Skip to content

Pehli mohabbat by Malaa Ali Complete novel

  • by

دیکھاو اپنا ہاتھ ۔ کیسے جلا ہے ۔

آپ یہاں 😡😡 بحران کی آواز پر انمول نے آنکھیں کھولتے ہوئے غصے سے کہا ۔

جی میں ہی ۔ اب دیکھاو گی بھی ہاتھ کیسے جلا کر آئی ہو۔

کیوں آپ نے کیا نمک چھڑکنا ہے ۔ جو پوچھ رہے ہیں ۔

ہاں یہی سمجھ لو اب بتاو گی بھی ۔🤨

نہیں بتانا مجھے ۔ اور آج کے بعد میرے روم میں میری اجازت کے بنا مت آئیے گا ۔ انمول نے غصے میں کہا ۔جب کے بحران کو کوئی فرق ہی نہیں پڑھ رہا تھا ۔

مجھے یہاں آنے کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے ۔ اور رہی بات تمہارے ہاتھ کی جب آیا ہوں تو دیکھ کے ہی جاوں گا ۔

بحران نے زبردستی اس کا ہاتھ پکڑا تھا دیکھنے کے لئے ۔ لیکن اسے نہیں پتہ تھا کے وہ انجانے میں ہی سہی اسے تکلیف دہ رہا ہے ۔

میں نے بولا میرا ہاتھ چھوڑیں ۔ مجھے درد ہو رہا ہے 😢😢

درد کا نام سنتے ہی بحران نے فورن سے ہاتھ چھوڑا ۔

اور ادھر آدھر کچھ دیکھنے لگا ۔کوئی ٹیوب وغیرہ ہے ۔ دو ادھر لگا دوں۔

کچھ نہیں ہے ۔ اور اگر ہوا بھی تب بھی آپ کو نہیں بتاؤں گی ۔ دفعہ ہو جائیں یہاں سے اور اپنی شکل دوبارہ مجھے مت دیکھائیے گا۔ (نم آنکھوں سے وہ اس پر چلا رہی تھی ۔ اور ایک وہ تھا کے جسے اس کے درد کے اگئے نا کچھ سنائی دے رہا تھا ۔ اور نا ہی وہ اس وقت کچھ سنا چا رہا تھا ۔ )

میں بس دس منٹ میں آیا ۔ تم یہی رہو اور دروازہ بند کر دو لیکن لوک نہیں کرنا ۔ یہ بولتے ہی وہاں سے چلا گیا۔

اخر سمجتا کیا ہے یہ شیطان خود کو ۔میں تو کروں گی ۔ ہوتے کون ہیں مجھ پے آڈر چلانے والے ۔ بحران کے جاتے ہی وہ خود سے کہنے لگی ۔

بالاج وہاں کیا کر رہا ہے ۔ آکر سو جا نا ۔

فارس نے ونڈو میں کھڑے بالاج سے کہا جو کے بحران کی باتوں کو لے کر تھوڑا اداس تھا ۔

ہاں بس آیا۔ اچانک بالاج کی نظر ونڈو سے باہر بحران پر پڑی جو کے گاڑی میں بیٹھ رہا تھا ۔ فارس کو بنا دیکھے بولا

(یہ بحران بھائی اس وقت کہا جا رہے ہیں وہ بھی اتنی جلدی میں جا کے پوچھوں کیا ۔ نہیں نہیں کیا پتہ کچھ پرسنل کام ہو ۔ چلو صبح ہی پوچھوں گا ۔ من میں سوچتے ہوئے سونے لگا )

تمہیں اللہ پوچھے گا شیطان ۔ میرا ہاتھ پہلے سے ہی اتنا درد کر رہا تھا ۔ اوپر سے جاہلوں کی طرح پکڑا ہے ۔ اب تو لگتا ہے ہاتھ ساتھ ہے ہی نہیں ۔

