Skip to content
Home » Archives for Mubarra » Page 163

Mubarra

Ishq safar ki dhool by Aqsa Tehreem Complete novel

  • by

کون ہو تم ۔۔ وہ مٹھیاں بھینچے غصے سے دھڑا تھا معتبر سہم کر پیچھے ہوئی ۔۔

م ۔۔ می ۔۔ میں معتبر شاہ ۔۔ میرا آج اس آفس میں پہلا دن ہے ۔۔ وہ اپنے ڈر پہ قابو پاتے کانپتے ہوئے بولی تھی ۔۔۔

تمہیں آفس میں بیٹھنے کے مینرز نہیں ہیں کیا ۔۔ پہلے تم نے میرے آنے پر کھڑی نہیں ہوئی۔۔ اور پھر تم نے میری ساری شرٹ خراب کر دی ۔۔ وہ چبا چبا کر بولا تھا۔۔

سر میں آپ کے آنے پہ کیوں کھڑی ہوتی آپ کی شرٹ خراب کی یہ مانتی ہوں مگر میں آپ کے آنے پہ کیوں کھڑی ہوتی ۔۔ اس کی زبان سے پھسلا تھا مقابل کا چہرہ مارے ضبط کے سرخ ہو گیا تھا ۔۔ مطلب وہ اس آفس میں آگئی تھی اور اس کو پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ اس آفس اس کمپنی کا مالک تھا ۔۔

کس نے ۔۔ کس نے اس لڑکی کو رکھا ہے ؟ ۔۔ وہ شیر کی طرح داڑھا تھا پورے آفس کا سٹاف سہم کے رہ گیا ۔۔ اس نے معتبر کی میز پہ رکھی ساری فائلز اٹھا کر زمین پہ ماری تھیں معتبر ڈر کر دو قدم پیچھے ہوئی ۔۔ اس کی آنکھوں میں خوف لہرایا تھا ۔۔ وہ ہونقوں کی طرح اس پاگل کو دیکھ رہی تھی جو نجانے کس بات پر اس قدر غصہ دکھا رہا تھا ۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Dushman-e-Nafas Season 2 by Saira Ramzan Complete novel

  • by

ان کو لگتا ہے کہ وہ پرسکون زندگی گزارے گے غلط فہمی ہے تو بہت بڑی پر کوئی نہیں بہت ہی جلد دور بھی ہو جائے گی۔

مجھ سے میرا سب کچھ چھین کر وہ چین سے رہے اتنا شریف تو خیر کوئی مرد نہیں ہوتا۔

ایسا حشر کروں گا کہ اگلی ساتھ نسلوں تک ان میں سے کوئی مسکرا نا سکے گا پورا خاندان روئے گا تڑپے گا جینا بھول جائے گا۔ اور جب سارے زندہ لاش بن کر گھومیں گے تب جا کر میں مسکراؤں گا۔۔۔ میں ہنسوں گا۔

ہاں میں ہنسوں گا ان کے رونے پر ، تڑپنے پر، گھٹ گھٹ کے جینے پر، وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا مرر میں اپنا عکس دیکھتے ہوئے کھلکھلا کر خود سے ہی باتیں کر رہا تھا۔

***

اب تم یہاں پر بیٹھ کر شاعری کرنا بند کرو اور میرے ساتھ چلو ازبیہ بھابھی تمہارا کب سے انتظار کر رہی ہیں؟

آریز نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ وہ آج بھی اتنا ہی خوبصورت تھا، وہی ماتھے پر بکھرے ہوئے بال، وہی شلوار قمیض پہنے، وہی ہلکی سبز آنکھوں والا خاموش مزاج لڑکا۔۔۔۔ اگرچہ حلیہ وہی تھا مگر اس ایک حادثے نے اس کی آنکھوں کی چمک چھین لی تھی وہ جو مسکراتا تھا تو کوئی بھی قائل ہو جاتا تھا وہ اب کہاں مسکرا سکتا تھا۔۔۔؟

ان تین مہینوں نے اس کے چہرے کی چمک چھین لی تھی اس کی آنکھوں کے نیچے حلقے تھے قبر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ نڈھال سا اٹھ کھڑا ہوا۔

آریز نے اس کی سائیڈ کا دروازہ کھولا تو وہ چپ چاپ اندر بیٹھ گیا گاڑی میں بیٹھتے ہی وہ سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا گیا۔

زایان ۔۔۔!!!

Teri chahat mein bikhri hoon by Muslim Girl Complete novel

  • by

“رشتوں کا احساس”

یہ کہانی ہے ہر اس انسان کےلیے،جو کسی نہ کسی وجہ سے اپنے عزیز رشتوں کو چھوڑ کے اپنی دنیا میں مگن ہے۔۔بظاہر تو وہ خود کو ہزار تسلیاں دے کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ سجائے بیٹھا ہوگا لیکن حقیقت میں اس کی اندرونی حالت ظاہر سے مختلف ہوگی۔۔

“یہ کہانی ہے ایسی لڑکی کی جو ہر رشتے کو دل سے نبھانا جانتی ہے، جو اپنے اخلاق کی بدولت ہر دل میں گھر کر جاتی ہے”

اس نے ہر رشتے کی اہمیت کو اجاگر کیا، اپنی زندگی کو بھلائے وہ دوسروں کی خوشیوں میں خوش رہنا جانتی تھی۔۔اپنی زندگی، اپنی خوشیاں، اپنی خواہشیں ، اپنے خواب۔۔وہ سب بھلائے دوسروں کی خوشیاں چاہتی تھی۔۔۔

اس کہانی میں ہر رشتے کی اہمیت کو واضح کیا گیا۔۔چاہے وہ ماں بیٹی کا ہو، باپ بیٹی کا ہو، بہن بھائی کا ہو، یا بہنوں کی آپسی محبت۔۔۔

“بظاہر یہ کہانی فرضی ہے، اس میں موجود ہر کریکٹر فرضی ہے، لیکن رشتوں کا احساس فرضی نہیں ہے”

ہم انسان اپنے عزیز رشتوں کے بغیر ایک خوشحال زندگی بسر نہیں کر سکتے۔ امید ہے اس ناول کو پڑھنے والا ہر انسان رشتوں کی اہمیت کو سمجھے گا۔۔

اللہ ہمیں ہر رشتے کو صحیح سے بغیر کسی حسد، بغض اور نفرت کے نبھانے کی ہمت عطا فرمائیں ۔۔

آمین ۔۔۔