Skip to content
Home » Umaima Shafeeq Qureshi

Umaima Shafeeq Qureshi

Nisa by Umaima Shafeeq Qureshi Complete novel

  • by

“مجھے یہ فیصلہ منظور نہیں….”نسوانی آواز پر سب مردوں کو ہی جیسے دھچکہ لگا تھا۔وہ بزرگ انسان فورا چارپائی سے اٹھے تھے۔اپنی بیٹی کو اپنے سامنے دیکھ ایک غصہ کی شدید لہر ان کے جسم میں ڈور گئی تھی۔برسوں کی عزت آج جیسے خاک میں ملی تھی۔وہاں موجود سب مردوں کے چہروں پر ناگواری چھائی تھیں۔سب نے ہی اپنی نگاہیں پھیر لی تھیں۔جو چہرہ آج تک سات پردوں میں چھپا ہوا تھا،آج ہر کوئی باآسانی اس کا طواف کر سکتا تھا۔

“میرے ساتھ یہ ظلم نا کریں ابا۔آپ کی بیٹی اجڑ چکی ہیں۔مجھے طلاق ہو گئی ہے۔مجھے واپس مت بھیجیں۔”وہ بھاگتی ہوئی اپنے باپ کے پیروں میں گری تھی۔اب ان کے جوتوں پر ہاتھ رکھے وہ بلک بلک کر رو رہی تھی۔

“مجھے اسی آنگن میں زندہ دفنا دیں مگر مجھے واپس نا بھیجیں۔آپ کی بیٹی نے ہمیشہ آپ کا ہر حکم مانا ہے۔آج اپنی بیٹی پر اعتبار کر لیں ابا!”جوتوں پر رکھے ہاتھ کپکپا رہے تھے۔صحن کی کچی اور گیلی مٹی نے اس کے سفید سوٹ کو گردآلود کر دیا تھا مگر اصل داغ تو اس کے ماتھے پر لگ چکا تھا،طلاق کا داغ….

“ہمارے خاندان میں طلاقیں نہیں ہوا کرتیں۔میرے بیٹے نے بھی تمہیں طلاق نہیں دی۔ حاجی جی!آپ کی بیٹی میرے بیٹے کے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتی تبھی اس قسم کا جھوٹ باندھ رہی ہے۔”سماعتوں سے اب اس کے سسر کی آواز ٹکرائی تھی۔وہ سختی سے آنکھیں میچے مزید سر جھکا گئی تھی۔آسمان پر سرخ ابر کی جگہ اب کالی گھٹاؤں نے لے لی تھی۔گھر کے آنگن میں اب بجلی گرج رہی تھی۔

“کیا ثبوت ہے طلاق کا،نا کوئی گواہ اور نا ہی کچھ اور….!”

“عورت ناقص العقل ہوتی ہے۔یقینا سننے میں غلطی ہوئی ہو گی۔”اب مختلف لوگ مختلف قسم کی سرگوشیاں کر رہے تھے۔جس کے لباس پر آج تک گندگی کا ایک چھینٹا بھی نہیں پڑا تھا،آج اس کا لباس،اس کی عزت معنوں تار تار ہو رہی تھی۔

“کہا تھا نا کہ اس سب کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔”دروازہ بند کرتے اس کا شوہر اس کے پاس آ کر کھڑا ہوا تھا۔

چادر کے اندر چھپے چاقو پر اس لڑکی کی گرفت مزید مضبوط ہوئی تھی۔ہاتھ لرز رہے تھے مگر اس کے پاس اب دوسرا کوئی راستہ نہ بچا تھا۔

“اپنے دماغ میں یہ بات بٹھا لو کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے، لوٹ کر تمہیں میرے پاس ہی آنا ہے۔”بستر پر اپنا کوٹ اچھالتے وہ ڈریسنگ ٹیبل کی جانب بڑھا تھا۔

“جاؤ جا کر چائے بنا کر لاؤ۔”گھڑی اتارتے اس نے حکم صادر کیا تھا۔اس لڑکی کی آنکھوں میں اب خون اتر آیا تھا۔طیش کی وجہ سے وہ اب گہری گہری سانسیں لے رہی تھی۔

