Skip to content

Sab that para reh jayega short story by Sawera Naz

  • by

کیا ہوا؟ کیا اپنا فیصلہ غلط لگ رہا ہے؟ فقیر نے پوچھا تھا. وہ جان گئی تهی کہ وہ کس فیصلے کی بات کر رہے ہیں.

نہیں. بس میں یہ نہیں سمجھ پا رہی کہ میرے ساتھ یہ کیا ہوتا آ رہا ہے اور کیوں؟ بچپن میں جو سوچا وہ پایا مگر عارضی مدت کیلئے پهر وہ سب چیزیں تو رہی لیکن میں! ! میں جیسے ان سے دور کر دی گئی. چیزیں بظاہر میرے سامنے تهیں مگر حقیقتاً وہ میری دسترس سے کوسوں دور تهیں. پهر لڑکپن میں دوباره مجهے ہر وہ شے عطا کی گئیں جو کبهی مجهہ سے چهین لی گئی تهیں. میرے تو خونی رشتے بهی عارضی وقت تک میرے ساتھ مخلص رہے. پهر وہ رشتے تو رہے مگر وہ خلوص؟ وہ جیسے پهر رہا ہی نہیں. پهر ہر کوئی مجهہ سے بدگمان رہتا. میری اچهائیاں، میری قربانیاں کسی کو نظر ہی نہ آ سکی. ہر بار ہر چیز مجهے عارضی مدت تک عطا ہوئی پهر ایسے چهین لی گئی جیسے کبهی نصیب ہی نہ ہوئی ہو. زندگی نے جانے کس موڑ پہ لاکھڑا کیا ہے مجهے. میں اپنا من مار کر اوروں کی خوشیوں کی فکر میں رہی. نتیجہ کیا ہوا؟ ذلت، بےبسی، لاپرواہی، بےچارگی، تمسخر. میرا وجود تو تذلیل کا چلتا پهر تا اشتہار بن گیا ہے جیسے. میں ہار گئی ہوں ہر طرف سے. شکست روز بروز میرا مقدر بنتی جا رہی ہے. ایسا کیوں ہو رہا ہے کیوں؟ وه جانے کتنے برس کا غبار نکال کر پهوٹ پهوٹ کر رو دی.

Khasara novel by Ayesha Arif

  • by

ایسے کیا دیکھ رہے ہو- وہ آہستہ آہستہ اپنے قدم اسکی طرف بڑھانے لگا- اور وہ اپنے قدم پیچھے کو لینے لگی- تبھی اسکا پیر کسی چیز سے ٹکرایا اور وہ منہ کہ بل گرا- زمین کا سہارا لیتے وہ اٹھا مگر- وہ اسے کہی نظر نہیں آئی- وہ کہی نہیں تھی —

وہ پاگلوں کی طرح ادھر ادھر دیکھ رہا تھا

اپنی کتاب کھولے وہ کتاب کو غائب دماغی سے دیکھتی حشام کی باتیں سوچ رہی تھی –

“میرے لیے تمہارا اعتراف اور انکار کوئی معنی نہیں رکھتا”

کیا مجھے یہ بات گھر میں کسی کو بتانی چاہے؟

نہیں فضول میں ہی گھر میں سب پریشان ہوجائے گئے مجھے خود کوئی حل ڈھونڈنا ہوگا-

بابا شامیر کا کچھ پتہ چلا- حمزہ باہر سے آتے بولا-

نہیں آصف کو کال کی ہے وہ پتا لگا رہا ہے تم جاکر اسکے کسی دوست سے پوچھو– آخر کہاں جاسکتا ہے-عباس نے اسے دیکھتے کہا

میں نے سب جگہ پوچھ لیا ہے وہ کہی نہیں ہے – حمزہ پریشانی سے ادھر ادھر ٹہل رہا تھا جب داخلی دروازے سے شامیر داخل ہوا- اسے دیکھتے عباس بھی اٹھ کر اسکی طرف لپکے-

شامیر یہ — یہ تم نے کیا حال بنا رکھا ہے؟ اسکے دھول سے بھرے کپڑوں کو دیکھتے وہ بولے-

