Skip to content

Bikhray kuch is tarah by Raiha Chohan Complete novel

  • by

وہ مجھے آپ کی فکر ہو رہی تھی اس لیے۔

وہ اس سے بات کر رہی تھی کہ

مراد نے اس کی بات کاٹ دی۔

کیوں میری کیوں فکر ہو رہی تھی

۔میں کوئی چھوٹا بچہ تھوڑی ہوں

۔جس کی فکر کرنی پڑے۔

وہ اسے باتیں سنانے لگا اب۔

نہیں میرا مطلب وہ نہیں تھا۔

آپ آئے نہیں گھر ہمارے اس لیے مراد

سب آئے آپ نہیں آئیں۔مراد

اسے جو سمجھ آیا اس نے بول دیا۔

لیکن بار بار اس کا نام لینے پر

وہ اسے غصہ دلا چکی تھی۔

میں بہت مصروف ہوتا ہوں۔

اگر نہیں آیا تو کوئی وجہ ہوگی

Mantasha Short novel by Sidra Chaudhary

  • by

زعما

جی ماہیر۔

تم نے فجر پڑھی۔

جی آپ کے جاتے ہی پڑھ لی تھی۔اور آج آپ لیٹ ہوگئے۔میں نے ناشتہ بھی تیار کر لیا ہے۔

ارے واہ بیگم۔ٹھیک ہے ناشتے کے بعد تیار ہو جاؤ۔تمہارے لیے سرپرائز ہے۔

کیا سرپرائز ہے۔

ارے ارے سرپرائز تو سرپرائز ہوتا ہے۔مل جائے گا لیکن تھوڑی دیر بعد۔

ٹھیک ہے آپ ناشتہ کریں میں ابھی تیار ہو کر آئی۔

اچھا چلو سفید سوٹ پہننا جو میں نے تمہیں دلایا تھا۔

اچھا جی جو حکم آپکا ۔

حکم نہیں بس درخواست ہے

جی جی اور آپکی درخواست منظور ہو چکی ہے۔زعما ہنستے ہوئے کہہ کر تیار ہونے چل دی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماہیر چلیں میں تیار ہوں۔زعما نے عبایا پہنتے ہوئے کہا تھا۔

ارے ارے بڑی تیزی دکھائ بھئ آپ نے تو۔ماہیر نے اسے پانچ منٹ میں تیار دیکھ کر چھیڑا تھا۔

اچھا ٹھیک ہے نہیں ہوتی تیار۔زعما نے اپنے ہاتھ روک کر فوراً منہ بنا کر کہا تھا ۔اور صوفے پہ بیٹھ گئ تھی۔

اچھا اچھا ناراض مت ہو۔کیوں صبح مجھے گناہ گار کر رہی ہو۔چلو چلیں۔ماہیر نے زعما کا ہاتھ پکڑ کر اٹھاتے ہوئے کہا تھا۔

Saneha afsana by Qurrat Ul Ain Ainee

  • by

’’؎ ہر دیہات کھیت پر کھلیان سلامت

کوہسا ر درخشاں، تیرے میدان سلامت

مزدور، معلم، یہ قلمکار ،ہنرور

اے پاک وطن تیر ا ہر عنوان سلامت‘‘

ماریہ نے ہمیشہ کی طرح اپنا پسندیدہ شعر اُونچی آواز میں دہرایا۔اُسے یہ شعر بچپن سے بہت پسند تھا

’’ہاں،ہاں۔ مزدور، معلم، ہنرور ، لکھاری ،سبھی اچھے اور عظیم۔ ایک ہم فوجی بُرے ، جو کبھی تمہارے شعروں میں نہیں آتے۔ میں تو اسی آس میں رہ جاتا ہوں کے شاید میری بہن میری اور پاک افواج کی تعریف کر دے ۔مگر نہیں، دن رات اپنے سکول کی تعریفیں یا کھیتوں کو دُعائیں۔ نہیں دُعا دینی تو صرف فوجیوں کو۔چڑیل،بھتنی۔‘‘علی نے اُونچی آواز میں اُسے کوسا۔

Alhamd se Wannass by Umaima Shafeeq Qureshi complete novel

  • by

یہ کہانی ہے مختلف کرداروں کی

ایک ایسی لڑکی کی جو منطقی باتوں پر یقین رکھتی ہے

جسے آخرت،جنات اور فرشتوں پر یقین نہیں….

