Skip to content

Musht e khaak by Laraib Fatima complete novel

” چلیں بھی آگے بولیں جلدی ۔۔ کیا کر سکتے ہیں ہم۔۔؟ “

اسکے استفسار پر ابھی زمار کچھ بولتا اس سے پہلے ہی وہ خود بول اٹھا ۔۔

” کیا میں ارتضیٰ کو خود شوٹ کر سکتا ہوں۔۔یہ میرا بہت بڑا خواب ہے اسے ختم کر دینا اسے زندہ جلا دینا ۔۔کیا میں کر سکتا ہوں ایسا۔۔۔؟ “

اسکے ایسے استفسار پر سامنے بیٹھے زمار کے جبڑے بھینچ گئے تھے اسنے بہت مشکل سے خود کو کچھ بھی کہنے سے بعض رکھا اور اپنی ادھوری بات جاری کی۔۔

” ہم ابھی بس یہ کریں گے کہ ارتضیٰ کو کال کریں گے اور بتائیں گے کہ اب جب وہ پاکستان آ ہی گیا ہے تو ہوش میں رہے قدم قدم پر اسکی جان کو خطرہ ہے ۔۔ اور اسکے ہر عزیز کی جان کو بھی۔۔ اسے بتائیں گے کہ صرف وہ ہی دس سال پہلے والی کہانی میں نہیں لوٹا ہے ہم بھی واپس آئیں ہیں۔۔ اور اب دیکھتے ہیں کہ جیت کس کی ہوتی ہے ۔۔”

زمار وحشت زدہ سی مسکراہٹ چہرے پر سجائے کہتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔ اسکے ساتھ ہی دوسرا شخص بھی کھڑا ہوا تھا ۔۔

ابھی زمار دروازے کی جانب بڑھتا اس سے پہلے ہی پیچھے سے آنے والی آواز پر ٹہر گیا ۔۔

” میرا خیال ہے اسکے اس دینا میں عزیز تو شاید نکل ہی آئیں مگر وہ بیچارہ جانتا نہیں ہے کہ اسکے کچھ خونی رشتے اس دنیا میں اب بھی موجود ہیں۔۔۔ میں بہت پر جوش ہوں اسے کڑوی حقیقت سے آشنا کروانے کے لئے۔۔”

Intiqam e Mohabbat novel by Syeda Noor-ul-ain

  • by

یہ کہانی پارس اور وجیح کی ہے….

پارس نے زندگی میں اتنے دھوکے کھائے تھے کے وہ کسی پر بھی بھروسہ نہ کر پاتی تھی…

پھر بھی وہ اس کے قریب ہو چلی تھی….

پر اسکے ساتھ پھر سے وہی ہوتا ہے..

جو ہمیشہ سے ہوتے آیا تھا…

پر اس بار سب کچھ بہت مختلف اور الجھا سا تھا.

پارس تھک ہار کے اللہ کی طرف رجوع ہوئ….

اور زندگی کی طرف پھر سے آگے بڑھی.

پر پھر سے وجیح اسکے سامنے آ پہنچا….

اور اب اس نے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی محبت سے بدلہ لیا..

Tere ishq mein rangy janan by Fatima Mehmood Complete novel

  • by

“یہ کہانی ہے اک انا کی ماری غصّے کی تیز لڑکی کی، اک معصوم اور عقلمند حویلی کے اصولوں کے بھینٹ چڑھ جانے والی لڑکی کی، اک ایسے مرد کی جو اپنی پسندیدہ عورت کو حاصل کر کے بھی اس سے دور ہو گیا تھا، اور اک ایسے لڑکے کی جو حویلی کے اصولوں کی آڑ میں ہی خود کی محبّت کو حاصل کر چکا تھا۔”

Kiya yeh mohabbat hai novel by Hina Hasan

  • by

“کہاں سے آرہی ہو رات کے اس وقت؟”اسفر صاحب جنہیں گیس کے مسئلے کی وجہ سے نیند نہیں آرہی تھی اور گارڈن میں چہل قدمی کر رہے تھے زوار کی پہلی بیوی کو رات کے اس پہر گھر میں داخل ہوتا دیکھ پوچھتے ہیں ۔

حمنہ، جس کے کچھ غیر ملکی دوست پاکستان آئے ہوئے تھے اور انھیں کی بدولت اسے پیرس فیشن ویک جانے اور وہاں ریمپ واک کرنے کا موقع مل رہا تھا ،ان کے ساتھ ہوٹلنگ اور کلبنگ میں مصروف تھی اور ابھی گھر لوٹی تھی اپنے پیچھے اسفر صاحب کی آواز سن منہ بناتی ہے۔

“انکل کیا ہم صبح بات کریں ابھی میں بہت تھکی ہوئی ہوں اور سونا چاہتی ہوں”وہ لاپرواہی سے کہتی آگے بڑھ جاتی ہے۔

Bikhray kuch is tarah by Raiha Chohan Complete novel

  • by

وہ مجھے آپ کی فکر ہو رہی تھی اس لیے۔

وہ اس سے بات کر رہی تھی کہ

مراد نے اس کی بات کاٹ دی۔

کیوں میری کیوں فکر ہو رہی تھی

۔میں کوئی چھوٹا بچہ تھوڑی ہوں

۔جس کی فکر کرنی پڑے۔

وہ اسے باتیں سنانے لگا اب۔

نہیں میرا مطلب وہ نہیں تھا۔

آپ آئے نہیں گھر ہمارے اس لیے مراد

سب آئے آپ نہیں آئیں۔مراد

اسے جو سمجھ آیا اس نے بول دیا۔

لیکن بار بار اس کا نام لینے پر

وہ اسے غصہ دلا چکی تھی۔

میں بہت مصروف ہوتا ہوں۔

اگر نہیں آیا تو کوئی وجہ ہوگی