Skip to content

Gul nawakif e Bahar thy by Mehtab Zahoor Complete novel

  • by

اس کہانی میں کچھ کردار اپنے ایمان کی سلامتی کے لیے جنگ لڑتے نظر آئیں گے اور کچھ کردار اپنے ضمیر سے جنگ لڑتے نظر آئیں گے۔ یہ کہانی حلال اور حرام رزق کے فرق کے گرد گھومتی نظر آئے گی۔ یہ کہانی ہے بانو اور حیدر کی۔ یہ کہانی ہے ایک وکیل کی جو محبت پر یقین نہیں رکھتی مگر کوئی اسے محبت پر یقین کرنا سکھائے گا۔ اور محبت کے اصل مفہوم سے روشناس کروائے گا۔ یہ اے ایس پی روحاب داؤد کی محبت کی کہانی ہے۔ جو اپنی محبت سے ایک لڑکی کی ساری دلیلوں کو ہراتے ہوئے خود سے محبت کرنے پر مجبور کر دے گا۔

Roshan andhera by Anam Nadeem Complete novel

  • by

اسکو اپنا اپ ایک غار میں محسوس ہو رہا تھا ایک ایسا غار جہاں سوائے اندھیرے کے کچھ نہ ہو اسکو اپنے سینے میں ایک درد محسوس ہوا جسے کوئی کانٹے چبو رہا ہو اسکو لگا وہ پھر کھبی سانس نہیں لے سکے گی اسکا خون اسکو جمتا ہوا معلوم ہو رہا تھا اسکے ماتے پر نھنی نھنی پسینے کی بوندے ایی ہوئی تھی یوں جسے ایک ہی پل میں آسمان اور زمین دونوں اس پر ایک کر دی گی ہو اتنی بڑی اذیت اتنا بڑا دکھا وہ ہاتھوں میں لئے ان تین تصویروں کو دیکھی جا رہی تھی آنکھوں سے پانی نکل کر اسکے گالو پر آتا ہوا معلوم ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔

Beopar afsana by Rushna Akhter

  • by

اسے یاد تھا جب وہ پہلی بار خوبصورت پہاڑی علاقے کی سیر کو نکلے تھے اور گاڑی تنگ راستے سے گزرتے نیچے جا گری تھی ۔ اس حادثے میں اس کے بابا جان اور ننھی بہن ہادیہ چل بسے تھے ابھی وہ زخم مندمل نہیں ہوا تھا کہ والدہ کی موت نے اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا لیکن یہ امی کے ساتھ یہ اچانک حادثہ ہوا تو ہوا کیسے؟ یہ سوال اسے بے چین کیے ہوۓ تھا ۔ گیس اس دن لیک کیسے ہوگئی ؟ جہاں تک اسے معلوم تھا اس کی والدہ بہت محتاط خاتون تھیں۔

Deedar e mehboob by Saira Ramzan Complete novel

  • by

اس میں ذکر ہے ایک قدیم زمانے میں بسنے والے محبت سے بھرے ملک کی۔

جس کے ہر فرد کو دوسرے کے ساتھ الگ ہی ہمدردی اور لگاؤ تھا۔ اور ان سب کا کریڈٹ ان کے رحمدل بادشاہ کو دیا جاتا ہے ۔

جو اپنی سلطنت میں کسی قسم کی برائی برداشت نہیں کر سکتے تھے ۔ مگر وہ کہتے ہیں نا کہ اللہ اپنے پیاروں سے ہی امتحان لیتا ہے ۔ پھر وہ چاہے کسی بھی صورت میں لیں۔ مگر اس میں انسان کے لیئے کوئی نہ کوئی بہتری ضرور ہوتی ہے۔

اگر ہم اس کا ذکر کرے تو اس میں نفرت سے محبت کا سفر نہیں۔۔۔۔بلکہ محبت سے نفرت تک کا سفر ہے۔ جس میں پیار بھی ہےاور جنگ بھی،،خوشی بھی اور غم بھی ،،،جیت بھی اور ہار بھی،،،،،،

جس میں دو جسم محبت کے راستے پر چلتے تو ہیں۔مگر بغیر کسی شناخت کے ،،،،منزل کی فکر کئے بغیر ۔

