Skip to content

Kasuri methi by Naina Malik Complete novel

  • by

زندگی میں ہمیشہ انسان کو دو مائیں ملتی ہیں۔۔۔۔ایک وہ جو حقیقی ہے اور ایک وہ جو ٹوٹ جانے پر بڑی محنت سے سمیٹ کر دوبارہ زندگی بخشتی ہے۔۔۔۔۔۔ مگر پلاٹ ٹوسٹ تو یہ تھا کہ مجھے زندگی دینے والی دوسری ماں ہی وہ عورت تھی جس نے مجھ کو توڑا تھا۔۔۔۔۔توڑ کر بکھیرا تھا۔۔۔۔پھر بڑی خوبصورتی سے سمیٹا تھا۔۔۔۔۔ مانو ایسے ٹوٹنے کی خاطر میں ہزار دفعہ اپنے رب کے آگے بھیک کیلئے جھولی پھیلاؤں۔

انسان کو اپنی تکمیل کی خاطر زندگی میں ایک بار ٹوٹنا لازم ہے۔۔۔۔۔ ٹوٹ کر بکھر جانا ۔۔۔۔۔ اور پھر ؟ اور پھر کوئی آکر آپ کو یوں سمیٹ دے جیسے آپ کبھی ٹوٹے ہی نہ تھے ۔

Tu jo chahy by Jannat Sheikh Complete novel

  • by

زیان یہ ٹرائی کرو تم پر کافی سوٹ کرے گا۔۔۔

نہیں از کا تم اپنے لیے کچھ دیکھ لو میرے کپڑے ہیں۔۔۔ میں لے کر دے رہی ہوں نا اور تم مجھے منع کر رہے ہو اور تم میری پسند کا سوٹ پہنو گے صبح اور میرے لیے تم سلیکٹ کرو گے ازکا زیان کا سوٹ پیک کروا کے اب اپنے لیے ڈریس لینے اتی ہے۔۔۔

زیان دیکھو یہ کیسا ہے۔۔۔

اس شوپ میں کوئی بھی نہیں اچھا تم میرے ساتھ چلو میں تمہیں بتاتا ہوں لڑکیاں کیسے کپڑے پہنتی ہیں۔۔۔ زیان کو کافی تجربہ تھا کیونکہ وہ جب بھی اپنے لیے کچھ لیتا تو ساتھ ایت ماحم امی کے لیے بھی شاپنگ کرتا ۔۔۔زیان اس کو ایک سفید فراک نکال کر دکھاتا ہے جاؤ یہ ٹرائی کرو۔۔۔

زیان میں نے کبھی اس طرح کے کپڑے نہیں پہنے ۔۔۔یار ٹرائی تو کرو بہت پیاری لگو کی زیان ازکا کو انسسٹ کرتا ہے۔۔۔

جب وہ پہن کر اتی ہے تو زیان فورا اس کے پاس جا کر پوچھتا ہے کیسا فیل کر رہی ہو ۔۔سہی فیل کر رہی ہوں ۔۔۔وہ تعجب سے کہتی ہے۔۔۔۔ یہ ہیں لڑکیوں کے پہننے والے کپڑے۔۔۔

تو پہلے کیا میں لڑکوں والے پہنتی تھی ۔۔

لڑکوں والے تو نہیں تھے لیکن لڑکیوں کے بھی قابل نہ تھے ایسے کپڑے پہنا کرو دیکھو کتنی پیاری لگ رہی ہو۔۔۔ ازکا کو شیشے کے سامنے کھڑا کرتے ہوئے کہتا ہے ۔۔۔زیان ازکا کے کندھے سے بال ہٹا کر اس کے فراک کی ڈوری باندھتا ہے۔۔۔۔ اج تم مجھے کوئی باڑ بی لگ رہی ہو۔۔۔۔ تو پھر ٹھیک ہے میں یہی پہنوں گیں صبح کیونکہ اب تو تم نے کہا ہے میں ضرور پہنوں گیں۔۔۔۔

وہ نظر چڑا کر بول رہی تھی دراصل وہ شرما رہی تھی کیونکہ اس سے پہلے زیان اس کے اتنا قریب نہیں ایا تھا

