Skip to content

Doodh wala by Saira Khan Complete novel

  • by

مجھے اندازہ نہیں تھا میری بیوی کے

دل میں میرے لیے اتنی محبت چھپی ہوئ ہے

میں تو سمجھتا تھا انتہائ مجبوری میں میرے ساتھ رہ رہی ہے ۔۔وو اس کے چہرے سے بال ہٹاتے اس کے روۓ روۓ چہرے کو

دیکھتے مبتسم ہو کر بولا ۔۔

یو نو نویرہ؟

بچپن سے میں نے جس سے بھی شدید محبت کی اور اس کے ساتھ ہمیشہ رہنے کی خواہش کی وو ہی مجھ سے دور ہو گۓ ۔۔پہلے بابا

پھر امو جان ۔اور اب تم ۔۔مجھے لگا آج نہیں تو کل تم مجھے چھوڑ کر اپنے گھر چلی جاؤ گی ۔ان کے بعد میں تمہیں خود سے دور ہوتا نہی دیکھ سکتا تھا

اس لیے میں نے سوچا میں خود ہی ہمت

کر کے تمہیں ابھی جانے دوں ۔۔

وو سر جھکاۓ ہونٹ کاٹتے زمین کو گھورتا بول رہا تھا۔۔

مگر پھر قسمت نے مجھے اولاد کی خوش خبری دے کر ایک اور آزمائش میں ڈال دیا۔

میں تو تمہیں خود سے دور کرنے کی ہمت

نہیں کر پا رہا تھا ہر پل یہ ہی کھٹکا رہتا

اگر تم نے واقعی پیپر پر سائن کر دیے تو

اگر تم واقع مجھے چھوڑ کر چلی گئ تو ۔۔

ہر پل یہ ہی سوچتا کاش ٹرین اور ہوٹل میں

ہماری ملاقات نا ہوتی۔۔تو ہم بھی آج نارمل

کپل کی طرح رہتے

وو مظبوط مرد اپنے دل کی کیفیت بیان کرتے

اس کے سامنے ٹوٹ رہا تھا ظبط کے باوجود

پلکیں نم ہو رہی تھی ۔

جبکہ نویرہ خود اسکے دل کی باتیں سن کر دکھی ہو رہی تھی ۔۔

اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے ریہان شاہ کا سر اوپر کیا

میں کبھی تمہیں چھوڑ کر نہیں جاؤنگی

Haey mera ishq mera dhoka short story by Mehr Kashif

  • by

سوچتا ہوں کہ وہ کتنے معصوم تھے ۔۔۔

کیا سے کیا ہو گئے دیکھتے دیکھتے۔۔۔۔

رمیز کا عشق دھوکہ تھا وہ دل و جان سے جب عشق کر بیٹھا تھا تو زندگی نے اسے ایسے مقام پے لا کے کھڑا کر دیا جہاں صرف ایک ایک لمحہ درد ناک ہوتا رمیز اپنی زندگی میں مست رہنے والا سلجھی طبیعت کا زیادہ نہ بولنے والا کم گو لڑکا تھا وہ کیسے عشق کے چکر میں پھنسا آج میں آپکو اپنے رمیز بھائی کی کہانی سناتی ہوں جو عشق کے پاگل پن میں مبتلا ہو کر خود کو ہی بھلا بیٹھے۔۔

Khud ba khud by Mishal Ali Complete novel

  • by

“تُم تو جانتی ہو بابا مجھے فورس کر رہے ہیں کہ میں تُم سے شادی کرو لیکن ۔ وہ کچھ رکا “۔

“۔لیکن میں تُم سے شادی نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔”

وہ سنجیدہ ہوکے بولا

“٫ کیا تم مجھے سے شادی نہیں کرنا چاہتے ہو۔

اُسے ایک منٹ کے لئے بھی حیرانی نہیں ہوئی تھی اسکو جیسے الہام ہوا تھا۔۔۔

“مجھے اندازہ تھا اس بات کا__”

لڑکی نے کافی لبوں سے لگايا اُسکی دو لٹیں چہرے پے جھول رہی تھی

وہ شرارتی آنکھوں والا کُچھ حیران ہوا اس نے اپنی جیب سے ایک سفید گلاب نکال کر ٹیبل پر رکھ دیا اور مسکرا کر بولا۔۔۔

“٫یہ ہم دونوں کی اینڈ ہے کیوں نے اس اینڈ کو خوبصورت کیا جائے__”

Safar e hidayat by Memona Noman Complete afsana

  • by

ابا جی ہدایت کیا ہوتی ہے؟” اس نے ان کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر بے تابی سے پوچھا. اس کے جواب میں وہ ہنوز سر جھکائے تسبیح کے دانے گراتے رہے. پھر آخر کار دو منٹ بعد انہوں نے جھکا ہوا سر اٹھایا اور ہلکا سا مسکرائے.