اب یہ تو وقت ہی بتاتا کہ ان کی زندگی کونسی مشکلات کی منتظر ہے ۔

Marze isqa by Hira Nisar Complete novel

  • by

انمول مجھے تم سے بات کرنی ہے ارمان ملک مجھے تمہارے ساتھ کوئی بات نہیں کرنی تم اپنی بیوی کی عیادت کرو ویسے بھی اسے تمہاری ضرورت ہے جاؤ اس کے بعد اب تو خیر سے خوشخبری انمول تم میری بات سنو گی میں نہیں سونے والی انمول تم میری بیوی ہو اپ پاگل ہے میں اپ کی بیوی کیسے ہو سکتی ہوں میں اپ کی بیوی نہیں ہوں لوگ اسے بولی تھی تم میری بیوی ہو جیسے اس نے نکانی نامہ دکھایا تھا ٹھیک ہے اپ مجھے بھی ڈوز دیں ابھی اس کے منہ میں یہ بات ہی کہ رحمان کا ہاتھ اٹھا تھا اج دوسری دفعہ زندگی میں تم پاگل ہو میں تمہیں ڈوز نہیں کروں گا اپ مجھے بلا لوں گی ٹھیک ہے تم لوگ یہ بات بولنے کے ساتھ کمرے سے باہر انے لگا تھا جب اس کو دماغ میں کچھ لکھا ہوا تھا اس نے انمول کے بازو پکڑی اور اس کو جکڑ کے باہر لایا تھا جبکہ انور مسلسل اپنا باز چھڑوا رہے تھے ارمان نے کیا کرے چھوڑو انمول کہاں تھا اب اگر کوئی میرے یا انمول کے بیچ ایا تو قسم سے جو میں کرنے والا ہوں نا اس کے بعد اپ سب لوگ سوچتے رہیں گے چلو میرے ساتھ اس کو اپنے کمرے میں لے کر جا چکا تھا انڈے جانے کے ساتھ بالکل اپ کر چکا تھا تو اس سے بڑھا کر ویڈیو دکھا رہا تھا ان کا کہ یہ دیکھو دیکھو تم لیکن ارمان ملک تمہاری بیوی ون سیکنڈ ون سیکنڈ تم نے میرے ساتھ دوسری شادی کی ہے ہادیہ بھی تمہاری کام ہے اور یہیں سے اس کی غلت بہن بڑی تھی

Raksam e ishq by Bisma Mehar Complete novel

  • by

رونے کی وجہ سے اس کی آنکھوں کے پپوٹے سوج چکے تھے ۔شہد رنگ آنکھیں رونے کی وجہ سے کافی سرخ ہو چکی تھیں

وہ تو گھر سے اپنے باپ کے ساتھ نکلی تھی ۔اس کے باپ نے کہا تھا کہ وہ اپنے دوست سے ملنے جا رہا ہے اور اسے بھی ساتھ لے کر چلے گا اور واپسی پر آئسکریم بھی کھلائے گا ۔وہ تو خوشی خوشی تیار ہو کر نکلی تھی اس کے باپ نے زندگی میں پہلی بار کوئی اس طرح کی پیشکش کی تھی۔جو اس کی پوری زندگی برباد کرنے والی تھی ۔

اپنے باپ کے دوست کے گھر پہنچتے ہی اس نے جوس پیا تھا جس کا ذائقہ عجیب تھا اس کا ذہن آہستہ آہستہ غنودگی میں جا رہا تھا ۔اچانک اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا ۔اخری چہرہ بیہوش ہونے سے پہلے جو اس نے دیکھا وہ اس کے باپ کا ہی تھا وہ کسی ادمی کے ساتھ محو گفتگو تھا ۔اس کے بعد کیا ہوا اسے کچھ بھی یاد نہیں ۔اس کی آنکھ ایک کمرے میں کھلی جو نہ تو زیادہ پر آسائش تھا اور نہ زیادہ بوسیدہ ۔ابھی وہ غائب دماغی سے کمرے کا جائزہ لینے میں مصروف تھی جب دو درندے نما انسان کمرے میں داخل ہوئے ۔وہ آنکھوں میں ہوس لیے اسے ہی دیکھ رہے تھے ۔اور وہ سترہ سالہ معصوم پری جس کا اپنے باپ کے علاوہ مردوں سے بہت کم واسطہ پڑا تھا ان سے اپنی عزت کی بھیک مانگ رہی تھی ۔

اس بات سے انجان کہ وہ جس دلدل میں پھنس چکی ہے وہاں سے رہائی نا ممکن سی بات ہے ۔

Marwareed by Aqsa Batool Hayyat Complete novel

  • by

“کیا کسی کو دیکھنا گناہ ہے ؟” سامنے کھڑے شخص کا لہجہ سوالیہ ہوا۔ جانے اب وہ سوال تھا یا مزید گفتگو کا بہانہ۔

“نا محرم کو مسلسل گھورنا گناہ ہے۔” جواب بھی فوراً آیا تھا۔

“اور نا محرم کے ساتھ سفرکرنا۔۔۔؟” بے اختیار اس کے منہ سے نکلا۔

“وہ بھی گناہ ہے۔” بیگ اسنے اپنے کندھے پر ڈلا۔ یعنی اب وہ جانے لگی تھی۔

اس سے پہلے کے وہ واقعی چلی جاتی، وہ چند قدم مزید آگے آیا ۔

“کیا اب ہم کچھ دیر کے لیے بھی بات نہیں کرسکتے؟”

جیکٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ خفا سا ہوا۔

اس کی آنکھوں میں خفگی کا تاثر دیکھ کر اس لڑکی کی آنکھیں پھیلیں۔ وہ چند قدم چل کر اس کے سامنے آئی۔ پھر تھوڑا مزید آگے ہوئی، عین اس کے سامنے۔