“آپ نے مجھے طلاق دے دی ہے۔میں اب حرام ہوں آپ پر….”کچھ تامل کے بعد اس کے لب ہولے سے ہلے تھے۔

“ہاں دی ہے میں نے طلاق،اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟کوئی ثبوت ہے تمہارے پاس؟”اس کی جانب پلٹتے وہ تمسخرانہ انداز میں گویا ہوا تھا۔آنکھوں میں شیطانیت ہی شیطانیت تھی۔اس لاچار کی بےبسی اسے سکون دے رہی تھی۔

“آپ مان رہے ہیں کہ آپ نے مجھے طلاق دی ہے؟”وہ سرخ آنکھوں کے ساتھ بستر سے اٹھی تھی۔

“ہاں مان رہا ہوں۔ابھی تو تم میرے لیے چائے بنا کر لے کر آؤ اس کے بعد….”وہ قدم قدم چلتا اس کے قریب گیا تھا۔وہ سہم کر پیچھے ہٹی تھی۔

“اس کے بعد میں تمہیں وہ سبق سکھاؤں گا کہ تم ساری زندگی یاد رکھو گی۔تمہاری وجہ سے میری جو بےعزتی ہوئی ہے،اس کا حساب تو تم دو گی۔چمڑی ادھیر دوں گا میں تمہاری….” اسے بازو سے دبوچے وہ سرد لہجے میں متکلم ہوا تھا۔

Allah ke waste by Umaima Shafeeq Qureshi Complete novel edited Season 1

  • by

“ملک سے باہر جا رہے ہو؟”اس کے قریب آتے

چند انچ کا فاصلہ رکھے وہ مسکرائی تھی۔اسے اپنے اتنے قریب دیکھتے شایان کو اب سانس بھی مشکل ہی آئی تھی۔

“ہاں!لیکن تم یہاں۔۔۔!”

“ہاں میں یہاں۔۔۔!”مزید قریب ہوتے اپنی انگلی

اس کے دل کے مقام پر رکھے عنادل آج اسے

چاروں خانے چت کر گئی تھی۔

“کون سے ملک جا رہے ہو؟”دو قدم دور ہوتے ہاتھ باندھے عنادل نے لبوں پر دل فریب مسکراہٹ

بکھیرے خوشدلی سے پوچھا تھا،جبکہ آنکھوں میں ہنوز شرارت تھی۔

“لندن۔۔۔!”شایان کے چہرے کا رنگ بالکل فق تھا۔

“کب کی فلائٹ ہے؟”آنکھوں کو معصومیت سے

گھماۓ ایک اور سوال پوچھا گیا تھا۔

“آج رات کی۔۔۔!”عنادل یہاں کیوں آئی تھی اور

ان سب سوالات کا مقصد۔۔۔؟

“ہممم۔۔۔!”عنادل نے سمجھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا تھا۔

“لیکن تم۔۔۔!”

“چٹاخ۔۔۔!”

معمول کے طابق آج شایان کو پھر اپنی متاع جان کا محبت بھرا تمانچہ پڑا تھا۔وہ بیچارا ابھی شاک کی کیفیت میں ہی تھا کہ

عنادل نے ایکدم ہی غصے سے آگے بڑھ اس کا

گریبان پکڑا تھا۔

“کیوں۔۔۔؟وہاں تمہاری بیوی رہتی ہے یا بچے۔۔۔؟جن کے پاس جانے کے لیے تم اتنے بےتاب ہو

رہے ہو۔۔۔؟”

“عنادل میں۔۔۔!”

