Skip to content
Home » Archives for June 2024 » Page 3

June 2024

Rah e taqdeer by Aleena Khan Complete Novel

  • by

کہانی ہے تقدیر کے لکھے فیصلوں کی۔ ایک ایسی لڑکی کی جس کی زندگی میں اس کی ماں کے علاؤہ کوئی رشتہ نہیں۔ کیا تقدیر اس سے یہ واحد رشتہ بھی چھین لے گی؟

Shehmaat novel by Fareeha Mirza

  • by

اگر وقت ٹھر جائے۔ سانس ساکن ہو جائے۔ آنکھ نم ہو جائے۔ تو خاموش رہنے کی بجائے اپنی کہانی کہہ ڈالنا ضروری ہو جاتا ہے۔ اور جس پل تمہیں لگے کہ اب کوئی تمہیں سننے نہیں آئے گا۔ اس پل لکھ ڈالو۔ اپنی کہانی کو۔ جو اک راز کی صورت ، اک بری یاد کی طرح تمہارے سینے میں دفن ہے۔

صوفیہ سکندر کہانی کا وہ کردار ہے جس نے میرے ہاتھ میں قلم تھما کر مجھ سے اپنی کہانی لکھوائی ہے۔ یہ وہ کہانی ہے جو بہت سے لوگ سنانا چاہتے ہیں مگر سنا نہیں سکتے ۔۔۔کچھ کہانیاں ممنوعہ ہوتی ہیں۔ وہ لفظوں میں کہی نہیں جا سکتیں۔ اور میں اس ممنوعہ کہانی کو رقم کرتی ہوں۔ کچھ سچ، کچھ جھوٹ۔ کچھ حقیقت، کچھ افسانہ۔

اس کہانی کے سب کردار فکشن ہیں، کہانی من گھڑت ہے ۔۔۔مگر ۔۔۔عزیز قارئین ؟

کیا کرداروں پر بیتنے والی اذیت جھوٹی ہوتی ہے؟

بعض کہانیاں صرف کہانیاں نہیں ہوتیں۔ کسی کی زندگی ہوتی ہیں۔ کسی کا ماضی ہوتی ہیں۔ کسی کے اوپر بیتنے والی قیامت ہوتی ہیں ۔ یہ کہانیاں سننے میں بڑی دلچسپ ہوتی ہیں مگر جو اس ٹارچر سے گذرتا ہے وہی جانتا ہے ۔۔۔بس وہی جانتا ہے کہ ازیت کیا ہوتی ہے۔

“شہہ مات” کو لکھنا بھی کسی ازیت سے کم نہیں۔ کوئی مجھ سے پوچھے کہ ٹارچر کیا ہے؟ میں کہوں گی اپنے احساسات کو قلم کے ذریعے کاغذ کی سطح پر اتارنا ۔۔۔۔اور پھر کسی تاریک گوشہ میں بیٹھ کر اس ان کہی کو پڑھنا۔ اس درد کو پڑھنا جو آپ کی آنکھیں نم کر ڈالے۔

Qalb bari novel by Areeba Sikander

  • by

کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا ایا

بات نکلی تو ہر بات پہ رونا ایا

ہم تو سمجھے تھے کہ ہم بھول گئے ہیں ان کو

کیا ہوا اج پھر کس بات پر رونا ایا

کس لیے جیتے ہیں ہم کس کے لیے جیتے ہیں

بار بار ایسے سوالات پر رونا ایا

کون روتا ہے کسی کے خاطر اے دوست

سب کو اپنی ہی کسی بات پہ رونا ایا

Jaan e Bohram novel by Sam Asif

  • by

آؤ آؤ زرخان تمہارا ہی انتظار تھا..کیا چاہتے ہو تم کیوں ہماری فیملیز کے پیچھے پڑے ہو؟ارین کی بات سنتے زرخان غصے سے بولا تو ارین ہلکہ سا مسکرایا

ادا فاروقی چاہئیے مجھے.. مگر یہاں صرف ادا بہرام خانزادہ رہتی ہے ادا فاروقی اسی دن مر گئی تھی جس دن تم نے اسے مری کی سڑک سے کیڈنیپ کروایا تھا..ارین کے مسکرا کر بولنے پر ادا غصے سے بولی تو ارین نے اسے دیکھا

