Skip to content

Zamhareer by Ammarah Hussain Complete novel

  • by

’’رکیں ۔۔!! ‘‘ وہ ایک دم کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔

وہ جو، اب ہاتھ میں فون تھامے اس پر کچھ دیکھ رہا تھا اس کی جانب متوجہ ہوا۔ فون والا ہاتھ اب بھی ویسے ہی تھا بس گردن اس کی جانب گھمائی تھی۔

’’آپ نے مجھے میرے دادا کے بارے میں نہیں بتا یا۔۔مجھے پوچھنا تھا کہ انہیں۔۔۔‘‘

’’آپ میرے سوالات کے ٹھیک جوابات نہیں دے رہیں ، میں آپ کو کچھ نہیں بتاسکتا، ‘‘ سنجیدگی سے کہ کر وہ اب فون میں کچھ ٹائپ کرنے لگا۔

’’ آپ اور کیا جاننا چاہتے ہیں ۔۔میں نے آپ کو جواب دے دئے ہیں ۔‘‘ وہ کھڑے کھڑے ہار مان جانے والے انداز میں بولی ۔ اب وہ اس کی جانب آیا ۔ اور ٹیبل سے ڈائیری اٹھالی ،

’’ ابھی جو آپ کو درد محسوس ہوا ۔۔وہ اس ڈائیری کی وجہ سے ہے کہ نہیں ۔ ۔۔ ؟؟ ‘‘ لہجہ اٹل تھا ، گہری آنکھیں اس کی آنکھوں پر جمی تھی ۔ وہ کچھ لمحے اس کی آنکھوں میں دیکھے گئی ، پھر اچانک سے نظریں اس کی ہاتھ میں ڈائیری پر جمائی ۔ اب وہ دوبارہ کبھی اوپر نہیں دیکھنا چاہتی تھی ۔ اس نے خشک لبوں پر زبان پھیری ۔

’’ نہیں یہ جادوئی نہیں ہے ۔۔‘‘ نفی میں سر ہلاتے اس نے ڈائری پر ہی نظریں مرکوز رکھیں ۔ ایک ہاتھ کندھے سے لٹکتے بیگ پر تھمائے ۔ دوسرے ہاتھ کی مٹھی میں اس نے اپنا کوٹ بھینچ سا ڈالا۔ دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ اسے جلد از جلد یہ گفتگو ختم کرنی تھی ۔اسے وہ شخص بہت برا لگ رہا تھا ۔سخت برا ۔۔۔زہر کی طرح ۔

’’ہوں ٹھیک ہے ۔۔ ‘‘ اب کی بار وہ مسکرایا اور ڈائیری اپنی جیب میں ڈال دی ۔

’’ کچھ اور دیکھا ہے آپ نے ۔۔جو جادوئی نہ ہو ۔۔‘‘ پریسہ کی آنکھیں اس جملے پر بے ساختہ اوپر کو اٹھی ۔ وہ خاموش رہی ۔ کچھ بول نہ پائی ۔ (یہ شخص ضرور کچھ جانتا تھا)

’’ آپ کے دادا کو میں نے اس ہوٹل کے کلب میں کسی سے بات کرتے سنا تھا۔ ایک شخص انہیں دھمکی دے رہا تھا۔‘‘ اس نے اس کے تاریک ہوتے چہرے کو دیکھا۔

’’کیسی دھمکی ۔۔۔؟؟‘‘ وہ فورا بولی ۔

’’ کہ انہوں نے کاٹیج کیوں بیچ دیا ۔۔۔شائد وہ شخص اسے لینا چاہتا تھا۔ ۔‘‘

’’کیا آپ نے وہ دھمکی سنی تھی ۔۔کیسی دھمکی تھی کیا جان لینے کی ۔۔۔؟؟ ‘‘

داؤد سلطان کے کانوں میں وہ دھمکی گونجی ، ( دو دن کے اندر اندر اس لڑکے سے کاٹیج لو اور میرے حوالے کردو ، منہ مانگی رقم مل جائے گی۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہوا تو تم زمین کھود ڈالوگے لیکن تمہیں پریسا کہیں نہیں دکھے گی۔ ۔۔‘‘)

