Skip to content

Jahez afsana by Rushna Akhter

  • by

۔ کاش دور جدید کے اپ ٹو ڈیٹ مسلمان نے دین کو صحیح معنوں میں سمجھا ہوتا ۔ ہم مسلمان ہونے کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر صرف کہنے کی حد تک ۔ جب بانی شریعت نے اپنی پیاری بیٹی کو جہیز میں ضرورت کے سامان کے ساتھ رخصت کیا تو ہم امتیوں پر ان کی سنت پر عمل کرنا واجب ہے ۔

Lahasil khawab novel by Palwisha Safi

  • by

خضدار کے شہر میں واقع چھوٹے سے گورنمنٹ گرلز کالج کے سامنے کھڑے رکشے میں ٹانگ اٹھا کر بیٹھے ٹیپو استاد خباثت سے اس انجان نمبر کو سیف کرتے پوری بتیسی نکال رہا تھا۔

“کیا دیکھ رہا ہے استاد۔۔۔۔ جو اتنے دانت نکل رہیں ہیں۔۔۔۔” ٹیپو استاد کے بغل میں کھڑا شانو موبائل کے اندر جھانکا۔

“کوئی نئی تتلی پھنسی ہے شانو۔۔۔۔ اافففف کیا آواز تھی۔۔۔۔ بالکل ملائی جیسے۔۔۔۔۔ ” ٹیپو استاد درندگی سے زمروش کی آواز کو یاد کرتے لب کاٹنے لگا۔

اس کی یہ حرکت دیکھ کر شانو نے بھی سرد آہ بھرتے سر پر ہاتھ پھیرا تھا۔

“آواز اتنی ملائم ہے تو خود کتنی نرم ہوگی۔۔۔ اسسسس۔۔۔۔۔” ایک اور جملہ کسا گیا۔

“پھر کب مل رہے ہو استاد۔۔۔۔۔” شانو نے حسرتی انداز میں ہنکھارا بھری۔

“پہلے پٹانے تو دے۔۔۔۔ ابھی ابھی تو نمبر ہاتھ لگا ہے۔۔۔۔” کمینگی سے آنکھ مار کر اشارہ کرتے ہنس دیا۔

کالج کی چھٹی ہوئی تو شانو اپنے رکشے کے جانب آیا اور دونوں سواری کا انتظار کرنے لگیں۔

ٹیپو استاد بظاہر تو ایک گیراج کا مالک اور فارغ اوقات میں رکشہ ڈرائیور تھا۔ مگر چوری چھپے اس کے کئی غیر قانونی دھندے کرنے والے لوگوں سے روابط تھے۔ وہ رکشہ ڈرائیوری کے آڑ میں اسمگلنگ اور منشیات کی خرید و فروخت میں بڑا ہاتھ رکھتا تھا۔ بیشتر اوقات وہ قانون سے بچ جاتا مگر کبھی پکڑا بھی جاتا تو بالائے جات سے فوراً چھڑوا لیا جاتا۔ جس سے اس کی عیاشی اور بے فکری برقرار رہتی تھی۔

Jam e mohabbat by Maleeha Shah Complete novel

  • by

کدھر رہ گئ یہ لڑکی وہ غصے سے ٹہل رہییں تھیں۔بھاگ گئ ہوگی شائستہ بولی۔ہممم لگتی تو ایسے ہی ہے کہ کبھی کسی ٹائم بھی بھاگ جائے گئ۔ارے ماں فکر کیوں کرتی ہو اچھا ہے نا چلی گئ ہمارے سر سے مصیبت ٹلی یہ بولنے والا حسیب تھا۔وہاں بیٹھا ہر شخص اس کے لئے زہر اگل رہا تھا یہ جانے بغیر کہ وہ کس مصیبت میں پھس گئ دروازے کی بیل بجی۔جاؤ دیکھ کے آؤ حسیب کون ہے دروازہ کھولا تو سامنے ہی وہ کھڑی تھی ارے کدھر رہ گئ تھی تم چچی جان بولیں تمہیں یہ پاس والی دکان سے دہی لینے بیجا تھا کس سے باتیں کرتی رہئ ہو باہر نہیں چچی جان وہ میرے پیچھے کچھ لوگ لگ گۓ تھے وہ رونے لگی۔بند کرو اپنا یہ ناٹک ضرور کسی کے ساتھ باہر لگی ہوگی اب بہانے دیکھو اسکے شائستہ نے اور زہر اگلا۔

