Skip to content
Home » Archives for Mubarra » Page 161

Mubarra

Tujh ko haar ke by Aqsa Tehreem Complete novel

  • by

یہ میں نے بہت محبت سے آپ کے لیے خریدا تھا آیت ۔۔ وہ اس کے چہرے کو دیکھتا بول رہا تھا ۔۔۔ آیت کا پورا وجود اس کی محبت کا گواہ بن گیا تھا ۔۔۔ جس کے الفاظ اس کی طرح حسین تھے ۔۔۔ اور احترام سے بھر پور تھے ۔۔۔ وہ اٹھا اور پائل اس کے ہاتھ سے لے کر اس کے پیروں میں پہنانے لگا ۔۔

نہیں میں خود پہن لوں گی ۔۔۔ وہ اس کے اس طرح پاؤں چھونے پے بوکھلا گئی تھی ۔۔ بھلا اپنے ہمسفر کو کیسے وہ اپنے قدموں میں بیٹھا دیکھتی ۔۔۔ وہ اس کا سر تاج اس کا مجازی خدا تھا ۔۔۔ وہ دل میں رکھنے اور سر پے تاج کی طرح پہننے کے لئے تھا ۔۔۔ یوں پیروں میں بیٹھانے کے لیے تھوڑی نہ ۔۔

کیوں ۔۔۔ میں کیوں نہیں پہنا سکتا ۔۔۔ وہ نرم سے لہجے میں سوال کرنے لگا ۔۔۔ وہ لب کاٹنے لگی ۔۔۔

بتائیں نہ ۔۔۔ کیوں نہیں پہنا سکتا ۔۔ کیا میرا چھونا آپکو برا لگ رہا ہے ۔۔ اس کے آخری سوال پے وہ دھنگ رہ گئی تھی ۔۔۔ اس نے زور زور سے گردن نفی میں ہلائی ۔۔۔ آیت کے اس طرح کرنے پے وہ دل کھول کے مسکرایا تھا ۔۔۔ وہ واقع معصوم تھی ۔۔۔ بس اس سے گھبرا رہی تھی ۔۔ جھجھک رہی تھی ۔۔۔ جو کہ فطری تھی ۔۔

پھر بتائیں کیا وجہ ہے ۔۔۔ اس کو اب مزا آنے لگا تھا آیت کو تنگ کرنے میں ۔۔۔

وہ آپ میرے پیر چھوئیں مجھے اچھا نہیں لگے گا ۔۔ آپ تو میرے شوہر ہیں ۔۔۔ بھلا آپکو کیسے اپنے قدموں میں بیٹھا دیکھ سکتی ۔۔۔ آیت نے سر جھکائے بمشکل اس کی غلط فہمی دور کی تھی کہ مبادہ وہ زندگی شروعات کی بدگمانی سے نہ کر دے ۔۔۔ شمائل خان اس کی بات پے اٹھ کر اس کے قریب آیا تھا ۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Ahrab by Mala Ali Complete novel

  • by

رویام میں یہ آپ کو گفٹ کرنا چاہتی تھی ۔ مگر ۔۔۔ یہ بہت مہنگی ہے میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔

گھڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس نے بہت ہی معصومانہ انداز میں کہا تھا ۔ جو کے رویام کو تھوڑی عجیب لگی تھی ۔

کیا مطلب پیسے نہیں ہیں ۔ کیا تم نہیں جانتی اگر تمہارا شوہر چاہے تو ابھی کے ابھی پورا مال خرید لے اور تم ایک گھڑی کا بول رہی ہو ۔

آپ کے پاس ہو گا بہت پیسہ اس میں کوئی شک نہیں مگر وہ آپ کا پیسہ ہے ۔

میں اپنے خود کے پیسوں سے آپ کو یہ گفٹ کرنا چاہتی تھی ۔ جو شاید نہیں کر سکوں گی۔

آخری جملے پر الفاظ ساتھ نہیں دے رہے تھے ۔ مگر پھر بھی بول دیا ۔

رویام کو اعراب کی باتیں بہت اچھی لگی تھی ۔ وہ من ہی من خوش تھا کے اسے کتنی خودار اور اچھی بیوی ملی ہے ۔

اعراب کی ہر بات رویام کے دل میں ایک خاص مقام بنا رہی تھی۔ جو کوئی نہیں بنا سکا تھا۔

اچھا تو اب مجھے میرا گفٹ نہیں ملے گا کیا ۔ ؟

کیوں نہیں ضرور ملے گا ۔

جب میں اتنے پیسے جمع کر سکی کے یہ خرید سکوں تب سب سے پہلے آپ کو یہ گفٹ کروں گئی ۔ بس تب تک یہ دعا کروں گی اسے کوئی اور ن خرید لے ۔