Ishq E Borzam (Season 2 Of Jaan e Bohram) by Sam Asif Complete novel

  • by

آئزہ کیا ہوا ہے؟

کچھ نہیں بس اندر گھٹن سی محسوس ہو رہی تھی اس لیے باہر آگئی

وفا کا سوال سنتے آئزہ مسکراتے بولی تو وفا بھی اس کے پاس آتی جھولے

پر بیٹھی تبھی باقی بچے(برزم،الیحا،برہان،ارمغان،روحیل،زوبیا،عارب،

حوریہ) بھی باہر آتے ان دونوں کے پاس اردگرد کے صوفوں پر بیٹھے

اسے کیا ہوا ہے؟

روحیل بھائی بابا کے ایک دوست نے آئزہ کا رشتہ بھیجا ہے اور بابا نے

انہیں ہاں بھی کر دی ہے اگلے ہفتے اس کی منگنی کی رسم رکھی ہے بابا

آج یہ بات سب کو بتانے والے ہیں بس اسی لیے اس کا منہ بنا ہوا ہے

روحیل کے سوال پر برہان فوراً بولا تو سب نے آئزہ کو مبارکباد دی جسے

آئزہ نے بجھے دل سے وصول کیا

کیا بات ہے پرنسیس کیا تم اس شادی سے خوش نہیں ہو؟

آئزہ کی خاموشی دیکھتے برزم فوراً اس کے پاس بیٹھتا اس کے گرد اپنا بازو

پھیلاتا بولا تو آئزہ نے سے جھکاتے نفی میں سر ہلایا

اور کیا میں وجہ جان سکتا ہوں؟

برزم بھائی مجھے یہ شادی نہیں کرنی

کیوں تم کیا کسی کو پسند کرتی ہو بتاؤ بتاؤ

آئزہ کے ہلتے سر کو دیکھ کر برزم نے سوال کیا تو آئزہ فوراً بولی جس پر حوریہ

ایکسائٹڈ سی ہوتی بولی

ہممم اگر ایسی کوئی بات ہے تو بتا دو میں بڑے بابا سے بات کر لونگا

نہیں بھائی ایسی کوئی بھی بات نہیں ہے بس مجھے ابھی شادی نہیں کرنی

آپ سب کو چھوڑ کر ابھی نہیں جانا

حوریہ کی بات سنتے برزم بھی مسکراتے بولا تو آئزہ نے فوراً جواب دیا جس

پر سب نے مسکراتے اسے دیکھا اس سے پہلے کے کوئی کچھ بولتا آئزہ فوراً

برزم کے سینے سے لگتی رونے لگی اور سب کو پریشان کر گئی

آئزہ یار کچھ نہیں ہوا ابھی تو ویسے بھی انگیجمینٹ ہو رہی ہے تو اس میں

رونے کی ضرورت نہیں ہے شادی ہم تمہاری مرضی سے کر لیں گے

جب تم کہو گی ہم بڑے بابا سے بات کر لیتے ہیں

سچ میں بات کرو گے نا مجھے ابھی شادی نہیں کرنی

Aakhri Manzil by Dua Fatima Complete novel

  • by

“کون کہہ سکتا ہے کہ تم وہی حیدر ہو جو ہر وقت چوں چراں کرتا رہتا تھا۔۔۔چپ بیٹھنا تو حیدر نے سیکھا ہی نہیں تھا۔ اب اتنے خاموش ہو۔ مجھے تو ٹینشن ہو رہی ہے۔”، صائم ٹلنے والا نہیں تھا۔ حیدر ہلکا سا مسکرایا۔

”تو آپ کیا چاہتے ہیں کہ ہسپتال کے بیڈ پہ بیٹھ کے ڈانڈیا کھیلوں؟”، اس نے مذاق میں کہا تو صائم مزید قریب آیا۔

”زائرہ آئی تھی تم سے ملنے۔”، اس نے حیدر کے سر پہ بم پھوڑا تھا۔ حیدر آنکھیں پھیلاۓ اسے دیکھے گیا۔

