Skip to content

Sakoon e raqsam by Maha Shah Complete novel

  • by

دعا ابھی تک تمہارے نخرے ختم نہیں ہوئے ۔ مسز آصف نے اس کو وہی بیٹھے دیکھ کر پوچھا ۔ ہممم یار مما نیند آرہی ہے ۔ اس نے جمائی کے کر کہا ۔ تم نے لگتا ہے آج بھی جاری کھانی ہے ؟؟ مسز آصف نے کہا تو اس نے منہ کا پاؤٹ بنایا ۔ اندر آتے آصف سائیں نے اس کی حرکت پر قہقہ لگایا ۔ دعا ان کو دیکھ کر ان کی طرف دوڑی آصف سائیں نے اپنی بانہیں واہ کی وہ دوڑ کر اس میں جا سمائی ۔ بابا سائیں کہا تھے آپ ؟؟ دعا نے ان سے پوچھا ۔ بیٹا میں باہر انتظام وغیرہ دیکھ رہا تھا ۔ انہوں نے اس کا ماتھا چوما ۔ اب بتاؤ کیوں تیار نہیں ہورہی ؟ آصف سائیں نے پوچھا تو وہ مسکرائی آپ کا انتظار کررہی تھی آپ سے مل کر جاؤ گی نا ۔ دعا نے کہا تو دونوں مسکرائے ۔ اچھا چلو اب دیر ہورہی ہے اور اپنے دادا سائیں سے ملتے ہوئے جانا ۔ انہوں نے کہا تو وہ سر ہلا کر کمرے نکلی ۔

Jugnoo by SJ Writes Complete novel

  • by

آپی پارٹی کب ہے…؟

وہ جو اپنے ہی خیالوں میں گُم تھی…اُس کی بات پہ اچانک چونکی تھی…

پارٹی بہت جلد..میرے غلاب جامن..

آپی…

وہ جو مزے سے پارٹی لینے آیا تھا..

غالب جامُن سن کے اُس کا پارہ ہائی ہوا تھا…

آپی…

سب سے پہلے تو میرا نام “بُرہان جاوید” ہے…

اور سوسری بات عمر میں چھوٹا ہوں تو کیا قد میں آپ سے بڑا ہوں..

اور رنگ روپ میں بھی آپ سے گورا…

لہذا اب آپ مجھے غُلاب جامُن نہیں کہہ سکتی…

سمجھی آپ….وہ باقاعدہ اُنگلی اُٹھا کے بولا تھا…

عین نے اُس کی پوری بات سُنی تھی…

اور آخر میں آہستہ سے بولی تھی…

پارٹی چاھئے…؟

کیا عین آپی..

اب چھوٹا بھائی مذاق بھی نہیں کر سکتا..

WAR by SJ Writes Complete novel

  • by

یہ کہانی شروع ہوتی ہے ایک ایسے دور سے جہاں انسان کو لگتا ہے کہ سب ختم ہوگیا. ٹھیک اُس انجام سے آغاز ہوتا ہے اس کہانی کا.بعض کہانیاں انسان کی زندگی بدلنے میں مدد دیتی ہے.یہ کہانی بھی شاید ان میں سے ایک ہے.ہر چیز کو آپ اپنی قسمت میں نہیں لکھ سکتے.کچھ چیزیں کو آپ ہونے سے نہیں روک سکتے. جب آپ قسمت کے آگے لڑ نہیں سکتے تو اُن چیزوں کو چھوڑ دینا چاہئے جن چیزوں کو آپ چاہتے ہے.جب وہ آپکی قسمت میں ہے ہی نہیں. اور ہر انسان یہ جانتا ہے کہ وہ کیا پا سکتا ہے اور کیا نہیں اس لئے اُن چیزوں کی قدر کریں جو آپکے پاس موجود ہے.وہ کوئی بھی ہو سکتی ہے.دوست،محبت،یا کوئی ایسا شخص جو ان دونوں چیزوں سے بڑھ کر ہو.میں نے اس کہانی میں کرداروں کی بھیڑ اکٹھی نہیں کی.یہ کہانی لکھنے کا صرف ایک مقصد ہے. اور ایک ایسا سبق ہے.

جِسے آپکو خود ڈھونڈنا ہو گا.

