Skip to content
Home » Archives for Mubarra » Page 161

Mubarra

Jam e mohabbat by Maleeha Shah Complete novel

  • by

کدھر رہ گئ یہ لڑکی وہ غصے سے ٹہل رہییں تھیں۔بھاگ گئ ہوگی شائستہ بولی۔ہممم لگتی تو ایسے ہی ہے کہ کبھی کسی ٹائم بھی بھاگ جائے گئ۔ارے ماں فکر کیوں کرتی ہو اچھا ہے نا چلی گئ ہمارے سر سے مصیبت ٹلی یہ بولنے والا حسیب تھا۔وہاں بیٹھا ہر شخص اس کے لئے زہر اگل رہا تھا یہ جانے بغیر کہ وہ کس مصیبت میں پھس گئ دروازے کی بیل بجی۔جاؤ دیکھ کے آؤ حسیب کون ہے دروازہ کھولا تو سامنے ہی وہ کھڑی تھی ارے کدھر رہ گئ تھی تم چچی جان بولیں تمہیں یہ پاس والی دکان سے دہی لینے بیجا تھا کس سے باتیں کرتی رہئ ہو باہر نہیں چچی جان وہ میرے پیچھے کچھ لوگ لگ گۓ تھے وہ رونے لگی۔بند کرو اپنا یہ ناٹک ضرور کسی کے ساتھ باہر لگی ہوگی اب بہانے دیکھو اسکے شائستہ نے اور زہر اگلا۔

وہ اس کو ادھر اکیلا چھوڑ کر اندر چلے گۓ اور وہ سونے کے لئے اپنے کمرے میں چلی گئ۔اس کا کمرہ کم اور وہ سٹور زیادہ لگتا تھا جہاں ایک پرانا سنگل بیڈتھا جو اس کودیا گیا تھا بس ایک سنگل بیڈ رکھنے کی ہی جگہ تھی اس کے کمرے میں۔وہ اکر اپنے کمرے میں بیٹھ گئ وہ کافی ڈری ہوئ تھی جو اس کے ساتھ ہوا اسے لےکے۔شکریہ اللہ جی آج آپ نے مجھے بچا لیا۔

پتا نہیں میری زندگی کبھی بدلے گی یا نہیں وہ سوچتے سوچتے سو گئ۔

*****************

Dil wafa ki saltanat short novel by Anisha Nawaz

  • by

میرا ناول لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو اس بات سے آگاہ کیا جائے کہ غلط فہمیوں کا شکار نہ بنیں بلکہ بات کو کلئیر کریں۔ چھوٹی سی غلط فہمی کی وجہ سے آپ کبھی کبھار انمول چیزیں یا لوگ کھو دیتے ہیں۔ دوسری طرف ہمارے معاشرے میں بھی یہ بات عام ہے اکثر گھروں میں چھوٹی سے چھوٹی غلط فہمی کی بنا پر ہم اپنے اہم اور انمول رشتے اور ان کا اعتماد کھو بیٹھتے ہیں ۔ اس لیے کبھی بھی خود سے بات گھڑنے کی بجائے دوسرے سے پوچھیں چاہے وہ آپکے دوست ہوں، استاد ہوں ، والدین یا کوئی بھی رشتہ سب اہم ہیں!

(مصنفہ :انیشہ نواز)

**************

Rut badalny wali hai afsana by Rushna Akhter

  • by

تم یہاں کیا لینے آۓ ہو بلونگڑے وہ چاۓ کا مگ ہاتھ میں لیے ہوئے تھی

آف کو رس چاۓ اور لینے تو میں بہت کچھ آیا ہوں اگر کوئی لے جانے دے تو ۔

وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بولا تو علیزے زرا جھینپ سی گئی اور اسے انگلی سے اشارہ کرتے ہوۓ بولی

دیکھو بلال میں نے ابا سے تمہاری شکایت کر دینی ہے۔

لیکن میں نے ماموں سے یہ مانگ لینی ہے وہ اپنی انگلی سے اسکی انگلی کو ہللکے سے مروڑتے ہوۓ بولا

