Skip to content
Home » Archives for June 2024

June 2024

Vlogger girl novel by Eman Babar

  • by

“میں نے سنا لوک ڈاؤن کی وجہ سے ہماری کلاسز اب آنلائن ہوا کریں گی ۔” آمنہ نور العین کو کہتی ہے جو بوریت سے کاپی پر پھول بنا رہی ہوتی۔

“ہاں میں بھی سنا ہے یہ ۔۔۔۔ ہائے کاش ایسا ہو جائے یار صبح اٹھ کر یہاں آنے سے تو جان چھوٹے ہماری ” نور مزے سے کہتی ۔

“ہاں یار اور نوری تم نے وہ نیو ٹرینڈ جو ٹک ٹوک پر آیا اُس پر ویڈیو بنائی ہے بہت مزے کا ہے یار میں نے تو کل ہی بنائی ہے تمہیں گھر جاکر دیکھاؤ گی.” آمنہ جوش سے کہتی ۔ ٹک ٹوک کا نام سن پر نور کا منہ بن جاتا۔

“یار ماما نے منع کر دیا ویڈیو بنانے سے کہتی اچھی بات نہیں ہے ” وہ اُداس تھی۔

“لو تو تم کونسی اپلوڈ کرتی تھی۔ ہم تو اپنے انجوئمنٹ کے لئے بناتے ہیں ۔” آمنہ حیران ہوتی ۔

“وہی نا ۔ لیکن اب اما کو کون سمجھائے ” وہ پھول بنانے میں مصروف ہو جاتی ۔۔

“تُو تم یوٹیوب پر try کرو ہمارے بڑے لوگوں کو یوٹیوب سے مثلا نہیں ہوتا اکثر۔ یار تم میں کنفیڈنس ہے ۔ اور بول بھی اچھا لیتی ہو۔ میری منو تو ولوگر بن جاؤ۔شکل نہ دیکھانا بس جو روز روز کرو گئی اُس کی ویڈیو بنا کر اپلوڈ کر دینا ۔ ویسے بھی اب لوک ڈاؤن میں لوگوں نے یوٹیوب دیکھ کر ہی ٹائم پاس کرنا تمہارا بھی مشہور ہونے کا شوق پورا ہو جائے گا ” آمنہ کچھ سوچ کر بولتی۔ اُس کی بات سن کر نوری کے چہرے پر آئی اُداسی اب جوش میں بدل گئی تھی ۔

“تمہیں لگتا میں یہ کر سکتی ہوں ؟” وہ خوشی سے پوچھتی ۔

To chand tumhy dekhta hai novel by Ameer Hamza

  • by

یہ جادوئی ناول تین قسم کے کرداروں پر مشتمل ہے پہلے وہ جو ماضی کی دلدل سے نکلنا چاہتے ہیں، دوسرے وہ جو ماضی کو کریدنا چاہتے ہیں اور تیسرےکردار جو ہر حال میں دوسروں کی بربادی کا سامان تیار کیے رکھتے ہیں ۔ یک طرفہ محبت جدائی ،لو ٹرائی اینگل،محبت میں قربانی اور بے وفائی سب ایک ساتھ پڑھنے کو ملیں گے ۔یہ جادو اور سسپنس سے بھرا ناول ہے۔ یہ ناول اپ کو ایک نئی اور خوبصورت دنیا سے روشناس کروائے گا۔ اپ ان کرداروں سے محبت کرنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔

Ain Sheen Qaaf novel by Sibgha Hussain Sibbi

  • by

دوست؟ آپ جانتے ہیں نا دوست کتنا بڑالفظ ہے وفا محبت عزت ناجانے کتنے کتنے لفظوں کا محتاج ہر مشکل گھڑی میں ساتھ رہنے کا نام جب کوئی آپ کے ساتھ نا ہو جب یہ دنیا آپ کا ساتھ چھوڑدیں تو اس دوست کا ہمیشہ ساتھ کھڑے رہنا ہمیشہ ساتھ دینا کہ کوئی نا ہو اس کا آپ کے ساتھ کھڑے رہنا آپ کی طاقت بن جانا بہت بڑا لفظ ہے یہ دوست وہ اکیس بائس برس کی لڑکی اس ستائیس برس کے لڑکے کو دوستی کا مطلب سمجھا رہی تھی وہ خاموشی سے اس کی بات سن رہا تھا کیاآپ نبھا سکتے ہیں ہیں ایسی دوستی وہ سوالیہ انداز میں بولی۔

