Skip to content
Home » Archives for May 2024 » Page 4

May 2024

Maseehai novel by Hajira Zahir download pdf

  • by

آپ مجھے گرفتار نہیں کرواسکتے سر۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔میں پھر بھی آپکو آپکی۔امانت دینا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔آپکی بہن۔۔۔وریشہ کی جڑواں بہن۔۔وہ زندہ ہے۔۔۔میرے گھر میں ہے۔۔۔۔حازم کے قدم رک گئے۔۔۔۔۔اور وہ بےیقینی سے ادا کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔جو ناقابل۔یقین باتیں اپنے منہ سے نکال رہی تھی۔۔۔۔یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟ وہ بچپن میں بیماری کی وجہ سے زندہ نہیں بچ سکی۔۔۔وہ بچپن میں ہی مرگئی ہے۔۔۔۔ادا آزردگی سے مسکرائی۔۔۔نہیں سر۔۔۔۔وہ جو مرگئی تھی وہ میری بہن تھی۔۔۔۔پیدائش کے وقت ایکسچینج ہوگئے تھی۔۔میری بہن مرگئی۔۔۔لیکن آپکی بہن زندہ ہے میرے گھر میں ہے اور اپنی فیملی کی انتظار میں بیٹھی ہے۔۔۔حازم ساکت رہ گیا۔۔۔۔اسکے سارے الفاظ ختم ہوگئے۔۔یہ کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔۔تم مجھے دوکہ دے رہی ہو؟ میں کسی کو دھوکہ دینے کہ پوزیشن میں نہیں ہوں۔۔۔۔آپکی بہن میرے گھر میں اپکا انتظار کررہی ہے۔۔آپکی مرضی اسے لیجانا چاہتی ہو یا نہیں۔۔۔۔میرا کام تھا آپکو بتانا۔۔۔۔۔میرا پیچھا چھوڑ دیں۔۔۔آپ مجھ تک نہیں پہنچ سکتے۔۔۔یہ کہہ کر اس نے رخ موڑا۔۔۔اور تیزی سے بھاگنے لگی۔۔۔۔حازم اسکے پیچھے جانا چاہتا تھا۔۔مگر پارسا کی چیخ نے خاموش فضا میں ارتعاش پیدا کیا وہ بےاختیار چونک گیا۔۔۔ادا نے بھی یہ آواز سن لی تھی اسکے قدم بھی آہستہ ہوگئے۔۔بھیااااااا۔۔۔۔پارسا کی پکار ایک بار پھر سنائی دی۔۔حازم نے چوٹی کی طرف دوڑ لگادی۔۔ادا موقع سے فائدہ اٹھاکر بھاگنا چاہتی تھی۔۔۔مگر اسکے قدم۔اسکا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔۔۔وہ کچھ دیر وہی پر رک گئی۔۔۔۔حازم جب پارسا تک پہنچ گیا تو اسکا رنگ اڑ گیا۔۔۔۔پارسا بری طرح عمر کا سر اپنی گود میں رکھے رورہی تھی۔۔۔وریشہ کہی نہیں تھی۔۔۔اس نے سامنے دیکھا تو وریشہ کو آدمیوں نے جھکڑا تھا حازم وریشہ کے پیچھے جانے لگا۔۔جب اسے ایک اور آدمی نظر آیا جو پارسا کی طرف گن تانے کھڑا تھا اسکا سانس رک گیا۔۔۔پارسااااا۔۔۔۔وہ جو عمر کا سر احتیاط سے نیچے رکھ کر اٹھ گئی تھی۔۔۔۔بے اختیار بھائی کی طرف دیکھا۔۔۔۔مگر اسے موقع دئے بغیر حازم نے اسے اپنے سینے میں بھنچ لیا۔۔۔۔

