Skip to content
Home » Rimsha Riaz » Page 3

Rimsha Riaz

Al qamar makhzoob by Rimsha Riaz Complete novel

  • by

تم کب مجھے یہاں سے چھٹکارا دلاؤ گے ، گوری نہ جانے کتنی بار اس سے پوچھ چکی تھی، وہ اس کے پیروں کی طرف بیٹھی ہوئی تھی ۔

کیا مصیبت ہے یار! عادی کوفت سے اٹھا جھٹکا لگنے سے گوری پیچھے کو گری۔کہنی زمین پہ لگنے سے کراہی

اب اتنی بھی نہیں لگی جو آوازیں نکال رہی ہو۔وہ بیزارگی سے بولا ۔

بعض اوقات چھوٹی چھوٹی چوٹیں بڑے بڑے درد یاد دلا دیتی ہیں ، عادی، وہ زہریلی مسکراہٹ سے بولی۔

یہ کیا عادی عادی لگا رکھا ہے ، تم جیسی طوائفوں کے منہ سے مردوں کے نام نہیں اچھے لگتے سمجھی، اس نے اس کا بازو مروڑا تو وہ سسکی۔

ہم جیسی ؟ عورت جسم بیچے تو طوائف! اور اس جسم کے خریدار کو کیاکہتے ہوں گے صاحب؟ وہ طنزیہ ہنسی!

شٹ اپ وہ چلایا۔

جانتے ہیں اس کو کہتے ہیں درندہ ، سور اس سے بہتر ہوتا ہے ، گند میں منہ مارتا ہے مگر اس کا صفایا بھی خود کرتا تم جیسا نہیں ہوتا ، ہاں جو عورتوں کو ان کی خوبصورتی کی وجہ سے شادی کی لالچ دیں ، اور پھر کام بن جائے تو نمازی ہونے کا ڈھونگ کریں۔ وہ بھی حلق کے بل چلائی۔

عادی نے ہتھوڑے جیسے ہاتھوں میں اس کا نازک جبڑا زور سے پکڑا، ضبط سے اس کی انکھوں سے آنسو بہنے لگے اس کی آنکھیں بند تھیں۔رخسار گلابی ہو رہے تھے۔ہونٹ پھڑپھڑا رہے تھے مگر ظالم کی گرفت اس کیلے گھٹن بن رہی تھی۔

ھا ھا تم سے شادی؟ وہ بھی عادی خان ؟ طوائف سے ؟ تم جیسی عورتیں صرف باہر کی زینت ہوتی ہیں جس زینت کا ہم مرد اچھے سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، اور رہی بات خوبصورتی کی ، تو پرنسس یہی تو تمھاری دشمن ہے، بیوی میری تمھاری طرح تھوڑی ہو گی! وہ نحوست سے اسے جھٹک گیا۔

باہر کی عورت کو ناپاک کر کے تمھیں بیوی پاک چاہیے واہ کمال ! وہ استھزا سے اس کی انکھوں میں دیکھ رہی تھی۔

چچ برا ہوا میں نے تمھیں ناپاک کیا؟ کیا اس سے پہلے تمھیں کسی نے نہ چھوا ہاں؟ وہ اسے مزاحیہ نظر سے جانچنے لگا ۔

اس نے زخمی نظروں سے اسے دیکھا جو اس کو محرم بننے کا وعدہ دے چکا تھا۔

کیا انسان اتنی جلدی وعدوں کو پس پشت ڈال دیتے ، وہ اذیت میں تھی۔

کیا ہوا غصہ اریا ہے ؟ ھا ھا آنا بھی چاہیے تم جیسی معصوم لڑکیوں کو لگتا ہے کہ تمھارا گاہک تمھارا محرم بنے گا ! کیا واہیات ہے ، مرد جس چیز کو خریدتے ہیں ، اس کو استعمال کے بعد مڑ کے دیکھتے تک نہیں ، جب تک وہ کام کی ہے یا جب تک دل نہ بھر جائے ، وہ اس کے کان میں سرگوشی کر کے بولا اور پیچھے ہٹ کے قہقے لگانے لگا۔

خدا تم سے حساب لے گا! وہ ضرور لے گا ، وہ ڈھے سی گئی ، اس کی آواز گھٹ گئ۔

عادی طیش سے اس کی طرف بڑھا اس کا منہ دبوچا۔

تم کون سی پارسا ہو ہاں تم بازار* عورت اس نے تپھڑ جڑ دیا،

مار دو مجھے چھین لو سانیسں، ازاد کر دو مجھے ، کر دو آزاد وہ روتی ہوئی اس کے قدموں میں بیٹھ گئ۔

