Skip to content
Home » Rimsha Riaz » Page 2

Rimsha Riaz

Neelofar by Rimsha Riaz complete novel pdf

  • by

یہ کہانی عکاسی کرتی ہے غیرت کے نام ہونے والے نام نہاد قتل پہ، فتنہ سازی پہ، معاشرے کے کچھ گناہوں پہ ۔کچھ سوالات ہیں ! جو ہر ذہن میں ہیں یہ کہانی ان سوالات کا جواب ہے ، یہ بالکل فرضی کہانی ہے اگر کسی کو لگتا ہے کہ یہ حقیقت ہے تو وہ اتفاق ہو سکتا ہے۔۔

************

Sanatay goonjte hain by Rimsha Riaz Complete Novel

  • by

مامو! وہ نہیں آتے کیا؟ زویا نے تھوڑا پاز لیا پھر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا جو اب کنکر دور پھینک رہی تھی۔

کون سے چھوٹے یا بڑے؟ رضیہ نے اس کی طرف دیکھے بنا پوچھا۔

کیا مطلب چھوٹے مامو تو نانی کے ساتھ نہیں رہتے ؟ زویا کو حیرت کا جھٹکا لگا۔

ہاہ! رضیہ نے ٹھنڈا سانس خارج کیا۔

زویا باجی آپ کیوں آئی ہیں؟ وہ برہمی سے بولی۔

کیا مطلب میری نانو کا گھر ہے! وہ ہڑبڑا گئی۔

اتنے سالوں میں کسی کو نا یاد آیا وہ بھی نانی دادی یا ماں ہیں کسی کی؟ اب کیا کریں گی اس بوڑھے وجود سے آپ ؟ رضیہ کا لہجہ تلخ ہو گیا۔

آپ مجھ سے ایسے بات نہیں کر سکتی! وہ پھٹی آواز میں بولی ۔

ظاہر ہے آپ مالک ہیں میں نوکر ہوں ،مگر اب میں کسی کو اجازت نہیں دوں گی کہ میری بی جان کو تنگ کرے ، ائی سمجھ آپ مہمان بن کے آئی ہیں اچھے سے دن گزاریں اور جائیں! وہ اب پھر سے مرچوں کی طرف متوجہ ہوئی آپ مرچیں کوٹتے ہوئے اس کی سختی بڑھ گئی تھی۔ زویا کا سانس تھما وہ سیڑھیاں اترتی نیچے ائی ، سیڑھیوں کے سامنے ایک درخت تھا جس کے نیچے ایک تخت تھا ، وہاں ایک بوڑھی اماں ٹیک لگائے تھیں۔وہ چپکے سے آئی اور ان کے پاس نیچے زمین پہ بیٹھ گئی۔

بوڑھا وجود انکھیں موندھے ہوئے تھا۔ چہرے پہ ہڈیاں نمایاں تھیں ، زویا نے ان کا ہاتھ نرمی سے ہاتھ میں لیا تو جیسے کسی بچے کا ہاتھ ہو۔رضیہ چھت سے دیکھ رہی تھی اس نے اپنے تھمے آنسو بہنے دئیے جو کب سے بہنے کے لئیے بے تاب تھے ،نمکین پانی منہ کا ذائقہ بنا وہ ہنس دی۔

چھوٹے صاب کہتے تھے ، آنسو اتنے مزیدار ہوتے ہیں اگر پی لئیے جائیں ، کئ یادیں اوازیں اس کے کانوں سے ٹکرائیں۔۔

