“زوہرام نے شاک نظروں سے رابیل کو دیکھا جو اب کی بار بہت پریشان دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
“نہیں یہ سب اس نے اپنے کزن کی وجہ سے کیا تھا وہ چاہتی تھی میری باربی روحان کا پیچھا چھوڑ دے” ارتسام غصہ سے ایی بی جے سامنے رکھی ٹیبل پر ہاتھ مارتے کھڑا ہوا ۔۔۔۔
“تم بھول گے ہو کیا کے تم کس کے سامنے بیٹھے ہو” چھپے چہرے والا ایک بندہ اس کے پاس آتے گن اس کے ماتھے پر رکھتے بھنچے لہجے کے ساتھ غصہ سے بولا تو حسام نے لب بھنچتے غصہ سے اسکی جانب دیکھا۔۔۔۔جب کے اپنے ہاتھ سے ارتسام کے ہاتھ کو تھاما ۔۔۔
“ایی بی تم بھی جانتے ہو میں بھی ڈیول کا بھائی ہوں اگر تم بھی اس سیاہی کے بادشاہ ہو تو میں بھی اس سیاہی کا پہرے دار ہوں اگر میرا بھائی خاموش ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں تم ہمارے تعلقات خود سے خراب کرو اگر انڈرولڈ میں دشمنی اس لڑکی کی وجہ سے پالو گے تو خود ” ابھی غصہ سے بولتا ارتسام اپنے گال پر پڑنے والے تھپڑ پر تمھا۔۔۔
یہ تھپڑ مارنے والی درمیہ تھی قہر آنکھوں میں لیے اسے گھور رہی تھی جو خون آشنام نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
“تم اپنی اوقات بھول رہے ہو تو یاد دیلانا اپون نے ضروری سمجھا۔۔۔” اسکا انداز ایسا تھا جیسے اسے چیلنج کر رہی ہو۔۔۔
“ایی بی ہم ہاتھا پائی نہیں کرنے آۓ یہاں سمجھے” حسام نے قہر بھری نظر درمیہ پر ڈالی اور ارتسام کو سختی سے بازو سے پکڑا جو تیش سے خون سی گھونٹ بھر کر رہ گیا۔۔۔۔