ادا اسی کشمکش میں تھی کہ جائے یا رک جائے۔۔۔پھر اس نے جانے کا فیصلہ کیا جب گولی چلنے کی آواز آئی۔۔۔ادا نے بےاختیار اس طرف دیکھا جہاں سے حازم گیا تھا۔۔اور کچھ بھی سوچے سمجھے بغیر اسی طرف دوڑ لگائی۔۔۔۔وہ چوٹی پر چھڑنے لگی ۔۔۔اسے تقریبا دس منٹ لگے تھے اس نے سامنے کا منظر دیکھا۔۔۔تو اسکی آنکھیں خوف سے پھیل گئی۔۔۔۔ایک طرف عمر پڑا تھا اور دوسری طرف حازم درد سے دوہرا ہورہا تھا۔۔۔پارسا کبھی حازم کے پاس آتی تو کبھی عمر کے پاس۔۔۔وہ۔نازک سی لڑکی ڈر اور خوف سے کانپ رہی تھی۔۔۔۔۔اور آنکھوں سے آنسو کسی ندی کی طرح بہہ رہے تھے۔۔۔۔وہ جلدی سے ان لوگوں کے پاس آئی۔۔کیا ہوا ہے۔۔۔وہ حازم کو دیکھتے ہوئے اسکے پاس آئی ۔۔۔۔۔ادا۔۔ آپ؟ یہاں؟؟؟ پارسا حیران ہونے کا وقت نہیں ہے۔۔۔کیا ہوا ہے یہ بتاؤ۔۔۔وریشہ کو کچھ لوگ لے گئے۔۔۔۔حازم ھوش میں تھا۔۔۔سر۔۔۔۔آپ۔۔۔۔آپ ٹھیک ہے نا۔۔۔۔ادا کی آنکھوں میں آنسو آنے لگے۔۔ادا۔۔۔۔۔۔وریش۔۔۔۔۔۔کے ۔۔۔پیچھ۔۔۔ے جاؤ۔۔۔اس نے درد سے کراہتے ہوئے ایک ایک لفظ الگ الگ ادا کیا۔۔۔۔سر آپ ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔میں آپکو چھوڑ کر نہیں جاسکتی۔۔۔۔اس نے روتے ہوئے دیکھا۔۔۔۔۔ادا نے چیخ کر پارسا کو متوجہ۔کیا۔۔۔۔پارسااا۔۔۔اپنے شوہر کو ہوش میں لاؤ۔۔۔میں حازم سر کو دیکھتی ہوں۔۔۔پارسا عمر کا چہرہ تھپتھپانے لگا۔۔۔۔۔جب ادا نے یہ دیکھا تو  اسے غصہ چھڑ گیا۔۔۔۔ایسے نہیں ہوش میں لاتے۔۔۔پارسا بی بی۔۔۔۔۔اس نے پانی کی بوتل جو حازم۔کے پاس رکھا تھا اٹھایا۔۔۔۔۔اور عمر کے چہرے پر انڈیلنے لگا۔۔۔۔عمر ہڑبڑاکے اٹھ گیا۔۔۔کیا ہوا ہے؟ اوووہ وریشہ اسے یاد آیا ۔۔اسے پیچھے سے ایک۔آدمی نے زور سے مارا تھا۔۔اسکے سر پر جس سے وہ بے ہوش ہوگیا۔۔۔۔کیا آپ وریشہ کو لاسکتے ہے۔۔۔میں اس معاملے میں آپ پر بھروسہ کرسکتی ہوں؟ ادا نے اسے جھنجوڑتے ہوئے کہا۔۔۔عمر اپنی جگہ سے اٹھ گیا اور اپنے دکھتے سر کو تھام کر حازم کو دیکھا۔۔۔۔۔۔۔حازم کو کیا ہوا ہے؟ انہیں گولی لگ گئی ہے عمر۔۔۔پارسا نے روتے ہوئے کہا۔۔۔۔آپ انکی فکر نہ کرے وریشہ کے پیچھے جائے اسے ڈھونڈ لیں۔۔۔۔۔کیا آپ اسے ڈھونڈ لینگے؟ادا نے اونچی آواز میں کہا۔۔۔۔تم لوگ حازم کے پاس جاؤ۔۔میں وریشہ کو کچھ بھی نہیں ہونے دونگا۔۔۔۔۔وہ لوگ کس طرف گئے ؟ ادا نے اسے سمت بتائی اور حازم کی طرف آئی۔۔۔۔پارسا اسکا سر ہاتھوں میں لیئے اسے ہوش میں رکھنے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔۔۔حازم کو ایک گولی کندھے پر اور ایک کمر پر لگ گئی تھی۔۔۔۔۔اسکا سارا جسم مفلوج ہونے لگا تھا۔۔۔۔گولی پر کسی قسم کا زہر چھڑکا گیا تھا جس سے سارا جسم مفلوج ہوجاتا تھا۔۔۔حازم ایک انگلی بھی نہیں ہلاسکتا تھا۔۔۔پورا جسم مفلوج تھا۔۔۔ادا اسکے پاس آئی۔۔۔۔۔ آپ ہمت رکھے۔۔۔۔آپکو۔کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔اس نے دھڑکتے دل سے کہا۔۔۔۔پارسا۔۔۔آپ لوگوں کی گاڑی کہاں ہے؟ اس نے پارسا سے پوچھا۔۔۔وہ نیچے ایک درخت کیساتھ پارک کیا ہے۔۔تم گاڑی کو چوٹی کے دھانے پر لے آؤ میں حازم سر کو لے آتی۔ہوں۔۔مگر آپ اکیلے کیسے انکو نیچے لے آئینگے۔۔۔۔۔پارسا نے۔پریشانی سے پوچھا۔۔۔۔ادا نے حازم کو سہارہ دےکر اٹھانا چاہا۔۔۔۔اسے بٹھایا۔۔۔مگر وہ ہل بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔۔ادا بھی پریشانی سے اسے دیکھنے لگی اور پھر اس راستے کو ۔۔جس پر اکیلے جانا مشکل تھا۔۔کہاں ایک زخمی انسان کو ساتھ لےجانا۔۔۔۔۔پارسا۔۔۔سوچنے کا وقت نہیں ہے سر کی طبیعت بگڑ رہی ہے تم انکے پھیروں سے پکڑو۔۔۔۔میں بازوؤں سے پکڑتی۔ہوں دونوں انہیں اٹھائینگے۔۔۔۔پارسا کے ہاتھ پھیر بری طرح کانپ رہے تھے۔۔۔پہلی بار ایسی سچویشن کا سامنا ہوا تھا۔۔۔۔۔اور وہ تو فائر کی آواز سے اتنی ڈرگئی تھی۔۔کہ ابھی تک اسکا دل۔لرز رہا تھا۔۔۔۔پارسا حازم کے پھیر اٹھانے لگی۔۔۔۔۔مگر اس سے نہیں ہوسکا۔۔۔۔اس وقت وہ ایک تنکا اٹھانے کی پوزیشن میں بھی نہیں تھی۔۔۔۔۔ادا نے بےبسی بھرے غصے سے اسکی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔ہم نہیں کرسکتے۔۔پارسا نے روتے ہوئے اپنی بےبسی ظاہر کیا۔۔۔ادا۔۔۔۔۔۔پہلے۔۔۔۔وریش کو۔۔۔ڈھونڈ لیں۔۔۔۔۔۔مجھے۔۔۔چھوڑ دیں۔۔۔۔حازم نے کراہتے ہوئے کہا۔