جبکہ کہ وہ ہونق بنا بس انکو دیکھتا رہا

شامیر کہاں تھے تم – ماہم نے آگئے بڑھتے اسکا چہرہ تھامتے کہا-

آہستہ سے اپنا چہرہ انکی گرفت سے چھڑواتے وہاں سے چلا گیا-

ماہم منہ پر ہاتھ رکھتے بے آواز رونے لگی-

ماہم آپ پرشان نہ- عباس کی بات کاٹتے وہ روتے بولی-

کیسے پریشان نہ ہوں- میرے جیتے جی میرا بیٹا اس حال میں ہے مجھ سے نہیں دیکھا جا رہا –

حمزہ انکو وہی چھوڑتے شامیر کہ پیچھے اسکے کمرے میں چلا گیا- اسکے بازو سے پکڑتے اسکا رخ اپنی طرف کرتے وہ

کہاں تھا تو– ؟ بول –

گہری

تجھے اندازہ بھی ہے ہم کتنے پریشان تھے–

شکل دیکھ اپنی توں – کوئی پاگل ہی لگ رہا ہے

وہ ویسے ہی بیٹھا رہا حمزہ اب کی بار کچھ نرم پڑھا-

یار کیا ہو گیا- توں کچھ بول کیوں نہیں رہا-

شامیر اپنا ہاتھ چھڑاتے بیڈ پر لیٹ گیا جس کا صاف مطلب تھا مجھے تنگ مت کرو-حمزہ کتنی دیر اسے دیکھتا رہا پھر لائٹ اوف کرتے کمرے سے ہی چلا گیا-

Jugnoo novel by Sundas Jameel

  • by

آپی پارٹی کب ہے…؟

وہ جو اپنے ہی خیالوں میں گُم تھی…اُس کی بات پہ اچانک چونکی تھی…

پارٹی بہت جلد..میرے غلاب جامن..

آپی…

وہ جو مزے سے پارٹی لینے آیا تھا..

غالب جامُن سن کے اُس کا پارہ ہائی ہوا تھا…

آپی…

سب سے پہلے تو میرا نام “بُرہان جاوید” ہے…

اور سوسری بات عمر میں چھوٹا ہوں تو کیا قد میں آپ سے بڑا ہوں..

اور رنگ روپ میں بھی آپ سے گورا…

لہذا اب آپ مجھے غُلاب جامُن نہیں کہہ سکتی…

سمجھی آپ….وہ باقاعدہ اُنگلی اُٹھا کے بولا تھا…

عین نے اُس کی پوری بات سُنی تھی…

اور آخر میں آہستہ سے بولی تھی…

پارٹی چاھئے…؟

کیا عین آپی..

اب چھوٹا بھائی مذاق بھی نہیں کر سکتا..

Manzal e gumshuda novel by Ifrah Aqeel 

  • by

“انکل کسی کو کیا پتہ وہ لڑکی آبش ہے اور آپکی بیٹی ہے، آپ پریشان مت ہوں، میڈیا پہ آ بھی جائے گی اگر خبر تو یہی ہوگی کہ سڑک سے منظرِ عام پر ایک لڑکی اغوا ہوئی ہے، اسکی پہچان تو کسی کو معلوم نہیں ہے نا۔۔۔” وہ انکی ٹیبل کے کنارے پہ ہاتھ رکھے کھڑا بول رہا تھا۔ رحمان علی صاحب کہنیاں ٹیبل پہ رکھے دونوں ہاتھوں میں سر دیے اپنی کرسی پہ خاموش بیٹھے تھے۔

“رميض ٹھیک کہہ رہا ہے، آپ فکر مت کریں، ویسے بھی ہم ہیں نا، بات سمبھال لیں گے، ہمیں تجربہ ہے انڈسٹری میٹرز کا، رحمان صاحب ہم نے اس طرح کے بہت کیس دیکھے ہیں۔” فرحان خان ٹیبل کے دوسری طرف رکھی کرسی پہ ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے بیٹھے تھے۔ رحمان علی صاحب کو جب کچھ سمجھ نہیں آیا تو ان دونوں کو کال کرکے دوستی کے بھروسے بلایا تھا۔

