A Black Night Article by Eman Rasheed
A black night The sky is overcast and the night is very dark . The countless mulgas here and there. It is a bleak place… Read More »A Black Night Article by Eman Rasheed
A black night The sky is overcast and the night is very dark . The countless mulgas here and there. It is a bleak place… Read More »A Black Night Article by Eman Rasheed
Be ja sa wajood mera novel by Sumaika Yousaf Episode 1 to 6 Be ja sa wajood mera novel by Sumaika Yousaf This is social… Read More »Be ja sa wajood mera novel by Sumaika Yousaf
یہ میں کہاں ہوں؟وہ اس پاس کی جگہ دیکھتے ہوئے بولی۔وہ ایک نہایت شاندار کمرہ تھا جیسے کوئی محل ہو باہر کے منظر کچھ یوں جھیل بہہ رہئ تھی اور برف باری ہورہی تھی ایسے جیسے وہ کسی جنت میں ہو اس وقت تو داریہ کو یہ لگا کہ وہ جنت میں ہے۔
مجھے یہاں کون لایا وہ اپنی سوچوں میں گم تھی کہ دروازے پر دستک ہوئ۔یہ لو کھانا کھاؤ ڈیمن کمرے میں داخل ہوا لیکن وہ اپنے آپ کو کور کئے ہوئے تھا اس طرح کے داریہ کو صرف اس کی نگاہیں نظر آرہیں تھیں۔کون ہوتم؟مجھے کہاں لاۓ ہو؟یہ کون سی جگہ ہے؟اور میری بی جان!ایک دم سے وہ رونے لگی۔بی جان مجھے کیوں چھوڑ کہ چلیں گئیں۔وہ سفید فراک پہنے اور تنگ پاجامہ پہنے بہت خوبصورت لگ رہئ تھی ڈوپٹہ گلے سے غائب تھا جو کہ شاید ڈیمن کو انجانے میں بھی بہکا رہئ تھی۔ ڈیمن نے ایک نظر اس پہ ڈالی اور چلا گیا۔داریہ روتی رہئ۔ایک گھنٹہ اسے یوں ہی بیٹھے بیٹھے گزر گیا۔جب دوبارہ دستک ہوئ۔اب کی بار ڈیمن کے ہاتھ میں ڈوپٹہ تھا جو اس نے داریہ کی طرف پھینکا۔یہ لو ڈوپٹہ یہاں تم مخفوظ ہو پریشان مت ہو جلد ہی تمہارے رہنے کی جگہ کا بندوبست ہوجائے گا تو میں تمہیں چھوڑ آؤں گا تب تک تمہیں یہیں رہنا ہوگا۔اور ایک ضروری بات تمہیں بتا دوں تم اس وقت روس میں ہو۔یہ کہہ کے ڈیمن چلا گیا اور داریہ کی آنکھیں بھیگ گئیں۔اس نے اس چیز کی بہت دعا کی تھی مگر وہ اس طرح سے پوری ہوگی اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔جب رو رو کے وہ تھک گئ تو خاموشی سے کھانا کھایا اور باہر کھڑکی سے پار دیکھنے لگی شاید اس کی زندگی اب ایسے ہی گزرنے والی تھی،لیکن قسمت کا کسے پتا ہوسکتا ہے۔اسے یہاں آۓ ہوئے مہینہ ہوگیا تھا،ایسے ہی ڈیمن روز آتا کھانا دیتااسےاور چلا جاتا۔
اداکاری سیکھو….
کرنے کے لیے نہیں…..
اپنے اردگرد موجود منافق لوگوں کی اداکاری سمجھنے کے لیے….