Ik khalash afsana by Arshi Komal Sajjad Husain

پانچ سال اپنوں سے جدائی کا دکھ ایسی خلش جس کا کوئی مداوا نہیں۔

احسن کو امریکہ آئے پانچ سال ہونے کو تھے یہ پانچ سال احسن نے دن رات کا فرق بھلائے محنت کی اور اپنی محنت کے دم پر اپنا مقام بنایا۔ امریکہ میں لوگ احسن کو دیکھ کر رشک کرتےتھے جس نے کم ہی عرصے میں برنس کی دنیا اپنی ایک الگ پہچان بنا لی تھی آج احسن اسٹیج پر کھڑا بہترین بزنس مین کا ایوارڈ لے رہا تھا۔ ہونٹ تو مسکرارہے تھے؛ لیکن آنکھیں اداس اور ویران تھی وجہ اپنوں سے جدائی تھی آج اتنے اہم موقعے پر اس کے والدین اس کے ساتھ نہیں تھے

Damini Aseer novel by Muslim Girl Complete Novel

یہ کہانی ہے محبت کے ایک خوبصورت سفر کی۔

آزمائش میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے والوں کی ۔۔۔

یہ کہانی ہے ایسے شہزادوں کی

جو اپنی شہزادیوں سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔۔

اور ایسی شہزادیوں کی

جو اپنے شہزادوں کے بغیر اک پل نہیں گزارتیں۔۔

اس کا اختتام اک نئی داستان کا آغاز ہے

کیوں کی

”محبتوں کا کبھی اختتام نہیں ہوتا“