ایک ایسے شخص کی جس نے اپنا مذہب تبدیل کر لیا ہے

یہ کہانی ہے ایک معصوم اپسرا کی

اور ایک ایسے شخص کی جس کی ذہانت کا کوئی جواب نہیں…. یہ کہانی ہے الحمد سے والناس تک کے سفر کی

Dosti ki ek lehr novel by Anusha Kiran Season 1

  • by

“یہ کیا ہو رہا ہے”

معیز نے پاس کھڑے ایک لڑکے سے پوچھا۔

“کسی لڑکی کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔ بائیک والے نے ہٹ کیا تھا اور فوراً بھاگ بھی گیا۔”

اس لڑکے نے بتایا۔

“ہمیں چل کے دیکھنا چاہیے”

ماہم ثناء اور معیز سے بولی۔

وہ تینوں آگے بڑھے تھے۔ ہجوم کے بیچ راستہ بناتے جب وہ آگے بڑھے تو شاہ کو وہاں دیکھ انہیں حیرت ہوئی تھی لیکن شاہ کے ساتھ انوشے کو دیکھ ان کا دل کٹ گیا تھا۔ شاہ نے انوشے کا سر اپنی گود میں رکھا تھا۔ وہ خون روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔ سفید شرٹ خون سے لال ہو چکی تھی۔

“یہ…یہ کیسے شا…شاہ یہ”

ثناء شاہ کے ساتھ بیٹھتی انوشے کا چہرہ تھپتھپانے لگی تھی۔ معیز بھاگا ہوا پارکنگ کی طرف گیا تھا۔ گاڑی روڈ پر لاتے وہ شاہ کی طرف بڑھا تھا۔ آذان اور حماد بھی ماہم کے کال کرنے پر وہاں پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے بامشکل شاہ کو سنبھالا تھا۔

شاہ نے انوشے کو گاڑی میں ڈالا تھا۔ معیز ڈرائورنگ سیٹ سنبھال چکا تھا۔ ثناء بھی ان کے ساتھ تھی جبکہ پچھلی سیٹ پر شاہ نے بیٹھتے انوشے کا سر اپنی گود میں رکھا تھا۔

✧⁠_⁠_⁠_⁠_⁠_⁠_⁠_⁠_✧

ہاسپٹل پہنچتے شاہ نے انوشے کو سٹریچر پر لٹایا تھا۔ انوشے کا چہرہ زرد اور ہونٹ سفید پڑ گئے تھے۔ سٹریچر اندر لے جاتے ہوئے بھی شاہ نے اس کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔ آخر کار وہ اسے لے گئے جبکہ شاہ اپنا ہاتھ دیکھتا رہ گیا۔

“ادھر بیٹھ… تو دیکھنا سب ٹھیک ہو جائے گا…کچھ نہیں ہوتا اسے وہ بالکل ٹھیک ہو جائے گی”

معیز شاہ کو سائیڈ پر لگے بینچز کی طرف لے جاتے بولا۔

“مع… معیز و..ہ… اسے کچھ ہوا تو میں…”

اس سے سہی طرح بولا نہیں جارہا تھا

“کچھ نہیں ہوگا… کچھ نہیں ہوگا…..

“she’ll be alright

معیز اس کی بات بیچ میں کاٹتے ہوئے بولا۔

کچھ دیر بعد ان کے باقی دوست بھی ہاسپٹل پہنچ چکے تھے۔

“یہ لے پانی پی”

سہیل بوتل شاہ کی طرف بڑھاتے بولا تو شاہ نے نفی میں سر ہلایا

“میں کیسے کچھ کھا پی لوں جبکہ مجھے پتا ہے کہ وہ اندر تکلیف میں ہے۔ جب تک وہ ٹھیک نہیں ہوتی تب تک کچھ بھی نہیں چاہیے۔ مجھے یہاں تکلیف ہو رہی ہے “

شاہ دل کے مقام پر ہاتھ رکھتے بولا

“ہمیں بھی تکلیف ہو رہی ہے تجھے ایسے دیکھ کر پلیز اسے نہ کر پانی تو پی لے نا۔ اپنی نہیں تو ہماری خاطر ہی سہی”