’’ اگر وہ تم سے بہت قریب تھے تو ان کے لئے ۔۔جان لینے جیسی ہی تھی ۔ لیکن اس میں قتل کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ ۔‘‘ اس نے دیکھا ، کہ نمی اس لڑکی کی بڑی سیاہ آنکھوں میں اتری جسے اس نے پلکیں جھپک کر پیچھے دھکیلا۔ پھر اس کا چہرہ سرخ ہوا جیسے اور بھنوئیں تن سی گئی ۔

’’اس شخص کو جانتے ہیں آپ ، کیا عموما یہیں آتا جا تا ہے ۔۔‘‘

’’اگر جانتا تو کیا کرلیتیں آپ ۔۔‘‘ اس نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

’’وہی جو اس نے میرے دادا کے ساتھ کیا تھا۔۔!!‘‘ اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا ۔

اس نے کچھ لمحے اس کو دیکھا اور بولا ۔ ’’ لیکن میں نے اس شخص کو کہیں نہیں دیکھا۔

وہ کچھ دیر ویسے ہی کھڑی رہی ۔ ، کوئی آواز اس کے زہن میں گونجی ۔ ( اس شخص کو جھیل کے کنارے لے آنا ، جس کے پاس تمہاری ماں کی ڈائری ہے) ، وہ لب کاٹنے لگی ۔ بار بار بیگ کی سٹرپ ٹھیک کرتی ۔

’’ٹھیک ہے تو پھر میں آپ کا مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ شکریہ ۔ لئے دئے لہجے میں کہتا وہ پلٹنے لگا۔ نگاہیں اب پھر سے فون کی سکرین پر تھیں ۔ وہ اس کی پشت کو دیکھنے لگی ۔(نہیں وہ اس سے مدد نہیں لے سکتی ، یہ شخص مشکوک لگتا ہے ۔۔) ۔

(اگر تم سب کچھ جاننا چاہتی ہو تو اس شخص کو یہاں لے آنا) ۔ ۔اس نے ماتھے پر ہاتھ پھیرا۔ (کیا اسے اس سے مدد لینی چاہئے ؟؟ لیکن ایسا کیا ہے جو وہ شخص اس سے ملنا چاہتا ہے ) ۔ اس کا چہرہ مختلف جذبات کے زیر اثر تھا۔ وہ مسلسل لب کاٹ رہی تھی ۔باربار بیگ کو درست کرتی۔ پھر آخر کار اس نے فیصلہ کیا۔

’’رکیں ۔۔۔۔۔پلیز ‘‘ وہ ہال سے نکلنے ہی لگا تھا ، جب اس کی کھنکھتی آواز اس کے کانوں میں گونجی ۔

داؤد سلطان کے چلتے قدم عقب سے آتی اس کی آواز پر رکے ۔ عقب سے بھاگتے قدموں کی آواز آئی اور وہ اس کے مقابل آکھڑی ہوئی ۔

’’مجھے آپ کی مدد چاہئے ۔۔!!‘‘

’’کیسی مدد ۔۔۔؟؟ اس نے ابرو اچکائی۔ ’’میں آپ سے کچھ شیئر کرنا چاہتی ہوں ۔۔جو ۔۔۔میں نے خود اپنی آنکھوں سے ہوتے دیکھا ہے ۔ شائد آپ اس پر یقین کرلیں ۔۔کیونکہ کوئی اور نہیں کررہا ۔ ‘‘ اس نے انگلیاں مروڑتے ہوئے ایک جھوٹ گھڑا۔ وہ جانتی تھی اس بات پر اسے مدد مانگنے میں آسانی ہوسکتی ہے ۔

Jamay Hayat by SJ Writes Complete novel

  • by

انسان اگر خود پہ قابو پا لے تو اُسے خدا کے دربار میں کبھ شرمندہ نہیں ہونا پڑتا..اس ناول میں آپ دیکھیں کہ مصنفہ آپ سے کہنا کیا چاہتی تھی..اُس راز کو سمجھیں اور پہچانیں..اور جو پہچان جائے گا مجھے یقین ہے وہ اپنے راستے آسان کر لے گا…