ٹھیک ہے پھر مجھے ادا بہرام خانزادہ ہی چاہئیے مگر اس بار نکاح کےلیے نہیں بس ایک رات کے لیے میرا بستر۔۔۔شٹ اپ..ابھی ارین کی بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ بہرام غصے سے چلایا جس پر ارین نے نا گواریت سے اسے دیکھا..کان اپنا ہے میرا کرائے پر تو نہیں لیا ہوا جو تم چلا رہے ہو..ارین کی بات سنتے بہرام نے کوئی ردعمل ظاہر نہ کیا تو ارین فوراً کھڑاہوتا اپنی جیبوں میں ہاتھ ڈال گیا

یور پلیس اور مائین ڈیسائیڈ کر لو پانچ منٹ ہیں تمہارے پاس..میں تمہارے ساتھ کہیں بھی نہیں جانے والی..ارین کی بات سنتے ادا فوراً بولی تو ارین کو غصہ آنے لگا..بیوٹی مجھے غصہ مت دلاؤ..جو کرنا ہے کرو مجھے کوئی فکر نہیں ..ارین کی بات سنتے ادا فوراً بولی تو ارین نے اپنی جیب سے گن نکالی اگر تم ابھی کے ابھی میرے ساتھ نہیں چلی تو میں اسے مار کر تمہیں بیوہ کر دونگا تمہارے بیٹے کے سر سے باپ کا سایہ چھین لونگا اورتمہیں میں اپنے ساتھ لے جاؤنگا ارین گن بہرام کے اوپر رکھتے بولا تو ادا نے پریشانی سے بہرام کو دیکھاادا کو مسلسل بہرام کی طرف دیکھتے اور اپنے نہ چلتے دیکھ کر ارین نےغصے سے گولی چلائی جو سیدھا بہرام کے کندھے پر لگی بہرام جو ادا کودیکھنے میں مصروف تھا گولی لگتے ہی کندھا پکڑتا درد سے کراہ اٹھا جس پر لاؤنج میں بیٹھے سب لوگ ہی بہرام کی طرف بھاگےاگر کوئی بھی بہرام کے پاس گیا تو میں اس بچے کو شوٹ کر دونگاروحیل ارین کی بات سنتے سب نے پریشانی سے ارین کی گن پوائنٹ پر کھڑا بچہ دیکھا تو مرجان فوراً چلائی جبکہ روحیل کھڑا روتا اپنی ماں کو بار باربلا رہا تھا پھر تبھی ارین نے روحیل سے گن ہٹاتے دوبارہ بہرام پرچلائی تو زوبیا بہرام کو دھکا دیتے بیچ میں آگئی جس کی وجہ سے بہرام کولگنے والی گولی سیدھی جا کر زوبیا کو لگی تو زوبیا دھڑام سے نیچے گر گئی زوبیا کو نیچے گرتا دیکھ کر سب لوگ اس کی طرف بھاگے جبکہ ارین کھڑا ہنستا اس موت کے کھیل کا مزا لیتا قہقہ لگا کر ہنسنے لگا

**********

ادا تجھے ہمیشہ امی کہتی رہی کھانا بنانا سیکھ لے پر تمہیں کوئی فکر نہیں ہوئی ہمیشہ رانیہ آپی بنا تو لیتی ہے کرتی بات ختم کر دیتی تھی اب بھگتو کیا کرو گی اب تم اپنے چند گھنٹوں کے شوہر کو کیا کھلاؤ گی.ادا کھڑی خود کو کوستی منہ بناتی باہر نکلی اور آ کر سیدھے بہرام کے سر پر کھڑی ہوئی

کیا ہوا؟میں کیا بناؤں مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا آپ کو جو کھانا ہے بتا دے میں بنا دیتی ہوں..ادا کو سر پر کھڑا دیکھ کر بہرام فوراً بولا تو ادا نے جواب دیا تو بہرام اسے دیکھتا کچھ سوچنے لگا

ایک کام کرو بیف سٹیک ود میشڈ پوٹیٹوز اور تریاکی سوس بنا دو..بہرام کی بات سنتے ہی ادا پریشانی سے کیچن میں واپس آئی

یہ کونسی جیپنیز ڈیش بتا دی انہوں نے مجھے تو نام بھی یاد نہیں ہوا تو بناؤں کیسے..ادا سوچ ہی رہی تھی کہ بہرام اس کے پیچھے اندر آیا