وہ اس کو ادھر اکیلا چھوڑ کر اندر چلے گۓ اور وہ سونے کے لئے اپنے کمرے میں چلی گئ۔اس کا کمرہ کم اور وہ سٹور زیادہ لگتا تھا جہاں ایک پرانا سنگل بیڈتھا جو اس کودیا گیا تھا بس ایک سنگل بیڈ رکھنے کی ہی جگہ تھی اس کے کمرے میں۔وہ اکر اپنے کمرے میں بیٹھ گئ وہ کافی ڈری ہوئ تھی جو اس کے ساتھ ہوا اسے لےکے۔شکریہ اللہ جی آج آپ نے مجھے بچا لیا۔

پتا نہیں میری زندگی کبھی بدلے گی یا نہیں وہ سوچتے سوچتے سو گئ۔

*****************

Dil wafa ki saltanat short novel by Anisha Nawaz

  • by

میرا ناول لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو اس بات سے آگاہ کیا جائے کہ غلط فہمیوں کا شکار نہ بنیں بلکہ بات کو کلئیر کریں۔ چھوٹی سی غلط فہمی کی وجہ سے آپ کبھی کبھار انمول چیزیں یا لوگ کھو دیتے ہیں۔ دوسری طرف ہمارے معاشرے میں بھی یہ بات عام ہے اکثر گھروں میں چھوٹی سے چھوٹی غلط فہمی کی بنا پر ہم اپنے اہم اور انمول رشتے اور ان کا اعتماد کھو بیٹھتے ہیں ۔ اس لیے کبھی بھی خود سے بات گھڑنے کی بجائے دوسرے سے پوچھیں چاہے وہ آپکے دوست ہوں، استاد ہوں ، والدین یا کوئی بھی رشتہ سب اہم ہیں!

(مصنفہ :انیشہ نواز)

**************

Rut badalny wali hai afsana by Rushna Akhter

  • by

تم یہاں کیا لینے آۓ ہو بلونگڑے وہ چاۓ کا مگ ہاتھ میں لیے ہوئے تھی

آف کو رس چاۓ اور لینے تو میں بہت کچھ آیا ہوں اگر کوئی لے جانے دے تو ۔

وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بولا تو علیزے زرا جھینپ سی گئی اور اسے انگلی سے اشارہ کرتے ہوۓ بولی

دیکھو بلال میں نے ابا سے تمہاری شکایت کر دینی ہے۔

لیکن میں نے ماموں سے یہ مانگ لینی ہے وہ اپنی انگلی سے اسکی انگلی کو ہللکے سے مروڑتے ہوۓ بولا

شکل دیکھی ہے اپنی وہ بہت کچھ سمجھتے ہوۓ بولی

ان شاءاللہ یہ شکل ہر روز دیکھو گی۔ وہ ذرا شوخ ہوا ۔ علیزے نے اسے دھکا دینے والے انداز میں باہر کی طرف دھکیلا

“چاۓ پیو اور گھر کا رستہ ناپو”

Falaq afsana by Ameer Hamza Rajpoot

  • by

“میرا وجود گناہوں کی زد میں ہے۔ میرا ایک ایک خلیہ برائی کی نظر ہو چکا ہے۔میں خطاؤں کا مجسمہ بن چکی ہوں۔ پر۔۔ تو۔۔۔ تو رحمان ہے ۔تیری رحمتوں کا چرچہ تو دونوں جہاں میں ہے۔ تو رحیم ہے ۔۔۔اے اللہ۔۔۔۔۔ تو بخش دے۔۔ تو رحیم ہے تو بخش دے ۔”اس کے الفاظ اب دم توڑ رہے تھے۔ انکھوں کا منظر دھندلا ہو رہا تھا ۔جب کہ بدن درد سے ٹوٹ رہا تھا۔ اچانک ہر طرف اندھیراچھا گیا۔ کسی گہرے راز کی طرح یا اس کی خوبصورت سیاہ زلفوں کی طرح ۔

وہ ہسپتال کے کشادہ کمرے میں بیڈ پر لیٹی تھی اس کے بازو سے خون بہہ رہا تھا۔ ایک ڈاکٹر اس کی سرہانے کھڑا اس کا معائنہ کر رہا تھا ۔ چند لمحے تک س کی بینڈیج کر دی گئی۔ پھر ڈاکٹر کمرے سے باہر نکل ۔وہ سیاہ شلوار قمیض زیب تن کیے پریشانی کی حالت میں دائیں بائیں چکر کاٹ رہا تھا ۔ڈاکٹر کو دیکھ کر وہ فورا رک گیا اور ڈاکٹر کی طرف بڑھا ۔