۔ انگوٹھی اس کی ہتھیلی میں کانپ کر رہ گئی تھی ۔۔ پھر اچانک وہ آتش فشاں کی طرح پھٹا تھا ۔۔

یہ کیا ہے روشنال ابراہیم ۔۔ وہ اس کو بازو پکڑ کر جھنجھوڑتا ہوا بولا تھا ۔۔۔ روشنال کو اس کی انگلیاں اپنے بازو میں دھنستی ہوئی محسوس ہوئی تھیں ۔۔

چھوڑو مجھے زین ۔۔ درد ہو رہا مجھے ۔۔۔ وہ اس کی مضبوط گرفت سے خود کو چھڑاتے ہوئے چیخ کر بولی ۔۔

اور جو تم نے مجھے ابھی تکلیف دی اس کا کیا روشنال ابراہیم ۔۔۔ اس نے جنونی انداز میں کیا تھا ۔۔ اس کی آنکھوں سے چنگاریاں نکل رہیں تھیں ۔۔۔

میں تم سے کوئی رشتہ نہیں رکھتا چاہتی ۔۔ اس لیے تم میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے ۔۔۔ وہ شیرنی کی طرح دھاڑی تھی ۔۔۔ زین کی گرفت نرم پڑی تھی ۔۔۔ اس کے بے رحم لفظوں سے وہ ڈھے گیا تھا ۔۔

کیوں ۔۔ آخر کیوں نہیں رکھنا چاہتی کوئی رشتہ کوئی وجہ تو ہو ۔۔ وہ بےبسی سے بولا تھا ۔۔ روشنال اس کی گرفت سے آزاد ہو چکی تھی ۔۔۔

کیونکہ میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں ۔۔۔ اس سے شادی کرنا چاہتی ہوں ۔۔ روشنال ابراہیم نے دل پے پتھر رکھ کے اپنے دل سے محبت کو نوچ ڈالا تھا ۔۔ زین کے قدم لڑکھڑا گئے ۔۔

Abroo by Anila Sheikh Complete novel

  • by

دیکھیں آپ کی بہن نے ہمارے ٹرسٹی پر ہاتھ اٹھایا ہے یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے ۔

لیکن ٹرسٹی نے میری بہن کے ساتھ بد تمیزی کی تھی جب ہی اس نے ہاتھ اٹھایا ورنہ اسے کیا ضرورت پڑی ہے ، اصغر پرنسپل سے غصے میں بولا ۔

مسٹر اصغر پہلے تو آپ کی بہن نے ہمارے ٹرسٹی کے ساتھ بد تمیزی کی اور اب آپ مجھ سے بد تمیزی کر رہے ہیں ، پرنسپل بھی چلایا ۔

انسان کی شخصیت بتاتی ہے اسے عزت دینی ہے یا نہیں ۔

تو آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ میں یعنی کالج کا پرنسپل اور ہمارے ٹرسٹی عزت کے قابل نہیں ہیں ؟ پرنسپل کے چہرے کے تاثرات بدلے تھے ۔

میں نے ایسا نہیں کہا لیکن آپ کو ایسا لگ رہا تو میں اس بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتا ۔

مسٹر اصغر آپ نے بہت بڑی بات کہی ہے اب نتیجے کے لیے تیار رہیے گا ، پرنسپل نے دھمکی آمیز الفاظ کہے ۔

کیا کرینگے میری بہن کو کالج سے نکال دینگے اسکا پیپر کینسل کروا دینگے ، آپ لوگ اور کر بھی کیا سکتے ہیں ؟

مسٹر اصغر یہ تو آپ کو وقت آنے پر پتا چلے گا ۔

مسٹر پرنسپل یہ آپ کو بھی وقت آنے پر ہی پتا چلے گا کہ کون کیا کر سکتا ہے ، اسغر نے پرنسپل کے ٹیبل پر زور سے ہاتھ مارتے ہوئے کھڑا ہوا ۔

گیٹ آؤٹ آف مائی آفس ۔

ابھی جا رہا ہوں بہت جلد آونگا پھر کہیں آپ کو اس آفس سے جانا نہ پڑ جائے ۔

جائیے جائیے بہت دیکھے ہیں آپ جیسے ۔یقیناً مجھ جیسے بہت دیکھے ہونگے لیکن اب جسے دیکھو گے تو پھر اپنی سیٹ پر بیٹھنا مشکل ہو جائے گا یہ میرا چیلینج ہے ،

Khud ko tum pe haar dia by Aqsa Tehreem Complete novel

  • by

فاتح مجھے معلوم ہو گیا ہے محبت زبردستی حاصل نہیں کی جا سکتی دل پہ کسی کا زور نہیں چلتا دیر سے ہی سہی مگر مجھے پتہ لگ چکا ہے اس لیے میں آپ پہ زبردستی مسلط ہونے کی کوشش نہیں کروں گی ۔۔ بس آپ سے ایک التجا ہے آپ بے شک مجھے محبت نہ دیں مگر مجھ سے میری محبت نہ چھینے ورنہ میں مر جاؤں گی ۔۔۔ کہتے ساتھ وہ بلک بلک کر رو دی ۔۔ غم کی شدت سے فاتح کی آنکھیں بھی بہنیں لگیں تھیں وہ بھی بکھر رہا تھا گڑیا کو اس حال میں دیکھ کے ۔۔ مگر اس میں اتنی ہمت اتنی طاقت نہیں تھی کہ اٹھ کر اس کے بکھرے وجود کو سمیٹ سکے ۔۔ اسے دلاسا دے سکے تسلی دے سکے ۔۔ اس کی محبت نے فاتح کو بھی جلا کے راکھ کر دیا تھا ۔۔

