Skip to content
Home » Archives for September 2024 » Page 9

September 2024

Guzar basar afsana by Farah Anwaar

  • by

“ہاں بھئی! کیا نام ہے تمہارا کس لیے آئے ہو؟”

“میں یوسف ہوں۔ رپورٹ درج کرانے آیا ہوں.”

“کیا رپورٹ درج کرانی ہے؟” تھانے دار نے مونچھوں کو تاؤ دیا۔

“میری سبزی والی ریڑھی چوری ہو گئی ہے آج رات کو.”

تھانے دار نے سر سے پاؤں تک یوسف کو آنکھیں پھاڑ کر دیکھا۔

“سبزی والے ہو؟”

“جی سبزی والا ہوں.”

“لگتے تو نہیں ہو۔ دکھنے میں تو کوئی ہیرو ہو اور بیچتے سبزی ہو___ ہہہم”

“اچھا تو یہ بتاؤ__ ریڑھی کو تالا لگایا تھا؟”

“جی اچھی طرح سے باندھا تھا۔” یوسف نے جواب دیا۔

“رسی سے باندھا تھا___پھر تو چوری ہونی ہی تھی۔”

Jawaran afsana by Farah Anwar

  • by

“جنت! سبق تیر کا۔” (جنت سبق سناؤ)

میں ابا جی کے پاس ڈرتی ڈرتی جاتی اتنا ان سے ڈر نہیں لگتا تھا جتنا ان کی آنکھوں پر لگی عینک سے خوف آتا تھا۔ عینک میں ابا جی کی آنکھیں بڑی بڑی نظر آتی تھیں۔ اور میں ابا جی کے ڈر سے سبق بھول جاتی۔ اور اگر مجھے سبق یاد بھی ہوتا تو میں کہیں غلط نہ سنا دوں اس ڈر سے بولتی ہی نہیں تھی۔ اور میرے نہ بولنے پر مجھے اچھا خاصہ گھورا جاتا۔

“شرم واکہ، نہ یاوازہ دے کلاس کہ پا کہ شوی یہ، ستہ نورے ملگرے تو بے بل کلاس تہ لارے، او تہ تار اوسہ ب بکری چ چاند کہ یہ۔”

)شرم کر لو تم واحد ہو جو اپنی کلاس میں پرانی ہو سب آ گے چلے گئے سوائے تمہارے، تم ب بکری چ چاند سے باہر نہ آنا.)

Kuch khawab sulagty aankhon mein by Haleema Arshad Dar Complete novel

  • by

“حمدان شادی بیاہ کوئ مزاق نہیں ہے تم سیریس ہو کے سوچو….. دیکھو…… الحان تمہارے لائق نہیں تم اسے نہیں جانتے کل کو پچھتانے سے بہتر ہے کہ تم آج اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر لو….. منال سے شادی کر لو وہ الحان سے بہتر ہے”معیز نے جب سے سنا تھا حمدان اور الحان کا نکاح ہے تب سے وہ موقعے ڈھونڈ رہا تھا حمدان سے بات کرنے کا تو وہ صبح صبح ہی اسکے کمرے میں آدھمکا جب وہ اپنی سوچوں میں گم گود میں تکیہ رکھے بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا

“معیز تم اس بات کی ٹینشن مت لو مجھے پتہ ہے کہ میں کیا کرنے جا رہا ہوں…. میں بچہ تھوڑی ہوں”حمدان نے اکتائے ہو لہجے میں کہا.

“حمدان منال بہت اچھی لڑکی ہے تم سے بے پناہ محبت کرتی ہے… مجھے بتایا ہے مونا نے….. الحان تمہارے لائق نہیں ہے وہ بس منال کو دکھ دینے کے لیے تم سے شادی کر رہی ہے…. الحان اچھی لڑکی نہیں ہے”معیزاسکے بیڈ سائیڈ پڑے صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا.

“اچھا آپ کو کیسے پتہ”حمدان نے معیز کو بغور دیکھتے ہوئے کہا

“کیا مطلب…… کیا کہنا چاہتے ہو…. “

“مطلب یہ معیز تم تو ہمیشہ گھر سے دور رہے ہو تمہیں کیسے پتہ کے الحان اچھی لڑکی نہیں ہے اور منال اچھی ہے…… کیا میں جان سکتا ہوں….اتنی اہم معلومات تمہیں کیسے پتہ چل گئ. اور میں جو اس گھر میں ہی موجود تھا مجھے خبر کیوں نہ ہوئ…. “

“حمدان….. الحان یوسف کو پسند کرتی ہے…..اس لیے اسے اپنی زندگی مہں شامل نہ کرو وہ تم سے مخلص نہیں رہے گی”

“ہاہاہاہا…. اچھا.. بہت خوب الحان یوسف کو پسند کرتی ہے… آپ کو کس نے بتایا… “

“مجھے مونا نے بتایا تھا اور میں نے خود بھی دیکھا ہے وہ رات کو یوسف کے ساتھ…. “

“بس کر دو معیز…. بس کرو….. مونا نے کہہ دیا تم نے مان لیا…. کیا اتنا آسان ہے تمہارے لیے مما کی تربیت پر انگلی اٹھانا….وہ تمہاری مونا کیا اتنی سچی ہے کہ اسکی گواہی کو دلیل بنا کہ تم کسی پر بہتان باندھ رہے ہو…”

“حمدااان…. تمیز سے بات کرو مونا بیوی ہے میری….”