” اپنے دل سے پوچھو. تمہارا دل جانتا ہے.”

” نہیں بابا وہ نہیں جانتا.”

اس نے بغیر سوچے سمجھے کہا.

” میں دماغ کی نہیں دل کی بات کر رہا ہوں. دماغ بے شک نہیں لیکن دل واقف ہے. پوچھو اس دل سے کہ ہدایت کیا ہوتی ہے؟”

“بابا جی آپ بتائیں نا.” وہ بضد ہوئی. دل کی دھڑکن تیز ہوتی جا رہی تھی.

” نماز پڑھتی ہے؟”

“وہ… بچپن میں پڑھتی تھی.” “اب کیوں نہیں پڑھتی؟ اس ذات پہ ایمان نہیں رہا یا بھروسہ یا توکل؟” ان کے سوال پر وہ چپ رہی. بولنے کو کچھ بچا ہی نہیں تھا.

“نماز پڑھا کر.” وہ کہہ کر اپنا جھولا اٹھائے کھڑے ہوئے اور اپنی سیدھے ہاتھ کی شہادت والی انگلی آسمان کی جانب کرتے ہوئے زور سے بولے.

“وہی خدا ہے. وہی بندگی کے لائق. اسی سے مانگو کیونکہ وہی دینے والا ہے. وہی دیتا ہے. اور وہی دے گا.” اس کے بعد وہ رکے نہیں اور آگے بڑھتے چلے گئے اور پیچھے نوری خیالات میں گھری کھڑی رہ گئی.

Khail by Sana Sadia Complete novel

  • by

ایک دو سال سے شرجیل کو یہ بات پتہ لگی ہے اور اب وہ بھی ان کے ساتھ پورا پورا ملوث ہے اور میرا خیال ہے کہ آیاس صاحب کچھ عرصے بعد یہ سارا سمگلنگ کا کام شرجیل کے ذمے کر دیں گے

اور تمہیں کیا پتہ لگا کہ ہمیں انفارمیشن کون دے رہا ہے؟

ہاں سنا مطلب پیچھے جو ویڈیوز وغیرہ تمہیں ملی ہیں اور جو ڈیٹیل تھی ساری سمگلنگ کی

ہاں تھوڑا بہت شک ہے جن کے ساتھ یہ سمگلنگ کرتے ہیں ان میں سے کوئی آدمی ہے کیونکہ نہ صرف انفارمیشن آیاس صاحب کی ملی ہیں بلکہ دوسری سائیڈ کی بھی کافی انفارمیشن ملتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ انفارمیشن دینے والا ایک نہیں کافی ہوں ایسا بھی تو ہو سکتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سمگلر کا کوئی قریبی ہی انفارمیشن دے رہا ہو ان کے ساتھ یہ ڈیلز فائنل کرتے ہیں اسی کے پاس آیاس صاحب کی بھی انفارمیشن ہو سکتی ہے اور جن کے ساتھ یہ ڈیل کر رہے ہیں ان کی بھی

کیا تمہیں ان کا نام نہیں پتہ لگا ابھی تک کافی سمگلرز کا پتہ لگا ہے مگر جو اس بندے کو چلا رہا ہے یا ان کا لیڈر کہہ سکتے ہو اس کا بھی نہیں پتہ

***************

Ehd e intezar (Part 1 of hiyat beismik) by Bint e Aijaz Complete novel

  • by

“خدا کرے تجھے بھی محبّت تڑپاۓ

تیری سانسوں میں میرا نام آۓ

تیری دھڑکن کو میری صدا آۓ

تیری نظر میں اک حجاب آۓ

اس حجاب میں جھکی وہ پلکیں یاد آئیں

جو قدم تونے موڑ لیے…

ان قدموں کو دیکھ تو روز پچھتاۓ

خدا کرے تجھے بھی محبّت ترپاۓ

تو لوٹ کر پھر اس نگر میں جائے

وہ خالی میدان دیکھ تو چیخے چلاۓ

میری خاموشی میں چھپی میری ہسی تجھے یاد آۓ

تو بن چاہے لوٹ آۓ… بس ایک بار لوٹ آۓ

خدا کرے میری طرح تجھے میری محبّت ترپاۓ”