ڈاکٹر تو میں بن کے رہو ں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے نفرت کرتی ہو ں میں تم جیسے اوچھے انسان سے طلحہ ہو نق بنا کھڑا اسے خود پہ چیختے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر اچانک اسکا بازو پکڑ کر کمرے میں دھکا دے کر دروازہ بند کر دیا وہ غم و غصے سے چیختے اسے دروازہ کھولنے کا کہ رہی تھی جبکہ وہ تو کانوں پہ پردے ڈال چکا تھا ۔جب دروازے سے نکلتے اسکے قدم تھمے اسنے مڑ کر بند دروازے کو دیکھا جہاں سے آواز آرہی تھی
تم مجھے تو قید کر سکتے ہو لیکن میرے خوابوں کو نہیں میں ڈاکٹر بن کے رہوں گی یہ میری ضد ہی ہے میں کبھی تمہیں معاف نہیں کروں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور پھر غصے سے تنی رگوں کے ساتھ وہاں سے نکل گیا بند آنکھوں سے کون خواب دیکھتا ہے خواب تو وہ ہو تے ہیں جو انسان کو سونے نے دے وہ بس سوچتا ہی رہے کہ خواب کو پورا کیسے کرنا ہے ۔اسکا خواب تھا ڈاکٹر بننا جسک ا سوچ سوچ کر وہ ہلکان ہو جاتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔😥
وہ ہاتھ میں پکڑے اپنا شاندار رزلٹ دیکھ رہی تھی جس کے لئے اسکی نے پوری جان لگا دی تھی وہ اللہ سے دعا گو تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ میرے پیارے اللہ———–!تھام لے نہ مجھے آپ پتھروں سے چشمے نکال سکتے ہیں منزل میرے سے تھوڑے قدم دور ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور میں قدم نہیں بڑھا پا رہی کچھ تو ایسا کر دیں کہ میں اپنے خواب کو پا لوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آسمان سے بارش کا قطری اسکے دعا مانگتے ہاتھوں پہ گرا تھا یقیناً اس کی سنلی گئ تھی۔۔۔۔
گل لالہ مجھے عشق ہے تم سے ہمارے بیچ پاک رشتے اور تمہارے ان سرخ گلابوں سے ۔۔۔
علی مجھے بھی عشق ہے تم سے تمہاری محبت سے اور ہر اس گل سرخ سے جس میں تمہاری محبت موجود ہے ۔
یہ آوازیں تو حسین تھیں مگر نہ جانے کیوں اس کو لگا تھا کہ اس کا دل پھٹ جائے گا۔
اس نے ان آوازوں کی سرسراہٹ کو روکنے کے لیے کانوں پر ہاتھ رکھ لیے اور زور سے چلائی
خاموش ہو جاؤ خدا کا واسطہ ہے خاموش ہو جاؤ ورنہ میں مر جاؤں گی ہاتھ میں موجود سرخ محملی سکارف جو پوٹلی کی صورت بندھا تھا نیچے گر گیا تھا
مگر ہنوز وہ ان آوازوں کو روکنے کے لیے چلا رہی تھی اسے لگ رہا تھا کہ قدرت اس کا تمسخر اڑا رہی ہے یہ حسین وادیاں اور جنت نما راستے اس کی قسمت پر چپکے چپکے مسکرا رہے ہیں ۔۔
جب وہ ان آوازوں کی بازگشت سے لڑنے میں ناکام ہو گئی تو خود سے ہار کر ادھر ہی زمین پر بیٹھ گئی اور محملی سکارف کو اٹھا کر سینے سے لگا لیا
کہیں سے لوٹ آؤ علی دیکھو اب ان راستوں پر سے گزرتی ہوں نہ تو مجھے دیکھ کر ہنستے ہیں یہ اکیلے
مجھ سے یہ وادی کے کنارے چیخ چیخ کر پوچھتے ہیں کہ گل اکیلے کیوں آتی ہو ہمیں تم علی کے ساتھ ہی بھاتی ہو اکیلے مت آیا کرو۔
