Skip to content

Muharar e dil short novel by Bint e Usman

  • by

کہانی ہے ایک ایسی لڑکی کی جو سیدھے راستے سے بھٹک گئی تھی۔جو اپنے ساتھ ظلم کر بیٹھی تھی۔جو اپنی صلاحیت کا انجانے میں غلط استعمال کر بیٹھی تھی۔کہانی ہے مہمل فاروقی کی جو گناہوں کی دلدل میں پھنسنے جا رہی تھی اگر اسے بروقت ہدایت نہ ملتی تو وہ مکمل طور پر اس دلدل میں دھنس جاتی جہاں سے واپسی شاید ہی ممکن ہو پاتی اس کے لیے۔

Dar e mohabbat se humkinar nahi by Aina Noor Complete novel

  • by

آپ دونوں ہر جگہ بن بلائے مہمان بن جایا کرو”۔

” اوہ موٹی تم چپ کرو تم سے کوئی بات کر رہا۔ایویں ہر معاملے میں ٹانگ نہ گھسایا کرو۔ بابا ہم بھی آپ کے ساتھ چلیں گے ” شاہ ویز بولا۔

“آپ کی ہمت بھی کیسی ہوئی مجھے موٹی کہنے کی، ایس پی کی بیٹی ہوں میں”۔

“اور میں کہاں سے موٹی لگتی ہوں اتنی پتلی تو ہوں میں” عاشی نے غصے سے کہا غصے سے عاشی کی چھوٹی سی ناک پھول گئی تھی۔

“میں بھی انہی کا بیٹا ہوں” شاہ ویز نے اس کی پھولی ناک دباتے ہوئےکہا۔

“اور تم پہلے موٹی ہی ہوتی تھی اب ڈائٹ ایکسرسائز کر کے پتلی ہوئی ہو ، تو خود کو زیادہ اوور سمارٹ نہ سمجھو اور اپنا یہ چھوٹا دماغ کم استعمال کیا کرو”۔

عاشی نے غصے سے شاہ ویز کا ہاتھ جھٹک دیا جس سے وہ اس کی ناک دبا رہا تھا۔

“میں تو پھر ڈائٹ ایکسرسائز کر کے پتلی ہو گئی ہوں۔ آپ بھی کچھ کھا پی کر اپنی صحت بناؤ۔ تھوڑی سی تیز ہوا چلے تو مجھے ڈر ہی لگا رہتا ہے کہ کہیں میرا بھائی اس ہوا سے اُڑ ہی نہ جائے، سڑا ہوا مینڈک نہ ہو تو” عاشی نے اس کی صحت پر چوٹ کی۔

“شاہ ویز اب تو تمہیں جم جوائن کر ہی لینی چاہئے” بالاج ہنستے ہوئے بولا۔

شاہ ویز نے بالاج کو غصے سے گھورا جس کا بالاج پر کوئی اثر نہ ہوا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Aks e batan by Rashk e Falak Complete novel

  • by

“ہم لوگ کیوں بھول جاتے ہیں کہ گمشدہ لوگ واپس ملتے ہیں بچھڑے ہوئے لوگ نہیں اور کبھی کبھار تو یہ جانتے ہوئے بھی ہم تلاش جاری رکھتے ہیں ایک امید کا دیا دل میں جلائے رکھتے ہیں ہماری آنکھیں ان کی تلاش میں رہتی ہیں مگر یہ تو بہت پہلے تہ ہو گیا ہوتا ہے اب وہ ہمیں نہیں مل سکتے”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جانے والوں کو تو کوئی بھی نہیں بلا سکتا چاہے وہ دوست ہو یا دشمن لیکن ان کے لیے تو ان کی بیٹی تھی ،ان کی بہن تھی ،خوشیاں تھیں، روشنی تھی وہ کیسے اسے بھول جاتے لیکن جانے والے کے ساتھ جایا نہیں جاتا انہوں نے اس کو اللہ کا فیصلہ قبول کر کے اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کی کوشش کی تھی بے شک ان کے گھر ویرانیاں تھی بہت عرصے سے کوئی کھلکھلایا نہ تھا کھلکھلاتا بھی کیسے جو وجہ تھی کھلکھلانے کی وہ چلی گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Lali aur bulbul afsana by Uqba Ahmed

  • by

مون سون اپنی رخصتی پر ہے، بہت سے غم تازہ ہوئے اور بہت سی کثافتیں دل پر سے بہہ گئیں۔ آج آسمان خوب برسا جیسے کہہ رہا ہو کہ سب بہا دو اس پانی کے ساتھ ہر غم، تکلیف، رنج، الم، درد، اور کسی کی یاد (پر یہ اب نہ ہو پائے).