“آپ یہاں کھڑے جس کے کردار پر بار بار کیچڑ اچھال رہے ہو نا…. وہ میری ہونے والی بیوی ہے مجھے گوارا نہیں کہ آپ اس کے کردار پر انگلی اٹھائیں… “

Raah e malal by Dua Aslam Complete novel

  • by

حریم خان ۔۔۔۔” اس کی نگاہیں اس خط پر مرکوز تھی

میں امید کرتا ہوں آپ خیریت سے ہوگی۔۔۔۔؟؟( اس کا دل چاہا وہ کہہ دے میں خیریت سے نہیں ہوں ) جب تک آپ کے ہاتھ میں یہ خط آئے گا تب تک شاید میں اس دنیا میں نا ہوں اور اگر ہوا بھی تو شاید اس شہر اور ملک میں نا ہوں۔۔۔” میرا فون گم ہوگیا تھا جس کی وجہ سے میں تم سے کانٹیکٹ نہیں کر سکا اور نا مجھے تمہارا نمبر یاد تھا ۔۔۔۔۔” اسے لگا وہ اس کے سامنے کھڑا اسے خود کہہ رہا ہے ۔۔۔۔” میں جانتا ہوں میں وعدہ نہیں نبھا سکا میں نہیں آسکا میرے لیے حالات بہت تنگ ہو گئے تھے اسوقت میں بہت پریشان تھا حریم اور سوچ رہا تھا کہ اگر میری دوست حریم اگر یہاں ہوتی تو میری پریشانیوں کو گولی مار دیتی ۔۔۔۔۔”( اس سطر کو پڑھتے وقت اس کی نم آنکھیں مسکرائی تھی۔۔) مگر افسوس تم یہاں نہیں ہو میں جانتا ہوں ہم دونوں دوست تھے ، ہے اور ہمیشہ رہے گے۔۔۔۔”( وہ دوستی کی بات کر رہا تھا یہاں تو حریم خان کو اس سے چاہت ہو گئی تھی۔.) ۔۔۔۔۔پھر ہم ساتھ ہو یا نا ہو ۔۔۔۔”( اس سطر کو پڑھتے وقت اس نے آنکھیں درڈ سے میچی تھی اور ایک آنسوں ٹوٹ کر خط پر گرا تھا۔۔۔) حریم میں تم سے معافی چاہتا ہوں میں نہیں آسکا اور شاید نا آسکوں مجھے معاف کر دینا اس خط کے ساتھ جو چیز میں نے رکھی ہے وہ مجھے بہت عزیز ہے اور اپنی عزیز چیز میں تمہارے حوالے کر رہا ہوں پتا نہیں یہ خط تمہیں ملے گا بھی یا نہیں یا تم مجھے بھول جاؤ گی …( وہ بھولنے کی بات کر رہا تھا اور وہ تو ان پانچ سالوں میں جسے نہیں بھولی تھی وہ داؤد رحمان تھا۔۔)اور میں جانتا ہوں حریم خان داؤد رحمان کو دوستی کے لیے معاف کر دے گی وہ داؤد رحمان کی طرح دوستی کا بھرم نہیں توڑے گی۔۔۔” خدا حافض “( آخری الفاظ پڑھتے وقت اس کا دل چاہا وہ اس خط میں سے داؤد رحمان کو نکالے اور کہے ایسے کیسے تم خدا حافض کہہ سکتے ہو ) ۔۔۔دو تین سطر چھوڑ کر لکھا تھا تمہارا دوست ۔۔۔۔” اور اس سے نیچے لکھا تھا ۔۔۔” داؤد رحمان ۔۔۔۔” نام کے ساتھ مورخہ لکھی تھی۔۔۔٫” تین جولائی 2019۔۔۔” ( ایک سحر تھا۔جو ٹوٹا تھا ) اس کی آنکھوں سے آنسوں بہہ کر خط پر گر رہے تھے وہ اس خط کو پکڑے نیچے بیٹھتی چلی گئی اس نے خط کے ساتھ رکھی چیز کو دیکھا وہ ایک رنگ تھی اس پر ڈی لکھا ہوا تھا وہ خط کو اور اس رنگ کو پکڑے مرے ہوئے قدموں سے باہر آئی تھی باہر اندھیرا چھانے لگا تھا اسے سنبل نے ایسے دیکھا تو فورا اس کی طرف لپکی ۔۔۔۔” کیا ہوا ۔۔۔۔؟؟