Chahton k parinde by Alia Hira Complete Novel
Chahton k parinde by Alia Hira Complete Novel Chahton k parinde by Alia Hira Complete Novel This is social romantic Urdu novel based on fiction… Read More »Chahton k parinde by Alia Hira Complete Novel
Chahton k parinde by Alia Hira Complete Novel Chahton k parinde by Alia Hira Complete Novel This is social romantic Urdu novel based on fiction… Read More »Chahton k parinde by Alia Hira Complete Novel
Zindan e sitam khulte nahi by Yasmeen Nishat Complete Novel Zindan e sitam khulte nahi by Yasmeen Nishat Complete Novel This is social romantic Urdu… Read More »Zindan e sitam khulte nahi by Yasmeen Nishat Complete Novel
Sahilon ke geet by Rukh Choudhary Episode 6 to 7 Sahilon ke geet by Rukh Choudhary Complete Novel This is social romantic Urdu novel based… Read More »Sahilon ke geet by Rukh Choudhary Complete Novel
یہ ایک فرضی کہانی ہے اور میں چاہتی ہوں کہ اسے فرضی کہانی کی طرح ہی پڑھا جائے۔۔اس میں بہت سے سینز ایسے ہوں گے جو کہ آپ کو تب تک فضول لگیں گے جب تک کہ آپ ان کو سمجھ نہ لیں۔۔اس ناول میں موجود ہر ٹاپک کو لکھنے کے پیچھے کوئی مقصد ہے اور جو وہ سمجھ جائے وہی عقل مند ہے۔۔علاوہ ازیں جب تک کہانی مکمل نہ ہو جائے اس کے بارے میں کوئی رائے اختیار نہ کریں کیونکہ آخر میں آپ کو پچھتاوا ہو سکتا ہے۔۔یہ کہانی راستوں کو پہچاننے کی ہے۔۔ان راستوں کو پہچاننے کی کہانی جہاں ہمیں جانا تھا مگر ہم بھٹک گئے تھے۔
یہ کہانی ہے ایک ایسی لڑکی کی جو صبر کا پیکر تھی ۔اپنے خوابوں کے پیچھے بھاگنے والی اپنے حقیقی ماں باپ کی جستجو میں اپنی زندگی میں بہت سے دکھ دیکھنے والی،لیکن ہر حال میں اللہ کی رضا میں خوش رہنے والی۔
یہ کہانی ہے ایک بزنس ٹائیکون کی جو ایک معمولی سے استانی پر دل ہار بیٹھا اس کی انکھوں اورمعصومیت سے پیار کرنے لگا.
یہ کہانی ہے خونی رشتوں سے پیار اور عزت کی.
یہ کہانی ہے دوستوں کی کھٹی میٹھی باتوں کی ۔.
یہ کہانی ہےاپنے رب سے مضبوط تعلق جوڑنے کی یہ کہانی ہے بچھڑے ہوئے لوگوں کو ایک کرنے کی۔
سب اپنی “قیمتی زندگی”، کو اس “سبز پاک ملک” جیسے مفتے کا مال سمجھے بیٹھے ہیں۔ سب جیسے ہے، چلتا رہے پر مطمئن ہیں اور سب اس وطن کے خرابے میں برابر کے شریک ہیں۔ پچھلے دنوں اخبار میں پڑھا کہ ملک کا ایک پڑھا لکھا نوجوان طبقہ ملک کو چھوڑ کر چلا گیا ہے تو شبیر بدر کے دیوں کی جوت بجھتے دیکھی اور پھر خود کو دلاسہ دیا کہ “شبیر بدر” سالوں بعد جنم لیتے ہیں، جیسے ایک “نہال بخاری” کی جھلک میں آن موجود ہوا۔ ہر کوئی یہاں کی تہذیب، تنگ نظری کو نشانہ بناتا ہے خواہ اندر کے لوگ ہوں یا باہر کے، پر جب قدم اٹھانے کی باری آتی ہے تو سب ڈرپوک گیدڑ کی طرح چھپ جانا چاہتے ہیں۔ اور مغرب کی تعریفوں کے راگ الاپنے والے وقتی سہولتوں کے پیچھے زندگی داؤ پر لگائے، “شاطر دماغوں” کے بھروسے “تیز گام” دنیا میں محو ہیں۔ چلو لوٹ لو مزے، کیونکہ “جس کا چابک، اسی کا گھوڑا۔” تم لوٹ آؤ گے، تم لوٹ آؤ گے اور ہم مل کر شبیر بدر کے مشن آزادی کا تحفظ کریں گے۔ ہم مل کر سبز ہلالی پرچم کے سائے میں پھر سے “ایک” ہو جائیں گے۔
“یہ پیاری ہے ؟” شاویز نے “یہ” پر زور دیا
“ہاں ” ایک لفظی جواب ۔۔۔۔۔
” سب سے زیادہ ؟” شاویز نے پھر سے سوال کیا اور شیزا کو محسوس ہوا کہ شاویز جان بوجھ کر شیزا کو تنگ کرتے ہوئے بات طویل کر رہا ہے