About novel

جام حِیات ایک spiritual or psychological ناول ہے..جس میں گاؤں کا سردار سُلطان غازیان آدم سِکندر ہے جس کی ماں جادوئی علم کی ماہر تھی..اور اُس نے ایک ایسا جام تیار کیا..جو زندگی کو امر بنا دے..لیکن ہر اچھائی کے ساتھ ایک بُرائی بھی ہوتی ہے..وہ یہ جام حاصل کر کے اس دنیا پہ راج چاہتی تھی..جس کا علم سُلطان کی ماں کو ہو گیا تھا..مرنے سے پہلے وہ اُس جام کو ایسی جگہ رکھ گئ..جِسے سُلطان کے علاوہ کوئی چھو نہیں سکتا وہ بھی جب,جب وہ اٹھائیس سال کا ہو جائے گا..

اب پوری دنیا کی بُری طاقتیں اُس کے پیچھے ہے لیکن وہ اس کے بارے میں نہیں جانتا کیونکہ وہ دس سال کا تھا جب اُسکی ماں مری…اُسکی ماں کے ساتھ وہ بھی مر گئی تھی جس سے وہ بے انتہا محبت کرتا تھا..

سُطان ایک ایسا شخص ہے جو آپکو بتائے گا کہ دنیا سے جنت تک کا راستہ کیسے ممکن ہے..یہ گاؤں کا وہ سردار ہے جو حقیقی مومن ہے..جو نفس کو قابو میں رکھتا ہے..جو کالے علم کی دنیا میں رہ کے کالے علم سے بچتا ہے..یہ ناول آپکو کسی اور دنیا میں ہی لے جائے گا..یہ ناول ایک نفسیاتی علاج بھی ثابت ہو سکتا ہے اگر آپ اس میں لکھے گئے ہر لفظ کو غور و فکر سے پڑھے..

Aurat by KSA Complete novel

  • by

میں نے مسکرانے کے لیے نہیں کہا مجھے جواب چاہیے

اگر میں نے جواب دیا تو آپ کبھی سوال ہی نہیں کریں گی

تمیز سے بات کرو جانتی ہو میں کس کی بہن ہوں

اور تم بھی جانتی ہو میں کس کی بہن ہوں

یو (you)

ہاں پتا ہے پیاری ہوں اور وہاں سے اپنا سامان لیتی نکل گی جب منہا نے اپنی مٹھیاں بند کی تمہیں تو میں چھوڑوں گی نہیں

Talb e sukoon by Kashaf Qaisar Complete novel

  • by

ہر طرف ارمان ،ارمان ،ارمان کا شور تھا ۔۔۔۔۔..

دونوں اطراف میں لڑکے لڑکیوں کے ہجوم تھے اور انکے درمیان ۔۔ ارمان ملک اپنی روبدار پرسنلٹی لیے ۔۔بلیک جیکٹ بلیک جینز ۔۔اور بلیک ہی جاگرز پہنے ۔۔اپنی ہیوی بائک پر ۔۔۔گلوز اور سیفٹی ہیلمٹ پہنے اپنے چہرے کو چھپائے ہوئے بھی سب لڑکیوں کا دل دھڑکا رہا تھا ۔۔۔

ریس تھی ۔۔5 بائک رائیڈرز تھے جنکی ریس تھی ۔۔۔

اور ارمان ارحم ملک کبھی کسی سے ہارا نہیں تھا ۔۔اور ان لڑکوں نے اسے چیلنج کیا تھا ۔۔

اور ارمان لووز چیلنجز ۔۔۔۔۔۔۔۔

1،2،3 سٹارٹ ۔۔۔۔

ہرا جھنڈا لہرایا گیا جس پر ریس سٹارٹ ہوئی ۔۔۔

مگر یہ کیا سب آگے نکل گئے تھے اور ارمان وہیں پر رکا ہوا تھا ۔۔۔

سب پریشانی کے عالم میں ارمان کو دیکھ رہے تھے آخر کر کیا رہا تھا ۔۔۔تقریبن 1 کلو میٹر جب سب نکل گئے تو ارمان نے ریس لگائی ۔۔بائک آن کرتے فراٹے بھرتے بائک ہواؤں سے باتیں کرتی انکے مقابل آن پہنچی تھی ۔۔۔

