Skip to content
Home » Asra Khan

Asra Khan

Jaan ne jaana by Asra khan complete PDF

  • by

“جاناں بیٹی کدھر ہو؟
دیکھو ہم آ گئے”
ٹیبل پر جاناں کی پسندیدہ چیزوں کے بھرے ہوئے شاپرز رکھتے ہوئے اکرام صاحب نے آواز لگائی
نور بیگم انہیں بیٹھنے کا اشارہ کرتی وہیں صوفے پر بیٹھ گئیں۔
“جاناں؟”
انہوں نے پھر سے آواز لگائی۔
دروازہ کھلا۔
وہ مسکرائے
مگر سامنے کمرے سے نکلتی شخصیت کو دیکھ وہ دونوں جھٹکے سے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔
“ویلکم سسر جی اینڈ ساسو ماں”
فاتحانہ آواز میں کہا گیا تھا۔
ان دونوں کی آنکھیں پھٹنے کو آگئیں تھیں۔

Sham seher by Asra Khan Complete PDF

  • by

“کک کون ہو تم؟؟
اور مجھے یہاں کیوں لائے ہو؟”
وہ اس گہرے سیاہ بالوں والے پرکشش لڑکے کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر گھبراتی ہوئی بولی۔
“انسان ہوں میں
اور اگر تمھیں پتا چل جائے میں کون ہوں تو تم شاید یقین نا کر پاؤ”
وہ اسکے پاس بیڈ پر آ کر بیٹھ گیا۔
اسے اپنے قریب دیکھ کر وہ بری طریقے سے مچلتی خود کو چھڑوانے لگی
مگر ہاتھ پیر بندھے ہونے کی وجہ سے ناکام رہی۔
“تت۔۔تو بتاؤ تو سہی کون ہو تم؟”
اسکی سنہری آنکھوں میں بے تحاشہ خوف جھلک رہا تھا۔
“تمہارا شوہر
بیس سال پہلے کا”
چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔
“اب بتاؤ کیا کرو گی؟ ہاں؟”
اسکا لہجہ جھلسا دینے والا تھا۔
مطمئن انداز میں وہ بولتا اسکے سر پر دھماکہ کر گیا۔۔
وہ ساکت سی اسے دیکھے گئی تھی۔
“میں جنات سے ہوں اور تم انسان تم میرے شوہر نہیں ہو سکتے یہ جھوٹ ہے”
تھوڑی دیر بعد وہ بولنے کے قابل ہونے پر چلائی
“تم یہ نہیں کہہ سکتی۔ کیوں کہ حقیقت جانتی ہو کہ تم ایک انسان ہو”
وہ اپنے مخصوص لب و لہجے میں بولتا اسے فکر کے سمندر میں غرق کر گیا تھا
بات تو واقع ہی سچ تھی!
بھیانک سچ!