Skip to content

Ankaboot by Bint e Asif Complete Novel PDF

  • by

” ایک بات میری یاد رکھو کان کھول کر! میں اس کی(بہن کی) شادی کسی اچھی جگہ کرنا چاہتا ہوں۔ دوسری بات میرے پاس سب میری محنت سے ہے، کسی کو زبردستی نہیں؛ لیکن میں راتوں کو جاگا اور پڑھا، اس دین کو پھیلا بھی میں رہا ہوں۔ تم ایک جاہل عورت ہو جا کر پہلے اپنا چہرہ دیکھو پھر آنا مجھ سے بحث کرنے؛ بلکہ نہیں!
تم زرا جا کر اپنے گھر آرام کرو! ” پوری سوچ بچار سے بولا۔
” تم۔۔۔تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے،میں تمہاری بیوی ہوں، تین سال ہو گئے ہیں اس شادی کو اور اب۔۔۔۔اب تم مجھے چھوڑنے کی باتیں کرتے ہو۔ میں دکھ میں تمہارا سایہ بنی،تپتی ہوئی گرمی میں چھاؤں بنی، روتے ہوئے چہرے کے لیے کندھا بنی رہی، ہمت ہار جانے پر تمہارے لیے ۔۔۔صرف تمہارے لیے حوصلے کی چٹان بنی رہی اور تم آج مجھے یہ کہہ رہے ہو، تم ایسا کیسے کر سکتے ہو؟ ” آنسوؤں نے ہلک تک بسیرا کیا.
” مجھے کام ہے یہ سوئی چھ تک آۓ” گھڑی اس وقت پانچ کے ہندسے سے سرک رہی تھی ہاتھ سے انگلیاں کھولے پنجہ دیکھایا” تو تم تیار نظر آؤ مجھے! “لہجہ تحکم آمیز تھا۔
“تامل یہ کیا کہہ رہے ہو! میں تم سے محبت کرتی ہوں۔ کیسے تم مجھے بیچ راستے میں تنہا چھوڑ سکتے ہو؟ تم ایسا کیسے کر سکتے ہو۔ میں کیسے رہوں گی تمہارے بناء، مجھے تمہارے بغیر رہنے کی عادت نہیں ہے ایسا مت کرو! ”
“کس نے کہا تھا میرے معاملات میں بولو؟ ایک بار کی بات سمجھ جایا کرو؛ لیکن امی کی طرف ہو آنا اب! “سر پہ دھماکہ کرتا کمرے سے نکل گیا۔
وہ نکل گیا لیکن ایک وجود تھا جو کمرے میں جیسے دھے سا گیا تھا، اب صبح امی کے گھر جانا ہی تھا، پلنگ سے ٹیک لگائے آنسوؤں میں روانی آ چکی تھی اور وہ بس سر جھکائے آنسو بہاتی جا رہی تھی، خاموش آنسو جن کی صدائیں عرش والا سن رہا تھا.

Majal arz e tamana karen kese by Izza Iqbal Complete novel

  • by

“قاسم۔۔۔” انزلہ نے اسے تنبیہ کی تھی۔۔۔”اچھا چلو ایک کام کرتے ہیں۔۔۔چونکہ تمہارے ناولز ضبط کرلئے گئے ہیں۔۔” لاریب نے بڑے غور سے انزلہ کو سنا تھا اور قاسم کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ وہ اسی کے ہی پر کاٹے گی۔۔۔
“تو اب قاسم تمہیں بک شاپ پر لے کر جائے گا اور ناولز دلائے گا۔۔۔”
“انزلہ۔۔۔”قاسم نے بے یقینی سے کہا۔۔۔۔”میں نہیں کھیل رہا تم جانبدار ہو۔۔۔”
“کھیل تو آپ نے کھیل لیا وہ تو اب فیصلہ سنا رہی ہیں۔۔۔” جیسے ہی اس نے کہا تھا قاسم نے اس کے سر پر چپت لگائی تھی۔۔۔
“دیکھ رہی ہیں آپ کے سامنے وائیلنس ہورہا ہے۔۔۔۔”
“اور یہ جو فنانشل۔۔۔ایموشنل۔۔۔وربل وائیلنس ہے اس کا کیا۔۔۔۔؟”
“آپ انزلہ باجی کی بات نہیں مان رہے۔۔۔۔” لاریب نے چوٹ کی تھی۔۔اس نے انزلہ کی جانب دیکھا وہ اسے ہی دیکھتے ہوئے ہنس رہی تھی۔۔۔
“تم میری بہت اچھی بہن ہو۔۔۔تمہاری بات تو میں آنکھیں بند کرکے مانوں گا۔۔۔۔۔” اس نے لاریب کر اک بار پھر چڑایا تھا۔۔۔
“آہ میں تو جیلس ہوگئی۔۔۔۔”
“ہاں شکل سے پتا بھی چل رہا ہے۔۔۔۔” اس نے بار جاتے ہوئے کہا تھا انزلہ اس بار اپنا قہقہ روک نہیں پائی تھی۔۔۔

Ramzan ka chand by Shayara Sehar Complete novel

  • by

” بیٹا کب آؤ گی “

” سلمہ عمر احمد صبر کریں ” اس کے نام لینے پر تقی نے چونک کر اسے دیکھا .