Gardish e mah by Tooba Kiran Complete novel

  • by

“دیکھو میری! وہ لڑکی میرے نکاح میں ہے اور میں رشیا آنے کے بعد اسے طلاق دے دوں گا اس کے بعد اس کا معاملہ دیکھیں گے۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ تمہیں اتنی جلدی کیوں ہے؟” ہمایوں نے خفگی سے کہا۔
“سیریسلی ہمایوں؟ مجھے جلدی ہے یا تمہارے دل میں اس لڑکی کے لیے ہمدردی پیدا ہو گئی ہے؟”میری نے کہا تو ہمایوں نے ایک گہرا سانس لیا۔
“اس کا مجھ پر بےانتہا یقین مجھے اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ میں اس کے سامنے خود کو بہت کمزور سمجھتا ہوں۔ اس پر ظلم کرنا چاہتا ہوں مگر نہیں کر پاتا۔ اس کو تکلیف پہنچانا چاہتا ہوں مگر خود تکلیف سے دوچار ہو جاتا ہوں۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی میری کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔” ہمایوں نے ایک ہی سانس میں ساری بات کہہ ڈالی تو دوسری جانب کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی۔
“تمہارا دماغ خراب ہو چکا ہے ہمایوں۔مجھے تو یہ ڈر ہے کہ کہیں تم اس پر ترس کھا کر اسے رہا نہ کر دو۔” میری نے غصے سے کہا تو ہمایوں نے اپنے ہونٹ کچلے۔
“ایسا نہیں ہو گا۔بس میرا ضمیر غلط وقت پر بیدار ہو رہا ہے۔کچھ پڑھ کر پھونکو کہ یہ پھر سے سو جائے۔” ہمایوں نے اپنے سر پر پھیلے آسمان کو دیکھا جو لمحہ بہ لمحہ اپنے رنگ بدل رہا تھا۔
“اپنے ضمیر کو تم خود تھپکی دو اور جلدی سے یہاں آجاؤ۔۔۔۔۔اور ہاں اس لڑکی سے دور رہو۔ سمجھے؟” میری نے آخر میں سخت لہجے میں اسے وارن کیا۔

Zindagi ke dou chehray by Sawera Naz Muhammad Ayaz Complete novel

  • by

کاش یہ تهپڑ میں تجهے پہلے مار دیتا بدبخت تو نہ آج ماہل گمشدہ ہوتی اور نہ تیری ماں مرتی. تجهے ذرا سا بهی محسوس نہیں ہوا کہ تیرے ساتھ یہ سب عین اسی دن کیوں ہوا؟ تو نے بهی اس دن کسی کی بیٹی، کسی کی بہن اس سے چهین لی تو تیرے ساتھ یہ ہونا تو طے تها. بدبخت یہ تیرا مکافات عمل ہے. اب بهی وقت ہے سدهر جا. ماں تو تیری رہی نہیں شاید بہن رہ جائے. تجهہ سے بڑا کم بخت تو میں ہوں جو میں نے تجهہ جیسے انسان کی تربیت کی. میری شہ پہ ہی تو نے اتنا بڑا کالک میرے منہ پہ ملا ہے. میں نے تجهے شہ دے کر ناصرف تجهہ سے زیادتی کی بلکہ خود سی بهی زیادتی کر بیٹها نتیجہ آج میں سب سے زیادہ خسارے میں ہوں. وڈیرہ صاحب کی بات پہ روزان نے شرمندگی سے سر جهکا لیا. اس کے آنسو مسلسل بہہ رہے تهے شاید اب اس نے خود کو ضمیر کی عدالت میں کهڑا محسوس کیا.