انمول خود سے باتیں کر ہی رہی تھی کے اچانک دروازے سے بحران داخل ہوا ۔

آپ پھر سے اگئے ۔ 😡😡

جب بولا تھا ۔ دس منٹ میں آتا ہوں۔تو آنا ہی تھا نا ۔ اب

ہاتھ اگئے کرو ٹیوب لگا دوں۔ اس سے جلن کم ہو گی ۔ انمول کے بلکل سامنے بیٹھ کر ٹیوب اگئے کو کی ۔

مجھے نہیں لگوانی کوئی ٹیوب وغیرہ۔ اور کس نے کہا تھا جا کے ٹیوب لائیں ۔ میرے پاس پہلے سے موجود ہے ۔ میں لگا سکتی ہوں خود ۔

لڑکی تم سنتی کیوں نہیں ہو میری بات کبھی بھی ۔ ہاتھ آگے کرو ۔ ورنہ مجھے اپنے طریقے سے لگانا پڑے گا۔

میں نے کہا نا میں لگا لوں گی ۔ اور جائیں اپنے روم میں ۔ انمول کا غصہ پہلے کب کم ہوا تھا بحران کو دیکھ کر جو آج ہوتا ۔

ٹھیک ہے میرے سامنے لگاو ۔چلا جاوں گا (بحران بھی ضد پے تھا ۔ آخر انمول کو ہار ماننی ہی پڑی )

اب لگا لیا ہے نا ۔اب جائیں یہاں سے ۔

اوکے چلتا ہوں ۔ یہ یہاں رکھ کے جا رہا ہوں ۔ پھر بھی لگانا ۔

ٹیوب کو ٹیبل پے رکھتے ہوئے باہر کو نکلا ۔ جبکہ انمول خیرانی سے اسے جاتا دیکھ رہی تھی ۔ پہلی بار کسی کی آنکھوں میں خود کے لیے اتنی فکر دیکھ کر خیران تو ہونا ہی تھا ۔ اور جب فکر کرنے والا بھی وہ شخص ہو جس سے سخت نفرت ہو ۔

Ishq-E-Mann novel by Aiman Noor Khan

  • by

کیا میں نے ڈسٹرب تو نہیں کیا تمہیں؟ “

وہ دروازے کی اوٹھ میں کھڑی اندر جھانکے پوچھ رہی تھی ۔

”ا۔ا۔رے اپیا آپ؟ ج۔ج۔جی بولیں ک۔کوئ کام تھا خیریت ؟ “

ملیہا جو کسی سے کال پر بات کررہی تھی ، اچانک اسکے آنے پر گھبرا کر کہنے لگی ۔

”نہیں کوئ کام ہی تو نہیں ہے جب ہی بور ہو رہی تھی سوچا تمہارے پاس آجاوں مل کر باتیں کرینگے اور سنیکس کھائنگے ۔۔۔ “

”آہہہ اچھا ٹ۔ٹھیک ہے آجائیں بیٹھے ۔ “

”نہیں مجھے لگ رہا ہے تمہیں میرا آنا ٹھیک نہیں لگا شاید ۔ آئ تھنک میں نے ڈسٹرب کردیا تمھیں ۔“