(بنتِ اعجاز)

Naqab posh mafia by Fizza Eman Complete novel

  • by

لالا۔۔ کیا تم اس ۔شادی سے مطمئن ہے ۔۔ہمممم چھوٹے وہ لڑکی میرا پہلا عشق ہے لیکن مجھے اس سے نفرت اور عشق دونوں ہے ۔۔۔ جب جیمین نے گوک خانزادہ کا ہاتھ تھاما لالا بھابھی معصوم ہے آپ انھیں سزا مت دینا ۔۔۔ہمممم تمہیں کیا لگتا ہے اسے تکلیف دے کر مجھے سکون ملے گا تو تم غلط ہو میں اس کو تکلیف دوں گا تو اس سے بڑھ کر تکلیف مجھے ہوگی بس میں زاویار شاہ کو واپس یہاں لانا چاہتا ہوں اور میں جانتا ہوں اس کے لئے مجھے حانیہ شاہ کو تکلیف دینی ہوگی اور اس کے ساتھ ساتھ خود کو بھی ۔۔۔۔ہمممم لالا بس خیال کرنا انھیں تکلیف دیتے دیتے کہی ان کے دل میں اپنی محبت بھی نا ختم کر دینا یہ نا ہو بھابھی نفرت کرنے لگے اتنی تکلیف نے دیجئے گا انھیں ۔۔۔۔

Mere angan mein utra chand by Ayesha Falak Sher Complete novel

  • by

” کیا ہو گیا آہان تُمہارے مُنہ پر بارہ کیوں بج رہے ہیں”۔

میرے پُوچھنے پر آہان مُجھے اِگنور کرتا ہوا بیڈ پر جا کر بیٹھ گیا تو زوہان نے ہنستے ہوۓ بتانا شُروع کیا۔

“ہک ہا اب یہ بیچارہ کیا بتاۓ گا کے تُمہارے جانے کے بعد اس کا رزلٹ چاچو نے دیکھ لیا تھا اور پھر اِس کے ساتھ وہ ہوا۔۔۔وہ ہوا جو ہم نے ابھینندن کیساتھ بھی نہ کیا تھا”۔

یہ بتاتے ہوۓ زوہان کے چہرے پر ہنسی تھی جسے وہ بڑی مُشکل سے کنٹرول کر رہا تھا۔

اب میری سمجھ میں آیا تھا کے آہان کو چاچو سے مار پڑی تھی جسے زوہان انجواۓ کر رہا تھا۔

“اور ہنسو کُھل کر ہنسو نہ بے شرم اِنسان یہ لڑکیوں کی طرح پھنس پھنس کر کیوں ہنس رہے ہو”۔

زوہان کو ہنستے دیکھ کر آہان نے غُصے سے کہا تھا جس پر زوہان کی ہنسی چھوٹ گئ تھی جبکے ہم سب بھی دبا دبا سا ہنس دے تھے۔

پھر زوہان گلا کھنگارتا ہوا آگے ہوا اور بولنا شُروع کیا۔

“بھائیوں اور اُن کی بہنوں اس سیچیوشن کو دیکھتے ہوۓ میرے دماغ میں ایک شعر آرہا ہے جسے میں آپ کی خدمت میں عرض کرنا چاہوں گا”۔

“اِرشاد اِرشاد” ہادیہ اور ارمان نے ایک ساتھ اُونچی آواز میں کہا جبکہ آہان نے آہان نے ناک پُھلا کر اور آنکھیں چھوٹی کرکے زوہان کو دیکھا تھا گویا تنبہیہ کیا تھا کے باز آجاؤ مگر زوہان نے اُسے نظرانداز کرتے ہوۓ بولنا شُروع کیا۔

*تُند باد مُخالف سے نہ گھبرا اۓ عُقاب

یہ تو چلتی ہے تُجھے اُونچا اُڑانے کے لیے*