Dost man by Biya Turk Novels Complete novel

  • by

تم چائے کو انکار کر رہی ہو۔۔۔۔۔

آیت نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔۔۔۔

دل بھر گیا ہے ہر چیز سے بس کچھ یاد ہے تو کاشان اور اس کی باتیں۔۔۔۔۔

آیت اس نے کہا میں پہلی لڑکی ہوں جس سے اس نے بات کی وہ کتنا پاک ہے آیت۔۔۔۔۔

اور پتہ ہے وہ مجھ سے بھی بات نہیں کر رہا تھا میں نے اس کو مجبور کیا مجھ سے بات کرنے کے لیے۔۔۔۔۔

ہاں سر کاشان بہت اچھے ہیں تم نے دیکھا ہے نا وہ کلاس میں پڑھاتے وقت بھی گرلز کو نہیں دیکھتے۔۔۔۔۔۔

میں کیسے اس شخص کا دل دکھا سکتی ہوں آیت۔۔۔۔۔

یہ باتیں سوچ سوچ کر میرا سر پھٹ رہا ہے۔۔۔۔۔۔

اب تم نے نہیں رونا عنو۔۔۔۔۔

صبح کالج جا کر تم سر سے معافی مانگو ۔۔۔۔۔

سب ٹھیک ہو جائے گا انشاءاللہ۔۔۔۔

انشاءاللہ ۔۔۔۔ جتنا آسان عنایہ کو لگ رہا تھا شاید اتنا آسان نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔

Zama Janaan by Tamana Noor Complete novel

  • by

“کیوں؟…کیوں کیا یہ سب؟میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟میرے معصوم بچے نے تمہارا ایسا کیا نقصان کیا ہے؟عدت کے بعد میں اپنے گھر چلی جاتی۔تم سب کو اپنی شکل بھی نہ دکھاتی۔پھر کیا دشمنی نکالی ہے تم نے؟”

وہ ہنسی۔

“ہائے ۔کیا بات پوچھ لی تم نے پیاری نند۔چلو بتا دیتی ہوں۔تمہارا تو پتا نہیں لیکن اس ہمائل خان نے ضرور میرا بہت کچھ بگاڑا تھا۔تو بس اسی کی سزا میں نے تمہیں دی ہے”

وہ چونک سی گئی۔

“حیرت ہو رہی ہے نا؟چلو سنو۔جب ہم ہمائل کے بھائی گلباز کی شادی پر گئے تھے نا…پہلی نظر میں مجھے بھا گیا تھا وہ…”

کانوں کو جیسے یقین نہ آیا کہ اس نے ابھی کیا سنا ہے اس کا منہ کھل سا گیا۔وہ کیا بکواس کر رہی تھی۔

“میں نے اس سے بات کرنے کی بہت کوشش کی مگر وہ تو بات بھی نہیں کرتا تھا۔ویسے نخرے تو سوٹ کرتے تھے اس پر…”

کس قسم کی گھٹیا عورت تھی جو اس کے شوہر پر فدا ہونے کے قصے اسے ہی سنا رہی تھی۔اسے شرم محسوس ہوئی کہ اس کی بھابھی جو بڑی بہن کی مانند تھی اسی کے شوہر پر نظر رکھے ہوئے تھی۔

“میں نے اسے ایک شام اس کے کمرے میں اکیلا دیکھا تو میں نے اس سے بات کی کہ میں اس سے شادی کرنا چاہتی ہوں اور مجھے اس سے محبت ہو گئی ہے۔پتا ہے اس نے کیا کیا؟”

وہ مٹھیاں بھینچے اسے سنتی رہی۔

“اس نے میرے منہ پر تھپڑ مارا۔مجھے بد کردار کہا اور کہا کہ میرے جیسی عورتوں کو وہ دیکھنا بھی پسند نہ کرے”

دملہ نے شاک زدہ سے تاثرات لیے اسے دیکھا۔ہمائل نے اس سے کبھی اس بارے میں ذکر نہیں کیا تھا۔الٹا وہ تو حیران ہوتا تھا کہ مسکان کو ان دونوں سے مسئلہ کیا ہے؟