“کیا میں۔۔۔ہاں کیا میں۔۔۔جب تمہاری

بیوی پاکستان

میں ہے تو تم لندن کیا کرنے جا رہے ہو؟بولو۔۔۔!”وہ رو دی تھی۔

“دل۔۔۔!”شایان نے اس کی آنکھ سے گرتے موتیوں

کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے چنا تھا۔

“پلیز مت رو۔۔۔!”اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں

کے پیالے میں بھرتے شایان نے التجا کی تھی۔

“تمہیں کیا فرق پڑتا ہے،تم تو جا رہے ہو نا مجھے

چھوڑ کر۔۔۔!”اس کی گہری آنکھوں میں دیکھے اس نے معصومیت سے شکوہ کیا تھا۔

“تم نے خود ہی تو کہا تھا کہ چلے جاو۔”

“میں نے کہا اور تم نے مان لیا۔”اسے پیچھے کی

طرف دھکیلتے وہ اب شکوے پر شکوہ کر

رہی تھی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

“ہائے مجھے اتنی خوشی ہو رہی ہے کہ میرے پاس تو الفاظ ہی نہیں ہیں۔”عنایہ

نے آکسائیڈ ہوتے ہوۓ کہا تھا۔وہ دونوں

اس وقت کافی پینے کیفٹیریا آئے تھے۔

“مجھے بھی۔۔۔!”ارمان بھی مسکرایا تھا۔

“اب اگلا نمبر ہمارا ہے۔”ٹھوڑی پر ہاتھ جمائے عنایہ نے ارمان پر محبت بھری نگاہ ڈالی تھی۔

“ہائے۔۔۔!”وہ بھی آکسائیڈ ہوا تھا۔شایان اور

عنادل کی شادی سے وہ دونوں ہی بہت

خوش تھے۔

“مجھے تو بہت حیرت ہو رہی ہے کہ میری بہن

کی شادی آپ کے دوست سے ہو رہی ہے۔”

“مجھے بھی۔۔۔!”وہ دونوں ہی ہر چیز سے بے خبر

تھے۔

“ویسے رشتہ کب بھیجوں۔۔۔؟”عنایہ کے بغیر

رہنا اب اس کے لیے بہت مشکل ہو چکا تھا۔

“ابھی ان دونوں کی شادی تو ہونے دیں،اور ویسے

بھی میری کچھ شرائط ہیں۔”

“کیسی شرائط۔۔۔؟”اس کا ماتھا ٹھنکا تھا۔

“میں آپ سے اسی شرط پر شادی کروں گی

جب آپ مجھے ساری اسائمنٹس بنا کر دیں

گے اور مجھے ہمیشہ ہر ٹیسٹ اور پیپر میں فل

مارکس دیں گے۔”

“What…?”

وہ تقریبا چیخ اٹھا تھا۔

“آپ اپنے پروفیسر سے اسائمنٹس بنوائیں گئی؟”وہ جیسے یقین کرنا چاہتا تھا۔

“اگر ان محترم پروفیسر صاحب کو مجھ سے

شادی کرنی ہے تو یہ تو کرنا ہی پڑے گا۔”معصومیت سے آنکھیں مٹکاۓ وہ ارمان کو بہت بڑا جھٹکا دے گئی تھی۔

“یہ زیادتی ہے۔”ارمان نے دبا دبا سا احتجاج کیا تھا۔

“جو بھی ہے۔۔۔!”عنایہ نے لاپروائی سے شانے اچکائے تھے جس پر ارمان نے نفی میں سر ہلایا تھا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تم نے میرے لیے کوئی ویڈنگ گفٹ تو نہیں لیا نا۔۔۔؟” شہادت کی انگلی کو اپنے دانتوں تلے

دبائے وہ اضطراب سے گویا ہوئی تھی۔

“اگر تم نے ابھی تک نہیں لیا نا تو مت لینا۔۔۔!”