شکل دیکھی ہے اپنی وہ بہت کچھ سمجھتے ہوۓ بولی

ان شاءاللہ یہ شکل ہر روز دیکھو گی۔ وہ ذرا شوخ ہوا ۔ علیزے نے اسے دھکا دینے والے انداز میں باہر کی طرف دھکیلا

“چاۓ پیو اور گھر کا رستہ ناپو”

Falaq afsana by Ameer Hamza Rajpoot

  • by

“میرا وجود گناہوں کی زد میں ہے۔ میرا ایک ایک خلیہ برائی کی نظر ہو چکا ہے۔میں خطاؤں کا مجسمہ بن چکی ہوں۔ پر۔۔ تو۔۔۔ تو رحمان ہے ۔تیری رحمتوں کا چرچہ تو دونوں جہاں میں ہے۔ تو رحیم ہے ۔۔۔اے اللہ۔۔۔۔۔ تو بخش دے۔۔ تو رحیم ہے تو بخش دے ۔”اس کے الفاظ اب دم توڑ رہے تھے۔ انکھوں کا منظر دھندلا ہو رہا تھا ۔جب کہ بدن درد سے ٹوٹ رہا تھا۔ اچانک ہر طرف اندھیراچھا گیا۔ کسی گہرے راز کی طرح یا اس کی خوبصورت سیاہ زلفوں کی طرح ۔

وہ ہسپتال کے کشادہ کمرے میں بیڈ پر لیٹی تھی اس کے بازو سے خون بہہ رہا تھا۔ ایک ڈاکٹر اس کی سرہانے کھڑا اس کا معائنہ کر رہا تھا ۔ چند لمحے تک س کی بینڈیج کر دی گئی۔ پھر ڈاکٹر کمرے سے باہر نکل ۔وہ سیاہ شلوار قمیض زیب تن کیے پریشانی کی حالت میں دائیں بائیں چکر کاٹ رہا تھا ۔ڈاکٹر کو دیکھ کر وہ فورا رک گیا اور ڈاکٹر کی طرف بڑھا ۔

Zamhareer by Ammarah Hussain Complete novel

  • by

’’رکیں ۔۔!! ‘‘ وہ ایک دم کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔

وہ جو، اب ہاتھ میں فون تھامے اس پر کچھ دیکھ رہا تھا اس کی جانب متوجہ ہوا۔ فون والا ہاتھ اب بھی ویسے ہی تھا بس گردن اس کی جانب گھمائی تھی۔

’’آپ نے مجھے میرے دادا کے بارے میں نہیں بتا یا۔۔مجھے پوچھنا تھا کہ انہیں۔۔۔‘‘

’’آپ میرے سوالات کے ٹھیک جوابات نہیں دے رہیں ، میں آپ کو کچھ نہیں بتاسکتا، ‘‘ سنجیدگی سے کہ کر وہ اب فون میں کچھ ٹائپ کرنے لگا۔

’’ آپ اور کیا جاننا چاہتے ہیں ۔۔میں نے آپ کو جواب دے دئے ہیں ۔‘‘ وہ کھڑے کھڑے ہار مان جانے والے انداز میں بولی ۔ اب وہ اس کی جانب آیا ۔ اور ٹیبل سے ڈائیری اٹھالی ،

’’ ابھی جو آپ کو درد محسوس ہوا ۔۔وہ اس ڈائیری کی وجہ سے ہے کہ نہیں ۔ ۔۔ ؟؟ ‘‘ لہجہ اٹل تھا ، گہری آنکھیں اس کی آنکھوں پر جمی تھی ۔ وہ کچھ لمحے اس کی آنکھوں میں دیکھے گئی ، پھر اچانک سے نظریں اس کی ہاتھ میں ڈائیری پر جمائی ۔ اب وہ دوبارہ کبھی اوپر نہیں دیکھنا چاہتی تھی ۔ اس نے خشک لبوں پر زبان پھیری ۔