کیا ہوا تم نے ابھی تک بنانا شروع نہیں کیا؟میں بس بنا ہی رہی تھی..بہرام کے سوال پر ادا فوراً بولتی فریزر کی طرف بڑھی اور ایک پیکٹ نکال کر اس میں سے گوشت کاٹنے لگی

یہ تم کیا کر رہی ہو؟بیف کاٹ رہی ہوں..تم اسے بیف کہتی ہو؟بہرام کی بات سنتے ادا فوراً بولی تو بہرام نے پریشانی سے سوال کیا

ہاں میں تو بیف کہتی ہوں آپ اسے کیا کہتے ہیں..میں اسے چکن کہتا ہوں..بہرام کا سوال سنتے ادا تپ کر چھری گھماتی بولی تو بہرام نے اسے انتہائی تسلی سےجواب دیا جس پر ادا رونے والی ہو گئی آج تو بےعزتی کی حد ہی ہو گئی تھی اسےچکن اور بیف میں بھی فرق نہیں پتہ تھا ادا کی شکل دیکھ کر بہرام کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا اس سے پہلے کہ بہرام کچھ بھی بولتا ادا چھری شیلف پر پھینکتی زمین پر بیٹھ گئی اور پھر اس نے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا

کیا ہوا ادا تم رو کیوں رہی ہو؟ اچھا ٹھیک ہے آج سے میں بھی اسے بیف ہی کہوں گا اب رونا تو بند کرو.. اپنی کچھ گھنٹوں کی بیوی کو اس طرح روتے دیکھ کر بہرام کو سمجھ ہی نہ آیا کہ وہ کیا کرے وہ پریشانی سے ادا کے پاس بیٹھتا پہلے تو سوال کر گیا پھر یہ سوچتا کہ کہیں اسے اس کی بیف والی بات تو بری نہ لگی ہو فوراً سے بولا تو ادا نے روتے ہوئے سر اٹھایا اور پھر ادا کی ہجکیاں بندھ گئی

مجھے کھانا بنانا نہیں آتا مجھے نہیں پتہ اسے چکن کہتے ہیں یا بیف امی ہمیشہ کہتی تھی کھانا بنانا سیکھ لو مگر میں ہمیشہ بس کھاتی تھی بناتی تو رانیہ آپی تھی مجھے نہیں آتی آپ کی وہ جیپنیز ڈیش بنانی..ادا دونوں ہاتھ اپنے منہ رکھتے بولی تو بہرام کو اس بات سنتے اپنی ہنسی کنٹرول کرنامشکل ہو گیا وہ سٹیک کو ایک جیپنیز ڈیش بول رہی تھی اور اس بات پر رو بھی رہی تھی بہرام کی طرف سے کوئی جواب نہ سن کر ادا نے سر اٹھایا بہرام کو اپنی ہنسی کنٹرول کرتا دیکھ کر ادا کو غصہ آنے لگا

آپ میرا مذاق اڑا رہے ہیں..نہیں۔۔نہیں تو میں بھلا اپنی پھوہڑ بیوی کا مذاق کیسے اڑا سکتا ہوں..میں پھوہڑ نہیں ہوں ادا ہوں..ادا کے غصے سے بولنے پر بہرام فوراً بولا تو ادا نے جواب دیا اور اس کا جواب سن کر بہرام کو لگا کہ آج وہ اپنی ہنسی کنٹرول کرتے ہی مر جائے گا اس کی بیوی کو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ پھوہڑ کا مطلب نکمی ہوتا ہے

Ishq Dar Azdawaj novel by Anoosha Aarzoo

  • by

یہ کہانی ہے نکاح کی…

ایسے نکاح کی جس میں محبت نہیں تھی…

یہ کہانی میرے اردگرد موجود تمام لوگوں کے نام ہے جن کی بدولت میں یہ جان سکی کہ نکاح میں محبت کتنی مضبوط ہوتی ہے…

یہ کہانی اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ نشانیوں میں سے ایک اہم اور خاص نشانی پر مبنی ہے۔

میری دعا ہے کہ ہر شادی شدہ جوڑا اپنے نکاح میں موجود محبت کو محسوس کر سکے اور یہ جان سکے کہ