۔آنسو بھی نہ جانے کہاں سے راستہ بنا کر نکل آئے تھے ۔۔
مگر اسے ہوش کہاں تھی ۔؟
مہر تم نے شاہ زین بھائی سے کیوں کہا تم ان سے دوستی کرکے پچھتا رہی ہو؟ تمہیں پتہ ہے انھیں کتنا ہارٹ ہوا ۔
زویا میں نے بس اس سے مزاق کیا تھا ۔وہ سیرس ہوگیا ہے ۔
مہر ایسا مزاق کون کرتا ہے تم ہمیشہ ایسا کرتی ہوں انکے ساتھ ؟ نہیں پسند تھے تو دوستی کیوں کی؟ دوست بھی ہے پسند بھی ہے اور پچھتا بھی رہی ہوں سوچ سمجھ کر بولا کرو سمجھی؟
زویا ۔مہر کی آ نکھیں نم ہونے لگی ،
مہر اگر کوئی تمہیں بولے گا تمہیں کیسا لگے گا
زویا میں لڑکوں کو پھنسا نے والی ہوں ؟ از نے روتے ہوئے کہا؟
میں عمر سے محبت کرتی ہوں ان سے شادی کرنا چاہتی ہوں میں ابھی تک ان سے بدتمیزی نہیں کرتی اور تم انھیں اتنا سناتی ہو۔
نہیں کرتی میں اسکے بے عزتی میں اسکی عزت کرتی ہوں پیار سے بات کرتی ہوں ۔زویا میں نے ایک نامحرم سے دوستی کی ہے لکین مجھے اس سے انسیت ہوگی ہے م کیوں اسے مانگ رہی ہوں بار بار ۔میں نے بس مزاق کیا اسے کیا مجھے چھوڑ کر نہیں جانا زویا میں اس سے محبت کرتی ہوں عارض کے بعد میں سے صرف اسے رب سے مانگا ہے میری نیت نکاح کی ہے تم کیوں مجھے اتنا سنا رہی ہوں وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی ۔
اللہ قرآن پاک میں کبھی یہ نا کہتا:
جس سے تمہیں محبت ہو اس سے نکاح کر لو (القرآن)
دو محبت کرنے والوں کے بیچ نکاح سے بہتر اور کوئی چیز نہیں تو محبت بہت پاک ہے۔۔۔
اور میرا ارادہ تم سے نکاح کا ہے،،میں تم سے بہت پاکیزہ محبت کرتا ہوں حور!!
اونہہ محبت نے تو مجھ جیسی گناہگار جو نماز تک نہیں پڑھتی تھی اسکو نمازی محبت نے بنایا ہے۔۔۔مرتجز کی بات پہ حور بولی تھی۔۔
محبت ہی سجدے کرنا سکھاتی ہے۔حور؟؟۔۔۔
اور جو لوگ کہتے ہیں کہ محبت گناہ ہے وہ ہوس کو محبت کا نام دیتے ہیں اپنی ہوس کو محبت کا نام دے کر اسکو گناہ کہنا ٹھیک نہیں ہے۔۔۔
مرتجز کی باتیں حور کو مطمئن کرتی تھی،،
مجھے تہجد بھی پڑھنی ہے مرتجز!؟
ہاں تو پڑھو اور مانگو مجھے۔۔
ہاہاہا۔۔۔
یہی کام رہ گیا ہے نا میرا۔۔
اچھا تو اس کے علاؤہ بھی ہے کیا؟؟
اونہہہہہہ۔۔۔مرتجز کی بات پہ حور نے سوچنے والا انداز اپنایا تھا۔۔
ہاں ہے؟؟
وہ کیا؟؟
ابھی میں نے اپنے بھائیوں کو بھی منانا ہے۔۔
ابھی بھی منانے کی ضرورت ہے؟؟
ہاں کیونکہ دنیا ہی نظر میں مین ابھی بھی زوہیب کی منگیتر ہوں۔۔
اس کا نام میرے سامنے نہ لیا کرو حور!!!
کیوں تمہیں جیلسی ہوتی ہے؟؟حور اب مرتجز کو تنگ کر رہی تھی۔۔
ہاں ہوتی ہے بلکل ہوتی ہے۔۔۔
اور ہونی بھی چاہئے۔۔۔
حور؟؟؟
اونہہ کہو مسٹر چارمنگ؟مرتجز کے کہنے پر حور بولی تھی۔۔
تمہاری محبت پہ آمین۔۔
تمہارا غصہ سر آنکھوں پر
تمہاری انا قبول۔۔
تمہاری ہر ضد منظور۔۔
اچھا جی؟؟؟مرتجز کی بات پہ حور سوالیہ انداز میں بولی تھی۔۔
جی۔۔
مگر!!
شرط صرف اتنی ہے کہ محبت میں کوئی تیسرا شامل نہ ہو۔۔۔
مسٹر چارمنگ؟؟
اونہہ۔۔۔
اول تو ہم میسر نہیں ہوتے کسی کو…!!!