حوریہ ۔۔ بے اختیار فاتح کے لبوں سے یہ لفظ ادا ہوا تھا وہ اچانک ساکت ہوئی تھی پہلی بار فاتح نے اس کو اس کے نام سے پکارا تھا اس نے اپنی بھیگی پلکیں اٹھا کر فاتحہ کی جانب دیکھا تھا ۔۔

میرے دل میں اپنی محبت ڈال کر خود کہاں جا رہی ہو ۔۔ فاتح کے لفظوں سے گڑیا نے بے یقینی سے اس کی جانب دیکھا ۔۔

بتاؤ کہاں جا رہی ہو اپنے فاتح کو چھوڑ کر۔۔ تم رہ لو گی اس کے بغیر ۔۔ مگر تمہارا فاتح تمہارے بغیر نہیں رہ پائے گا ۔۔ فاتح کی آنکھ سے ایک آنسو گرا تھا ۔۔ وہ تو جیسے پتھر ہو گئی تھی ۔۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Ishq kamil by Sidra Ansari Complete novel

  • by

آپ کا موبائل میرے پاس رہے گا۔۔۔۔۔

جب تک آپ یہاں ہیں آپ یہ فون استعمال کر سکتی ہیں ۔۔۔اس میں صرف میرا نمبر ہے۔۔۔

کچھ بھی چاہیے ہو تو مجھے بتائیے گا۔۔۔میں حاضر ہو جاؤں گا ۔۔۔

پر آپ میرے لئے یہ سب کیوں کر رہے ہیں ۔۔۔رومان احمد کی طرف دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محبت کے ہاتھوں انسان بہت مجبور ہو جاتا ہے۔۔۔میرے لئے سب سے پہلے میری ڈیوٹی ہونی چاہیے ۔۔۔

لیکن میں ڈیوٹی کی بجائے یہاں بیٹھا ہوں ۔۔۔کیونکہ میں مجبور ہوں ۔۔۔

میرے لئے سب سے پہلے آپ ہیں ۔۔۔۔احمد اپنی بات مکمل کرتا رومان پر اک نظر ڈال کر باہر نکل گیا ۔۔۔

اور رومان ہکا بکا سی اسے جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔۔۔

ثمام آپ اتنی جلدی آ گئے ۔۔۔؟؟

مجھے لگا کھانا کھا کر آئیں گے۔۔۔۔۔

طہور اسے کمرے میں آتے دیکھ کر بولی۔۔۔نہیں طہور میں کھانا ہمیشہ گھر سے ہی کھاتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔

ٹھیک ہے پھر میں فاتحہ کو کہتی ہوں کہ آپ کے لئے بھی لے آئے ۔۔۔

طہور کہتی ہوئی اٹھی۔۔۔کیا مطلب ۔۔۔؟؟ فاتحہ کو کیوں کہنا ہے۔۔۔؟؟

ثمام نا سمجھی سے اس کی طرف دیکھتا ہوا بولا۔۔۔۔تو کیا ہوا۔۔۔؟؟

اگر فاتحہ کھانا لے آئے گی تو۔۔۔پر طہور میری بیوی تم ہو۔۔۔۔ہاں ثمام۔۔۔۔

یہی تو میں آپ کو کہنا چاہ رہی ہوں ۔۔۔کہ میں آپ کی بیوی ہوں ۔۔۔۔

اس گھر کی نوکرانی نہیں ۔۔۔اور نا ہی مجھے کام کرنے کی عادت ہے۔۔۔

طہور غصے سے بولی۔۔۔اور ثمام اس کی بات پر فوراً پلٹا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا مطلب نوکر نہیں ہو۔۔۔؟؟ تم میری بیوی ہو۔۔۔میرے کام تم نہیں کرو گی۔۔۔

تو کیا نوکرانی کرے گی ۔۔۔؟؟ ثمام غصے سے دھاڑا ۔۔۔ہاں تو رکھ لیں نوکرانی ۔۔۔

مجھ سے نہیں ہوتے یہ کام۔۔۔۔تو ٹھیک ہے پھر شادی بھی نوکرانی سے کر لیتا ۔۔۔

ہاں تو کر لیتے ۔۔۔میری زندگی کیوں برباد کی پھر۔۔۔؟؟ پتا نہیں کیا سوچ کر ان جاہلوں میں شادی کر دی میری ماما نے۔۔۔اونہہہ۔۔۔۔

طہور منہ بناتی بولی ۔۔۔تبھی ثمام کا بھاری ہاتھ اس کے گال پر نشان چھوڑ گیا ۔۔۔

اپنی زبان پر قابو رکھو۔۔۔بھائی ۔۔۔یہ کیا کر رہے ہیں آپ۔۔۔۔؟؟ فاتحہ جو طہور کے لئے کھانا لے کر آئی تھی جلدی سے کھانا سائیڈ پر رکھتی ثمام کی طرف بڑھی۔۔۔

بھائی یہ کیا کر رہے ہیں آپ۔۔۔؟؟

بیوی ہے وہ آپ کی۔۔۔نہیں ہوں میں بیوی اس کی۔۔۔

مجھے نوکرانی سمجھ کر اس گھر میں لائے تھے ۔۔۔اب میں اک منٹ اور یہاں نہیں رہوں گی ۔۔۔۔۔۔۔

بھابھی پلیز بات تو سنیں ۔۔۔رات ہو چکی ہے۔۔۔آپ کیسے جائیں گی۔۔۔۔

صبح بات کر لیں گے۔۔۔اور ثمام غصے سے اک نظر طہور پر ڈالتا باہر نکل گیا ۔۔۔