”ارے نہیں نہیں ایسا کچھ نہیں ہے اپیا ایسا نا کہیں وہ بس۔۔۔۔“

”ہمممم۔۔۔ شاید کسی سے بات کررہی تھیں تم ، گھبراؤ مت میں نے کیا کرنا ہے؟ میرے اختیار میں کچھ نہیں ہے بچے۔۔۔ مجھ سے مت گھبرایا کرو ۔ میں تمھاری کزن ہوں ، مجھ سے باتیں شیئر کیا کرو میں تمھیں بس بتا سکتی ہوں کے صحیح کیا ہے تمہارے لیۓ اور غلط کیا ہے ۔ تم جس عمر کی ہو اس عمر میں بچے بہت سی غلطیاں کرتے ہیں نادانی میں، بچپنے میں، دوسروں کو دیکھے دیکھے تم جیسے بچے بھی غلط راہ میں چلی جاتی ہیں ۔ لیکن یہاں غلطی صرف تم لوگوں کی نہیں ہوتی ، یہاں غلطیاں کچھ والدین اور بہن بھائ کی بھی ہوتی ہے، ہمارے فیملی میمبرز کی بھی ہوتی ہے ۔ یہ عمریں ایسی ہوتی ہیں کے بعض بچے بہت سی غلطیاں کردیتے ہیں !!! لیکن اگر ہمارے والدین ہمیں پیار سے سمجھائیں ہمارا ساتھ دے نہ کی لوگوں کے باتوں میں آکر خد کی اولادوں کو غلط سمجھیں انہیں جھرک دیں ۔ انکی نہ سنیں پھر یہ غلط ہے ۔

Yaqeen ka safar novel by Uzma Naz Chandio

  • by

“محترمہ کن سوچوں میں گم تھی کہ میرے آنے کا پتا ہی نہ چلا……..!!”وہ دونوں ہاتھ پیچھے کمر پر باندھے مشکوق نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔

“جی نہیں میں کسی بھی قسم کی سوچ میں گم ہرگز نہیں تھی تم ہی چوروں کی طرح میرے کمرے میں داخل ہوئی ہو……..!!”وہ اسے گھورتی ہوئی دوبارا بیٹھ گئی۔پر دل ابھی تک زور سے دھڑک رہا تھا۔

“بتا دو بتا دو اب ہم سے کیا شرمانا……..!!”شازیہ شرارتی انداز میں بولتی ہوئی اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔

“میں کیوں شرمانے لگی بھلا…….!!”مہروش نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

“تو بتا دو کس کے خیال میں محترمہ دنیا کو فراموش کر بیٹھی ہے………!!”شازیہ نے اس کے گلے میں بازوں ڈال کر اس کے کندھے پر ٹھوڑی ٹکائی۔

“میں نے کہا ہے نہ شازی ایسی کوئی بات نہیں……..!!”وہ اس کے ہاتھ جھٹک کر پیچھے ہو بیٹھی۔

“تو پھر کیسی بات ہے………؟”اس نے بھویں سکیڑ کر جانچتی ہوئی نظروں سے اسے دیکھا.آنکھوں میں واضح شرارت تھی۔

“اففففف شازی تم بھی نہ……..!!”وہ زچ ہوئی تھی۔

“ہائے میں تو ابھی تک اُس جادوگر کے سحر میں قید ہوں…….!!”شازیہ جوتوں سمیت بیڈ پر دراز ہوگئی اس کی آنکھوں میں ایک انوکھی سی چمک تھی۔

“کیا کہا تم نے کون سا جادو کیسا سحر….؟”مجھے تو تمہاری حالت ٹھیک نہیں لگ رہی…….!!”مہروش چہرہ موڑے کچھ فکرمندی سے اس کے بدلے بدلے انداز دیکھ رہی تھی۔

“میری حالت تو اسے ایک نظر دیکھنے کے بعد ہی ٹھیک نہیں رہی تھی…….!!”وہ کسی سحر کے زیر اثر بول رہی تھی۔

“اللّٰہ اللّٰہ شازی تم کس کی بات کر رہی ہو……..؟”مہروش اس کی فضول سی ایکٹنگ سے زچ ہوئی تھی۔

“ڈونٹ ٹیل می کہ تم اس ہینڈسم لڑکے کو اتنی جلدی بھول سکتی ہو……..!!”وہ صدمے سے چلاتی ہوئی ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی تھی۔