“میں۔۔۔ کیسے فکر نہ کروں۔۔۔ مجھے نہیں پتہ میری بیٹی اس وقت کہاں ہے۔۔۔ وہ کس حال میں ہے اور کن ہاتھوں میں ہے۔۔۔” اتنا کہہ کے وہ خاموش ہو گئے، انکے آخر میں بولے گئے الفاظ بتا رہے تھے کہ انکی آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں۔ رميض نے اپنی تیز سی نظر گھما کر فرحان خان کو دیکھا، وہ اسکو دیکھ کر ہلکا سا مسکرائے پھر اپنی مسکراہٹ چھپا لی۔ وہ جواباً مسکرانا چاہتا تھا مگر نہ جانے کیوں مسکراہٹ ہونٹوں تک پہنچی ہی نہیں۔ اس نے ایک نظر ٹیبل پہ رکھے اپنے ہاتھ کو دیکھا، کسی کو کیا معلوم وہ ان ہاتھوں میں ہے، اس نے سوچا پھر دوبارہ نظروں کی سمت بدل لی۔

Dil dosti dharkan novel by Rashna Aziz

  • by

” جب میں نے ہزار مرتبہ سب کو وارن کر رکھا تھا کہ میری پرمیشن کے بغیر کوئی اس لان میں سے ایک پتہ تک نہیں ہلائے گا تو پھر آپکی پوتی نے کس

کی اجازت سے پھول توڑا ہے ” گرے ٹریک سوٹ پ پہنے ہاتھوں میں باسکٹ بال لیے ، موٹی موٹی آنکھوں میں شدید غصہ لیے وہ وجودمالی بابا پر بری طرح برس رہا تھا ۔

“اسکی طرف سے میں آپ سے معافی مانگتا ہوں بیٹا یہ نہیں جانتی تھی کہ یہاں سے پھول توڑنا منع ہے۔ یہ کل رات ہی گاؤں سے آئی ہے، اسے معاف

کردو” مالی بابا التجائیہ انداز میں سامنے کھڑے وجود کے آگے ہاتھ جوڑ رہے تھے ۔

” مجھے کچھ نہیں سننا ، اس گناہ کی تلافی یہ جڑے ہوئے ہاتھ نہیں کر سکتے۔”

وہ وجود انتہائی بپھرا ہوا نظر آرہا تھا تبھی تو ایک بزرگ شخص کےجڑے ہوئے ہاتھ بھی اس پر کوئی اثر نہیں کر رہے تھے ۔

“دامی بیٹا ، کیوں صبح صبح اتنا شور مچا رکھا ہے ” تبھی کاریڈور سے دردانہ داؤد کی آواز آئی تھی۔ وہ وجود کچھ دیر پہلے جاگنگ کر کے آیا تھا۔ گھر آتے ہی اُسکی نظر پھول توڑتی ہوئی بچی پر پڑ گئی تو وہیں پر اُس پر برس پڑا تھا۔

” مام ! جب میں نے منع کیا تھا کہ یہاں سے کوئی پھول نہیں توڑے گا توپھر اس بچی کو کس نے اجازت دی؟” اب وہ سہمی ہوئی بچی کی طرف اشارہ کر رہا تھا جو مالی بابا کی اوٹ میں چھپی ہوئی تھی ۔ وائٹ فراک پرجگہ جگہ مٹی لگی ہوئی تھی ۔

“دامی کوئی بات نہیں ، ایک پھول ہی تو توڑا ہے ، پورالان تو خراب نہیں کیانا . وہ اپنے کسی فرینڈ کو دینے جا رہی ہوگی ۔ تمہیں پتا ہے ، تمہارے پاپا روز یونیورسٹی میں میرے لیے ڈھیروں پھول لایا کرتے تھے اور جو سب سے زیادہ کھلا ہوا ہوتا وہ بڑے پیار سے میرے بالوں

میں لگا یا کرتے تھے ، اور وہ۔۔۔۔۔۔۔ ہمیشہ کی طرح اپنی یونی کے قصے شروع کرنے لگیں

تھیں تھبی دامی نے انہیں روک دیا تھا۔

“اسٹاپ اٹ مام! آپ کے لیے یہ ایک پھول ہوگا مگر میرے نزدیک یہ بہت بڑی چیز ہے ، اگر کسی انسان کا سر اس کے جسم سے الگ کر دیا جائے تو جو تکلیف اُسے ہوتی ہے وہی تکلیف ایک پھول کو شاخ سے الگ کرنے پر ہوتی ہے اور آپ کہتی ہیں کہ ایک پھول ؟” اُس کا لہجہ ہنوز تلخ ہی تھا ۔۔ ” بیٹا ! اسے معاف کر دو، یہ معصوم ہے آئندہ سے

