Skip to content

Al qamar makhzoob by Rimsha Riaz Complete novel

  • by

تم کب مجھے یہاں سے چھٹکارا دلاؤ گے ، گوری نہ جانے کتنی بار اس سے پوچھ چکی تھی، وہ اس کے پیروں کی طرف بیٹھی ہوئی تھی ۔

کیا مصیبت ہے یار! عادی کوفت سے اٹھا جھٹکا لگنے سے گوری پیچھے کو گری۔کہنی زمین پہ لگنے سے کراہی

اب اتنی بھی نہیں لگی جو آوازیں نکال رہی ہو۔وہ بیزارگی سے بولا ۔

بعض اوقات چھوٹی چھوٹی چوٹیں بڑے بڑے درد یاد دلا دیتی ہیں ، عادی، وہ زہریلی مسکراہٹ سے بولی۔

یہ کیا عادی عادی لگا رکھا ہے ، تم جیسی طوائفوں کے منہ سے مردوں کے نام نہیں اچھے لگتے سمجھی، اس نے اس کا بازو مروڑا تو وہ سسکی۔

ہم جیسی ؟ عورت جسم بیچے تو طوائف! اور اس جسم کے خریدار کو کیاکہتے ہوں گے صاحب؟ وہ طنزیہ ہنسی!

شٹ اپ وہ چلایا۔

جانتے ہیں اس کو کہتے ہیں درندہ ، سور اس سے بہتر ہوتا ہے ، گند میں منہ مارتا ہے مگر اس کا صفایا بھی خود کرتا تم جیسا نہیں ہوتا ، ہاں جو عورتوں کو ان کی خوبصورتی کی وجہ سے شادی کی لالچ دیں ، اور پھر کام بن جائے تو نمازی ہونے کا ڈھونگ کریں۔ وہ بھی حلق کے بل چلائی۔

عادی نے ہتھوڑے جیسے ہاتھوں میں اس کا نازک جبڑا زور سے پکڑا، ضبط سے اس کی انکھوں سے آنسو بہنے لگے اس کی آنکھیں بند تھیں۔رخسار گلابی ہو رہے تھے۔ہونٹ پھڑپھڑا رہے تھے مگر ظالم کی گرفت اس کیلے گھٹن بن رہی تھی۔

ھا ھا تم سے شادی؟ وہ بھی عادی خان ؟ طوائف سے ؟ تم جیسی عورتیں صرف باہر کی زینت ہوتی ہیں جس زینت کا ہم مرد اچھے سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، اور رہی بات خوبصورتی کی ، تو پرنسس یہی تو تمھاری دشمن ہے، بیوی میری تمھاری طرح تھوڑی ہو گی! وہ نحوست سے اسے جھٹک گیا۔

باہر کی عورت کو ناپاک کر کے تمھیں بیوی پاک چاہیے واہ کمال ! وہ استھزا سے اس کی انکھوں میں دیکھ رہی تھی۔

چچ برا ہوا میں نے تمھیں ناپاک کیا؟ کیا اس سے پہلے تمھیں کسی نے نہ چھوا ہاں؟ وہ اسے مزاحیہ نظر سے جانچنے لگا ۔

اس نے زخمی نظروں سے اسے دیکھا جو اس کو محرم بننے کا وعدہ دے چکا تھا۔

کیا انسان اتنی جلدی وعدوں کو پس پشت ڈال دیتے ، وہ اذیت میں تھی۔

کیا ہوا غصہ اریا ہے ؟ ھا ھا آنا بھی چاہیے تم جیسی معصوم لڑکیوں کو لگتا ہے کہ تمھارا گاہک تمھارا محرم بنے گا ! کیا واہیات ہے ، مرد جس چیز کو خریدتے ہیں ، اس کو استعمال کے بعد مڑ کے دیکھتے تک نہیں ، جب تک وہ کام کی ہے یا جب تک دل نہ بھر جائے ، وہ اس کے کان میں سرگوشی کر کے بولا اور پیچھے ہٹ کے قہقے لگانے لگا۔