“سچ میں مجھے یاد نہیں…….!!”مہروش نے لاپرواہی سے کندھے اچکائے۔

********

Dil Dharkan aur Saaz novel by Aeman Saeed

  • by

موسم بدل جائیں گے،دن رات کا تغیر نمایاں ہو گا۔سال گزریں گےاور پھر صدیاں بیت جائیں گی۔ایک مدّت گزر چکی ہوگی۔نیازمانہ ہوگا،نئے لوگوں میں کوئی میرے جیسا اپنے اندرمدتوں پرانی ویرانیاں لئےکسی بیاباں سے گزرتا ہوا،منزلیں طہ کرتاہوا،کھنڈرات کوعبور کرتا،اُس بستی میں داخل ہوگا۔جہاں برسوں پہلے کا ایک بوسیدہ سا،دیمک زدہ لکڑی کے ٹوٹے پھوٹےدروازے کو بمشکل کھولے گا۔وہاں گھپ اندھیرا ہوگا۔ اُسے لالٹین کی ضرورت پیش آئے گی۔مگرزمانہ بدل چکاہوگا۔اچانک اُس کا پاؤں لڑکھڑائے گا۔قریب ہی اُسے دیاسلائی ملے گی۔وہ اُسی کو کسی نہ کسی طرح سے جلانے کا طریقہ سلجھائے گا اور مدھم سی روشنی کے ہمراہ وہ مکان میں داخل ہوگا۔

جہاں اُلو بولتےہوں گے۔وہ سوچے گا کہ وہ کہاں آگیا۔سوا ب توآگیا۔مگر آیا کاہے کو؟اُسے کیا درکار ہے؟مگر شاید کچھ کام بغیر فائدے یا لالچ کےبھی کیے جاتے ہیں۔

Amanat season 2 by Sidra Kmal Complete novel download pdf

  • by

میں میں تمہارے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہوں لیکن تمہیں پہلے وعدہ کرنا ہوگا

کیسا وعدہ ہانیہ ؟؟

یہی کے تم میرے بچوں کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچاٶ گے۔۔۔

ہاہاہا

چلو منظور ہے ہانیہ

جیسے ہی ہانیہ حمزہ کے پاس پہنچتی ہے حمزہ غصے سے ہانیہ کو سر کے بالوں سے پکڑ لیتا ہے اور کہتا ہے

یہ تمہاری بھول ہے ہانیہ

کہ میں ان دونوں کو ایسے ہی چھوڑ دونگا۔۔۔۔یہ یہ دونوں مجھ اُس ایان کی یاد دلاتے ہیں

وہ ان دونوں میں زندہ ہے ہانیہ مجھے تکلیف ہوتی ہے جب جب انہیں دیکھتا ہوں

ہانیہ نہایت سمجھداری سے کام لیتے ہوۓ حمزہ کی جیب سے بندوق نکال لیتی ہے

اور پھر حمزہ کے پیٹ پر زور سے کونی مار کر حمزہ کو خود سے دور کردیتی ہے۔

حمزہ اس حملے کے لیے تیار نہیں ہوتا اور وہ حیرانی سے ہانیہ کو دیکھ رہا ہوتا ہے جو بلکل نڈر بندوق تھامے کھڑی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمہیں کیا لگا حمزہ کے میں تمہاری بات مان گٸ ہوں ؟؟؟

میں تاحیات صرف اور صرف ایان کی ہی ہوں۔

جھوٹ اسی لیے بولا تاکہ اپنے بچوں کی حفاظت کرسکوں سمجھے ؟

حمزہ ہانیہ کی طرف بڑھتا ہوا کہتا ہے۔

ہانیہ اسے مجھے واپس دے دو یہ کوٸ کھلونا نہیں ہے۔

خبردار جو میرے قریب آۓ حمزہ

لیکن جب حمزہ نہیں رُکتا تو ہانیہ حمزہ کے پاٶں پر فاٸر کردیتی ہے۔۔۔

یہ دیکھ کر حمزہ کا ساتھی ہانیہ کو مارنے کے لیے فوراً اپنی بندوق نکالتا ہے لیکن حمزہ جلدی سے چاقو نکال کر اپنے ساتھی کے ہاتھ پر مارتا ہے۔

جس سے اُسکا ہاتھ کافی زخمی ہوجاتا ہے اور وہ اپنا توازن کھو دینے کی وجہ سے نیچے گرجاتا ہے۔

