Skip to content
Home » Archives for May 2024 » Page 2

May 2024

Tum mil gaey novel by Ammara Yasir Iqbal

یہ کہانی ھے ایک نوجوان کی جس نے اپنہ فیملی کو سیف کرنے کی ہرممکن کوشش کی اور اپنی خوشیوں کی بھی پرواہ نہ کی حتیٰ کہ ستم بالاۓ ستم وقت کے ساتھ اسکی ہمت بڑھتی گئی لیکن رشتے گھٹتے گئے اور ایک وقت آیا کہ اسے اپنے جگر کا ٹکڑا بھی قربان کرنا پڑا ۔۔۔۔۔۔۔ 🌙

یہ کہانی ھے ایک ایسے جوان کی جو ممتا کے لئے ترستا رھا لیکن اسے ماں کی ممتا نہ مل سکی کچھ وقت کی ستم ظریفی اور کچھ اسے زندہ رکھنے کی کوشش تھی وہ نٹ کھٹ گھل مل جانے والا ہنس مکھ بظاہر لگتا تھا لیکن اسکے اندر کی ویرانیاں جو کوئی نہ جانتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔🌙🌙

یہ کہانی ھے ایک کم عمر لڑکی کی جو بہت لاپرواہ بقول گھر والوں کے لیکن اپنی بہن کے لئے وہ بپھری شیرنی سے کم نہ تھی ھا وہ اپنی زات کی دھنی تھی ایک ملاقات میں ہی سبکو اپنا گرویدہ کرلینے والی لیکن بلاوجہ چھیڑنے والے کے لئے مثل  بچھو تھی🌙🌙🌙

یہ کہانی ایک ایسی لڑکی کی جو عزت اور رشتوں کے درمیان  بری طرح پھنس گئی تھی اگر عزت بچاتی تو رشتے بکھر جاتے لیکن اگر رشتے بچاتی تو بےآبرو ھوتے دیر نہ لگتی کبھی وہ بھی ھنس مکھ تھی لیکن وقت بڑا سخت استاد ھے پہلے مسکراھٹ چھین لیتا ھے پھر سبق دیتا ھے یہ شاید وقت کی قیمت ٹھہری۔۔۔ 🌙🌙🌙🌙

Ik wari aa jaa novel by Bela Rajpoot

  • by

س سر ۔۔۔و وہ لوگ لے کر جا رہے ہیں ۔۔۔۔

فاطمہ کی گھبرائی آواز پر وہاں موجود تمام نفوس اسکی جانب متوجہ ہوئے تھے ۔۔۔۔

کس کو آفیسر فاطمہ پوری بات بتائیں ۔۔۔

جنرل سیف نے موبائل اپنے ہاتھ میں لیتے بی چینی سے پوچھا ۔۔۔۔

سر 30 لوگوں کی ڈیڈ باڈیز کو مارگیو سے ایمبولینس میں ٹرانسفر کیا گیا ہے ۔۔۔۔

اور مجھے پتا ہے ۔۔۔یہ باڈیز اپنی منزل پر جانے کی بجائے اور کہیں ہی جائیں گیں۔۔۔۔

فاطمہ نے اپنی بات تیزی سے مکمل کی ۔۔۔۔

کون ہو تم ۔۔۔؟

ابھی وہ اور کچھ بولتی جب کسی کی بھاری آواز پر وہ جو پلر کی اوٹ میں کھڑی تھی سانس تک روک گئی ۔۔۔۔

جبکہ کسی اور کی آواز سنتے سیکریٹ روم کے لوگوں کا روم روم کان بنا ہوا تھا ۔۔۔۔

باسط نے آنکھیں چھوٹی کرتے اس آواز کو پہچاننا چاہا تھا ۔۔۔۔

ایم ڈاکٹر فاطمہ ۔۔۔۔

آفیسر فاطمہ نے سنجیدگی سے اپنا کارڈ سامنے کرتے پورے اعتماد سے کہا تھا ۔۔۔۔

جبکہ سامنے موجود انسان کی نیلی وحشت زدہ آنکھوں میں دیکھتے اسنے پل میں جھرجھری لی ۔۔۔۔

جو بھی ہو فوراً نکلو یہاں سے ۔۔۔۔

پتا ہے نا اس ایریے میں آنا ممنوع ہے ۔۔۔۔

اس شخص نے اپنی اسی رعب دار آواز میں کہتے اسے راستہ دیا تھا ۔۔۔۔

Fana e hijar novel by Ain Writes Complete Novel

  • by

بعض اوقات انسان اتنا تھک جاتا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ وہ سب کچھ چھوڑ دے۔ اگر وہ سب کچھ چھوڑ بھی دیتا ہے تب بھی ایک ذات ایسی ہے جو اسے نہیں چھوڑتی ۔عسریٰ پر بھی ایک ایسا وقت آیا تھا۔ تب اسے ادراک ہوا تھا کہ وہ اس ذات کے بغیر کچھ بھی نہیں۔ سارے رشتے ناطے سب کچھ ثانوی ہے۔ سب سے اہم ایک وہی ذات ہے ۔کچھ لوگوں کو ٹھوکریں کھانے کے بعد اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ اس دنیا میں ان کا کچھ بھی نہیں رکھا ۔

عسریٰ پر جس وقت یہ ادراک ہوا اس نے ہر رشتے ناطے سے منہ موڑ لیا ۔اب صرف دنیا داری کی حد تک سب سے رشتہ نبھارہی تھی۔ اصل میں تو وہ اس ذات کی جانب لوٹ رہی تھی جو سب کو اندھیروں سے نکالتا ہے ۔بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ اس کی آزمائش کے ساتھ بھی اللہ نے آسانی رکھی تھی ۔

اس ذات کو پانے سے پہلے وہ لوگوں سے پوچھنا چاہتی تھی کہ تم لوگوں نے ہچکیوں کی آواز تو سنی ہوگی! سسکیوں کی اواز بھی سنی ہوگی ! کیا کبھی آنسوؤں کی آواز سنی ہے ؟ صبر کی آواز سنی ہے؟

مگر وہ خاموش رہ جاتی ۔کیا یہ مٹی کے پتلے اس کے دل کی آواز کو سنیں گے ؟ کیا یہ اس کو سمجھیں گے؟ جنہیں خود بھی نہیں معلوم کہ وہ کیا ہیں!!