خدا تم سے حساب لے گا! وہ ضرور لے گا ، وہ ڈھے سی گئی ، اس کی آواز گھٹ گئ۔

عادی طیش سے اس کی طرف بڑھا اس کا منہ دبوچا۔

تم کون سی پارسا ہو ہاں تم بازار* عورت اس نے تپھڑ جڑ دیا،

مار دو مجھے چھین لو سانیسں، ازاد کر دو مجھے ، کر دو آزاد وہ روتی ہوئی اس کے قدموں میں بیٹھ گئ۔

عادی نے اسے بالوں سے پکڑ کر کھڑا کیا۔

کوئی بھی نکاح نہیں کرتا ، کرنا ہوتا تو یہان نہ آتا اس لیے جو کام کرتی آرہی ہو وہی کرو زیادہ ہوا میں مت اڑو خاص طور پہ جب تمھارے پر کٹے ہوں وہ چبا چبا کے بولا۔

خدا تمھیں بھی تمھارے پیار سے دور کرے گا عادی مکافات عمل ہوگا تمھارے ساتھ ، وہ روتے ہوئے خود کو چھڑانے لگی۔

ھا ھا مکافات عمل ؟ یہ تو صرف کہاوت ہے پرنسس ، اجکل دوسروں کو رلانے والے مخلفیں لگاتے ہیں ، سکون میں ہوتے ہیں، عیش کرتے ہیں ، اور تم جیسے بیوقوف لوگ بس مکافات عمل کا انتظار کرتے ہیں، وہ استھزا سے بولا۔

تم اس ہستی کو بھول گئے عادی تم سفاک ہوگے تم لاپروا ہو گے وہ تمھیں گھٹنوں پہ لے آئے گا، وہ تم سے تمھاری انا غرور چھین لے گا ، پھر تم اسی در پہ تم ، تم عادی آو گے تب میں تمھیں دھتکاروں گی،وہ اس کے سینے پہ انگلی رکھ کر بولی اس کی انکھوں میں خون تھا۔

عادی نے اسے دور کیا اسے خوف آیا ، اس گھن آئی خود سے اسے کچھ سمجھ نہیں آئی ، وہ لمبا سانس لے گیا۔

تمھاری ہنسی جب چھن جائے گی تب تمھیں پتا چلے گا خوف خدا کیا ہوتا ہے، وہ غرائی۔

وہ کانپتے ہوئے پیچھے ہوا اس نے ماتھے پہ آیا پسینہ پونچھا اب وہ ہنس رہی تھی۔ اسے اور ڈر لگنے لگا اس نے شرٹ پہنی اور بھاگ آیا ، پہلی بار اسے طوائف نے ڈرایا تھا ، اسے خدا یاد آیا تھا ، اس نے گندگی میں پاکی تلاش کرنی چاہی ، یہ پہلی بار تھا۔مگر ابھی اسے سفر کرنا تھا

Muhafiz by Mariam Fayyaz Complete novel

  • by

۔ داد؟ معصومہ نے حداد کو پکارا۔ جی جان حداد !! اعداد محبت سے چور لہجے میں گویا ہوا۔ میں اپ کو بہت تنگ اور بے سکون کرتی ہوں نا۔ معصومہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی حداد نے ایک نظر اس کے چہرے کو دیکھا اور پھر مسکرا کر بولا۔ بالکل بھی نہیں آپ کو ایک بات بتاؤں؟؟ جی !! معصومہ بولی۔ میرے لیے سکون کا مطلب آپ کا وہ تھوڑا سا وقت ہے جو صرف میرے لیے ہوتا ہے۔ حداد اس کی انکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا تو معصومہ کا چہرہ کھل اٹھا اس نے جلدی سے اپنی دونوں باہیں حداد کے گرد پھیلائیں۔ مجھے اپ سے ڈھیر ساری محبت ہے کیا اپ کو بھی ہے مجھ سے محبت؟؟ دل میں نہ جانے کیا ایا کہ وہ پوچھ بیٹھی۔ قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ اگر تم مجھے نہ ملی ہوتی تو یہ راز مجھ پر راز ہی رہ جاتا کہ محبت کیسی ہوتی ہے۔ حداد صاف گوئی سے بولا تو معصومہ حیرت سے کچھ دیر ساکت نگاہوں سے اسے دیکھتی رہی کیا وہ اسے اتنا چاہتا تھا۔ جانتی ہو تم کیا ہو میرے لیے؟؟ کچھ دیر خاموشی کی نظر ہوئے اور پھر حداد بولا۔ کیا ؟؟ معصومہ نے پوچھا۔ تم میرا قیمتی اثاثہ ہو!! حداد بھی اسے اپنی ایک بازو کے حصار میں لیتے ہوئے بولا۔