خوش بختی سے مل جائیں تو وافر نہیں ہوتے۔۔۔۔
ہم پاؤں بھی پھیلائیں تو محتاط بہت ہیں۔۔۔
چادر سے یا اوقات سے باہر نہیں ہوتے۔۔۔۔
حور اپنے الفاظ ادا کر کے رکی تھی۔۔۔۔۔
کافی باتیں آگئی ہیں تمہیں مس۔۔۔
جی کسی کی محبت نے بے حد خوددار کر دیا ہے۔۔
ہاہاہا۔۔۔حور کی بات مرتجز کھل کھلا کے ہنسا تھا۔۔
اچھا چلو اب میں سو جاؤں پھر تہجد بھی پڑھنی ہے۔۔۔
تو پڑھ کے سو جانا۔۔۔
مسٹر چارمنگ؟؟؟
جس طرح محبت میں وفا شرط ہے اسی طرح تہجد میں نیند بھی شرط ہے۔۔۔
سو گڈ نائٹ؟؟
An kahi mohabbat by Pakeeza Mouaz Complete AFTER MARRIAGE STORY,FORCED MARRIAGE, HAWELI BASE NOVEL,RUDE HERO BASE NOVELS An kahi mohabbat by Pakeeza Mouaz Complete .… Read More »An kahi mohabbat by Pakeeza Mouaz Complete
کیسے رہوگی اکیلے پنے تو سنبھلتی نہیں ۔۔۔دارم دکھ سے مسکرایا
جب کے اُس کی بات پر اہانا نے حیران ہوتے اُسے دیکھا
کیا مطلب اکیلے آپ کے ساتھ رہونگی نا ۔۔۔
یعنی تم چاہتی ہو تم مجبوری کی زندگی گزارو ؟؟لیکن میں ایسا نہیں چاہتا
وہ اس کے بالوں سے آخری پن نکلتا ہوا بولا
دارم آپ ایسی باتیں کیوں کررہے ہیں ۔۔۔وہ کھڑی ہوتی دارم کے قریب جاتی بولی
اسلئے کیونکہ شاید ہم لوگ اک دوسرے کیلئے بنے ہی نہیں تھے ۔۔۔۔
دارم کی بات پر اہانا نے تڑپ کر اُسے دیکھا جو پہلے ہی اُسے دیکھ رہا تھا
اہانا کی آنکھوں میں تڑپ دیکھ دارم کو کچھ ہوا تھا
ک۔کیا مطلب ۔۔؟؟
مطلب میں تمہیں تمھاری زندگی واپس دینا چاہتا ہوں جس میں کوئی مجبوری نا ہو میں تمہیں اس مجبوری کی شادی سے آزاد کرنا چاہتا ہُوں لیکن گھر والوں کا سوچ میں خاموش ہوجاتا ہُوں ۔۔۔سب گھر والوں پر کیا گزرے گی لیکن میرا وعدہ ہے میں تمہیں اس مجبوری سے بہت جلد آزاد کردونگا ۔۔۔
د۔دارم ا۔آپ۔۔۔اہانا کہتے کہتے رکی جب کے دارم کی بات پر انسوں تو آنکھوں میں جمع تھے ۔۔۔
دارم آپ کو ہوا کیا ہے اک بار بتائے تو مجھے آپ ایسی باتیں کیوں کر رہے ہیں ۔۔وہ دارم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتی بولی
چھوڑو ۔۔۔۔تم اب بھی مجھ سے پوچھ رہی ہو مجھے کیا ہوا ہے تم خود سے پوچھو کے کیا ہوا ہے ۔۔۔دارم اپنا ہاتھ پیچھے کرتا سنجیدگی سے بولا
آپ میرے ساتھ ایسا مت کرے دارم میں مرجاونگی آپ کے بغیر ۔۔۔۔۔وہ روتے ہوئے بولی
مر تو میں گیا ہُوں اہانا تمہیں مزید یہ مجبوری کے تحت باتیں کرنے کی ضرورت نہیں ہے اک بار میں نے پہلے بھی یقین کیا تھا لیکن اب نہیں میں جانتا ہوں یہ شادی تم نے گھر والوں کے کہنے پر مجبوری سے کی ہے ۔۔۔۔۔