Skip to content

Meri Jeet Amar kar do by Binte Kousar Complete novel

  • by

یہ ایک رومانوی ناول ہے جس میں ہماری سماجی زندگی کے مختلف پہلوؤں،خاندانی رشتوں ،مختلف جذبات محبت،عشق ،دوستی،نفرت کو پیش کیا گیا ہے۔۔۔۔یہ ایک ایسے لڑکے کی کہانی جس نے اپنے بچپن کی محرومیوں کو اپنے وجود میں بھر دیا اور اپنے خول میں بند ہو گیا۔۔۔۔یہ دو پیار کرنے کرنے والوں کی خوب صورت کہانی ہے۔ یہ کہانی ہے محبت کو پانے اور پا کر کھو دینے کی جس میں محبت نفرت ،لالچ اور قربانی کو اس انداز میں دکھایا گیا ہے کہ قارئین کو اپنے سحر میں جکڑ لے۔۔۔۔۔

Dastan e ishq novel by Ayesha Rajpoot

  • by

ارررےے میں تم لوگوں کو بتاتی ہوں شہر کے لوگ کیسے ہوتے ہیں لڑکیوں کے نیلے پیلے بال چھوٹے چھعٹے کپڑے جن سے ان کا مکمل جسم تک نہیں چھپتا نہ ہی بڑوں کا ادب اور نہ ہی چھوٹوں سے بات کرنے کی تمیز اور تو اور لڑکے توبہ توبہ کانوں میں بالیاں ہاتھوں میں بینڈز اور ٹھرکی لفنگے الگ سے توبہ توبہ اللہ معاف کرے پلوشے نے مکمل کانوں کو ہاتھ لگایا

اچھا جی اور تمہارے بدر ان کے بارے میں کیا خیال ہے اس کے بارے میں سچ کہوں تو بڑا ہی گندا خیال ہے ویسے بھی وہ تو رہتا بھی باہر ہے اور باہر کے ملک کا ماحول تو اور گندا ہوتا ہے

میں تو بابا سے کہ کر اس رشتے سے منع کرو گی ہلوشہ نے اپنا فیصلہ سنایا

پھر ہمارے لالا بھی تو باہر سے پڑھ کر اے ہیں نہ تانیہ نے بڑی معصومیت سے پوچھا

اررےے پاگل وہ تو ہمارے لالا ہیں اور ہمارے بھائی سب سے اچھے ہیں اب سارے لوگ ایسے تھوڑی نہ ہوتے ہیں

اور تمہیں کیسے پتہ کہ شہر کے لوگ ایسے ہوتے ہیں تانیہ نے مشکوک نظروں سے پلوشے کو دیکھا ارے میں نے فلموں میں دیکھا ہے اور فلمیں کبھی جھوٹ نہیں بولتی پلوشہ نے جیسے ہاتھ صاف کیے تھے اتنی دیر میں عائمہ باہر ائی ان کے چہرے سے مسکراہٹ جا ہی نہیں رہی تھی

ارے بچوں کیا بات کر رہے ہو کچھ نہیں مامی سائیں پلوشے نے جواب دیا جب تانیہ وہا ای جو کہ اس وقت پینٹ اور شرٹ میں تھی اے سنو جاو میرے لیے جوس لے کر او اس نے انتہائ بتمیزی سے عائمہ بیگم کو مخاطب کیا

تمیز سے بات کرو تم سے بڑی ہیں وہ پلوشہ نے غڈے سے کہا

کوئی بات نہیں بیٹا میں لے کر اتی ہوں عائمہ نے کہا اور وہاں سے چلی گئں

اووہوو کیا ہوا پلوشہ میں صرف اس کو اس کی اوکات دکھا رہی تھی جو لوگ گھر سے بھاگ کر ائی ہوں ایسا ہی تو ہوتا ہے ان کے ساتھ اس کی حیثیت میرے سامنے یہ ہے کہ جیسے ایک ملکہ اور نوکرانی

تم جیسی کہ منہ لگنا ہی فضول ہے پلوشے یہ کہہ کر تانیہ کو لے کر چلی گئی

Zamurd novel by Javeriya Hussain

  • by

اس کہانی میں آپ چار قسم کے لوگوں سے ملیں گے….