” نہیں میری دوستوں سے زیادہ نہیں ” شیزا کی بات سن کر شاویز ہنس دیا
” سب سے زیادہ ہے مان جاؤ پلیز” شاویز نے اب شیزا کے سامنے معصومیت سے پلیز کہا جس پر شیزا بھی ہنس دی۔۔۔
” ہم دونوں کی پسند الگ ہے شاویز” شیزا پھر سے سنجیدگی سے بولی ۔۔۔
” مگر میں تو تمھیں پسند ہوں نا ۔۔۔۔ اپنی پسند کےلئے مان جاؤ ۔۔۔ ویسے بھی تمھاری دوستوں سے تو زیادہ ہی پیاری ہو گی نا ” اب کی دفعہ شاویز بغیر کسی تاثر کے بولا تھا
” شاویز دوستوں کے خلاف میں بات نہیں سنوں گی” شیزا اب کی دفعہ بہت ہی سپاٹ لہجے میں بولی تھی جسے شاویز نے واضح محسوس کیا
” خلاف تو میں نے کی ہی نہیں۔۔۔۔ جو حقیقت تھی وہ بتائی ” شاویز بھی اب سنجیدگی سے بولا جس پر شیزا کو بہت غصہ آیا شیزا نے کھڑکی بند کر دی اور کچھ سوچنے کے بعد بولی
” غصہ دلا رہے ہیں آپ ۔۔۔
میری دوستیں واقعی زیادہ پیاری ہیں ” شیزا کا غصہ اس کے لفظوں کی حد تک محسوس ہو رہا تھا
” نہیں پیاری وہ۔۔۔میں نے خواب میں دیکھی تھی سب ۔۔۔ میں جھوٹ کیوں بولوں گا۔۔۔ آپ کو پیاری لگتی ہیں تو ان کی خاطر آپ جھوٹ کیوں بول رہی ہیں ؟ ” شاویز آج پہلی دفعہ شیزا کی دوستوں کے خلاف کچھ کہہ رہا تھا اور شیزا کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ ایسا کیوں کہہ رہا ہے
” میں آپ کو صفائیاں نہیں دینا چاہتی ” شیزا اس موضوع سے اکتا رہی تھی
” صفائیاں دوستوں کی کرو۔۔۔۔ تا کہ سب پیاری ہو جائیں ” آخر پر شاویز پھر سے ہنس دیا
آج پہلی بار شیزا کو شاویز کی ہنسی بری لگ رہی تھی
” تمھیں پیاری لگیں یا نہ لگیں۔۔۔ اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ” آج بہت عرصے بعد شیزا نے شاویز سے “تم” کہہ کے بات تھی وہ ہمیشہ شاویز کو “آپ” کہتی تھی
” ان سے اچھی تو میری کزن ہے” شاویز اب شیزا کو چھڑاتے ہوئے کہہ رہا تھا
” دوستوں کے بارے میں کچھ نہیں سنتی میں” بہت ہی سنجیدہ لہجے سے بولی تھی ۔۔۔
“سچ کڑوا ہوتا ہے ” شاویز نے طنز کیا تھا جس پر شیزا کا موڈ مزید خراب ہو رہا تھا
” میں اپنی امی کی بہت عزت کرتی ہوں ۔۔۔ مگر۔۔۔ تب بھی دوستوں کے بارے میں ان کی کوئی بات نہیں سنتی ” شیزا کا لہجہ اب وارننگ دینے والا تھا
“بڑا ڈھیٹ ہے وہ ….اچھا چلو دیکھتے ہیں کب تک انتظار کر سکتا ہے …نالائق ….”
ان کے لہجے میں طنز بھی واضح تھا- “حضور !چوہدری سے ملاقات کر لیں ناں وہ انتظار کر رہے ہیں چار گھنٹے سفر کر کے آئے ہیں ”
“اچھا بڑے آئے استاد !مجھے سبق مت سناؤ ،بڑے آئے اس کے ہمدرد …ہونہہ …” “اچھاحضور یہ بتائیں ناں کہ کیوں نہیں مل رہے ہیں آپ ؟اگر کوئی غلط فہمی وغیرہ ہےدل میں تو بتائیں ناں تاکہ دور ہو ،شیطان کا کام بھی ویسے ہی لڑائی کرانا ہے ،آپ بھائیوں کی محبت تو قصبے بھر میں مشہور تھی ،حضور یہ کیسے ممکن ہے ؟”کرمو نے ڈرتے ڈرتے کہاتھا ،اس کا لہجہ خطیبانہ تھا – “دفع ہو جاؤ ورنہ کھا لو گے میرے ہاتھ سے ایک چماٹ ،تم کوئی میرے سیکٹری لگے ہو ،میں کچھ نہیں بتا رہا ،پتا نہیں کہاں سے آگیا ہے یہ منحوس تھانیدار !….ہونہہ ….” انہوں نے کرمو کو شانے سے پکڑ کر باہر دھکیلا اور دروازہ دے مارا –
“عامر فاروقی کون ہے ہنیہ؟”
ہنیہ کو زور دار برقی لہر چھو گئی۔ زبان گنگ ہوگئی اور آنکھیں پھٹ گئیں۔ وہ غائب دماغی سے سجاد کو دیکھنے لگی۔ منعم بھی حیران تھی کہ سجاد کو کیسے پتا چلا۔
“بولو ہنیہ؟ کون ہے یہ آدمی؟ تم جانتی ہو اسے ؟”
سجاد غصہ دبا رہا تھا۔
“بھائی وہ۔۔میرا نیٹ فرینڈ۔ ”
وہ منمنائی.