کبھی بادل وار برس سائیں

میرا سینہ گیا ترس سائیں

میں توبہ تائب دیوانہ

کیا آباد کروں گا ویرانہ

میری بس سائیں،،

میری بس سائیں،، (منقول)

“بلبل” میری طرح کافی خود کو سنبھال چکی ہے پر دل کے کونے کھدرے میں ابھی بھی ہر شام دھواں اٹھتا ہے اور پھر خود کو جھڑکنے کے باوجود کوچۂ جاناں میں جھانک لیا جاتا ہے۔

Chamakta hua chand by Areeba Awais Complete novel

  • by

ویسے بابا کے ساتھ آج تمہیں بھی لاہور کی فیکٹری کے وزٹ پہ جانا چاہئے تھا۔ شہرام نے بہت گہری نگاہوں سے اس کا جائزہ لیتے ہوئے کہا،جو بلیک تری پیس میں بال جیل سے ایک طرف کو جمائے خاصا ڈیسنٹ لگ رہا تھا۔

اس کی بات پر نوفل بغیر اسے دیکھے مسکرایا۔

شہرام نے دیکھا مسکراتے ہوتے اس کی آنکھیں یک دم چمکی تھیں۔

جانا تو چاہتا تھا پر،ہائے یہ ظالم سماج۔ نوفل نے ٹھنڈی سانس بھری۔

شرم کرو میرے منہ پر ہی میرے والدِ محترم کو ظالم سماج کہہ رھے ہو۔ اسے یاد آیا صبح رحمت عالم صاحب نے اسے شہرام کے ساتھ میٹنگ اٹینڈ کرنے کا کہا تھا۔ اس نے مسکراہٹ دباتے بظاہر شکائتی نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا

ارے آپ کے والدِ محترم کو کون ظالم سماج کہہ رہا ھے میں تو اپنے تایا حضور کو کہہ رہا تھا۔

اس نے کچھ اس انداز میں کہا کہ شہرام نے باقاعدہ قہقہ لگایا۔

ویسے کیا واقع تم سیریس ہو؟کچھ توقف کے بعد وہ گویا ہوا۔

نوفل نے لیپ ٹاپ کو بند کیا۔ چہرے پہ یک دم ہی سنجیدگی کے تاثرات نمایاں ہوئے تھے۔

تم اب تک یہ اندازہ نہیں لگا پائے کہ میں سیریس ہوں یا نہیں۔ پیچھے کو ٹیک لگا کر کرسی کے ہتھوں پر دونوں بازوں جماتے ہوئے شہرام کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔

نہیں اندازہ تو مجھے ھے۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مگر، کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

مگر تم جانتے ہواچھی طرح کہ، برادری سے باہر شادی کرنا ہمارے خاندان کا رواج نہیں ھے، جبکہ تم یہ بھی جانتے ہو کے کہ برادری سے باہر پسند کی شادی پر طاہر چچا ابھی تک خاندان بدر ھیں۔ شہرام کے چہرے پر اس کے لئے تفکرات کی پرچھائی صاف دیکھی جا سکتی تھی۔

جانتا ہوں۔ نوفل نے ایک گہری سانس لبوں سے خارج کی۔

مگر میں طاہر چچا کی طرح چپ چاپ گھر چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔ میں اپنے حق کے لئے بولوں گا،پسند کی شادی قانوناً کوئی جرم نہیں ھے، نہ ذات برادری سے ہٹ کر شادی کرنا کوئی ایسا ایشو ھے، یہ آغا جان کے خود ساختہ بنائے ہوئے قانون ھیں،یہ نوفل احمد عالم پر لاگو نہیں ہوتے۔ نہ ہی میں ان کو ایسا کرنے دوں گا۔ وہ ٹھوس لہجے میں بولا۔

تو گویا ایک پر زور جنگ عظیم ہونا باقی ھے۔ شہرام نے موبائل اور وائلٹ اٹھا کر چئیر سے اٹھتے ہوئے کہا ۔

ایک کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہو سکتا ھے کہ تمہارا نظرے انتخاب بھی خاندان سے باہر کسی پر جا ٹھرے۔ نوفل بھی کرسی کھسکا کر اٹھتے ہوئے کچھ شوخ لہجے میں بولا۔