پہلے، دوسروں کے لیے لڑنے والے۔

دوسرے، خود کے لیے لڑنے والے۔

تیسرے، سب سے بدتر ہمت ہار کر بیٹھ جانے والے۔

چوتھے اور بہترین وہ جو اپنے اور اپنوں، دونوں کے لیے لڑنا جانتے ہیں۔

یہ کہانی ہے ایک ایسی لڑکی کی جو زمرد تھی۔ زمرد یعنی قیمتی پتھر۔ اور اس ایک معنی سے دو اور باتیں نکلتی ہیں۔

قیمتی، یعنی خاص، نایاب، انمول۔

اور پھتر، یعنی مضبوط۔ جسے جی توڑ کوشش کے بعد بھی کوئی نہیں توڑ سکتا۔

اور وہ ایسی ہی تھی۔ قیمتی مگر مظبوط۔ دوسروں کو جوڑے رکھنے والی، کبھی ہار نہ ماننے والی۔

مگر اس کہانی کا ایک رخ کمزور بھی تھا…. وہ رخ جو ماضی سے جڑا تھا۔

یہ کہانی ہے دکھوں کے اندھیرے میں، امید کی لالٹین تھامے، روشنی کی تلاش میں نکلے لوگوں کی…..

یہ کہانی ہے زمرد کی….

Wehshi lams novel by Fatima Kazmi

  • by

کک کون ہو تُم؟

میں کون ہو اور یہ سب کسے

پتہ چلا اُسکی ایک شرت ہے

کک کون سی؟

نکاح کرنا ہوگا تھمے مج سے

نکاح؛؛؛؛؛؛؛ نن نہیں

تُم بتاتے ہو یا نہیں جسی ہی

حمز کی گرفت ہلکی ہوئی

ڈیانا نے گن اسکے ماتے پر رکھی

بتاؤ مجھے کون ہو تُم!!!!!!!

ہاہااہاہاہا اتنی جلدی نہیں نہیں

میں مار دوگی تھمے بتاؤ!!!!!!

چلاؤ گولی fire ،،،،،،

ڈیانا نے گن چلائی مگر کچھ نا

ہوا

ٹک ٹک ٹک گن کی آواز

یی یہ چل کیو نہیں رہی

ڈیانا حیرت سے گن کو دیکہنے لگی

گولیوں والی جگہ اوپن کی تو

اُسکے اندر ایک بھی گولی نہیں

تھی

ہاہااہاہاہا کیا ہوا اتنی کام عقل

کسے ہو سکتی ہو تُم

یہ رہی ساری گولیوں ہمزہ نے

اُسکی آنکھوں کے سامنے سے وہ

ساری گولیوں بہت ونڈو سے باہر پھینک

دی

تھمے میں ،،،،،، ڈیانا غصّے میں ۔اگے

اہی

صبر صبر ابھی اپنے پارٹنرز کی تو

جان بچا لو

Pukar by Fatima Ali Complete novel

  • by

“تت تم” وہ ہکلائی۔ “کیوں لائے ہو مجھے یہاں اور میرے بال” وہ ارد گرد بکھرے اپنے بال دیکھ کر پسینے میں نہا گئی۔

“بڑا غرور تھا تمہارے بالوں کو تمہارے جسم کا حصہ ہونے پر ” وریشہ کو وہ اس وقت کوئی ذہنی بیمار شخص لگا جو اپنی ناکام حسرتوں کا بدلہ اس سے لینا چاہتا ہو۔

اسے اپنا آپ چھڑانے کی کوششیں کرتا دیکھ اسفند بہت لطف اندوز ہورہا تھا۔ جلد ہی کھردری رسی سے اس کی کلائیاں اور پیر چھل گئے اور خون رسنے لگا۔