ہانیہ دیکھو اب بس بہت ہوگیا خود کو میرے حوالے کردو۔

ہانیہ حمزہ کے دوسرے پاٶں پر فاٸر کرتی ہے اور کہتی ہے

یہ میرے بچوں کو انکے والد کے ساۓ سے محروم کرنے کے لیے ہے۔۔۔

حمزہ درد کی شددت سے نیچے بیٹھ جاتا ہے

ہانیہ بس بہت ہوگیا مذاق یہ مجھ دو ادھر

میری دھڑکن کو اتنی بے رحمی سے قتل کرنا کیا مذاق تھا ؟

ہانیہ غصے میں حمزہ کے بازو پر فاٸر کرتی ہے۔

یہ ایک ماں کو اُسکی اکلوتی اولاد سے دور کرنے، ایک بیوی کو شوہر سے جدا کرنے ، اس ملک کے ایک جانباز سپاہی کا قتل کرنے کے لیے۔۔۔۔۔۔

ہانیہ ایسا مت کرو پلیز رک جاٶ

یہاں تمہیں بچانے والا کوٸ نہیں ہے

ہانیہ حمزہ کے دوسرے بازو پر فاٸر کرتی ہے اور کہتی ہے

یہ ہر اُس شخص کی طرف سے جن کو تمہاری وجہ سے تکلیف ہوٸ

حمزہ کے دونوں بازو اور ٹانگیں بری طرح زخمی ہوتی ہیں۔

بہت تڑپ رہا ہوتا ہے۔

تم میرے تڑپانا چاہتے تھے حمزہ زرا خود کودیکھو

میں اگر چاہوں تو تمہیں اسی وقت مار سکتی ہوں لیکن نہیں میں ایسا نہیں کرونگی

تم قانون کے مجرم ہو مجھے کسی کی جان لینے کا کوٸ حق نہیں۔

ہانیہ جانے لگتی ہے تو حمزہ اپنی جیب سے دوسری بندوق نکالتا ہے اور کہتا ہے۔۔

اگر تمہارے ساتھ جی نہیں سکتا تو مرنا ہی سہی

Hala e mohabbat by Sidra Chaudhary Complete novel

  • by

دعایہ کیا کر رہی ہو تم؟

رقیہ بیگم جیسے ہی ڈائننگ ٹیبل پہ آئی تھیں،دعا کو دیکھ کر حیرانی سے چلا اٹھی تھیں۔

کیا ماما آرام سے بولیں نہ ،آپکا بی پی شوٹ کر جائے گا، اور میں ناشتہ کر رہی ہوں ،جیسے ہر گھر میں یونیورسٹی جانے والے کرتے ہیں۔

ناشتہ،کون پاگل ایسا ناشتہ کرتا ہے،جیسا تم کر رہی ہو؟ پاگل پن کی بھی حد ہوتی ہے۔

کیا ماما آپ مجھے پاگل کہہ رہی ہیں؟ مما آپ جانتی ہیں ،یہ میں ہوں آپکی اکلوتی بیٹی دعا،جسے آپ نے منتوں،مرادوں اور دعاؤں سے مانگا ہے،کتنی معصوم اور بھولی بھالی ہے۔آپ مجھے صرف میٹھا پراٹھا کیچپ کے ساتھ کھانے پہ پاگل کہہ رہی ہیں۔

دعا نے دنیا جہان کی معصومیت،دکھ اور ملال چہرے پہ سجا کر ماں کو دیکھا تھا اور اسکی اس قدر چالاکی پہ رقیہ بیگم سر پکڑ کر بیٹھ گئ تھیں۔