Gul aashiyana by Rimsha Riaz Complete novel

  • by

میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں! وہ اس میسج کو دیکھ کر حیران ہوا تھا۔
مسٹری!
کچھ دیر بعد وہ اپنے سامنے ایک نوجوان کو دیکھ رہا تھا ، جو مشرقی تھا ، پیارا سا ۔
کیوں ملنا تھا! سپاٹ لہجے میں سوال کیا گیا۔
بھائی سے ملنا ہے اگر دوہری شخصیت کو سائیڈ میں رکھیں تھوڑی دیر تو! وہ معصومیت سے بولا۔
ایک منٹ کے لئیے دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔
پھر اس نے بازو پھیلائے ارمغان اس کے گلے لگا تھا۔ ارمغان نے اسے خود میں بھینچا ۔
کیسے ہو مسٹری ، ارمغان نے اس کا شانہ چوما۔
آپ کا انتظار کرتا ہوں آج بھی ! وہ مسکرایا
یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں نہیں آؤں گا؟ وہ مسکرایا۔
ابھی بھی تو آئے ناں؟ وہ ہنسا۔
تم بہت سمجھدار نہیں ہو گئے۔
ہمم مما کہتی تھی!
وہ دونوں دکھی تھے۔
بابا کو آپ نے مارا تھا ناں بھائی اس کے سوال پہ لوسفر نے ماتھا مسلا۔
بدلہ لو گے؟ وہ سنجیدگی سے بولا۔
ہو سکتا ہے؟ وہ مسکرایا ۔
میری ماں پہ ظلم ہوا تھا۔
وہ میری ماں بھی تھی! مگر وہ آپ سے اتنی محبت کیوں کرتی تھیں؟ وہ معصومیت سے بولا۔
مسٹری مجھے کام ہے وجہ بتاؤ بلانے کی؟ وہ تپا۔
مجھے آپ سے بھائی اور خاندان والا پیار مل سکتا ہے؟
اگر امتحان پاس کر لو تو!
کیا امتحان ہے؟ وہ فورا بولا۔
میرے خاندان کی نگہبانی ۔
اور آپ کا خاندان کون ہے؟ وہ بازو سینے پہ باندھ کہ بولا۔
ہمارے مامو کی بیٹی! اس نے اتنا کہا۔ اور چلنے لگا ۔
ماں کی ڈائری لایا تھا۔اپ کو دینے کا بولا تھا ۔صیحیح وقت آنے پہ! وہ آواز پہ رکا تھا۔
پلٹ کے آیا ڈائیری دیکھی۔پھر لے کر چلا گیا ۔وہ۔لڑکا۔پھر سے بینچ پہ بیٹھ چکا تھا۔
اینجل لوسیفر کی ناکام کوشش کرتا ہوا۔وہ منہ بنا کر بولا اور پھر ہنس دیا۔

Aaina ke is taraf by Rimsha Riaz

  • by

یہ تحریر اجکل کے نئے لکھاریوں کے لئے ! جو کہ ماشاءاللہ سے اتنا اگے نکل چکے ہیں، کہ انھیں پڑھ کر آخرت ہی خراب کرنی ہے۔

آج کی تحریر تنقید ہے

میرے ضمیر کی آواز ہے

Free download this based on

“One bitter and harsh truth“

Aaina ke is taraf by Rimsha Riaz

complete in pdf.

یہ کوئی ناول ،ناولٹ ، افسانہ ، یا کہانی نہیں ہے ،بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے ، یہ تحریر لکھاری ،پبلشرز اور قارئین کے لئیے ہے ، یا تنقید برائے اصلاح بھی کہہ سکتے ہیں ، کس چیز کی عکاسی ہے یہ تحریر وہ پڑھ کر معلوم ہو جائے گا ، اس کے لئیے میری مدد کی ہے ،کسی کے ایک جملے نے

” جب نیکی کی راہ پہ چلو تو شر سے مت ڈرو”

میں نے لکھنا چھوڑ دیا تھا یہ جملہ تو مجھے یاد رہا مگر میری ہمت نہیں ہوئی کہ میں اس تنقید میں صفحے بھرتی جاؤں ۔کچھ تھوڑا بہت لکھا ہے ، غلطی ہو تو معذرت ، دعا میں یاد رکھئے گا ۔

۔۔ رمشاء ریاض

Doosri mohabbat by Rimsha Riaz Complete novel

  • by

خبر آئی کہ اس کا جنازہ آرہا ہے میرے جسم سے روح پرواز کرنے کی صدا ائی۔یہ کیا ہو گیا کیوں میں تو اس کی امانت ؟ کون سی امانت ! ہمارا نکاح؟ کیا ہوا تھا۔؟

میں نے اس کے جنازے پہ دل کھول کے آنسو بہائے ماتم کیا ، اس کی قبر پہ جا کر پوچھا کہ میرے ساتھ کیوں کیا۔مجھے کسی کے لئے کیوں چھوڑا، پھر میں نے اس کے قبر سے ایک ہیولہ دیکھا۔مجھے خوف خدا آیا ۔