یہ ایسی غلطی نہیں کرے گی، اگر دوبارہ ایسا ہوا تو آپ مجھے نوکری سے نکال دیجئیے گا پھر وہ تکلیف میرے لیے ویسی ہی ہوگی جیسی انسان کے جسم سے سر اور پھول کے شاخ سے جدا ہونے کی ہوتی ہے “۔ وہ عاجزی سے سر جھکائے ہوئے کہہ

رہے تھے۔ اُس وجودکے دل کے کچھ ہوا تھا۔ وہ بنا کچھ کہے اندر کی طرف بڑھ رہا تھا

” ارے دامی ! سنو تو میں کیا کہہ رہی تھی تمہارے پاپا میرے بالوں میں پھول لگانے کے بعد کیا کہتے تھے ؟ دردانہ داؤد اسے پکارتی رہ گئیں ۔۔

Talooh e aftab se gharoob e aftab tak novel by Hikmat Yar

  • by

“جیسے کسی پیاسے کو صحرا میں پانی کی تلاش ہو، دور سے سورج کی کرنیں ریت پر پانی کا منظر پیش کر رہی ہوں، چمکتا ہوا پانی پیاسے کو اپنے پاس آنے پر مجبور کر دے۔ پیاسے کے دل میں پانی پینے کی شدت مزید جاگ جائے اور وہ ہانپتا کانپتا سورج کی تپش میں جلتا ہوا اپنا بدن دو ٹانگوں پر اٹھائے قریب سے قریب تر آتا جائے اور اسے پتا چلے یہ اک سراب تھا۔ وہ سیراب ہونے آئے اور اس کے ساتھ سراب ہو جائے۔ اسے ہی نفس الامر کا سراب کہا جاتا ہے۔ یہی خوابوں خیالوں کی دنیا میں ہوتا ہے۔

دنیا سراب ہے، اس کی کوئی حقیقت موجود نہیں ہے۔ یہ کائنات اک وہم ہے۔ یہی نفس الامر اک سراب کی شکل میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔ اس دنیا کی حقیقت صحرا کی طرح ہے۔ سب کچھ اک سراب ہے سراب۔”

وہ بد روحوں کی طرح گلیوں میں بھٹک رہی تھی۔ اس کے سامنے اس کی اپنی ہی روح تھی ۔ ایک گلی سے دوسری گلی میں چکر لگا رہی تھی۔ لوگ اسے پتھر مار رہے تھے مگر وہ سب کچھ نظر انداز کر کے صرف اللّٰہ کی تلاش میں یہاں سے وہاں بھاگ رہی تھی۔

“وہ میری اپنی ہی روح تھی جو رب العالمین سے وصل کے لیے بے چین تھی”۔

جیسے ہی اسے وہ یکتا ذات اپنے قریب محسوس ہوئی وہ رقص کرنے لگی وہ رقص جو صرف اللّٰہ کے محبوب اور مخصوص بندوں پر وجد بن کر اترتا ہے۔

آج میں نے جھومتا ہوا رب دیکھا

سب نظروں سے اوجھل اپنے روبرو دیکھا

Mehram namehram novel by M. Mughal

  • by

کیس بہت بڑا ہے ۔اور ہرنے کا خطرہ زیادہ ہے ۔مجھے ہرنے کا تو ڈر نہیں لیکن اس میں مشکلات بہت ہیں ۔۔اس نے پریشانی سے بتایا ۔۔۔