ہاں تمہارے جیسا معصوم تو اس دنیا میں ہے ہی نہیں کوئ،روزانہ ایک نیا شوشہ چھوڑ رکھا ہوتا ہے تم نے،اور اب تو تم نے انتہا کردی ہے،کون کھاتا ہے میٹھا پراٹھا کیچپ کے ساتھ،اور ہردوسرے دن ڈرائیور کو بیووقوف بنا کر گاڑی لے کر نکل جاتی ہواور چھٹی کے وقت آج تک تم ڈرائیور کے ساتھ نہیں آئی،بلکہ آنا تو دور ڈرائیور کو نظر تک نہیں آتی تم،جانے دوستوں کے ساتھ کہاں کہاں سے آوارہ گردی کرتی ہوئ پیدل واپس آتی ہو۔رقیہ بیگم

اب جو شروع ہوئ تو بولتی چلی گئ تھیں،اور انکی ساری باتیں سن کر دعا ہنستی چلی گئ تھی۔

جس پہ رقیہ بیگم نے گھور کر دیکھا تھا۔

بس بس مما باقی طعنے بعد میں دے لیجیے گا، میرا جانے کا وقت ہوگیا ہے۔دعا نے کہتے ساتھ ہی اٹھ کر بیگ اٹھایا تھا اور ماں کے گلے لگ کر پیار کیا تھا۔

Anjan rahen lagen apni si by Sloni Fayyaz Complete novel

  • by

“ہیپی اینی ورسری ” موم اینڈ پاپا “مسڑ اینڈ میسسز اوبان

اپنی بیٹی کی چہکتی ہوئی آواز پہ دونوں کی آنکھیں کھول گئی

تم کبھی سرپرائز کرنے سے باز نہ آنا, کتنی دفعہ بولا ہے ہم دونوں کو یہ سب نہیں پسند ,اور وہ ہمشہ کی طرح کا لیکچر سمجھ کہ دونوں کو اٹھا کر ٹیبل کے پاس لائی اور ان دونوں سے کیک کٹ کروایا

ابھی کیک کٹ کیا ہی تھا کہ احمد کا میسج آیا “ہیپی اینی ورسری ” جگر ,

خوش رہ میرے دوست …….

دونوںکیوں کر رہی ہو تم یہ،کیوں تم بے رحم ہو گئی ہو،تمھارا یہ فیصلہ مجھے خون کے آنسو رلا رہا ہے،زارا میں نہیں کر پاو گا۔

تم اتنی خوبصورت لگتی ہو مجھے،میں تمھارے علاوہ اپنے پہلو میں کیسے کسی اور کو دیکھوں گا۔

تمھارا مسکراتا چہرہ ،شرمیلی آنکھیں ،ن،ن۔۔نہیں ، میں یہ نہیں کر سکتا تم مانا کر دو،

کندھے پہ سر رکھ کہ مسلسل روتا ہوا اس سے پب کہہ رہا تھا ،

ہم جدا نہیں ہورہے ایک چھت تلے ہی تو ہیں ،مسکرا کر زارا نے کہا ۔۔۔

Heer e Aliyan by KSA complete novel

  • by

کیا کرتے ہو؟

انتظار

کس چیز کا ؟

معجزہ کا

معجزے ہوتے ہیں ؟

جی بلکل

اچھا بتاؤ کب ہوتے ہیں ؟

جب میرا اللّٰہ چاہتا ہے

اور کب چاہتا ہے اللّٰہ ؟

جب میرے حق میں بہتر ہو گا

اتنا یقین ہے اللّٰہ پر؟

جی بالکل سب سے زیادہ

پھر آنکھوں میں آنسوں کیسے ؟

یہ تو صبوت ہے اللہ کا بندہ بہت کمزور ہے اور اللّٰہ کن کا انتظار ہے

تو وہ آدمی مسکرایا اور بولا عشق کر بیٹھے ہو تو عالیان نے ہاں میں سر ہلایا میری اس سے عشق اس کہ علاؤہ سب کو نظر آتا ہے آہ آہ بچے عشق میں اچھے اچھوں قصہ نمپٹ گیا اور وہاں سے چلا گیا تو وہ فوراً گاڑی میں بیٹھا اور روانہ ہوا