Skip to content

Adhoray mukamal novel by Elena Qureshi Complete novel

  • by

ادھوری محبت اور نفرت کی داستان، ادھورے ہجر اور وصال کی داستان، ادھوری زندگی اور موت کی داستان، ادھورے اپنے اور پرائوں کی داستان، ادھورے غم اور خوشیوں کی داستان، ادھوری بہار اور خزاں کی داستان، ادھوری روشنی اور اندھیرے کی داستان، ٹوٹ کر مکمل جڑنے کی داستان

مختصر یہ کہ ادھورے کرداروں ”

کی مکمل داستان ”

یہ ناول کرداروں کے گرد گھومتا ہے جو اسلام، مذہب، دین، خدا اور نیکی جیسے الفاظ سے ناآشنا ہیں۔انکے لئے زندگی کا مقصد” *میں اور میری مرضی” ہے۔ بقول ان کے، جو بھی دنیا میں انسان حاصل کرتا ہے وہ اس کی اپنی قابلیت کی بنا پر ہے جبکہ ایک کردار تو سرے سے اللہ کے ہونے پر بھی یقین نہیں رکھتا(نعوذبااللہ)۔

یہ تینوں دو لڑکے اور ایک

لڑکی زندگی

کے کچھ موڑ پر ملتے ہیں, جس سے یہ آپس میں جڑ جاتے ہی، لیکن اپنی غلطیوں اور گناہوں کی وجہ سے تینوں الگ ہو جاتے ہیں۔

ان سالوں میں ان تینوں کی الگ الگ سٹوری چلے گی جن میں کچھ tragadies انہیں اسلام کی طرف لے جائیں گی۔ اس میں ہماری فیمیل لیڈ ایک ہندو لڑکی سے ملے گی جس کے ساتھ مل کر وہ اسلام کو ایکسپلور کرے گی۔

اصل میں ہندو لڑکی *رتیقا* کی سائڈ سٹوری ہے جس میں رتیقا” عشق مجازی سے عشق حقیقی کا سفر” کر کے اپنے مذہب کو بدلے گی،” اسلام “قبول کرے گی

ادھورے مکمل داستان آپ لوگوں کو کچھ سکھائے یا نہیں مگر امید ہے کہ آپ کی ادھوری زندگیوں کو کہیں نہ کہیں مکمل کرنے کی ادنیٰ سی کوشش ضرور کرے گی، یقیناََ کچھ جگہوں پر آپ کو آپ کے رب کے نزدیک بھی کر دے گی۔ ” بس ایمان پختہ اور نیت صاف ہونی چاہیے۔”

# *انسان تو پھر ادھورے مکمل کی سب سے بہترین مثال ہے ۔*✨

Pyar mera nafrat bhara by Aiman Akmal complete novel

  • by

زری ایک لڑکی تمہارا نام پوچھ رہی تھی میں ایج سے لے کر گھر کے ایڈریس تک سب بتا آئی۔ عشاء تو ایسے بتا رہی تھی جیسے کوئی کارنامہ کر دیا ہو

بس فون نمبر رہ گیا. عشاء اداس ہوئی

کیا مطلب کس کو بتا آئی ہو؟ زریام کے تو ہوش اڑے تھے

دعا دو گے مجھے فری میں ایک گلر فرینڈ مل گئی

شکریہ ادا مت کرنا۔ ایسے چھوٹے موٹے کام میں کرتی رہتی ہوں۔ ویسے مبارک ہو تمہیں اب تم سنگل نہیں رہے

عشاء تو مسکرا رہی تھی لیکن زویا کے چہرے کا رنگ اڑ چکا تھا

یار عشاء یہ کوئی طریقہ۔۔۔۔۔

اوہ کملی جی ناں پوچھدی۔۔۔۔ کیندی ہاں یاں کہ نا پوچھدی

او لبھدی بہانے پھردی۔۔۔۔۔۔ کدے کافی کدی چاہ پوچھدی

زریام کچھ کہنے ہی لگا تھا جب عشاء گنگنانے لگی

میں پھیرا اگنور ماردا کیوں کہ ٹوٹیا ہے دل یار دا

یار ہی نے جیرے سانبھی جاندے نے عشاء نے خود کو مہان محسوس کرتے بائیں پھیلائی

زریام حیران و پریشاں بیٹھا ایک نئی مووی کا ٹریلر دیکھ رہا تھا

بس کر دو عشاء ہر بات مزاق نہیں ہوتی۔ زویا غصے سے کہتی اٹھ کر چلی گئی

اسے کیا ہوا؟ زریام نے اسے غصے میں جاتے ہوۓ دیکھ پوچھا

میں دیکھ کر آتی ہوں؟ عشاء بھی اس کے پیچھے جانے کے لیے کھڑی ہوئی لیکن دو قدم چلنے کے بعد بھاگ کر واپس زریام کے پاس آئی