“کیوں۔۔۔؟”ماتھے پر شکنیں ابھری تھیں۔

“گفٹ مجھے اپنی مرضی کا چاہئے۔”وہ ایکدم

ہی ریلیکس ہوا تھا۔

“وہ تو تم لے لینا مگر ویڈنگ گفٹ تو

میں اپنی مرضی سے دوں گا۔”

“نہیں!میرا مطلب ہے کہ میں نے

ہمیشہ سے یہ

سوچا ہوا تھا کہ جب بھی میری شادی ہو گی

تو میں شادی کی پہلی رات اپنے شوہر سے یہی

تحفہ مانگوں گی۔”وہ اب بھی مضطرب تھی۔

“اچھا!تو کیا چاہیے میری جان کو۔۔۔؟”

“جو مانگوں گی دو گے؟”ایک لمحے میں شایان کی مسکراہٹ سمٹی تھی۔وہ کہنا چاہتا تھا کہ

آخر میرے پاس ہے ہی کیا؟

“ہممم۔۔۔۔!”مگر وہ بس اتنا ہی کہہ سکا تھا۔

“کیا تم کل رات شادی کے تحفے کے طور پر مجھے

سورت محمد سنا سکتے ہو،میرا مطلب ہے میری ہمیشہ

سے یہی خواہش تھی کہ میرا شوہر جو بھی

ہو میں اس سے یہی فرمائش کروں گی کہ وہ

مجھے ایک سورت حفظ کر کے سنائے۔میں جانتی

ہو یہ بہت مشکل ہے مجھے تمہیں پہلے بتانا

چاہیے تھا مگر تم فکر مت کرو تم جتنی آیات

باآسانی یاد کر سکو کر لینا نہیں تو دیکھ کر پڑھ دینا۔”عنادل کی اس لمبی تمہید پر وہ مسکرا

دیا تھا۔وہ خاص تھی بہت خاص تو اس کی

فرمائش کیسے عام ہو سکتی تھی؟

Alhamd se Wannass by Umaima Shafeeq Qureshi complete novel

  • by

یہ کہانی ہے مختلف کرداروں کی

ایک ایسی لڑکی کی جو منطقی باتوں پر یقین رکھتی ہے

جسے آخرت،جنات اور فرشتوں پر یقین نہیں….

ایک ایسے شخص کی جس نے اپنا مذہب تبدیل کر لیا ہے

یہ کہانی ہے ایک معصوم اپسرا کی

اور ایک ایسے شخص کی جس کی ذہانت کا کوئی جواب نہیں…. یہ کہانی ہے الحمد سے والناس تک کے سفر کی

Adamzad or Bintehawa novel by Umaima Shafeeq Qureshi

  • by

“زارون چلو گھر چلتے ہیں۔”یہ وہی جانتی تھی کہ اس نے یہ بات کیسے کہی تھی۔

“ٹھیک ہے تو چلتے ہیں۔پہلے تمہاری غنڈی کزن کے ہاتھ کی چائے تو پی لوں۔”

“اپنے گھر جا کر نا اپنی معصوم بیوی کے

ہاتھ کی کافی پی لیجیے گا۔”انارا نے تڑک کر جواب دیا تھا۔

“تم مجھے گھر سے نکال رہی ہو؟”زارون نے بےیقینی سے پوچھا تھا۔

“ہاں نکال رہی ہوں۔”اس کے جواب پر وہ جل بھن گیا تھا۔

“مجھے پینی بھی نہیں ہے تمہارے ہاتھ کی بدمزہ چائے۔جا رہا ہوں میں…!”زارون نے اٹھتے ساتھ کہا تھا۔

“اگر اتنے ہی غیرت مند ہیں نا تو واپس اس گھر کا رخ مت کیجیے گا۔”انارا نے شان بےنیازی سے کہا تھا۔

“چند پیسے کیا آ گئے ہاتھ میں،لوگ خود کو پتا نہیں کیا سمجھنے لگ گئے ہیں؟”اسے ایک گھوری سے نوازتے زارون نے اپنی گاڑی کی چابی اٹھائی تھی۔ذکیہ بیگم نے اسے روکنے کی بھرپور کوشش کی تھی مگر وہ داریاء کا ہاتھ پکڑے جا چکا تھا۔اس کے گھر سے جانے کے بعد انارا نے مسکرا کر اپنے ہاتھ جھاڑے تھے۔زندگی اپنے معمول پر لوٹ آئی تھی۔ان دونوں کی دشمنی کا آغاز پھر سے ہو چکا تھا۔