حسین کے بولنے پر شاہ نے اس کے ہاتھ سے بوتل تھام لی۔ کانپتے ہاتھوں سے اس نے بامشکل دو گھونٹ اپنے اندر انڈیلے ۔

✧⁠_⁠_⁠_⁠_⁠_⁠_⁠_⁠_✧

وہ شیشے سے اندر جھانک رہی تھی آنکھوں سے نکلتے آنسوں تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ آذان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ مڑی۔

“She’ll be fine”

وہ اسے تسلی دی بولا لیکن وہ جو اپنے اوپر ضبط کیے ہوئے تھی اب ہچکیوں سے رونے لگی۔

“شش …ٹھیک ہو جائے گی وہ۔ ایسے مت رو دعا کرو اس کے لیے”

Pyar ek shart pe by Rimsha Riaz Complete novel

  • by

کیا ہوا کیوں آگئی کلاس میں تو ٹائم ہے، ؟

تمھیں کیا لگا تم نے تو ویسے بھی ٹائم پاس ہی کرنا ہے نا ایحان اور اس بار مجھ سے کر رہے ہو! مسفرہ تڑخ کہ بولی

کیا کہہ رہی ہو مسفرہ ، وہ پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھنے لگا

تم مجھ پہ شرط لگا بیٹھے ایحان کیا میں اتنی سستی اور گری پڑی چیز ہوں ، وہ پھٹ پڑی

تم غلط سمجھ رہی ہو وہ بس مذاق تھا مسفرہ ، مگر میں نے تم سے منگنی کی ہے میں پیار کرتا

منگنی کچا رشتہ ہوتا ہے اور جب تمھارا ٹائم پاس ہو جائے گا تو چھوڑ جاؤ گے ناں ، وہ ہنسی ایک تھپڑ اس کے گال چھو گیا ۔

جان نکال کہ رکھ دوں گا تمھاری اگر ایسا کچھ زہن میں لایا ، اور رہی بات نکاح کی تو ہمارا نکاح اب اسی ہفتے ہو گا آئی سمجھ وہ اس کا بازو پکڑ کہ بولا

مجھے نہیں کرنی

اہاں! سوچنا بھی مت ! ایحان نے گرفت بڑھائئ

بہت برے ہو تم! وہ چھڑاتے ہوئے بولی

اچھا ہو سکتا ہوں ، شرط اگر لگا بھی لی تو کیا ہو گیا کہ آج تک تمھارے ساتھ کچھ برا کیا نہیں نا! وہ اس کو سہلاتے ہوئے بولا ۔

وہ ناں میں سر ہلانے لگی

تو پھر، اس نے اس کی ٹھوڑی اوپر اٹھائی

غصہ ہو مجھ پہ؟

ہمم تھوڑا سا، وہ معصومیت سے بولی

اوکے ٹیک یور ٹائم۔وہ کمفرٹ ٹیبل کر رہا تھا۔

ایحان ! سوری تو بولو!

نہیں یار میری ایگو ہرٹ ہوگی! وہ ہنسا

پر تم شادی کے بعد برتن دھو گے تو سوری تو پھر چھوٹی سے چیز ہے، وہ معصومیت سجائے بولی

وہاٹ! تم مجھ پ

سے برتن دھلاو گی، وہ سینے پہ ہاتھ رکھ کہ بولا

استری بھی کر سکتے ہو ، سنڈے کو صفائی مل کر کر لیں گے ناں ، وہ پلان بتا رہی تھی

توبہ توبہ ! تمںیں شوہر نہیں نوکر چاہیے مجھے زن مرید نہیں بننا بھیئ

Dil e beqrar by Palwasha Safi Complete Novel

  • by

“آہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ۔۔۔۔۔۔۔ ” کمرے میں داخل ہوتے وہ پورے تاب سے چلائی۔
“اورہان۔۔۔۔ پیغام۔۔۔۔۔ ” وہ فیصلہ نہ کر سکی۔
“یہ تم نے بالکل اچھا نہیں کیا۔۔۔۔۔ ” طیش میں آتے اس نے تکیہ اٹھا کر دور اچھال دیا۔
“عرشیہ درانی کو دھوکہ دیا۔۔۔۔ اتنا بڑا دھوکہ۔۔۔۔۔ اس کی سزا تمہیں ضرور ملے گی پیغام۔۔۔۔۔” وہ گلا پھاڑ پھاڑ کر چلانے لگی۔
“میں تمہیں دکھاؤں گی۔۔۔۔ کہ تم نے کس سے پنگا لیا ہے۔۔۔۔۔ آ۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ۔۔۔۔۔ برباد کر دوں گی میں تمہیں۔۔۔۔۔ نہیں چھوڑوں گی۔۔۔۔” اس نے دانت پیستے بدلے کا عزم بنایا۔