میں وہاں سے بھاگی میں جب گھر آئی تو مجھے بخار تھا ۔مجھے سمجھ ائی میں نے گناہ سر زد کر لی ہے بہت بڑا ہاں میں نے نا محرم سے محبت کی پینگیں باندھی ، پھر مجھے اللہ کی پکڑ سے خوف آیا ۔

میں مے نمازیں شروع کیں ۔

میں اسے بھولنے کی کوشش کرنے لگی کافی مشکل کام۔تھا۔

میں مے توبہ کی مگر مجھے لگا کبھی قبول نہ ہو گی پھر اچانک ایک دن میں نے قرآن ایسے ہی بے دھیانی میں کھولا تو سورہ توبہ کھلی تھی

: کیا انھیں خبر نہیں ہے کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور صدقے خود اپنے دست قدرت میں لیتا ہے اور وہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے:

یہاں تک کہ اتنی وسیع زمین ان پہ تنگ ہو گئی اور وہ اپنی جان سے بھی تنگ اگئے اور انھیں یقین ہوا کہ خدا سے پناہ نہیں پھر انھوں نے توبہ کی اور بے شک وہ توبہ قبول کرنے والا رحیم ہے

i: کیا انھیں نہیں خیال آتا ہے ہر سال ایک دو بار آزمائے جاتے ہیں پھر نہ تو یہ توبہ کرتے ہیں نہ نصیحت مانتے ہیں نہ اسے یاد کرتے ہیں

مجھے تھوڑا حوصلہ ملا اور پھر سے کھڑی ہوگی ۔کہ۔بے شک وہ ذات غفور ہے تو مجھے معاف کر دے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Ababeel by Rimsha Riaz Complete novel

  • by

یہ کہانی خیالی کہانی ہے مگر اس میں جو لکھا ہے وہ ہمارے معاشرے سے تعلق رکھتا ہے میں بہت شکر گزار ہوں لائبہ پرویز کی جو مجھے سپورٹ کرتی ہیں۔مس شانزہ کی جو ہمیں پڑھاتی ہیں! اس کہانی میں ، میں نے بہت سے پولیٹیکل ویوز دئیے ہیں جو کہ میم شانزہ کی وجہ سے ممکن ہو پایا۔

اس کے ساتھ میں شکر گزار ہوں میم آمنہ یونس کی جنھون نے مجھے بہت سراہا اور مدد کی۔

یہ کہانی آپ کو بہت کچھ سکھا جائے گی انشاء ، امید ہے اس کو پڑھنے کے بعد اپ کے دل و دماغ میں میں رہوں یا نہ رہوں مگر وطن کی محبت ضرور جاگ جائے گی۔

Aur tum aaye by Rimsha Riaz Complete novel

  • by

دل کی مطمئن کیفیت ، جو ہو گیا ہے اس پہ افسوس نہ کرنا جو ہونے جا رہا ہے اس کے نتائج کا ڈر نہ ہونا ھو گزر رہا ہے اس پہ لمبی سانس لینا ،اور کہنا زندگی تجھے میں نے بھرپور جیا تو ںے جو کیا تجھ پہ جچتا بھی ہے جو میں نے کیا میں ملال نہیں کرنا چاہتا ، بس اب دل آرام چاہتا ہے سکون قلبی، اکتاہٹ سے دور دنیا کی رنگینیوں میں ڈوب کر بھی دیکھا میں نے خود کو بھیڑ میں گمنام بھی کیا مگر مجھے ڈھونڈںے فقط کچھ چہرے ہی آئے وہ کچھ شناسا تھے، مگر اپنوں نے ہی تو گمنام کیا وہ کہاں پھر سے خطرہ مول لیتے۔ مگر اب زندگی ساکت ہے اور میں مسکن نہ غم ہے نہ خوشی ہے نہ افسوس ہے ،نہ کوئی خواہش ، بس اب زندگی کے رنگ پھیکے پڑ گئے ہیں یا اب مجھے رنگین سما بھاتا نہیں ہے ۔ بس جو بھی مجھے کچھ بھی حاصل نہیں ہے اور جو لا حاصل ہے وہ مقدر نہیں ہے ۔ بس یہی میری زندگی ہے، بغیر سر وساز کے، بغیر رازونیاز کے اک بے رونق مگر مطمئن زندگی۔۔۔۔۔