“پھر وہ میرے دل سے اتر گیا۔اسی وقت میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ اگر مجھے زندگی میں کبھی موقع ملا تو اس کے یہ الفاظ اور تھپڑ اسے سود سمیت واپس لوٹاؤں گی۔شادی ہو گئی سب کچھ ٹھیک ہو گیا لیکن پھر وہ واجد کی شادی پر واپس آ گیا۔شک تو مجھے بہت پہلے سے تھا کہ وہ تم پر فدا ہے۔اسی لیے مجھے تم زہر لگتی تھی۔پھر جب تمہارا رشتہ آیا تو میں نے اپنے اس وعدے کو دہرایا۔تم سے شادی کے بعد وہ یہاں جب بھی آتا تھا ایسے ری ایکٹ کرتا تھا جیسے اسے وہ سب معلوم ہی نہ ہو۔جیسے وہ مجھے جانتا بھی نہ ہو۔مجھے موقع ہی نہیں مل رہا تھا کہ میں اسے سبق سکھا سکوں۔پھر دیکھو قسمت ،وہ مر گیا”

Junoon e ishqam by Muskan Zahara Complete novel

  • by

یہ کہانی ہے ایمان خان کی قسمت کی، اس کی معصومیت کی، بدلے کی آگ میں جلنے کی،

عشق کی اک نئی داستان داستان عشقم،محبت کی اک ان کہی،داستان عشق،مجازی سے عشق حقیقی کا سفر،عشق کی ابتدا کی، جہاں انتہا ہو گئی جنون اشکم ❤ کی ۔۔

Junoon e mehram (S3 of ishq e mehram)By umm-e-omama Complete Novel

  • by

“سترہ سال چھوٹی ہے وہ تم سے”

“مجھے پروا نہیں ہے”

“زریام کبھی نہیں مانے گا”

“مجھے انکی اجازت نہیں چاہیے”

“حورم بھی نہیں مانے گی”

اسٹڈی روم میں چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی

”حورم مان جائے گی نہ مانی تو یہ اسکی اپنی غلطی ہے”

اسنے ضدی انداز میں کہا

“آپ جانتی ہیں نہ مام ڈیڈ ہمیشہ کہتے تھے کہ ارتضیٰ اپنی چیزوں کے معاملے میں بہت پوزیسو ہے وہ غلط نہیں کہتے تھے میں واقعی میں اپنی چیزوں کے معاملے میں بہت پوزیسو ہوں پھر چاہے وہ کوئی بےجان چیز ہو یا جاندار”

“حورم کوئی چیز نہیں ہے ارتضیٰ”

“بلکل وہ کوئی چیز نہیں ہے وہ ایک انسان ہے جس کے احساسات ہیں جذبات ہیں لیکن میں کیا کروں اسے چھوڑنا میرے بس میں نہیں ہے”

“وہ لڑکی میری سانسوں میں بستی ہے وہ میری سانسوں کی ڈور ہے اور اگر حورم شاہ ارتضیٰ آفندی سے دور ہوئی تو یہ ڈور ٹوٹ جائے گی”

اپنی جگہ سے اٹھ کر وہ تیز تیز قدم اٹھاتا کمرے سے چلا گیا جبکہ وہ بھیگی آنکھیں لیے وہیں بیٹھی رہی

اسنے اور احسان نے ارتضیٰ کو ہمیشہ لاڈوں میں پالا تھا وہ ضدی بچپن سے تھا اگر کسی خواہش کا اظہار کردیتا تو اسے پوری کرکے دم لیتا تھا اسکی ضد پر ان دونوں نے کبھی کچھ نہیں کہا تھا

لیکن اگر حفضہ کو اندازہ ہوتا کہ اسکی یہ ضد آگے جاکر یہ روپ اختیار کرنے والی ہے تو وہ کبھی بھی اسکی بےجا ضد پوری نہیں کرتی

یہ کیسی محبت تھی جس میں وہ اپنی محبت کی خوشی ہی نہیں دیکھ رہا

یہ بات وہ اسے سمجھا نہیں سکتی تھی کیونکہ وہ خود جانتی تھی کہ ارتضیٰ کے لیے حورم محبت نہیں تھی

اسکا عشق اسکا جنون تھی محبت ہوتی تو وہ شاید چھوڑ دیتا

لیکن وہ محبت نہیں تھی وہ اسکا پاگل پن تھی جسے وہ کسی قیمت پر نہیں چھوڑنے والا تھا