عادی نے اسے بالوں سے پکڑ کر کھڑا کیا۔

کوئی بھی نکاح نہیں کرتا ، کرنا ہوتا تو یہان نہ آتا اس لیے جو کام کرتی آرہی ہو وہی کرو زیادہ ہوا میں مت اڑو خاص طور پہ جب تمھارے پر کٹے ہوں وہ چبا چبا کے بولا۔

خدا تمھیں بھی تمھارے پیار سے دور کرے گا عادی مکافات عمل ہوگا تمھارے ساتھ ، وہ روتے ہوئے خود کو چھڑانے لگی۔

ھا ھا مکافات عمل ؟ یہ تو صرف کہاوت ہے پرنسس ، اجکل دوسروں کو رلانے والے مخلفیں لگاتے ہیں ، سکون میں ہوتے ہیں، عیش کرتے ہیں ، اور تم جیسے بیوقوف لوگ بس مکافات عمل کا انتظار کرتے ہیں، وہ استھزا سے بولا۔

تم اس ہستی کو بھول گئے عادی تم سفاک ہوگے تم لاپروا ہو گے وہ تمھیں گھٹنوں پہ لے آئے گا، وہ تم سے تمھاری انا غرور چھین لے گا ، پھر تم اسی در پہ تم ، تم عادی آو گے تب میں تمھیں دھتکاروں گی،وہ اس کے سینے پہ انگلی رکھ کر بولی اس کی انکھوں میں خون تھا۔

عادی نے اسے دور کیا اسے خوف آیا ، اس گھن آئی خود سے اسے کچھ سمجھ نہیں آئی ، وہ لمبا سانس لے گیا۔

تمھاری ہنسی جب چھن جائے گی تب تمھیں پتا چلے گا خوف خدا کیا ہوتا ہے، وہ غرائی۔

وہ کانپتے ہوئے پیچھے ہوا اس نے ماتھے پہ آیا پسینہ پونچھا اب وہ ہنس رہی تھی۔ اسے اور ڈر لگنے لگا اس نے شرٹ پہنی اور بھاگ آیا ، پہلی بار اسے طوائف نے ڈرایا تھا ، اسے خدا یاد آیا تھا ، اس نے گندگی میں پاکی تلاش کرنی چاہی ، یہ پہلی بار تھا۔مگر ابھی اسے سفر کرنا تھا

Pyar ek shart pe by Rimsha Riaz Complete novel

  • by

کیا ہوا کیوں آگئی کلاس میں تو ٹائم ہے، ؟

تمھیں کیا لگا تم نے تو ویسے بھی ٹائم پاس ہی کرنا ہے نا ایحان اور اس بار مجھ سے کر رہے ہو! مسفرہ تڑخ کہ بولی

کیا کہہ رہی ہو مسفرہ ، وہ پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھنے لگا

تم مجھ پہ شرط لگا بیٹھے ایحان کیا میں اتنی سستی اور گری پڑی چیز ہوں ، وہ پھٹ پڑی

تم غلط سمجھ رہی ہو وہ بس مذاق تھا مسفرہ ، مگر میں نے تم سے منگنی کی ہے میں پیار کرتا

منگنی کچا رشتہ ہوتا ہے اور جب تمھارا ٹائم پاس ہو جائے گا تو چھوڑ جاؤ گے ناں ، وہ ہنسی ایک تھپڑ اس کے گال چھو گیا ۔

جان نکال کہ رکھ دوں گا تمھاری اگر ایسا کچھ زہن میں لایا ، اور رہی بات نکاح کی تو ہمارا نکاح اب اسی ہفتے ہو گا آئی سمجھ وہ اس کا بازو پکڑ کہ بولا

مجھے نہیں کرنی

اہاں! سوچنا بھی مت ! ایحان نے گرفت بڑھائئ

بہت برے ہو تم! وہ چھڑاتے ہوئے بولی

اچھا ہو سکتا ہوں ، شرط اگر لگا بھی لی تو کیا ہو گیا کہ آج تک تمھارے ساتھ کچھ برا کیا نہیں نا! وہ اس کو سہلاتے ہوئے بولا ۔

وہ ناں میں سر ہلانے لگی

تو پھر، اس نے اس کی ٹھوڑی اوپر اٹھائی

غصہ ہو مجھ پہ؟

ہمم تھوڑا سا، وہ معصومیت سے بولی

اوکے ٹیک یور ٹائم۔وہ کمفرٹ ٹیبل کر رہا تھا۔

ایحان ! سوری تو بولو!