Fana e hijar by Noor Ul Ain Mustafa Complete novel

  • by

”اگر فیصل منظرِ عام پر آگیا تو کیا ہوگا ؟ “ اس کے پوچھنے پر ارمان دوبارہ سے سوچ میں پڑ گیا۔ نعمان کو اس بلا وجہ کی خاموشی سے کوفت ہو رہی تھی۔

” اس پر دفعہ 302 لگے گی ۔“ نعمان کا سر گھوم اٹھا۔ ”بھائی! یہ دفعہ 302 گیا ہے ؟“ ارمان نے اسے سخت نظروں سے گھورا۔

” بتا رہا ہوں۔ پہلے سن تو لو ۔“ اس نے ایک لمحے کا توقف لیا ۔یہ بولنا بھی اس کے لیے بہت مشکل تھا۔پھر اس نے لمبا سانس بھرا ۔

”دفعہ 302 کے تحت اگر ایک انسان نے کسی کو قتل کیا ہے تو اسے سزائے موت یا عمر قید ہوگی ۔“ نعمان اور اسرا نے اس کی جانب حیرت سے دیکھا ۔

”اس میں آگے بہت سی کنڈیشنز بھی آ جاتی ہیں کہ قتل غلطی سے ہوا ہے یا جان بوجھ کر کیا گیا ہے۔ اب فیصل نے جان بوجھ کر کیا ہے تو اسے سزا تو ملے گی۔ “ اب کی بار کمرے کی فضا میں ایک سرد پن گھل گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔

” مگر وہ تو بدلہ لے رہا ہے نا ؟ قتل کے بدلے میں قتل کر رہا ہے !“ اسرا کی بات پر ارمان نے اثبات میں سر ہلایا ۔

” پھر اسے کیوں سزا ملے گی ؟ “اب کی بار نعمان شاکڈ لہجے میں بولا تو ارمان نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔

”اسرا، نعمان ! قانون مجرم کے مجبوریاں نہیں دیکھتا۔ وہ یہ نہیں دیکھتا کہ مجرم نے کوئی جرم کیوں کیا ہے؟ وہ صرف مجرم کا جرم دیکھتا ہے اور اسے سزا دیتا ہے ۔“ وہ اپنے آپ پر ضبط کے گہرے پہرے بٹھاتے ہوئے گویا ہوا ۔اس کی بات پر نعمان جھنجھلا اٹھا۔

” پھر دلاور شاہ کے جرم کو کیوں نہیں دیکھا گیا ؟ اس کے ساتھیوں کے جرم کو کیوں نہیں دیکھا گیا ؟ ان کو بھی تو سزا ملنی چاہیے ۔“ وہ طیش کے عالم میں بولا۔

” نعمان ! ہوش کے ناخن لو۔ یہاں انصاف کا نظام نہیں بلکہ لاٹھی کا نظام رائج ہے ۔تم نے نہیں سنا جس کی لاٹھی اس کی بھینس ؟“ نعمان نے اس کی بات پر اپنا سر جھٹکا۔ یہ کیسا نظام تھا ؟؟

”کل لاٹھی دلاور شاہ کے پاس تھی۔ ظاہری طور پر آج بھی اسی کے پاس ہے ۔مگر اصل میں آج لاٹھی فیصل افنان احمد کے ہاتھوں میں ہے ۔اور وہ سب کو سزا دے گا ۔“ اب اس کا غصہ ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ اسے سمجھ آگئی تھی کہ وہ قانون کے ذریعے کچھ نہیں کر سکتا ۔

Dastaan e mohabbat by Ameer Hamza Complete novel

  • by

وہ سترہ سال کی اسفندیار کے سامنے جارہی تھی۔۔۔۔۔۔وہ اس سے ہاتھ ملا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس سے بات کر رہی تھی اپنی ماں کے کہنے پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس سے باتیں کرتے اس کی عادت ہونے لگی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسے اس سے محبت ہونے لگی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سچی محبت!!!