Shar by Kainat Shahid Complete novel

  • by

یہاں پر کوئ بھی نہیں ہے؟ تم بلا وجہ ہی کچھ زیادہ سوچ رہے تھے ان میں سے ایک شخص نے کہا۔ اندھیرے کے باعث انکے چہرے واضح نہیں تھے۔

“ویسے بھی ابھی بوس نے پولیس سے بات کی ہے جب تک ہم ان سب کے سارے آرگنز نہ نکال لیں وہ یہاں نہیں آ سکتے۔ آخر کو انکو بھی تو اپنا حصہ چاہیے ۔ آخر میں لہجہ تمسخرانہ تھا۔ صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ انکی نظروں میں پولیس کی کوئ اوقات نہیں ہے۔”

“لیکن میں ابھی بھی یہ سوچتا ہوں کہ آخر مسلمان اپنا ایمان کیسے بیچ سکتا ہے؟ ہم تو غیر مسلم ہیں لیکن مسلمان اگر ایسے ہیں تو میں خوش ہوں کہ میں مسلمان نہیں ۔ ان میں سے ایک شخص بولا ۔”

“پیسے کی لالچ ہے آج ان سب مسلمانوں میں ۔ یہ چاہتے ہیں کہ ان کے پاس سب سے زیادہ ہو اور ہر کوئ ان کا محتاج رہے اور اس طرح انکی جھوٹی عزت کو مزید چار چاند لگ جائیں ۔ لہجے میں مسلمانوں کے لیے واضح طنز اور حقارت تھا۔جو کہ الماری کے پیچھے آحل اور آلیار نے بخوبی محسوس کیا ۔”

۔( پچھلی تمام انبیاء کی قوم میں صرف ایک برائ موجود تھی اور انکو تباہ کر دیا گیا جبکہ امت مسلمہ میں ان تمام قوموں کی برائیاں موجود ہیں لیکن یہ پھر بھی اس غلط فہمی میں ہیں کہ چونکہ یہ آپ صلوت سلام علیہ السلام کی امت ہیں تو یہ کنفرم جنتی ہیں۔ اور اسی بھول میں یہ قوم اخلاقی پستی کو چھو رہی ہے۔)

وہ آدمی تو اب جا چکے تھے لیکن ان اپنی باتوں سے دو نفوس کو شرمندگی کی انتہاؤں پر پہنچا چکے تھے ۔

اگر آج ہر شخص اپنی اصلاح کرنے کی کوشش کرے تواس معاشرے کو صحیح کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر آپ یہ سوچتے ہو کہ آپ پوری دنیا کو ٹھیک کر سکتے ہو تو یہاں پر آپ غلطی پر ہو پھر چاہے آپ جتنے مرضی بڑے عالم ہی کیوں نہ ہو ۔

ایک قول ہے:

کل تک میں چالاک تھا تو دنیا کو بدلنا چاہتا تھا لیکن آج میں عقلمند ہوں تو خود کو بدلنا چاہتا ہوں۔