”مگر تم ہوش میں ہی نہیں تھے تو میں نے ہی اسے کمپنی دے دی۔” صائم نے کاندھے اچکا کے کہا اور حیدر کے بے یقین چہرے کو دیکھا۔

”منہ بند بھی کر لو بھائی۔ مکھی گھس جاۓ گی۔”، اس نے شرارت سے کہتے ہوۓ حیدر کا منہ بند کیا۔

”کیا کہہ رہی تھی؟”، حیدر نے گجھ نارمل ہو کر پوچھا۔

”کہہ رہی تھی کہ کیا ہو گیا میرے فیوچر ہسبینڈ کو؟ میں کہیں شادی سے پہلے ہی بیوہ نہ ہو جاؤں؟”،صائم نے شرارت سے کہتے ہوۓ حیدر کی آنکھوں میں بڑھتی بے یقینی کو دیکھا اور ہنس پڑا۔

”ارے عیادت کرنے آئی تھی تمہاری اپنی ممی کے ساتھ۔۔۔لاہور سے اسپیشیلی تمہارے لیے آئی تھی۔”، صائم نے کہا تو حیدر نے تھوڑا سانس لیا۔

”اس کی ممی نے کچھ بتایا تھا ہماری ممی کو۔۔۔”، کچھ دیر کی خاموشی کے بعد صائم نے سنجیدگی سے کہا تو حیدر کے کان کھڑے ہو گۓ۔

”رشتہ آیا ہے اس کا۔۔۔وسیم انکل کے کسی دوست کا بیٹا ہے۔ ان کے فیملی ٹرمز بھی ہیں اس فیملی کے ساتھ۔”، صائم نے کہا تو حیدر رخ موڑ گيا۔

“ابھی بھی وقت ہے حیدر۔۔۔رشتہ بھجوا دو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ کسی اور کے نام کی مہندی لگا کر تمہیں اپنی شادی کے کارڈ کے ساتھ ساتھ مٹھائی کا ٹوکرا بھی بھیجے۔”، صائم نے کہا تو حیدر نفی میں سر ہلانے لگا۔

”نہیں۔ اسے میں نے کہا تھا کہ وہ میری پڑھائی ختم ہونے کا انتظار کرے۔ مگر وہ بضد ہے کہ ابھی ہی شادی کروں۔تو میں یہ نہیں کر سکتا۔”، اب کے وہ بولا تو آواز اور لہجے میں سنجیدگی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔

”اور اگر تمہاری اسی ضد کے چکر میں واقعی مٹھائی آ گئی نا تو رونے کے لیے اپنا کاندھا میں ہر گز مہیا نہیں کروں گا۔”، صائم نے کہا تو حیدر نفی میں سر ہلانے لگا۔

”نہیں، وہ ہاں نہیں کرے گی اس رشتے کو۔”، حیدر نے کہا تو صائم اسے گھورنے لگا۔

”کیوں؟ کیوں ہاں نہیں کرے گی؟”، صائم نے پوچھا تو وہ ہلکا سا مسکرایا۔

”وہ مجھ سے محبت کرتی ہے بھائی۔ اور میں بھی اسی سے شادی کروں گا۔”، حیدر نے کہا تو صائم نے گہرا سانس لیا اور کچھ قریب ہوا۔

”کبھی اپنی انا اور خوش فہمی کے خول سے نکل کر دیکھنا۔ دنیا بہت الگ ہے۔ ویسی بالکل نہیں ہے جیسی تمہیں نظر آتی ہے۔ زائرہ ایک لڑکی ہے۔۔۔اور وہ کب تک بنا کسی وجہ کے رشتوں کو ریجیکٹ کرتی رہے گی؟ ایک نہ ایک رشتے پہ تو ہاں کرنی ہی ہو گی نا اسے۔”، صائم نے کہا تو حیدر نے چہرہ موڑ کے اسے دیکھا۔

“کیا میری محبت کافی نہیں ہے رشتوں کو ریجیکٹ کرنے کے لیے؟”، اس نے پوچھا تو صائم نے ہلکے سے نفی میں سر ہلایا۔