“ہم بات کرسکتے تھے، لیکن آپ نے اعتماد قائم ہونے سے پہلے ہی کھو دیا۔” اس کا لہجہ زخمی ہوا۔

“آپ مجھے دس منٹ تو دے ہی سکتی ہیں۔” اسنے التجا کی۔

کئی سال پہلے وہ اسکی امید تھا، وہ اسے برا نہیں لگتا تھا لیکن اب اچھا بھی نہیں لگتا۔

اور مومنوں کی امیدیں نہیں مرتیں۔ وہ سامنے کھڑے شخص کو دیکھتے ہوئے سوچنے لگی۔

“کیا وہ اسے مایوس کردے ،وہ جو کبھی واحد امید تھا۔”

“کیا وہ اسے واقعی دس منٹ دینے والی تھی؟”

Mohabbat ho to aesi by Rida Bint e Tahira Complete novel

  • by

“یہ کہانی ایک ایسی عورت کی ہے۔ جو اپنے حسد اور لالچ کی وجہ سے جان نثار کرنے والے رشتوں کو نفرت کی بھینٹ چڑھا دیتی ہے ۔ اس کہانی میں کچھ ایسے کردار بھی ملیں گے جو اپنی محبت اور جان نثاری سے یہ ثابت کر دیتے ہیں۔ کہ

“محبت ہو تو ایسی ہو”

Nigah e muntazir by Faiqa Azam Complete novel

  • by

یاد ہے کبھی میں اس پوزیشن میں یہاں تنہا لون میں بیٹھا تھا ۔تب میں پریشان تھا ۔تم نے مجھ سے میری پریشانی پوچھی تو میں بتاے بغیر نارہ سکا ۔

آج تمہاری حالت بھی بالکل ویسی ہے جو اس عظیت سے گذارا ہو وہ سمجھ سکتا ہے ۔لیکن تم میں اور مجھ میں فرق بس اتنا ہے کہ میں نے اپنی پریشانی تمہیں بتا دی تھی ۔اور تم کبھی بھی نہیں بتاو گئے ۔مگر تم کچھ کہو یا نا کہو میرا دل تمہاری آنکھیں پڑنے میں اب ماہر ہوچکا ہے ۔

بینچ پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھے ابرام کی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔وہ یونہی چاند کی طرف دیکھتا رہا ۔اچھا تو پھر بتا دیں کہ اپکا یہ بیٹا ۔کس مرض میں مبتلا ہے ۔وہ چاند کی طرف دیکھتے ہوئے بولا تو ۔جہانذیب اسکے دائیں جانب اکر بیٹھ گئے ۔اواذ دی ابرام ۔۔ادھر دیکھو ۔ابرام نے بامشکل چہرہ جہانزیب کی طرف موڑا ۔

جہانزیب نے اسکی تھوڑی کے نیچے اپنے ہاتھ کی چار انگلیاں رکھیں ۔اور اسے یونہی دیکھتے رہے ۔ابرام نے ان کی ہتھیلی کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور اپنی دونوں آنکھوں پر باری باری لگایا ۔

جب سب کچھ چھپا کر رکھے ہوئے تھا ۔تب بھی پل پل مر رہا تھا ۔اب سب کچھ بتا چکا ہوں تو ۔ڈر لگ رہا ہے کہ کچھ کھو نا دوں ۔جب سب چھپا رکھا تھا ۔تو وہ کم از کم میرے پاس تو تھی۔اب بتا چکا ہوں تو کہیں اسے کھو نا دوں ۔وہ بھیگی آنکھوں سے اعتراف کرتا ۔جہانذیب کے چودہ طبق روشن کروا گیا ۔کیا واقعے ہی اسے گوری سے محبت ہوگئی تھی ۔جہانذیب بے یقین دیکھائی دیے ۔مگر وہ کھلے الفاظوں میں پوچھنے کی ہمت نہیں رکھتے تھے ۔اگر پوچھ بھی لیتے تو شاید وہ نابتاتا ۔

Guzar basar afsana by Farah Anwaar

  • by

“ہاں بھئی! کیا نام ہے تمہارا کس لیے آئے ہو؟”

“میں یوسف ہوں۔ رپورٹ درج کرانے آیا ہوں.”

“کیا رپورٹ درج کرانی ہے؟” تھانے دار نے مونچھوں کو تاؤ دیا۔

“میری سبزی والی ریڑھی چوری ہو گئی ہے آج رات کو.”

تھانے دار نے سر سے پاؤں تک یوسف کو آنکھیں پھاڑ کر دیکھا۔

“سبزی والے ہو؟”

“جی سبزی والا ہوں.”

“لگتے تو نہیں ہو۔ دکھنے میں تو کوئی ہیرو ہو اور بیچتے سبزی ہو___ ہہہم”

“اچھا تو یہ بتاؤ__ ریڑھی کو تالا لگایا تھا؟”

“جی اچھی طرح سے باندھا تھا۔” یوسف نے جواب دیا۔

“رسی سے باندھا تھا___پھر تو چوری ہونی ہی تھی۔”