Maharib by Kanwal Hanif Complete novel

  • by

ہر کوئی محارب ہے۔ کوئی محبت کے لیے لڑرہا تو کوئی اپنے حق کے لیے تگ و دو کررہا ہے۔ اور کوئی خود سے جنگ کر رہا ہے ۔ کوئی اپنے آپ کو ہرانا چاہتا ہے ۔ زندگی کسی کے لیے بھی پھولوں کی سیج نہیں ہو سکتی ۔ زندگی ایسی ہی ہے ۔ ہم جنگوں کے دوران بہت کچھ کھو دیتے ہیں ۔ لیکن اگر ہم خود کو کھو دیں تو سمجھ لیں ہم نے سب کچھ کھو دیا ہے ۔ کیونکہ جنگ عزت کی ہو یا محبت کی کو اس میں اگر کچھ اہم ہے تو وہ آپ ہیں۔ زندگی میں چاہے بہت کچھ کھو جائے ۔ لیکن سب کچھ نہیں کھونا چاہیے ۔اور وہ سب کچھ آپ ہیں۔ آپ کا اپنا وجود نہیں کھونا چاہیے ۔ زخمی ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے ۔ لیکن ان زخموں کو بھرنے نہ دینا صریحاً غلط ہے ۔ ہر جنگ کے دوران خیال رکھیں کہ آپ کا اپنا وجود نہیں کھونا چاہیے ۔ اس ناول کا ہر کردار محارب ہے ۔ ہر کوئی جنگ میں ہے۔ کوئی خود سے تو کوئی کسی اور سے ۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کون اس جنگ کے دوران بہت کچھ ہارتا ہے اور کون سب کچھ ہی ہار دیتا ہے۔ دنیا کی سب سے مشکل جنگ وہ جو انسان خود سے لڑتا ہے ۔ اندرونی جنگ بیرونی زنگ کا خاتمہ کر دیتی ہے۔

Teri Aarzo ki chah mein by Iqra Rajpoot Complete novel

  • by

”کیا مانگی گئی ہر دعا قبول ہو جاتی ہے کیا دعا میں مانگی گئی محبت مل جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ سعد کسی بچے کی طرح اس سے سوال کر رہا تھا۔

آج سعد زید اُس لڑکی سے سوال کا جواب مانگ رہا تھا۔

جسے وہ کبھی اِمچیور کہا کرتا تھا۔

عفیرہ سعد کی بات کا مفہوم سمجھ کر مسکرا دی۔

”مانگی گئی ہر دعا قبول ہوتی ہے۔ ضرور قبول ہوتی ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ سچے دل سے مانگی جائے تو دعا لازم قبول ہوتی ہے۔ بس کبھی نا امید نہ ہونا اور اگر دعا قبول نہ ہو تو سمجھ جانا اس دعا کا صلہ اللہ قیامت کے روز آپ کو دے گا اور ضرور دے گا۔

اللہ تعالی کبھی اپنے بندوں کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے۔ لیکن ایک بار اس سے دعا مانگ کر تو دیکھو اللہ اور بندے کے درمیان سب سے مضبوط کنکشن ہی دعا ہے۔ دعا نصیب بھی بدل دیتی۔

جب اللہ تعالی نے سورةالعمران میں فرمایا دیا کہ دعا پہاڑوں کو بھی ان کی جگہ سے سرکار سکتی ہے تو قبولیت کا شک تو بنتا ہے ہی نہیں ہے۔

جہاں تک بات محبت کی تو محبت سے صدق مانگتی ہے اور اگر محبت میں صدق نہ ہو تو وہ محبت نہیں

اُنسیت ہوتی ہے محبت اگر صدق کے ساتھ دعاؤں میں مانگی جائے تو محبت ضرور ملتی ہے دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ عفیرہ نے مسکرا کر سعد سے کہا۔

”تو کیا میری دعا قبول ہو جائے گی؟ کیا تم مجھے میرے گزشتہ رویے پر معاف کر سکتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ سعد نے ایک امید کے ساتھ عفیرہ سے پوچھا۔