’’ نہیں یہ جادوئی نہیں ہے ۔۔‘‘ نفی میں سر ہلاتے اس نے ڈائری پر ہی نظریں مرکوز رکھیں ۔ ایک ہاتھ کندھے سے لٹکتے بیگ پر تھمائے ۔ دوسرے ہاتھ کی مٹھی میں اس نے اپنا کوٹ بھینچ سا ڈالا۔ دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ اسے جلد از جلد یہ گفتگو ختم کرنی تھی ۔اسے وہ شخص بہت برا لگ رہا تھا ۔سخت برا ۔۔۔زہر کی طرح ۔

’’ہوں ٹھیک ہے ۔۔ ‘‘ اب کی بار وہ مسکرایا اور ڈائیری اپنی جیب میں ڈال دی ۔

’’ کچھ اور دیکھا ہے آپ نے ۔۔جو جادوئی نہ ہو ۔۔‘‘ پریسہ کی آنکھیں اس جملے پر بے ساختہ اوپر کو اٹھی ۔ وہ خاموش رہی ۔ کچھ بول نہ پائی ۔ (یہ شخص ضرور کچھ جانتا تھا)

’’ آپ کے دادا کو میں نے اس ہوٹل کے کلب میں کسی سے بات کرتے سنا تھا۔ ایک شخص انہیں دھمکی دے رہا تھا۔‘‘ اس نے اس کے تاریک ہوتے چہرے کو دیکھا۔

’’کیسی دھمکی ۔۔۔؟؟‘‘ وہ فورا بولی ۔

’’ کہ انہوں نے کاٹیج کیوں بیچ دیا ۔۔۔شائد وہ شخص اسے لینا چاہتا تھا۔ ۔‘‘

’’کیا آپ نے وہ دھمکی سنی تھی ۔۔کیسی دھمکی تھی کیا جان لینے کی ۔۔۔؟؟ ‘‘

داؤد سلطان کے کانوں میں وہ دھمکی گونجی ، ( دو دن کے اندر اندر اس لڑکے سے کاٹیج لو اور میرے حوالے کردو ، منہ مانگی رقم مل جائے گی۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہوا تو تم زمین کھود ڈالوگے لیکن تمہیں پریسا کہیں نہیں دکھے گی۔ ۔۔‘‘)

’’ اگر وہ تم سے بہت قریب تھے تو ان کے لئے ۔۔جان لینے جیسی ہی تھی ۔ لیکن اس میں قتل کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ ۔‘‘ اس نے دیکھا ، کہ نمی اس لڑکی کی بڑی سیاہ آنکھوں میں اتری جسے اس نے پلکیں جھپک کر پیچھے دھکیلا۔ پھر اس کا چہرہ سرخ ہوا جیسے اور بھنوئیں تن سی گئی ۔

’’اس شخص کو جانتے ہیں آپ ، کیا عموما یہیں آتا جا تا ہے ۔۔‘‘

’’اگر جانتا تو کیا کرلیتیں آپ ۔۔‘‘ اس نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

’’وہی جو اس نے میرے دادا کے ساتھ کیا تھا۔۔!!‘‘ اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا ۔

اس نے کچھ لمحے اس کو دیکھا اور بولا ۔ ’’ لیکن میں نے اس شخص کو کہیں نہیں دیکھا۔

وہ کچھ دیر ویسے ہی کھڑی رہی ۔ ، کوئی آواز اس کے زہن میں گونجی ۔ ( اس شخص کو جھیل کے کنارے لے آنا ، جس کے پاس تمہاری ماں کی ڈائری ہے) ، وہ لب کاٹنے لگی ۔ بار بار بیگ کی سٹرپ ٹھیک کرتی ۔

’’ٹھیک ہے تو پھر میں آپ کا مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ شکریہ ۔ لئے دئے لہجے میں کہتا وہ پلٹنے لگا۔ نگاہیں اب پھر سے فون کی سکرین پر تھیں ۔ وہ اس کی پشت کو دیکھنے لگی ۔(نہیں وہ اس سے مدد نہیں لے سکتی ، یہ شخص مشکوک لگتا ہے ۔۔) ۔