ایسا کیا کیس ہے ۔۔۔اس نے تجسّس سے پوچھا

گرلز سمگلنگ کیس ہے ۔۔۔احمد رضا کی تحقیق کے مطابق سب سے زیادہ لڑکیاں انڈیا اور پاکستان سے سپلائی ہوتی ہیں۔اور سپلائی ہوکر آئلی آتی ہیں ۔پاکستان کے ایک بلڈر عاطف بلوچ کی بیٹی آج سے چار مہینے پہلے غائب ہوئی تھی لیکِن پولیس کا کہنا ہے کہ وہ گھر سے اپنی مرضی سے بھاگی تھی ۔لیکن عاطف صاحب نے اس بات کو منع سے انکار کر دیا کیونکہ ان کی بیٹی کی ایک ماہ بعد شادی تھی اور ان کے مطابق وہ اس شادی سے خوش بھی تھی ۔۔اس لیے انہوں سے یہ کیس ڈیٹکٹوو احمد رضا کی حوالے کیا ۔۔دو مہینے احمد رضا نے اس کیس پر کام کیا ۔اس نے عاطف بلوچ کی بیٹی کی آخری لوکیشن چیک کی تو وہ کراچی کے ایک بندر گاہ کی تھی ۔۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ عاطف بلوچ کی بیٹی کے غائب ہونے کے بعد سترہ لڑکیاں اور عاطف بلوچ کے علاقے سے غائب ہوئیں ۔حیرانی تو مجھے تب ہی کہ سب کی آخری لوکیشن وہ بندر گاہ ہی ہے ۔۔احمد نے بندر گاہ میں چھان بین کروائی تو اس کو کوئی ثبوت نہیں ملا ۔۔پھر آج سے پندرہ دن پہلے ہی عاطف بلوچ کے پاس ایک کال آئی ۔وہ کال ان کو ان کی بیٹی نے کی تھی ۔۔۔اور پتا ہے کہاں سے ؟ ۔۔اس ہی پاس والی شوپ سے ۔۔ایڈی نے سامنے والی ایک چھوٹی سی جوس کی شوپ کی جانب اشارہ کرتے کہا

وہ جو بلکل سنجیدگی سے ساری بات سن رہا تھا کہ اس کی آخری بات پر حیران ہوا

اس کا مطلب وہ یہاں اٹلی میں تھی ؟ اس نے حیرانی سے پوچھا

ہاں وہ پورے تین ماہ دس دن اٹلی میں فریڈی یلڈر کے گھر میں تھی ۔۔۔

Wahshi novel by Mah Bint e Sajjad 

  • by

“راہی بیٹا آپ یہاں ہو میں کب سے آپ کو ڈھونڈ رہی ہوں”

آمنہ بیگم کی آواز پر وہ مڑا سفید رنگ کے شلوار قمیض پر بھورے رنگ کی شال دونوں کندھوں پر ڈالے سرمئی آنکھوں میں کسی بھی قسم تاثر کے بغیر کھڑا وہ راہی تھا راہی مرزا بلوچ دس سال کا راہی لیکن اس کی شخصیت میں اس وقت بھی ایک رعب تھا

” میں یہیں تھا چھوٹی امی آپ کو کوئی کام تھا”

راہی نے آمنہ بیگم کو خاموش کھڑا پایا تو بولا اپنی باتوں اپنی عادتوں سے وہی کہیں سے بھی تو دس سالہ بچہ نہیں لگتا تھا

“ارے آج کے دن تم سے کیسا کام وہ تو بس تمہارے چاچو نے کہا کہ تمہیں اسٹیج پر لے آؤں تو اس لیے ڈھونڈ رہی تھی”

آمنہ بیگم نے مامتا بھرے لہجے میں کہتے ہوئے اس کی پیشانی چومی وہ آج بہت خوش تھیں آخر ہوتی بھی کیوں نہ آج ان کی اکلوتی بیٹی کی منگنی تھی وہ بھی ان کے جیٹھ کے اکلوتے بیٹے کے ساتھ بیشک انیس بلوچ جانتے تھے کہ ابھی پریشہ اور راہی بہت چھوٹے ہیں منگنی کے لیے لیکن پھر بھی وہ یہ تقریب رکھنا چاہتے تھے وہ چاہتے تھے کہ تمام گاؤں والوں اور خاندان والوں کو علم ہو جائے کہ پریشہ ان کے بھتیجے کی منگ ہے یہی وجہ تھی کہ انہوں نے منگنی کی تقریب اتنے بڑے پیمانے پر منعقد کروائی تھی

“آپ چلیں چھوٹی امی میں آتا ہوں”