Apne man mein doob kar pa ja suragh e zindagi novel by Jaweria Bint e Zubair
دادی جان مجھے تو یہ سب کا بدلہ رویہ سمجھ میں نہیں آ رہا؟
ماہی اداسی سے بولی۔
٫٫بیٹا ہم جب اللّٰہ کی راہ اختیار کرتے ہیں تو بظاہر کوئی مشکل اور رکاوٹ نظر نہیں آتی۔ ہم اسے بہت آسان سمجھتے ہیں مگر بعد میں سب اپنے لوگ بھی منہ پھیر لیتے ہیں کہ انسان کا دل چھلنی ہو جاتا ہے۔ صبر کرو اللّٰہ کی راہ میں آزمائش ضرور ہوتی ہے۔ مگر اسکا اجرو انعام بھی اتنا بڑا ہے صبر کرو،،
وہ پیر پٹختی ہوئی اندر کی طرف چل دی۔
اس نے سرمئی گھٹنوں تک آتی قمیض پہنی اور گاڑی میں ڈرائیور کے پیچھے جاکر بیٹھ گئی ڈرائیور نے اسے صادام کے گھر چھوڑا۔
وہ گھر کے اندر داخل ہوئی۔ گھر میں خاموشی تھی۔
تم مجھ سے کتنی محبت کرتے ہو صادام؟
ڈرائنگ روم سے نسوانی آواز آئی۔ وہ آواز سن کر اسکا دل دھڑکا۔
وہ ڈرائنگ روم کے دروازے کی اوٹ میں کھڑی ہو گئی۔ اسے صادام کے جواب کا انتظار تھا۔
٫٫ بے انتہا،،
صادام کے جواب پر اسکا دل چھن سے ٹوٹا۔
اس نے کمرے میں جھانکا نوجوان لڑکی مغربی طرز کے کپڑے پہنے صادام کے ساتھ بیٹھی تھی۔
واہ!صادام واہ! وہ کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولی۔
اسکی آنکھوں سے دو آنسو نکل کر گال پر پھسل گئے۔
یہ کون ہے بےبی؟
لڑکی نے سوال داغا۔
یہ کیا بتائے گا میں خود بتاتی ہوں۔وہ دو قدم آگے بڑھی۔
میں اسکی منگیتر ہوں جسے ابھی کل یہ اپنے نام کی انگوٹھی پہنا کر آیا ہے۔ وہ دکھ سے بولی پھر اس نے صادام کی طرف رخ کیا اور بولی
٫٫تمہیں پتا ہے جیسا مرد ہوتا ہے اسے ویسی عورت ملتی ہے۔ تمہیں پتا ہے تم اسی کو ڈیزرو کرتے ہو۔ اس نے انگوٹھی اتار کر اسکے منہ پر ماری اور فوراً وہاں سے نکل گئی۔
***
آج صادام کے گھر کیا ہوا تھا؟
اس کے ڈیڈ نے سوال کیا۔
بابا وہاں ایک لڑکی تھی اس نے اتنا کہا تھا کہ اسکی آنکھوں میں آنسو آ گئے وہ مزید کچھ کہتی اس سے پہلے اسکی امی بول اٹھیں
وہ اسکی دوست تھی۔
مما وہ غلط بات کر رہی تھی جو چیز میری ہے وہ صرف میری ہے۔ میں ماہجبین شاہ ہوں میں چیزیں بانٹنا نہیں جانتی وہ چلائی۔
اپنی آواز نیچی رکھ کر بات کرو اسکے ڈیڈ غصے سے بولے۔
تمہارے بھی تو لڑکے دوست تھے صادام نے تو کبھی کچھ نہیں کہا اسکی امی نے طنز کیا۔
تم انگوٹھی اتارنے کا مطلب سمجھتی ہو نہ رشتہ توڑنے کے مترادف ہوتا ہے اسکی امی غصے سے بولیں۔
٫٫تمہارا نکاح صرف صادام سے ہوگا،،
***
رک جائیں قاضی صاحب۔
ہال میں آواز گونجی۔ پولیس انسپکٹر اپنے حوالداروں کے ساتھ ہال میں داخل ہوا۔
سب پولیس انسپکٹر کی طرف دیکھنے لگے۔
زین شاہ آگے بڑھے
یہ کونسا طریقہ ہے کسی کے ذاتی فنکشن میں گھسنے کا وہ غصے سے بولے۔
ہمارے پاس صادام اکبر کے گرفتاری کا وارنٹ ہے صادام اکبر کو اسمگلنگ کے جرم میں گرفتار کیا جاتاہے۔
انسپکٹر نے کہا۔ ایک حولدار صادام کو ہتھکڑی پہنا رہا تھا۔ جبکہ اسکی امی چلا رہی تھی۔ ماہجبین حیرانی سے یہ سارا تماشا دیکھ رہی تھی۔ پولیس صادام کو گرفتار کرکے لی جا چکی تھی۔
زین بھائی میرے بیٹے پر الزام لگا ہے۔ یہ کسی کی سازش ہے پلیز آپ کچھ کریں صادام کی امی روتے ہوئے بولیں۔ کچھ کرتے ہیں وہ سر ہلاتے ہوئے بولے۔
