”تم ہم سب کیلئے مرچکی ہو مگر پھر بھی زندہ ہو،اللہ کو جواب میں نے بھی دینا ہے اور میرے بابا نے بھی اس لیے ان کاغذات پر دستخط کردینا،تمہارا حصہ تمہیں مل جائے گا مگر یاد رکھنا پاکستان میں تم قدم نہیں رکھو گی،میں نہیں چاہتا تمہارے منحوس سائے کی وجہ سے میرے بابا کے کرئیر پر کوئی آنچ آئے۔” وہ اپنی بات ختم کرکے واپس جا رہا تھا مگر اس کے لفظوں کی وجہ سے تھم گیا۔ آسمان پر تارے تھے۔ گھاس گیلی تھی۔ وہ مریضوں کے لباس میں کچھ زیادہ ہی مریض لگ رہی تھی۔ اس کی آواز میں حزن تھا اور ضرورت سے زیادہ تھا۔
”جس طرح میں تم لوگوں کیلئے مرچکی ہوں نا۔” اس کی آواز لڑکھڑائی،وہ رونے لگ گئی تھی۔ ”اسی طرح تم لوگ بھی میرے لیے مرچکے ہو،مجھے خیرات میں دی ہوئی تمہاری دولت نہیں چاہیے۔ تم اسے واپس لے جاسکتے ہو۔” وہ ایڑھیوں کے بل مڑا تھا۔ تحقیر سے اسے دیکھا اور نخوت سے گویا ہوا۔
”ڈھٹائی کی بھی حد ہوتی ہے،عزتیں اچھالنے کے بعد بھی عزت دار بن رہی ہو،انتہا ہے۔” پیلی جلد والی لڑکی اس کے لفظوں کے نشتر سے بری طرح گھائل ہوئی تھی۔ اس کے گلے میں اٹکتا ہوا گولا اسے تکلیف دے رہا تھا۔ وہ اسے نگلتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
”میں نے کسی کی عزت نہیں اچھالی ہے،تم لوگوں نے مجھے تنہا چھوڑا،تم لوگوں نے مجھے دربدر کیا۔” وہ پینک ہوئی تھی۔ چیخ رہی تھی۔ رو رہی تھی۔ قیس کو اس سے ایک بار پھر سے نفرت ہوئی۔
”او جسٹ شٹ اپ،یہ میلو ڈرامہ کسی اور کے سامنے کرنا،گھر سے بھاگنے والیوں کے منہ سے اس طرح کے جملے سوٹ نہیں کرتے،آئندہ ہمیں الزام دینے سے پہلے اپنے گریبان میں ضرور جھانکنا تم۔” ”میں جھوٹ نہیں بول رہی ہوں قیس جہانگیر خان الہیٰ اور نہ ہی مجھے تمہاری ہمدردی کی ضرورت ہے۔ تمہاری ماں نے مجھے گھر سے نکالا تھا۔ اس ظالم عورت سے جا کر سب پوچھو اگر ایمان بچا ہوگا اس میں تو بتائے گی وہ۔” اس کی بس ہوگئی تھی،وہ نہیں جانتا تھا کیوں اور کیسے اسے غصہ آیا مگر وہ برداشت نہیں کرسکا،اس نے الٹے ہاتھ کا تھپڑ اس لڑکی کے گال پر جڑ دیا تھا۔