مامو! وہ نہیں آتے کیا؟ زویا نے تھوڑا پاز لیا پھر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا جو اب کنکر دور پھینک رہی تھی۔
کون سے چھوٹے یا بڑے؟ رضیہ نے اس کی طرف دیکھے بنا پوچھا۔
کیا مطلب چھوٹے مامو تو نانی کے ساتھ نہیں رہتے ؟ زویا کو حیرت کا جھٹکا لگا۔
ہاہ! رضیہ نے ٹھنڈا سانس خارج کیا۔
زویا باجی آپ کیوں آئی ہیں؟ وہ برہمی سے بولی۔
کیا مطلب میری نانو کا گھر ہے! وہ ہڑبڑا گئی۔
اتنے سالوں میں کسی کو نا یاد آیا وہ بھی نانی دادی یا ماں ہیں کسی کی؟ اب کیا کریں گی اس بوڑھے وجود سے آپ ؟ رضیہ کا لہجہ تلخ ہو گیا۔
آپ مجھ سے ایسے بات نہیں کر سکتی! وہ پھٹی آواز میں بولی ۔
ظاہر ہے آپ مالک ہیں میں نوکر ہوں ،مگر اب میں کسی کو اجازت نہیں دوں گی کہ میری بی جان کو تنگ کرے ، ائی سمجھ آپ مہمان بن کے آئی ہیں اچھے سے دن گزاریں اور جائیں! وہ اب پھر سے مرچوں کی طرف متوجہ ہوئی آپ مرچیں کوٹتے ہوئے اس کی سختی بڑھ گئی تھی۔ زویا کا سانس تھما وہ سیڑھیاں اترتی نیچے ائی ، سیڑھیوں کے سامنے ایک درخت تھا جس کے نیچے ایک تخت تھا ، وہاں ایک بوڑھی اماں ٹیک لگائے تھیں۔وہ چپکے سے آئی اور ان کے پاس نیچے زمین پہ بیٹھ گئی۔
بوڑھا وجود انکھیں موندھے ہوئے تھا۔ چہرے پہ ہڈیاں نمایاں تھیں ، زویا نے ان کا ہاتھ نرمی سے ہاتھ میں لیا تو جیسے کسی بچے کا ہاتھ ہو۔رضیہ چھت سے دیکھ رہی تھی اس نے اپنے تھمے آنسو بہنے دئیے جو کب سے بہنے کے لئیے بے تاب تھے ،نمکین پانی منہ کا ذائقہ بنا وہ ہنس دی۔
چھوٹے صاب کہتے تھے ، آنسو اتنے مزیدار ہوتے ہیں اگر پی لئیے جائیں ، کئ یادیں اوازیں اس کے کانوں سے ٹکرائیں۔۔