وڈیرہ صاحب اب صلہ سے مخاطب تهے انہوں نے اس کے آگے ہاتھ جوڑے :

معافی چاہتا ہوں میں بچے. انسان پہ جب تک خود نہیں گزرتی تب تک وہ سنهبلتا نہیں. بات میری بیٹی پہ آئی تو جیسے میری جان پہ بن گئی اور میں تڑپ اٹها. تمہارا باپ بهی تڑپا ہوگا مگر یہ بدبخت بہرہ بن کر ان کی بے بسی کا تماشہ دیکهتا رہا. دیکهو وقت نے کیسا پلٹا کھایا کہ آج اس کا پورا خاندان تماشہ بن چکا ہے. ہماری لاکھ کوششوں اور کئی اثر و رسوخ کے باوجود ماہل کو ہم ڈهونڈ نہ پائے. خدا جانے اسے زمین کها گئی یا آسمان نگل گیا. کسی کو کچھ خبر نہیں. تمہارے باپ کو کم از کم یہ تو معلوم ہے کہ اس کی بیٹی کو کون اٹھا کر لے گا جبکہ میں بدنصیب اپنی بیٹی کا مجرم کسی کو نہیں ٹہرا سکتا کیونکہ میں نے ماہل کو کسی کے ساتھ جاتے نہیں دیکھا شاید میں خود ہی مجرم ہوں. جو باپ اپنی اولاد کی ٹهیک طرح سے تربیت نہ کر سکے اس کے ساتھ ایسا ہونا تو بجا ہے. میں اور روزان طاقت کے نشے میں غرق یہ بات بهول گئے تھے کہ سب سے عظیم طاقت تو رب العالمین کی ہے. اس پاک اور برتر ذات کے آگے ہم جیسے ادنیٰ مخلوق کی کہاں چلتی ہے. دیکهو کیسا انصاف کیا رب کریم نے. تم یقیناً ان کی محبوب بندی ہو گی تبهی تو تمہیں نقصان پہنچانے والوں کی پکڑ فوراً ہوگئی. بچے ہو سکے تو مجھ مجبور باپ کو معاف کر دینا. تم چاہو تو میں تمہیں اس بدبخت سے آزادی دلا سکتا ہوں. وڈیرہ صاحب کی آواز بهرائی ہوئی تهی وہ رو رہے تهے

. *************

Siyah Nagri by Areeba Azam Complete novel

  • by

سیاہ نگری کہانی ہے ایسے کردار کی جو پراسرار ہے۔ کائنات کے چھپے رازوں کو تلاش کرنے کی۔ ایسے میں کیا ہوگا اس کا مقدر؟

کامیاب ہوگا یا پھر ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ تو وقت بتائے گا۔

Koh noor afsana by Maha Khan Bhittani

  • by

‘ بابا اپ کیوں چلے گئے بابا دیکھے اپ کی زینی کتنی تھک چکی ھے ھمیں اپ کی ضرورت ھے بابا ‘ تصور میں باپ کو مخاطب کرکے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی

‘دیکھے ہم کتنے اکیلے ھیں کوئی نہیں ھے ھمارا اپ کی زینی ٹوٹ چکی ہے اللہ نے اپ کو ھم سے کیوں لے لیا کیوں بابا ہمارے پاس اور تھا ہی کیا’

Khudi afsana by Rida Maryam

  • by

مجھے کچھ نہیں سمجھ آرہی ۔ میں میں میں۔ کچھ بھی نہیں۔ آج میری میں نے مجھے زمین کے اوپر ہوتے ہوئے بھی زمین سے اندر اندر کہیں دھنس دیا ہے۔ مجھے لگ رہا ہے کہ میری ہر اگلی سانس آخری ہے۔

آج میری “میں” نے ، میری محبت نے میری خود سے محبت نے مجھے دو کوڑی کا کردیا۔

میرا دل ڈوب رہا ہے اور میرا دماغ وہ تو پھٹنے کو ہے۔ میں کس کو پکاروں ۔ ابو کو ، امی کو ، لالہ کو، یا اللہ کو؟

میں زمین پر بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔ رو رو کر میری آنکھیں سوجھ چکی تھیں۔ گرم سیال اب تک آنکھوں سے رواں تھا۔ اور دماغ صرف ایک نقطے پر منجمد تھا۔