Wafa mamnooh thehri by Mala Shah Complete novel

  • by

“ہیلو میں نے دیکھا کے آپ ہیں تو سوچا کے سلام ہی کر لوں”اگر کوئی اور اس شخص کو دیکھتا تو یقین ہی نہ کر پاتا کے یہ وہی آہل ہے۔۔لڑکیوں سے دور بھاگنے والا آج خود ایک لڑکی کو مخاطب کر رہا تھا

“کر لیا سلام اب آپ جا سکتے ہیں”طور نے چہرے پر سخت تاثرات لئے ہوۓ کہا

“دراصل مجھے اس دن کے لئے سوری کہنا تھا”یہ کیا کسی کے سامنے نہ جھکنے والا آج کسی اور کی غلطی پر اپنے آپ کو جھکا گیا

“ہاہ!سوری بہت سے آپ جیسے لوگ دیکھے ہیں پہلے غلطی کرتے ہیں اور پھر معافی مانگنے آ جاتے ہیں یہ جانے بغیر کے ان کی ایک غلطی سے ایک لڑکی کی پوری زندگی برباد ہو سکتی ہے”طور کے لہجے میں سختی برقرار تھی

کسی کی ایک نہ سننے والا آج خاموشی سے یہ سب سن گیا تھا۔۔طور اٹھی اپنی بک بیگ میں ڈالی اور سائیڈ سے ہو کر گزرنے لگی کے آہل نے بےاختیار اس کی کلائی تھام لی طور بے اختیار پلٹی اور ایک تھپڑ اس کے منہ پر ماری آہل پھٹی پھٹی آنکھوں سے یہ منظر دیکھ اور سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا وہاں موجود لڑکے اور لڑکیاں اب ان کی جانب متوجہ ہو گئے تھے

“شرم نہیں آتی آپ کو یوں کسی کا ہاتھ پکڑتے ہوۓ پہلے معافی مانگتے ہیں اور پھر وہی بیہودہ حرکتیں کرتے ہیں۔۔ آپ جیسے مرد ہی ہوتے ہیں جو اپنے ملک اور معاشرے کو بدنام کرتے ہیں یوں کسی کا بھی بیچ راستے میں ہاتھ تھام لینا کہاں کی شرافت ہے یوں کرنے سے دوسروں کی نظروں میں تو آپ ہیرو بنے ہو گے لیکن میری نظر میں تمہاری کوئی حیثیت نہیں ہے۔۔کوئی بھی نہیں۔۔تم گھٹیا ہو یہ تو مجھے اسی دن پتا چل گیا تھا لیکن آج مجھے یقین بھی ہو گیا ہے”

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Ishq Pardaaz by Sabreen Farooqui Complete novel

  • by

“ایاز آپ فضول کی ضد لگائے بیٹھے ہیں۔”

فائقہ نے قدرے سختی سے کہا۔

“تمھیں کیوں یہ ضد فضول لگ رہی ہے؟”

اس نے قدرے خفگی سے کہا۔

“نکاح ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ملاقاتیں شروع کر دیں۔”

“میں نے ملاقاتوں کا نہیں ملاقات کا کہا ہے۔ نکاح والے دن اگر تم سیدھے منھ مجھ سے بات کر لیتی تو پھر میں یہ ضد بھی نہیں کرتا۔”

“نکاح والے دن نہیں کی تھی پر اب تو کر رہی ہوں ناں؟”

فائقہ کو اس کی منطق عجیب لگی۔

“پر مجھے روبرو تمھیں اپنے سامنے دیکھ کر بات کرنی ہے۔”

“لگتا ہے اب آپ نے پاکستانی ڈرامے بھی دیکھنا شروع کر دیا ہے۔”

شادی سے پہلے اس کے ڈائیلاگز سن کر فائقہ نے اسے بالی ووڈ فلمیں دیکھنے کا طعنہ دیا تھا اور اب اس کے لب وہ لہجے پر پاکستانی ڈرامے دیکھنے کا۔

اپنے جذبات کو دوسری مرتبہ اپنی محبوبہ کے ہاتھوں سے رندھتا دیکھ ایاز کو خود پر ترس آیا تھا۔

“بڑی نا شکری بیوی ملی ہے مجھے۔”

تاسف سے سر ہلاتے ایاز نے تبصرہ کیا۔

“بڑا بے صبرا شوہر ملا ہے مجھے۔”

فائقہ نے بھی منھ در منھ جواب دیا۔

Tabeer e khwab by Iqra Rajpoot Complete novel

  • by

ترجمہ:

”اللہ آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے اس کے نور کی مثال یوں جسے ایک طاق میں ایک چراغ (رکھا) ہو (وہ) چراغ (شیشے کے) ایک فانوس میں ہو (وہ)فانوس گویا موتی کی طرح ایک چمکتا ہوا تارا ہے وہ(چراغ) زیتون کے ایسے مبارک درخت کے تیل سےروشن کیا جاتا ہے جو نہ شرقی ہے نہ غربی قریب ہے کہ اس کا تیل اپنے آپ ہی روشن ہو جائے اگرچہ اسے آگ نہ بھی چھوئے یہ نور پر نور ہے اللہ جسے چاہتا ہے اپنے نور کی طرف رہنمائی فرماتا ہے اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے اور اللہ ہر شے کو خوب جاننے والا ہے۔“( آیت ٣٥)

وہ بہت انہماک سے آیت کا ترجمہ کر رہی تھی اس کی آواز اِس پر نور ماحول کو راحت بخش رہی تھی۔

حارث مبہو ت سا اُسے سن رہا تھا اس نے سورۃ مکمل کی تو حارث اس کے پاس چلا آیا۔

”ماشاءاللہ! واہ بھٸی میری بہن کی آواز تو بہت پُرکشش ہے ویسے ایک بات ہے تم بالکل اس خوبصورت ماحول کا حصہ لگ رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“

حارث نے اس سے کہا۔

جس پر وہ مسکرا دی۔

”بھائی ہم اللہ کا کلام پڑھتے ہیں تو ہماری آواز خود باخود پُرکشش اور پیاری ہو جاتی ہے یہ کلام ایسا ہے کہ کوئی سنے یا اِسے پڑھے دل کو سکون ہی بخشتا ہے۔۔۔“ اس نے کہا۔

٭٭٭

”نور دیکھ کون آیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ شازیہ بیگم نور کو دیکھ خوشی سے بولی تھی۔

شازیہ بیگم کی نظروں کے تعاقب میں جب اس شخص نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ فورا اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا۔

جبکہ نور اس شخص کو دیکھ اپنے جگہ ساکت ہوئی تھی۔

”دیکھ نور میں کہتی تھی نا حاشر آئے گا دیکھ میرا حاشر آگیا تیرا باپ آگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ شازیہ بیگم نے خوشی سے نم آواز میں کہا۔

جس پر سب کی ہی متفکر نظر نور پر ٹھہری تھی۔

جب کہ نور کی آنکھوں سے ایک موتی اس کے رخساروں سے لڑکھڑاتا ہوا زمین بوس ہوا تھا۔

حاشر صاحب نے نور کی طرف بڑھنا چاہا جب نور نے ہاتھ کھڑا کرتے وہیں روکا تھا جس پر انہوں نے بے بسی سے نور کو دیکھا اور نور کے چہرے پہ استہزائیہ مسکراہٹ آئی تھی۔

”دادی آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے صرف آپ کا بیٹا آیا ہے میرا باپ نہیں میں تو بہت سال پہلے یتیم ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ نور نے خود پر ضبط کیے سپاٹ لہجے میں کہا۔

نور کے الفاظ تھے یہ کھ نجڑ حاشر صاحب کا سینہ چیڑ گئے۔ جبکہ اس کی بات پر سب اپنی جگہ ٹھہر سے گئے تھے۔

نور ایک نظر سب کو دیکھتے اپنے کمرے کی طرف بڑی تھی جب اسفند نے اسے پکارا تھا۔

” نور !۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“

”اسفند نے ابھی کسی سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی مجھے کوئی ڈسٹرب نہ کرے پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Nikkah ki taqat by Hoorain Sikander Complete novel

  • by

” تمہیں ایک بات کتنی بار سمجھانی پڑے گی”

” کیا ہوا “

اس کے اچانک گویا ہونے پر وہ ڈر گئی اور پھر ہلکلاتے لہجے میں اس کی بات کی وجہ پوچھی

” کیا مطلب کیا ہوا تمہیں میں کتنی دفعہ سمجھا چکا ہوں کہ مجھے چھوٹا کان کہہ کے مت بلایا کرو اس کی اجازت تمہیں نہیں ہے میری ایک دفعہ کہی گئی بات کیوں سمجھ نہیں اتی “

وہ اس کی ناسمجھی پر غصے کی حالت میں اسے باور کروانے لگا

” وہ وہ داجی کے کہنے پر غلطی سے زبان سے ادا ہو گیا”

اسے کچھ دیر پہلے والی بات یاد اگئی تھی اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ وہ باسط خان سے بہت ڈرتی تھی ایک وہی تو تھا جس سے وہ ڈرتی تھی