“وہی نیٹ فرینڈ جس سے رشتہ بھیجنے کی فرمائش کرکے تم کل اس سے ملنے جارہی ہو؟”
افف کس قدر تذلیل محسوس ہوئی تھی ان جملوں سے۔۔یہ محبت اسے رسوا کررہی تھی۔ منعم منہ کھولے حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
“ہنیہ کیا یہ سچ ہے؟”
“نہیں بھائی ملنے نہیں بس دیکھنے۔۔ پھر وہ رشتہ بھیج دے گا۔”
وہ حد سے زیادہ بیوقوف تھی۔
“ہنیہ میرے بچے۔۔۔ کوئی رشتہ نہیں بھیجے گا۔۔ فلرٹ ہے وہ ایک نمبر کا۔۔ پتا نہیں کتنی ہی لڑکیوں کو ملنے بلا چکا ہے۔ اسے بھی بیوقوف ہی بنایا ہے اس نے۔۔ نیٹ پر سب جھوٹ ہوتا ہے ایسے یقین نہیں کرلیتے اور تمہیں شادی کی کیوں پڑ گئی؟ عمر نکل گئی یا ہم مر گئے؟”
سجاد معاملے کو نزاکت سے سنبھال رہا تھا۔ وہ خاندانی لوگ تھے۔ غصے سے وہ باغی ہوسکتی تھی۔
“تمہیں یہ سب کیسے پتا؟”
منعم نے تھوک نگلا۔
“علی بھائی ہیں نا پیچھے جو دو گلی چھوڑ کر رہتے ہیں۔ وہی ہمارے علاقے میں کیبل نیٹ پرووائیڈر ہیں۔ علاقے کے سارے کمپیوٹرز کا ایکسیس ہے انکے پاس۔۔ یہ پچھلے ڈیڑھ سال سے اس لڑکے سے رابطے میں ہے۔ جب تک سب نارمل تھا تب تک انہوں نے بھی نوٹس نہیں لیا مگر اب جب یہ رشتہ شادی اور ملنے ملانے جیسی خرافات میں پڑ گئی تو انہوں نے مجھے کال کیا۔۔مینو تم سوچ سکتی ہو کیسی ذلت محسوس ہوئی ہوگی مجھے۔”
سجاد کا لہجہ ڈوب گیا تھا۔ ہنیہ اپنی دھجیاں اڑتی ہوئی دیکھ رہی تھی۔ وہ برف ہوگئی تھی۔
منعم نے ڈبڈبائی آنکھوں سے اسے دیکھا۔ وہ جانتی تھی ہنیہ ٹوٹ رہی ہے۔
“علی بھائی نے اسکی چیٹس دکھائی مجھے۔۔ یہ اسکو بتا رہی تھی کہ یہ کیسی دکھتی ہے۔۔ایک غیر مرد کو دعوت دے رہی ہو تم ہنیہ؟”
ہنیہ نے چہرہ چھپا کر رونا شروع کردیا۔ وہ اصلی زندگی میں کتنی شریف تھی۔ کتنی معصوم۔ کوئی راہ چلتا بھی اسکی حیا اور کردار کی گواہی دے دیتا اور یہ نہ دکھائی دینے والی جادوئی نگری اسکی شرافت پر سوال اٹھا رہی تھی۔ وہ کچھ سمجھ نہیں پارہی تھی کہ کیا سچ تھا اور کیا جھوٹ۔۔
یہ کہانی 2005 سے 2009 کے درمیان کی ہے
جب وٹس ایپ کا دونا تھا فیس بک بہت کم
لوگ استعمال کرتے تھے زیادہ تر لوگوں کے پاس
سادہ Nokia موبائل ہوا کرتے تھے ۔
یہ کہانی کسی کی حقیقی زندگی پر مبنی ہے
اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حالات
کیسے بھی ہوں اللہ پر کامل یقین تقدیر کو بدل
دیتی ہے
وقت اور حالات کیسے بھی ہوں ہمیں اللہ سے
کبھی نا امید نہیں ہونا چاہیے بے شک وہ غفور الرحیم ہے ہمیں ہر مشکل میں اسی سے مدد مانگنی چاہیے ۔