نہیں یار میری ایگو ہرٹ ہوگی! وہ ہنسا

پر تم شادی کے بعد برتن دھو گے تو سوری تو پھر چھوٹی سے چیز ہے، وہ معصومیت سجائے بولی

وہاٹ! تم مجھ پ

سے برتن دھلاو گی، وہ سینے پہ ہاتھ رکھ کہ بولا

استری بھی کر سکتے ہو ، سنڈے کو صفائی مل کر کر لیں گے ناں ، وہ پلان بتا رہی تھی

توبہ توبہ ! تمںیں شوہر نہیں نوکر چاہیے مجھے زن مرید نہیں بننا بھیئ

Koh e ana novel by Rimsha Riaz 

  • by

بولو کیوں بلایا ہے ؟ ارسلان سلور شرٹ بلیک پینٹ میں ملبوس ماتھے پہ تیوریاں لیے ہانیہ کے سامنے کھڑا تھا۔

ارے سانیس تو بحال کریں۔ آرام سے بیٹھ جائیں ۔ ہانیہ ڈھٹائی سے بولی ۔

وہ سامنے کی سیٹ پہ براجمان ہوا ۔ چہرے پہ ناگواری کے تاثرات تھے۔

بولو جلدی ٹائم نہیں ہے! وہ گھڑی دیکھتے بولا ۔

ارسلان آپ اچھے سے جانتے ہیں کہ میں اپ سے بہت پیار۔۔۔۔

ہانیہ تمھارے دماغ میں یہ بات کب بیٹھے گی ہاں کہ میں نہیں کرتا پیار وار کچھ بھی۔

دیکھو ارسلان ؟ اس نے بے باکی سے اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھا ارسلان نے جھٹک دیا۔

ہاتھوں کو قابو میں رکھو ہانیہ ۔ مجھ سے دور رہا کرو میں نہیں کرتا پیار ۔

تو کیا اس عنائشہ سے کرتے ہو ہاں ۔ سننا چاہو گے کہ وہ تمھارے بارے میں کیا سوچتی ہے۔ سنو گے تو سنو پھر۔ اس نے ریکارڈنگ چلا دی۔

وہ اک دن پھٹی نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔ ارسلان کے چہرے کے تاثرات بدلنے لگے۔مگر سن کے وہ مسکرایا اور اس کا ہاتھ پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے فون لیا ۔

کیوں اپنے آپ پہ ہنس رہے ہو کیا؟ وہ استہزاء سے تکنے لگی۔

ارے نہیں تم پہ۔ تمھیں کیا لگا تمھاری اس حرکت سے تم پہ دل آجاے گا۔ ہاں وہ پاک ہے تم سے بے باک نہیں ، وہ مردوں سے نہیں چپکتی اور مجھے فخر ہے اپنی پسند پہ۔ اور ہاں آئندہ اس کا نام بھی اپنی زبان سے مت لینا ورنہ ۔ اس نے انگلی سے تنبیہ کی۔وہ اک دم سہم گئی ۔

Hasad novel by Rimsha Riaz

  • by

بات کم کرتی ہے چیختی بہت ہے ، بٹ تم کوشش کرنا یہ تمھیں کچھ بتا دے ہماری بھی مدد ہو جایے گی، کالا چشمہ سر پہ ٹکائے وہ اس کے ہم قدم تھی

افکورس لیڈی! میں پوری کوشش کروں گی اوکے! ناؤ لے چلو مجھے اس کے پاس مالا!

ہہمم دوست ہو تم تب ہی لے کر جا رہی ورنہ! اس نے منہ بنایا

اب ایموشنل بلیک میل مت کرو اور چلو ! وہ اسے تقریبا گھسٹتے ہوئے لے کر جانے لگی

٭٭

سب دھوکہ ہے،

جو ہوا کھیل پھیل رہی ہے نحوست ہے،

یہ جو حال ہے میرا حسد ہے

کھا ہی جاتا ہے سپنے بھی

اپنے بھی لے ڈوبتا ہے

گر تم جانو! یہ مرض تمھیں راکھ کر دیتا ہے

کچھ نہیں بچتا تمھارے ہاتھ میں ۔

سلور رنگ کے شلوار قمیص بکھرے الجھے بال ہاتھوں میں ناخنوں کے نشانات ، مردہ چہرہ اس پہ چھائیاں ہونٹ پھٹے ہوئے ماتھے پہ نیل پڑا ہوا وہ بے نیاز زمین پہ لیٹی بڑبڑا رہی تھی اس کے پتلے سے ناک میں لونگ تھے جو اس کسی کی آخری نشانی تھی ۔

پھر سے اگی تم ! دروازے کی چاپ پہ وہ بنا اٹھے بولی