” ہٹ پگلی دادا کا نام لیتی ہے “

(دادا )

“اوہو دادی شرما رہے ہو “

” آج جلدی آ جانا”

اس نے فون رکھا اور تقی کو دیکھا جو اسے بے یقینی سے دیکھ رہا تھا

” کیا ہوا “

” آپ کے دادا کا نام کیا ہے “

” عمر احمد کیوں ” اسنے بڑی سادگی سے جواب دیا جبکہ وہ خوشی سے جھومنے لگا اسے خوش ہوتا دیکھ کر قمر حیران ہوئی کر وہ بے وجہ کیوں خوش ہو رہا ہے مگر تقی اس کی پرواہ کئے بغیر جھوم رہا تھا.

” کیا ہوا تقی ” اس نے حیرانی سے پوچھا

اس کی آنکھوں میں ایک دم سے آنسو جمع ہونے لگے اس کا دل کسی ان دیکھے اندھیرے نے جکڑ لیا جس سے اسکا سانس حلق میں اٹگ گیا . بیک وقت اس نے اپنا تھوک نگلا .

” ہمارے دادا کو گزرے 4 سال ہوگئے ہیں ” یہ الفاظ نہیں زہر تھے جو اس کے سینے میں اتر رہے تھے ذہین میں بس اک صدائیں گونجنے لگی

( بیٹا میرے دوست کو مجھ سے ضرور ملانا ورنہ میں سکون سے مر نہیں پاؤں گا ) اب وہ انہیں کیا بتاتا کہ جس کے ملنے کی تمنا میں وہ جی رہے تھے وہ کب کے مرچکے ہیں .

Raqsam by Sye Da Complete novel

  • by

“انہوں نے ابھی مجھے معمولی سا ہراس کیا ہے،اس پر اگر میں ان کے خلاف ایکشن لوں گی تو کل کو کیا پتہ وہ میری عزت پامال کر دیں،تب کیا بچے گا میرے پاس عمارہ؟”عمارہ کا دل جکڑا تھا۔

“اس طرح کے اداروں میں اس طرح کی باتیں عام ہیں۔تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ایسے درندوں کے خلاف آواز اٹھانے سے کچھ نہیں ہوتا۔کوئی فرق نہیں پڑتا کسی کو،کوئی نہیں آتا مدد کو،کوئی نہیں سنتا مظلوم کی پکار۔انہوں نے ابھی صرف معمولی سا ابیوز کیا ہے،کل وہ میری عزت پامال کر کے اسی کالج میں پھینک دیں گے پھر بہت سارے سٹوڈنٹس میری لاش کو سڑک پر رکھ کر احتجاج کریں گے،ساری دنیا میرے باپ کو ترحم کی نگاہ سے دیکھے گی،چند دن یہ تماشہ لگے گا اور پھر سب ختم۔پھر کوئی دوسری مناہل ہوگی مگر پروفیسر ہشام۔۔۔وہ وہیں ہوں گے،اسی عزت اور رتبہ کے ساتھ۔”وہ بنا رکے بولے جا رہی تھی۔

وہ بنا پلکیں جھپکے کرب سے اس کی بیان کردہ معاشرہ کی سفاکیت سنے جا رہی تھی جو کہ بےحد افسوس کے ساتھ سچائی تھی۔

“اور اگر بدقسمتی سے میں بچ گئی تو میرا اپنا ہی باپ میرے مرنے کی دعائیں کرے گا اور یہ معاشرہ مجھے ہی مجرم ثابت کرے گا اور مجھ میں عیب نکالے گا مگر مجرموں کے سامنے اسی طرح کے شُرفاء ڈھال بن کر کھڑے ہوں گے۔میرا باپ غریب آدمی ہے ان امیروں کے سامنے نہیں ٹِک سکے گا اور اپنی بیٹی کا حساب قیامت پر رکھ چھوڑے گا۔اور کیا ہی دل دہلا دینے والا ہوگا قیامت کا عذاب مگر اس سے قبل مجھے اور میرے باپ کو ہر روز،ہر پل،ہر لمحہ قیامتِ صغریٰ سے گزرنا ہوگا۔”گلے میں پھنسے آنسوؤں نے اب الفاظ کا دم گھونٹ دیا تھا۔

Mehram mohabbat by Bint e Mehmood Complete novel

  • by

“آپ یقیناً ،علیزے کے شوہر ہیں؟

(وہ منان کو شادی کی تصویروں میں دیکھ چکا تھا)”

اس نے معنی خیزی سے علیزے کو دیکھتے ہوۓ منان سے کہا تھا۔

“ہاں جی۔۔۔” علیزےکے رویے سے منان کے لیے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ وہ شہروز ہی ہے۔

“آپ جانتے ہیں میں کون ہوں اور آپکی بیوی سے میرا کیا تعلق رہا ہے؟”

شہروز نے پوچھا تھا۔

اور علیزے کو اپنے پیروں تلے سے زمیں نکلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔

بے شک وہ اپنے بارے میں منان کو سب کچھ بتا چکی تھی۔

مگر شہروز سے کیا بعید تھا کہ وہ اپنی طرف سے کہانیاں گھڑ کے منان کو علیزے سے متنفر کرنے کی کوشش کرتا۔

“میں اپنی بیوی کو جانتا ہوں میرے لیے یہی کافی ہے۔

اور آپ جیسا شخص جو بیچ بازار میں کسی لڑکی کا راستہ روک کر کھڑا ہو جاۓ بغیر اسکی عزت کی پرواہ کیے،وہ کسی کی کم عمری کی نادانی تو ہو سکتا ہے،منزل نہیں ہو سکتا۔”

منان نے اپنی بات مکمل کرنے کے بعد علیزے کو لیکر باہر کی طرف قدم بڑھا دیے تھے۔

اور علیزے کو یوں لگا تھا جیسے وہ تپتے صحرا سے ایکدم چھاؤں میں آ گئی ہو۔