(اگر تم سب کچھ جاننا چاہتی ہو تو اس شخص کو یہاں لے آنا) ۔ ۔اس نے ماتھے پر ہاتھ پھیرا۔ (کیا اسے اس سے مدد لینی چاہئے ؟؟ لیکن ایسا کیا ہے جو وہ شخص اس سے ملنا چاہتا ہے ) ۔ اس کا چہرہ مختلف جذبات کے زیر اثر تھا۔ وہ مسلسل لب کاٹ رہی تھی ۔باربار بیگ کو درست کرتی۔ پھر آخر کار اس نے فیصلہ کیا۔

’’رکیں ۔۔۔۔۔پلیز ‘‘ وہ ہال سے نکلنے ہی لگا تھا ، جب اس کی کھنکھتی آواز اس کے کانوں میں گونجی ۔

داؤد سلطان کے چلتے قدم عقب سے آتی اس کی آواز پر رکے ۔ عقب سے بھاگتے قدموں کی آواز آئی اور وہ اس کے مقابل آکھڑی ہوئی ۔

’’مجھے آپ کی مدد چاہئے ۔۔!!‘‘

’’کیسی مدد ۔۔۔؟؟ اس نے ابرو اچکائی۔ ’’میں آپ سے کچھ شیئر کرنا چاہتی ہوں ۔۔جو ۔۔۔میں نے خود اپنی آنکھوں سے ہوتے دیکھا ہے ۔ شائد آپ اس پر یقین کرلیں ۔۔کیونکہ کوئی اور نہیں کررہا ۔ ‘‘ اس نے انگلیاں مروڑتے ہوئے ایک جھوٹ گھڑا۔ وہ جانتی تھی اس بات پر اسے مدد مانگنے میں آسانی ہوسکتی ہے ۔

Jamay Hayat by SJ Writes Complete novel

  • by

انسان اگر خود پہ قابو پا لے تو اُسے خدا کے دربار میں کبھ شرمندہ نہیں ہونا پڑتا..اس ناول میں آپ دیکھیں کہ مصنفہ آپ سے کہنا کیا چاہتی تھی..اُس راز کو سمجھیں اور پہچانیں..اور جو پہچان جائے گا مجھے یقین ہے وہ اپنے راستے آسان کر لے گا…

About novel

جام حِیات ایک spiritual or psychological ناول ہے..جس میں گاؤں کا سردار سُلطان غازیان آدم سِکندر ہے جس کی ماں جادوئی علم کی ماہر تھی..اور اُس نے ایک ایسا جام تیار کیا..جو زندگی کو امر بنا دے..لیکن ہر اچھائی کے ساتھ ایک بُرائی بھی ہوتی ہے..وہ یہ جام حاصل کر کے اس دنیا پہ راج چاہتی تھی..جس کا علم سُلطان کی ماں کو ہو گیا تھا..مرنے سے پہلے وہ اُس جام کو ایسی جگہ رکھ گئ..جِسے سُلطان کے علاوہ کوئی چھو نہیں سکتا وہ بھی جب,جب وہ اٹھائیس سال کا ہو جائے گا..

اب پوری دنیا کی بُری طاقتیں اُس کے پیچھے ہے لیکن وہ اس کے بارے میں نہیں جانتا کیونکہ وہ دس سال کا تھا جب اُسکی ماں مری…اُسکی ماں کے ساتھ وہ بھی مر گئی تھی جس سے وہ بے انتہا محبت کرتا تھا..

سُطان ایک ایسا شخص ہے جو آپکو بتائے گا کہ دنیا سے جنت تک کا راستہ کیسے ممکن ہے..یہ گاؤں کا وہ سردار ہے جو حقیقی مومن ہے..جو نفس کو قابو میں رکھتا ہے..جو کالے علم کی دنیا میں رہ کے کالے علم سے بچتا ہے..یہ ناول آپکو کسی اور دنیا میں ہی لے جائے گا..یہ ناول ایک نفسیاتی علاج بھی ثابت ہو سکتا ہے اگر آپ اس میں لکھے گئے ہر لفظ کو غور و فکر سے پڑھے..