اگر تمہیں پسند ہے پھر تو جب تک تم نہیں چاہو گی یہ یہی رہے گی ہمیشہ۔

کیا تمہیں یہ بہت پسند ہے ؟ رویام نے اور ایک سوال کیا تھا ۔ جس کا اعراب نے بھی سمپل سا جواب دیا تھا ۔

یہ بہت خاص ہے ۔ جب آپ کے پاس ہوگی تب اپکو پتہ چلے گا ۔

اعراب کچھ اور بولتی اس سے پہلے ہی یمان کو اپنی طرف آتا دیکھ خاموش ہو گئی ۔

کیا بات ہے آج تو رویام پاشا شاپنگ مال میں موجود ہیں ۔کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہا ۔

یمان نے آتے ہی ایک طنزیہ لائن بولی جس پر اعراب بھی ہلکا سا مسکرائی تھی۔

اگر ہو گیا ہو تو کچھ بات کر لیں ۔ رویام نے یمان کو سائیڈ پر کرتے ہوئے کہا۔

ہآں ہاں بولو کیوں نہیں۔ کیا بات ہے جو اسے مجھے بلانا پڑا۔ یمان نے بھی سیریس ہو کر پوچھا ۔ جبکہ پیچھے کھڑی اعراب ان دونوں کو ہی دیکھ رہی تھی ۔

دیکھو یمان میری بات غور سے سنو ۔ یہاں کوئی ہے جو ہم پر نظر رکھ رہا ہے ۔ اور تم جانتے ہو کچھ دن پہلے کیا ہوا تھا ۔ اس سے پہلے کسی کی نظر اعراب پر جائے تم اسے گھر لے کر جاو ۔ یہاں سب میں دیکھتا ہوں۔

مگر رویام تم اکیلے کیسے ۔۔۔۔۔

تم اعراب کو لے کر جاو میں خود یہاں دیکھتا ہوں یمان نے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے کہا ۔

نہیں یمان اگر میں جاوں گا تو وہ ضرور پیچھا کریں گے ۔ تم جاو مجھے ابھی ان کی نظروں میں ہی رہنا ہے ۔ میں اعراب کو بولتا ہوں تمہاری ساتھ جائے ۔

مگر۔۔۔۔۔۔۔ وہ کچھ بولتا رویام پہلے ہی اعراب کے پاس چلا گیا ۔

کیا مطلب آپ نہیں جا رہے ساتھ ۔

دیکھو اعراب مجھے اچانک بہت امپورٹین کام آ گیا ہے

۔تم یمان کے ساتھ جاو یہ تمہیں گھر چھوڑ دے گا ۔ اور میں بھی جلدی آ جاو گا ۔

Mere charagar by Aqsa Tehreem Complete novel

  • by

تم ہو ونی میں آئی ہوئی لڑکی ۔۔ وہ کڑوے سے لہجے میں بولیں ۔۔

ج ۔ جی ۔۔ اس نے مجرموں کی طرح سر جھکا کر کہا ۔۔۔

پھر جانتی بھی ہو گی کہ ونی میں آئی ہوئی لڑکی کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے ۔۔ وہ چبا چبا کر اس کو گھورتی ہوئی بولیں ۔۔۔

جی جانتی ہوں سب ۔۔۔ اس نے ہولے سے کہا تھا ۔۔ عابدہ بیگم نے اس کو بغور دیکھا ۔۔۔

چلو یہ تو اچھی بات ہے ۔۔ ہمیں تم پے محنت نہیں کرنی پڑے گی ۔۔۔ اب اس حویلی کا سارا کام تم کرو گی ۔۔۔ حویلی کی ساری صاف صفائی سے لے کر کچن کے تمام معاملات تم سنبھالو گی ۔۔۔ اور مجھے کوئی کوتاہی ملی تو یاد رکھنا ۔۔ تمھارا وہ حشر ہو گا کہ تمھاری سات پشتیں بھی یاد رکھیں گی ۔۔۔ آخر میں ان کا لہجہ پتھریلا تھا ۔۔ وہ خاموشی سے سر جھکا گئی ۔۔۔

جی ٹھیک ہے ۔۔ اس نے ہر حکم پے سر جھکایا تھا ۔۔۔ عابدہ بیگم نے ایک ملازمہ کو آواز دی ۔۔

اس لڑکی کو لے جاؤ اور ساری حویلی دیکھا کر سارے کام سمجھا دو ۔۔۔ مجھے کوئی شکایت ملی تو اس لڑکی کے ساتھ تمہیں بھی بھون ڈالوں گی ۔۔ وہ بگڑے تیور لیے بولیں تھیں ۔۔ سمن خاموشی سے اس ملازمہ کے ساتھ چل دی ۔۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