جی بالکل نبھا سکتا ہوں اگر آپ ساتھ دیں میں وعدہ نہیں کرونگا نا قسم کھاؤنگا کیونکہ وعدے اکثر کسی نا کسی مجبوری کے تحت ٹوٹ جاتے ہیں زندگی کا کیا بھروسہ میں آپ سے وعدہ کرکے مر جاؤں پھر تو میں وعدہ خلاف کہلاؤنگا نا۔

ارے ارے ایسا نہیں کہتے اللّٰہ آپ کو ہمیشہ سلامت رکھے

لُیکن مجھے زندگی اچھی نہیں لگتی جب سے میرے بابا مجھے چھوڑ کر چلے گۓ میں بہت پیار کرتا تھا ان سے وہ بھی مجھ سے بہت محبت کرتے تھے وہ اتنی جلدی ا مجھے چھوڑ کر چلے گۓ مجھے زندگی ادھوری لگتی ہے ۔

ایسا نہیں کہیں اللّٰہ کی امانت تھی وہ انھوں نے لے لی آپ ان کے لئے دعا کیا کریں دیکھیں میرے بابا کو بھی اللّٰہ نے اپنے پاس بُلالیا میں اللّٰہ کی رضا میں راضی ہوں ہاں کبھی کبھی بابا کی بہت یاد آتی ہے مگر پھر میں قران پڑھتی ہوں نماز پڑھتی ہوں اللّٰہ تعالیٰ سے ان کی مغفرت کی دعا کرتی ہوں اور یقین مانیں میں خود کو بہت پرسکون پاتی ہوں۔ وہ اپنی آنکھ سے گرے آنسو صاف کرتے ہوا بولی وہ خاموشی سے سن رہا تھا

زندگی اللّٰہ کی دی ہوئی امانت ہے وہ جیسے چاہے گا جب چاہے گا لے لے گا آپ کو یا مجھے نہیں پتا ہمارے کتنے دن ہے اس دنیا میں کیاآج یہاں ہوں کل قبر کی اس مٹی میں سما جاؤں خیر بہت ٹائم ہوگیا اب میں چلتی ہوں

Yakhbasta Judaiyaan novel by Rabail Saleem

  • by

“Be ready for meet up tomorrow”

“کل ملنے کے لیے تیار رہیں “

لیپ ٹاپ بند کیا ہی تھا کہ نفیسہ کمرے میں آ داخل ہوتے ہیں برہم ہوتے ہوئے بولی ۔

“شاباش بھائی کی شادی ہے اور تم ادھر بھی کام میں مگن ہو ، تھوڑی سی شرم کرلو ، کچھ دن کے لیے کام روک نہیں سکتے”

نفیسہ آپی آپ شروع ہی ہو گئی ہیں سانس تو لیں، چھوٹی سی جان ہے دم نکل جائے گا “

“شرم کرو، میں کیا کہہ رہی ہوں اور تم کیا کہہ رہے ہو”

“اوہو یہ غصہ تو مت کریں ، چھوٹی سی ناک ہے اس پر بھی غصہ بٹھایا ہوا ہے “

شامییییر! تقریبا چلاتے ہوئے بولی

اچھا اچھا سوری اب نہیں کہتا ، مگر کام تو کام ہے یہ تو کرنا ہی ہے ، مگر وعدہ میں سب فنکشنس میں بھرپور حصہ لوں گا”

“بالکل اور اب تم میرے ساتھ چل رہے ہو کیوں کہ ہم نے ڈھولکی رکھی ہے ، اور کوئی بہانہ نہیں چلے گا”

“اوکے مسز عادل ، شامیر سرنڈر کرتے ہوئے بولا”

نفیسہ اس کے انداز پر مسکرا دی اور مڑنے ہی لگی تھی کہ شامیر کی آواز پر پھر رکی

“آپی وہ کب آ رہی ہے ؟”

“کتنے بے صبرے ہو رہے ہو ، آ جائے گی وہ بھی”

“کیا کروں اتنا وقت ہو گیا ہے اسے دیکھے ہوئے “

“انتظار کرو!” یہ کہتے ہوئے نفیسہ کمرے سے نکل گئی

“وہی تو کر رہا ہوں اتنے سالوں سے” شامیر نے کہا اور چینچ کرنے کے لیے مڑ گیا، ور نہ نفیسہ اس کا لیپ ٹاپ ہی توڑ دیتی!