یہ گانا پرفیکٹ میچ تھا لیکن ایک مسئلہ ہے یار تمہارا دل ٹوٹا ہوا نہیں ہے تو پھر ایسا کرو پہلے اپنا دل تڑواؤ اور پھر ہم یہی سے شروع کریں گے ۔ عشاء اسے آنکھ مارتی زویا کے پیچھے جانے لگی جبکہ زریام نفی میں سر ہلا کر رہ گیا

زویا منہ بناۓ بینچ پر بیٹھی تھی جب عشاء اس کے ساتھ آکر بیٹھی

ایسے کیا دیکھ رہی ہو تمہارا ہی ہے۔ عشاء نے اس کے کندھے سے کندھا مس کیا

ک۔کیا مطلب

زویا جو زریام کو ہی دیکھ رہی تھی جس کے پاس کچھ لڑکیاں کھڑی تھیں اور وہ بھی ایسے بات کر رہا تھا جیسے اس کے ماموں کی بیٹیاں ہوں اپنی چوری پکڑے جانے پر ہڑبڑا کر بولی

تمہیں کیا لگتا ہے میں نہیں جانتی اس بارے میں۔ بچپن کی دوستی ہے میری تم سے چہرہ بھی پڑھ لیتی ہوں

اور وہ تاثرات تو واضح جھلک رہے ہوتے ہیں جو زریام کو کسی لڑکی کے ساتھ دیکھ کر تمہارے چہرے پر آتے ہیں۔ عشاء نے اس کے گرد باہیں پھیلاتے اس کی تھوڑی پر انگلی رکھتے اسکا چہرہ اپنی طرف موڑتے کہا

عشاء میں بہت کوشش کرتی ہوں اس سب سے نکلنے کی لیکن یہ میرے بس میں نہیں رہا یار۔ میں کیوں اس کے بارے میں سوچتی ہوں۔ اس کا کسی سے بات کرنا مجھے کیوں اچھا نہیں لگتا مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا ہے یار میں کیا کروں؟ مجھے ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے۔ جب بھی وہ کسی لڑکی سے ہنس کر بات کرتا ہے تو دل میں خوف پیدا ہو جاتا ہے

زویا اپنے جذبات بتانے سے بھی ڈرتی تھی اور زریام کے کسی اور کے بارے میں جذبات جاننے سے بھی ڈرتی تھی

اگر وہ کسی سے۔۔۔۔۔۔

تمہیں لگتا ہے ایسا کچھ ہو گا ہر لڑکی کو تو وہ ایسے ٹریٹ کرتا ہے جیسے اس کی گرل فرینڈ ہو لیکن یار اسکا وہ ڈائیلوگ ساری لڑکیاں میری بہنیں ہیں

Watan ki matti gawah rehna by Memona Noman Complete novelette

  • by

“شیرازی صاحب آپ کو یاد ہے کہ چند مہینوں پہلے میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایک لڑکے نے خود کو آپ کا بیٹا کہا تھا؟”

اس سوال پر ان کی رنگت اڑ چکی تھی۔

” تت۔۔ تم کس ویڈیو کی بات کر رہے ہو۔ میری یادداشت میں ایسی کوئی ویڈیو نہیں ہے؟”

ان کے ہکلانے کا وقت شروع ہو چکا تھا۔

“اگر آپ کو یاد نہیں پڑتا تو میں آپ کو یاد کروائے دیتا ہوں کہ آپ کا ایک اور بیٹا ہے جس کا نام زین شیرازی ہے جو آپ کی پرانی محبوبہ سمینہ بٹ کا بھی بیٹا ہے۔۔۔ ویسے آپ دونوں کی شادی کب ہوئی تھی۔ سمینہ بٹ نے اطلاع نہیں دی اور نہ ہی آپ نے؟؟”

میں انجان بنتے ہوئے ان کے تاثرات سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ مجھے مزا آرہا تھا۔ شیرازی صاحب کی بینڈ بجنا شروع ہو چکی تھی۔ ان کا چہرہ پسینے سے تر ہو رہا تھا۔ انہوں نے ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کی۔ شاید ان کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔

“آپ کی جانب سے مستقل خاموشی ہے۔ کیا میں اپنے سوال کا جواب یہ سمجھوں کہ آپ دونوں کے درمیان شادی ہی نہیں ہوئی تھی؟”

“وہ میرا بیٹا نہیں ہے۔”

وہ ضبط سے بولے ورنہ ان کی آنکھیں مجھے سالم نگلنے کو بےتاب تھیں۔

“کوئی ثبوت ہے آپ کے پاس ان گھٹیا الزامات کا؟”