”میں کبھی آپ سے ناراض نہیں تھی بس اپنے کم عقلی پر شرمندہ تھی۔ اور جہاں تک بات معافی کی تو میں کون ہوتی ہوں آپ کو معاف کرنے والی معاف کرنے والی ذات تو اللہ کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “ عفیرہ نے مدھم سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

”تو کیا تم ناراض نہیں ہو؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ سعد نے بغور عفیرہ کو دیکھتے پوچھا۔

”نہیں! کیونکہ مجھے یقین آگیا ہے“ عفیرہ نے سعد سے کہا۔

”کس بات پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ سعد نے کچھ نہ سمجھی سے عفیرہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔

”کہ جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے اس میں ہماری ہی بہتری ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “ عفیرہ نے مسکرا کر کہا۔

”اچھا!۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ سعد کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ آئی تھی۔

”ہاں نا! اب دیکھیں پہلے میں تھوڑی ڈر پوک تھی بات بات پہ رونے لگ جاتی تھی لیکن اب نہیں ڈرتی میں کسی سے کوئی کچھ کہہ کر جائے گا کدھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ عفیرہ نے مسکرا کر کہا۔

” اور تھینک یو سعد۔۔۔۔۔۔۔۔“

”کس بات کے لیے۔۔۔۔۔“ابھی عفیرہ کچھ بولتی کے سعد اس کی بات کاٹتے ہوئے کہتا ہے۔

”یہ بتانے کے لیے ہم لڑکیاں بھی خود کچھ کر سکتی

ہیں۔ یہ بتانے کے لیے دنیا مطلبی ہے یہاں کوئی کسی کے آنسو نہیں دیکھتا۔

بلکہ مذاق اڑاتے ہیں تھینک یو عفیرہ عبید کو بدلنے کے لیے اگر آپ آج سے چھ سال پہلے مجھے وہ سب نہ کہتے تو آج میں باہمت نہ ہوتی“ عفیرہ نے نرم سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

Dil o deewan by Eman Fatima Complete novel

  • by

یہ سٹوری ہے اپنے راشتوں کی کے انسان کو ہمیشہ اللہ کا شکر ادا کرنا چائیے جیسا بھی بنایا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی نہ کوئی مسلی ہات ہوتی ہے جاہا اپ کے کوئی خلاف ہوتا وہاں کوئی نہ کوئی اپ کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور ضروری نہیں ہم جیسا جاہتے ویسا ہی ہو بس صبر کریں اس سے اچھا ملتا ہے اپ کو لوگوں سے زیادہ اللہ سے امید رکھیں انشاء اللہ کبھی مایوس نہیں کرے گا

Black monster by Zobia Ahmed Complete novel

  • by

دور ہٹو میرے شوہر سے خبر دار جو کسی نے بھی میرے ہاشم کو اب ہاتھ لگایا… مصباح کسی شیرنی کی طرح چیخی تھی..

روبو نے کنگ کو رسی سے باندھا تھا اسکے پیٹ پر گولی ماری تھی روبو نے ..

رر روز تت تم جج جاؤ یہاں سے … بلیک مانسٹر نے خون میں لت پتے ہوتے ہاتھوں سے اسے جانے کا اشارہ کیا تھا…

چپ کرو تم ایک لفظ بھی اور کہا تو میں تمہارا اپنے ہاتھوں سے قتل کرونگی ویسے تو بڑے بلیک مانسٹر بن کر پھرتے ہو یہاں کیا ہوا اس …کتے سے مار کھا رہے تھے… مصباح ہاشم پر چڑ دوڑی تھی…

ہاشم تو بس اسکے تیور دیکھ رہا تھا…

اہہہ… مصباح کے بال ہنری نے پکڑے تھے…

تیری ہمت کیسی ہوئ مجھے دھکا دینے کی.. تیری بھی تیرے ہاشم جیسی ہالت کرونگا…

ہنری میم کو چھوڑ دو تمہاری لڑای ہم سے ہے نا تو ہم سے بات کرو انکو جانے دو… روبو نے گن اسکی جانب کی تھی…

