Skip to content
Home » Ayesha Arif

Ayesha Arif

Khasara novel by Ayesha Arif

  • by

ایسے کیا دیکھ رہے ہو- وہ آہستہ آہستہ اپنے قدم اسکی طرف بڑھانے لگا- اور وہ اپنے قدم پیچھے کو لینے لگی- تبھی اسکا پیر کسی چیز سے ٹکرایا اور وہ منہ کہ بل گرا- زمین کا سہارا لیتے وہ اٹھا مگر- وہ اسے کہی نظر نہیں آئی- وہ کہی نہیں تھی —

وہ پاگلوں کی طرح ادھر ادھر دیکھ رہا تھا

اپنی کتاب کھولے وہ کتاب کو غائب دماغی سے دیکھتی حشام کی باتیں سوچ رہی تھی –

“میرے لیے تمہارا اعتراف اور انکار کوئی معنی نہیں رکھتا”

کیا مجھے یہ بات گھر میں کسی کو بتانی چاہے؟

نہیں فضول میں ہی گھر میں سب پریشان ہوجائے گئے مجھے خود کوئی حل ڈھونڈنا ہوگا-

بابا شامیر کا کچھ پتہ چلا- حمزہ باہر سے آتے بولا-

نہیں آصف کو کال کی ہے وہ پتا لگا رہا ہے تم جاکر اسکے کسی دوست سے پوچھو– آخر کہاں جاسکتا ہے-عباس نے اسے دیکھتے کہا

میں نے سب جگہ پوچھ لیا ہے وہ کہی نہیں ہے – حمزہ پریشانی سے ادھر ادھر ٹہل رہا تھا جب داخلی دروازے سے شامیر داخل ہوا- اسے دیکھتے عباس بھی اٹھ کر اسکی طرف لپکے-

شامیر یہ — یہ تم نے کیا حال بنا رکھا ہے؟ اسکے دھول سے بھرے کپڑوں کو دیکھتے وہ بولے-

جبکہ کہ وہ ہونق بنا بس انکو دیکھتا رہا

شامیر کہاں تھے تم – ماہم نے آگئے بڑھتے اسکا چہرہ تھامتے کہا-

آہستہ سے اپنا چہرہ انکی گرفت سے چھڑواتے وہاں سے چلا گیا-

ماہم منہ پر ہاتھ رکھتے بے آواز رونے لگی-

ماہم آپ پرشان نہ- عباس کی بات کاٹتے وہ روتے بولی-

کیسے پریشان نہ ہوں- میرے جیتے جی میرا بیٹا اس حال میں ہے مجھ سے نہیں دیکھا جا رہا –

حمزہ انکو وہی چھوڑتے شامیر کہ پیچھے اسکے کمرے میں چلا گیا- اسکے بازو سے پکڑتے اسکا رخ اپنی طرف کرتے وہ

کہاں تھا تو– ؟ بول –

گہری

تجھے اندازہ بھی ہے ہم کتنے پریشان تھے–

شکل دیکھ اپنی توں – کوئی پاگل ہی لگ رہا ہے

وہ ویسے ہی بیٹھا رہا حمزہ اب کی بار کچھ نرم پڑھا-

یار کیا ہو گیا- توں کچھ بول کیوں نہیں رہا-

شامیر اپنا ہاتھ چھڑاتے بیڈ پر لیٹ گیا جس کا صاف مطلب تھا مجھے تنگ مت کرو-حمزہ کتنی دیر اسے دیکھتا رہا پھر لائٹ اوف کرتے کمرے سے ہی چلا گیا-