مگر محبتیں کہاں ملا کرتی ہیں سائرہ!!!

وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ

والنجم والشجر یسجدن (55: 6) (تارے اور درخت سجدہ ریز ہیں) بعض آیات میں اس کی تعبیریوں کی گئی ہے۔

تسبیح لہ ……………. تسبیحھم (71 :44) (اس کی پاکی تو ساتوں آسمان اور زمین اور وہ ساری چیز بھی بیان کررہی ہیں جو آسمان و زمین میں ہیں۔ کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کررہی ہو مگر تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں۔ ) اور دوسری جگہ ہے۔

الم تر ………… وتسبیحہ (4 2 : 1 4) (کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کی تسبیح کررہے ہیں وہ سب جو آسمان اور زمین میں ہیں اور وہ پرندے جو پر پھیلائے اڑ رہے ہیں۔ ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے۔ )

جب انسان اس حقیقت پر غور کرتا ہے کہ پوری کائنات سجدہ ریز ہے اور اللہ کی حمدوثنا میں رطب اللسان ہے تو انسانی قلب کو حق تعالیٰ تک پہنچنے کا بہت بڑا زاد راہ ملتا ہے۔ وہ اپنے ماحول کو زندہ سمجھتا ہے ۔ اس سے محبت کرتا ہے اور اس کے ساتھ ہمقدم ہوکر اللہ کی طرف فرار اختیار کرتا ہے۔ یہ سوچ روح کائنات سے یہ ہم نشینی انسان کو اس کائنات کا دوست بنادیتی ہے۔

یہ نہایت ہی دوررس اشارہ ہے اور بہت ہی گہرا ہے۔

وہ اب اپنے کمرے میں آئینے کے سامنے سرخ لباس میں مسکرا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔اس نے اسے اپنے پیچھے آئینے میں دیکھا تھا۔۔۔۔۔اب وہ اسے چھپا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ نیچے آکر برتھڈے کا کیک کاٹ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسکی نگاہ اسفندیار کو ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بے ساختہ!!!!

وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ

آسمان کو اس نے بلند کیا اور میزان قائم کردی ۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو ، انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو) یہاں آسمان کی طرف اشارہ ہے ، قرآن کے دوسرے اشارات کی طرح یہ بھی غافل دلوں کو جگانے کے لئے ہے اور اس کو اس طرف متوجہ کرنا مطلوب ہے کہ آسمان کو رات اور دن تم دیکھتے ہو تم اس کی اہمیت نہ کھو دو ۔ اس پر غور کرو ، اس کی عظمت اس کے جمال اور اس کی صفت میزانیت پر غور کرو کہ اس کے مدار اور رفتار میں بال برابر فرق نہیں آتا اور اس کے ذریعہ قدرت والے کی قدرتوں کو دیکھو۔

آسمان سے مراد جو بھی ہو ، یہاں حکم دیا جاتا ہے کہ ذرا اوپر کو دیکھو ، تمہارے اوپر ایک ہولناک فضا ہے۔ بہت بلند بہت دور ، بلا حدود وقیود ، اس فضا کے اندر ہزار ہا ملین عظیم الجثہ اجرام فلکی تیر رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی دو آپس میں نہیں ملتے۔ ان کا کوئی مجموعہ دوسر مجموعات سے متصادم نہیں ہوتا۔ ان مجموعات کی تعداد میں ایک ایک مجموعے کی تعداد بعض اوقات ایک ہزار ملین تاروں تک پہنچ جاتی ہے۔ ہمارے نظام شمسی کو جس مجموعے کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اس میں ہمارے سورج جیسے اجرام بھی ہیں اور اس سے ہزار ہا گنا بڑے بھی ہیں۔ فقط ہمارے سورج کا قطر 21۔ املین کلومیٹر ہے اور یہ سب ستارے اور یہ سب کا مجموعے اس کائنات کے اندر نہایت ہی خوفناک تیزی کے ساتھ حرکت پذیر ہیں لیکن یہ سب اس عظیم اور محیرالعقول وسیع فضائے کائنات میں اس طرح ہیں جس طرح زمین کی فضا میں ذرات تیرر رہے ہیں جو ایک دوسرے سے دور دور چلتے ہیں اور ان کے اندر کوئی تصادم نہیں ہوتا۔ (اور اگر ہوجائے تو ؟ )