مصباح نے موقع دیکھ کر اپنی ایک ٹانگ اسکے دوسری ٹانگ سے الجھا کر اسے منہ کے بل گرا تھا.. مصباح جلدی سے گن لی تھی…

روبو اپنے صاحب کو گاڑی میں بیٹھاو اور hospital پہنچاؤ.. مصباح جس انداز حکم دیا روبو کو لگا اب اصلی بلیک مانسٹر تو مصباح ہے…

میں نے کہا تھا نا میرے شوہر کو ہاتھ بھی مت لگانا ورنہ موت میرے ہاتھوں سے ہوگی تمہاری…میرے ہاشم کا تم ایک ایک خون کا حصاب دوگے… مصباح کے ہاتھ میں گن تھی جو سیدھا اسنے اسکے دل کا نشانہ لیا ہوا تھا…

Khalaa by Sumaika Yousaf Complete novel

  • by

“آپ کے اندر کا خلا کوئی نہیں بھر سکتا، سوائے اللہ کے۔ ” ” خلاء” یہ کہانی ہے صبر کی ، دوستی کی، ذی روح اور بدی کی ، بھروسے کی، محبت کی دو لوگوں کی جو زندگی کے سفر میں سیاہ اور سفید کردار کے مالک زندگی کے سفر میں بھٹکے ہوئے مسافر اپنی منزل سے بے خبر، تقدیر سے منہ چھپا کے فرار ہونے والے،

Sarab by Aqsa Muhammadi Complete novel

  • by

میں آج آپکی بیوی لگ رہی ہوں لیکن تم اب بھی میرے شوہر نہیں لگ رہے. فجر نے بھی اس کے کان میں سرگوشی کی تھی جس پر شہریار نے برا سا منہ بنایا تھا. ہایے کتنی ان رومینٹک بیوی ملی ہے مجھے اور ساتھ میں کنجوس بھی. شہریار نے دہایی لی تھی اور اسکے کنجوس کہنے پر فجر کی آنکھیں پھیل گیی تھی. کیوں میں نے کیا کنجوسی دکھائی ہے. فجر اسکے تھوڑا قریب ہوکر تندہی سے بولی تھی. ہاں تو ہو نا تم کنجوس اتنا تو نہیں ہوتا تم سے کہ بے چارے شوہر کی تھوڑی تعریف ہی کرلو. یہ دیکھو اپنے اردگرد ساری لڑکیاں کیسے محبت بھری نظروں سے دیکھ رہی ہے مجھے اور ایک تم ہو.. شہریار نے اسے جلاتے ہوئے کہا تھا جس میں وہ کامیاب ہو بھی گیا تھا. ہاں تو جاؤ نہ انکے پاس میرے ساتھ کیوں کھڑے ہو جاؤ ان کے پاس.. فجر غصے سے بولی تھی. ٹھیک ہے وایفی جیسے آپکی مرضی. شہریار معصوم سا منہ بنا کر آگے بڑھنے ہی والا تھا کہ فجر نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا. شہریار نے حیران نظروں سے اسے دیکھا تھا. وہ جو سامنے لڑکی ہے نہ اسکے ساتھ جو لڑکا بیٹھا ہے اس کا نمبر بھی لیتے آنا. فجر نے معصومیت سے کہا تھا اور شہریار جو کچھ اور ہی سننے کے لیے رکا تھا اسکی بات پر اسکی آنکھیں سرخ ہوگیی تھی. شہریار نے اسکے ہاتھ پر اپنی گرفت سخت کی تھی اور اس کے قریب ہوا تھا. تم میری ہو سمجھی صرف اور صرف شہریار آفندی کی. شہریار اسی طرح سرخ آنکھیں لیے کہہ رہا تھا. اور تم بھی میرے ہو سمجھے صرف فجر ملک کے. فجر بھی اسی کے انداز میں بولی تھی. شہریار کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھری تھی.