“ائندہ سے یہ لفظ تو غلطی سے بھی تمہاری زبان سے ادا نہ ہوں تمہیں مجھے چھوٹے خان کہنے کی اجازت نہیں ہے”

وہ صرف وارننگ دیتے انداز میں کہتے پھر سے سامنے کی طرف متوجہ ہوا

“ویسے ایک بات پوچھوں “

وہ ڈرتے ڈرتے گویا بھی اس نے محض ہنکارہ بھرا نظریں ہنود سامنے تھیں

” اپ کو میرے چھوٹے کا کہنے سے مسئلہ کیا ہے “

درحقیقت وہ بھی تنگ ا گئی تھی کہ اسے ہمیشہ سے اسی بات پہ ڈانٹا تھا کہ عریج اسے غلطی سے بھی چھوٹا خان نہ بلائے اج بھی بڑی ہمت کر کے یہ سوال کیا تھا

” کیونکہ یہ نام میرے لیے بہت قیمتی ہے چونکہ یہ مجھے دادی کی جانب سے دیا گیا ہے اور مجھے یہ ہرگز گوارا نہیں کہ میری قیمتی چیزیں تم استعمال کرو اور تم مجھے میرے اس قیمتی نام سے مخاطب نہیں کر سکتی”

٭٭٭٭

تیرے بن اب نہ لیں گے ایک بھی دم

تجھے کتنا چاہنے لگے ہم

تیرے ساتھ ہو جائیں گے ختم

تجھے کتنا چاہنے لگے ہم

اس جگہ آ گئے چاہتیں اب میری

چھین لوں گا تمہیں ساری دنیا سے ہی

تیرے عشق پہ ہاں حق میرا ہی تو ہے

اففف اس کے یہ الفاظ ایک بار پھر عریج خان کا دل دھڑکا گئے تھے وہ ہمیشہ اپنی خانم کو ایک نئے طریقے سے اپنا آسیر کر لیتا تھا۔

کہہ دیا ہے یہ میں نے میرے رب سے بھی

جس راستے تو نہ ملے

اس پہ نہ ہو میرے قدم

تیرے بن اب نہ لیں گے ایک بھی دم

تجھے کتنا چاہنے لگے ہم

تیرے ساتھ ہو جائیں گے ختم

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Meri zindagi by Amna Arain Complete novel

  • by

احمد ہی نہیں ہو سکتا یہ کیسے کہہ سکتے ہیں میرا بچہ کوما میں چلا گیا ہے یہ کیا کہہ رہے ہیں اپ سن رہے ہیں نا ایسے کیسے ہو سکتا ہے اسیہ بیگم تب سے ہزیانی چلائی جا رہی تھی

احمد شاہ خود پریشان کھڑے ہوئے تھے ان کو خود کچھ سمجھ نہیں ا رہا تھا کہ ان کا جوان جہان بیٹا اس طرح ہاسپٹل میں بستر سے لگ کر پڑا ہوا ہے انہوں نے تو ابھی ارحم اور ارم کو بھی سنبھالنا تھا وہ کیسے سب کا سامنا کریں گے وہ کیسے اپنے بچوں کو بتائیں گے اگر تو عزلان کچھ ہو گیا وہ اگے سوچ بھی نہیں سکتے تھے وہ صرف اور صرف اپنے رب سے دعا کر سکتے تھے

ان کا شدت سے دل چاہ رہا تھا انسو بہانے کا لیکن وہ بظاہر اپنے اپ کو مضبوط بتا رہے تھے لیکن ان کا رب جانتا تھا کہ وہ اندر سے کس قدر ٹوٹ چکے ہیں

اخر کون باپ چاہے گا اپنے بیٹے کو اس حالت میں دیکھنا

ان کا بیٹا اج کتنا خوش تھا اپنے عشق کو پا کر وہ اپنی بارات لے جانے کے لیے کس قدر خوش تھا وہ وہی جانتے تھے انہوں نے اس کی انکھوں میں خوشی دیکھی تھی وہ اج سے پہلے کبھی اتنا خوش نہیں ہوا تھا جتنا اج ہو رہا تھا

یا اللہ پتہ نہیں میرے گھر کو کس کی نظر لگ گئی ہے احمد میں اپ کو بتا رہی ہوں اس م** لڑکی کی وجہ سے ہوا ہے وہ ابھی ہمارے گھر میں ائی نہیں کہ میرے بیٹے کو اس حال میں پہنچا دیا ہے اللہ غرق کرے اس کو میری بد دعا ہے اس سے وہ کبھی خوش نہ رہ سکے