“ارسلان آفریدی ثبوت کے بغیر کوئی بات نہیں کرتا۔ ثبوت ہے آپ کی اور آپ کے بیٹے کی ڈی این اے ٹیسٹنگ رپورٹ جو کہ 95 پرسنٹ پوزیٹو ہے۔”

میں ایک ایک لفظ چبا کر بولا۔

“آپ میری انسلٹ کر رہے ہیں۔”

اپنے ہاتھ میں پکڑی رپورٹ پر نظریں دوڑائے بغیر انہوں چہرے پر بمشکل مسکراہٹ قائم رکھتے ہوئے کہا لیکن چہرے کے برعکس ان کی نظریں آگ اگل رہی تھیں۔

” آپ کی انسلٹ کرنے والا میں نہیں آپ خود ہیں، آپ کے کرتوت ہیں۔ انسان وہی کاٹتا ہے شیرازی صاحب جو وہ بوتا ہے۔” میں نے اپنی بات دہرائی جو میں نے ان سے اپنی پہلی ملاقات پر کہی تھی۔

“ہاں جی تو ناظرین اب وقت ہوتا ہے ایک چھوٹے سے بریک کا۔ پھر ملتے ہیں۔”

میں نے بریک کا کہا کیونکہ میری پیچھے اسٹوڈیو میں طوفان برپا ہوچکا تھا۔ شیرازی کے بیٹے کے ذکر پہ جو ہلچل شروع ہوئی تھی وہ صدیقی صاحب کے آجانے پہ بھی نہیں تھمی تھی۔ اب مجھے مستقل بریک لینے کی ہدایات موصول ہورہی تھیں۔

“بریک کی ضرورت نہیں کیونکہ مجھے ارجنٹ کام ہے۔ میرے پاس صرف آدھے گھنٹے کی فراغت تھی.ل اور وہ آدھا گھنٹہ میں آپ کو دے چکا ہوں تو اب میں چلتا ہوں۔”

وہ سکون سے گویا ہوۓ لیکن یہ سکون آگے آنے والے طوفان کی پیش گوئی تھا۔

“چلیں شیرازی صاحب آپ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے میں آج کا پروگرام یہیں ختم کرتا ہوں۔ وہ الگ بات ہے کہ مجھے آپ سے ابھی مزید کئی سوالات پوچھنے تھے۔”

میں نے آخر میں بھی ان کو جتانا ضروری سمجھا کہ ابھی تو میں آپ کو چھوڑ رہا ہوں لیکن اگلی دفعہ باندھ کے رکھوں گا۔ جب کہ وہ مجھ سے ہاتھ ملاتے ہوئے اپنی آنکھوں سے مجھے بہت کچھ باور کرواتے ہوئے وہاں سے واک آؤٹ کر چکے تھے۔ اب انہیں باہر بے شمار رپورٹرز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بے شمار سوالات ان کے سامنے رکھے جائیں گے، جن کے جواب یقیناً ان کے پاس نہیں ہوں گے۔ ظاہر ہے جھوٹ بولنا جتنا آسان ہے سچ بولنا اتنا ہی مشکل۔

Safar zindagi ka by Amna Tariq complete novel

  • by

“آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں؟”۔

بڑی مشکل سے ٹائپ کیا تھا

چند ثانیے بعد اس کی کال آگئی۔

“ہاں تو کیا پوچھ رہی تھی تم؟”۔

وہ خاموش رہی۔

“تو تم پوچھ رہی تھی کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں کہ نہیں؟”۔

“جی”۔

“آفکورس محبت کرتا ہوں تم سے”۔

“آپ شادی بھی مجھ سے کریں گے؟”

چند سیکینڈ خاموشی رہی پھر اس کا قہقہہ ابھرا

“حیات یہ کیسا سوال ہے؟”۔

“آپ بس جواب دیں”۔

“تم سے پیار کرتا ہوں تو شادی بھی تمہی سے کروں گا حیات”۔

دل کا اک گوشہ پرسکون سا ہوا

“مامی مان جائیں گی؟”۔ ڈر بجا تھا

“تم ٹینشن مت لو۔ امی کو میں منالوں گا۔۔ تم مجھ پر بھروسہ رکھو آئی پرامس شادی میں تمہی سے کروں گا”۔

اس کا دل مطمئن ہوا۔

امید تھی وہ اپنا پرامس پورا کرے گا ۔۔۔

پر کیا انسانوں سے امید لگانی چاہئے؟؟

کیا انسان ہمیشہ اپنا وعدہ پورا کرتے ہیں؟؟

کیا انسان بھروسہ کرنے کے قابل ہیں؟؟