اسفند آگے بڑھا اور ایک گونج دار تھپڑ وریشہ کے گالوں پر ثبت کیا۔

درد کے مارے وریشہ کی چیخیں نکل گئیں مگر ان ساؤنڈ پروف دیواروں سے آج کوئی آواز باہر نہ جانے والی تھی۔ یا شاید باہر کھڑے وفادار ملازم اندھے بہرے اور گونگے تھے۔

اسفند نے کھینچ کر اس کا دوپٹہ جسے وہ ہمیشہ اپنے سر پر سجائے رکھتی تھی اتارا۔ وہ اسے تکلیف دینے سے زیادہ تڑپانا چاہتا تھا۔

وریشہ چلائی

“خدا کیلیے مجھے چھوڑ دو… مم مججھے جانے دو

“میرے بابا۔ وہ یہ صدمہ جھیل نہیں پائیں گے۔ تم نے مجھے تھپڑ مارنے ہیں؟ مار لو۔ میرے ہاتھ توڑ دو پاؤں توڑ دو۔ مگر میری عزت میرے پاس رہنے دو۔ میرے پاس بس یہی ہے ” اس کے پاس واقعی اب عزت ہی بچی تھی۔

اسفند اسے تڑپتا دیکھ مزید خوش ہوا۔

“اور؟ ” اسفند نے اس کی آنکھوں میں جھانک کر سوال کیا۔ جیسے جاننا چاہتا ہو وہ اور کتنی منتیں کر سکتی ہے۔

“اور پلیز …دیکھو تمہیں کتنا پیسہ چاہیے میں دینے کو تیار ہوں” وہ اس کی مالی حیثیت سے بخوبی آگاہ تھی مگر پھر بھی یہ بول رہی تھی۔

“ہاہاہاہاا میں تمہاری سات نسلیں خرید سکتا ہوں وریشہ بی بی۔ عزت بنانا چاہتا تھا تمہیں اپنی اور تم نے ۔۔۔ “

اسے تھپڑ والی بات دہرانا اپنی ہتک لگا۔

اس نے آگے بڑھ کر اس کی کلائیاں اور پیر کھول دیے وریشہ اٹھ کر دروازے کی طرف بھاگی مگر وہ باہر سے لاکڈ تھا۔ وہ چلائی اور ہذیانی انداز میں دروازہ کھٹکھٹانے لگی۔ جواب نہ پا کر وہ پلٹی اور اسفند کو زور سے دھکا دیا۔

اسفند حملے کیلیے تیار تھا۔ آج وہ ہر متوقع صورتحال کیلیے تیار تھا۔ فورا سنبھلا اور پھر سے ایک زور دار تھپڑ رسید کیا۔ وریشہ تاب نہ لاتے ہوئے دور جا کر گری۔ اس کا سارا جسم کانپ رہا تھا مگر وہ پھر سے اٹھی اور اسفند کے چہرے پر ناخنوں سے وار کیا۔ سفند نے اس کی زخمی کلائیاں مروڑ کر اسے زمین پر پھینکا۔ وہ اس کی مزاحمت ختم کرنا چاہتا تھا۔

زمین پر گری ہوئی وریشہ ہولے ہولے کانپ رہی تھی جب اسفند نے اسے گریبان سے پکڑ کر اٹھایا۔ اس کا ننھا منھا سا وجود ہوا میں لہراتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ ہتک کے مارے وریشہ کا دل چاہا وہ زمین میں گڑ جائے مگر اذیتوں کے اندوہناک دور سے اسے ابھی گزرنا تھا۔

اسفند اس کی طرف بڑھا تو وہ نہیں نہیں چلاتی پیچھے ہٹنے لگی جلد ہی وہ دیوار سے جا لگی۔ اس نے جھک کر اسفند کے پاؤں پکڑے آج وہ ہر حد تک جانا چاہتی تھی مگر اسفند نے اسے اٹھا کر پھر سے زمین پر پٹخا۔ یہ آخری حملہ تھا۔ اس کی مزاحمت دم توڑ چکی تھی۔