”عشق در ازدواج بسیار قوی است“

Sapno se haqeeqat ka safar novel by Esha Ahmed

  • by

زارہ رکو تو کہیں خوشی سے میرا بازو نا توڑ دینا۔

فکر نا کرو نہیں توڑوں گی ۔ ا۔ چلو بھی

اچھا بولو تو سہی کرنا کیا ہے ۔

یار ماہم آپی کب سے اکیلئ ڈکورشن پے لگی ہوئی ہیں ان کی ہیلپ کرنی ہے ۔ اور کیا ۔

تو اس میں کیا ہے دوستی کا فرض ادا کر رہی ہے ۔ اب اتنے سالوں بعد دوست آ رہی ہے اتنا تو بنتا ہی ہے۔

بے شرم لڑکی تم بھی کزن ہونے کا تھوڑا فرض نبھا لو ۔ وسے تو میری آپی کے لیے میں خود ہی کافی ہوں ۔لیکن میں نہیں چاہتی تم لوگ فری کا پیار دیکھاو ۔ ہاہاہاہاہا خد ہے یار زارہ کتنا سوچتی ہو تم ۔

پانچ سال پہلے جس ائرپورٹ پر جاتے ہوئے آنکھوں میں آنسو تھے ۔ آج وہی کھڑے آنکھوں میں چمک لیے وہ اپنوں سے ملنے آ رہی تھی ۔

ایک بہت ہی شاندار ویلکم کے بعد سب باتوں میں مصروف تھے ۔ کوئی ریان سے پوچھ رہا تھا تو کوئی شماء سے ۔

یا مناہل دیکھو تو سہی یہ شہزاد کتنا کیوٹ ہے ۔ ویسے آپی اپکا بیٹا کورین پے ہی گیا ہے ۔ زارہ جو کب سے دو سال کے شایان کے ساتھ کھیل رہی تھی ۔ شماء کو دیکھتے ہوئے کہا جس پر شماء نے مسکراتے ہوئے اشارے سے خاموش رہنے کا کہا ۔

Naqab e roop novel by Rumaisha Zareen

  • by

کہانی ہے ایک معصومیت اور نقاب میں پیچھے چھپے رشتوں میں وفا ڈھونڈنے والی کی۔۔۔۔ جسے محبت ہے اپنوں سے۔۔۔۔ بابا کی باتوں کو ہمیشہ یاد رکھنے والی کی۔۔۔دوستوں پر جان دینے والی کی۔۔۔۔۔ اور اس سب کے باوجود ہمیشہ اکیلی ہی رہ جانے والی کی۔۔۔ کہانی ہے المیرا کی!

Hasidon ki dunya mein novel by Mahnoor Rasheed Ahmed

  • by

یہ ناول ایسے شخص کے متعلق ہے ، جو جس کے خواب اسے سرگرداں رکھتے ہیں،

اپنے خوابوں کو پانے کے لیے وہ جدو جہد کرتا ہے ۔ یہ داستان ہے دو لوگوں کی جن کی زندگی انہیں ایک مقام پہ لا کر کھڑا کر دیتی ہے اور ان کا مشترک ماضی انہیں ملانے کا سبب بنتا ہے۔ ان کی زندگیاں مختلف نشیب و فراز کے زیر اثر آجاتی ہیں۔ ، کیا یہ اپنے زندگی میں سکون کی جانب گامزن ہو پائیں گے۔ دونوں ہی اپنے خوابوں کو پورا کر نے کے لیے سرگرداں ہیں کیا ان کے خواب پورے ہو سکیں گے۔

یہ داستان ہے خوابوں سے تعبیر کی، اور زندگی میں حائل ہونے والے

طلاطم کی۔

یہ داستان ہے دعاؤں کی التجاؤں میں ڈھل جانے کی۔

یہ داستان ہے نفرت سے محبت کی ، یہ داستان ہے زوال سے عروج

کی اور عروج سے زوال کی۔ یہ کہانی ہے مکافات عمل کی۔ یہ داستان ہے

پہاڑوں سے کیے جانے والے عشق کی ، جو کہ حقیقی اور مجاز ی عشق

سے روشناس کر واتا ہے۔

یہ داستان ہے پہاڑوں میں مقیم ایک شخص کی جس کی آنکھیں شاہین کی

مانند

پہاڑوں کی گھات لگا ئے بیٹھی ہیں۔ کیا قدرت اسے خود کو تسخیر کر نے

کا موقع دے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