Skip to content
Home » Archives for Mubarra » Page 163

Mubarra

Qaswah by Dua Fatima Complete novel

  • by

زندہ ہے پر مانگ رہی ہے جینے کی آزادی

دیو کے چنگل میں شہزادی یہ کشمیر کی وادی

حد نظر تک سرو و صنوبر ہیں بھی اور نہیں بھی

ظالم کے دربار میں جیسے مہر بہ لب فریادی

چھینتے ہیں ہونٹوں سے دعائیں اور سروں سے ردائیں

دشمن نے جن بھیڑیوں کو جنگی وردی پہنادی

شاید ایسے اک میت پامالی سے بچ جائے

ماں نے کم سن بچی کی دریا میں لاش بہادی

سوئے ہوئے ضمیر نے ابتک دروازہ نہیں کھولا

ہم نے تو ظلم کے پہلے دن زنجیر عدل ہلادی

حسن لکیریں کھینچ رہا تھا سادہ سے کاغذ پر

آزادی کا لفظ لکھا کشمیر کی شکل بنادی

غلام محمد قاصر۔۔۔

Dasht by Pakeeza Khan Complete novel

  • by

یہ ناول اپنی اندر بہت سے اخلاقی سبق لیے ہوئے ہے ۔

یہ ناول آپ سب کو صبر اور دعا کی اہمیت بتائے کا اس ناول کے تمام کردار ایسا رول پیش کر رہے ہیں جن سے آپ بہت کچھ سیکھ سکیں گے۔انسان کے انجانے میں ہوئے گناہ پر اس کی نادامت اور پھر توبہ کہ اہمیت نامحرم کی محبت سے بچاؤ اور خوف خدا کا درس آپ کو اس ناول میں ملے گا

Makhail by Bint e Usman Complete novel

  • by

“ماخیل ایک ایسی کہانی ہے جس کا ہر کردار کہیں نا کہیں اپنے الگ انداز میں ہماری شخصیت کے اہم پہلوؤں کی عکاسی کرتا ہے۔کرداروں سے ہم بہت کچھ سیکھتے ہیں۔کچھ کردار اچھے ہوتے ہیں اور کچھ برے۔لیکن برے کرداروں کا بھی کہانی میں اہم کردار ہوتا ہے اپنے قارئین کو بتانے کیلئے کہ زندگی میں کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔

ہمیں خود کو پہچاننا ہے کہ آیا ہم بھی اس کردار کی طرح ہیں جس کو ہم پسند نہیں کرتے۔اس کہانی کے مجرم،گواہ اور جج سب آپ ہیں۔آپ خود کو پہچان کر دیکھیں آپ کہانی کا کونسا کردار اپنی اصل زندگی میں نبھا رہے ہیں!”

” قلم اٹھانا ایک بہت بڑی زمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کو بہت احتیاط کے ساتھ پورا کرنا پڑتا ہے۔۔۔

یہ قلم بہت قیمتی ہوتا ہے اور بہت کچھ کر سکتا ہے ایک قلم میں بہت طاقت ہوتی ہے۔۔۔

یہ کسی کی زندگی سنوار (نکاح) بھی سکتا ہے اور کسی کی زندگی اجاڑ (طلاق) بھی سکتا ہے بشرطیکہ جہاں آپ کے دستخط ہوں وہاں کچھ غلط لکھا ہوا نہ ہو۔

ایک لكهاری کی زندگی آسان نہیں ہوتی اسکو ایسے الفاظ کا چناؤ کرنا پڑتا ہے جس سے کسی کی دل آزاری نہ ہو جو کسی کے لئے گناہ کا سبب نہ بنے۔۔۔

بلکہ اس کو صدقہ جاریہ سمجھ کر کاغذ پر لکیریں کھینچنی چاہیے ایسی لکیریں جن کی چھاپ بہت گہری ہو اور اسکے قارئین پر بہت گہرا مثبت اثرچھوڑے۔۔۔”

Deewana mousam by Rimsha Ansari Complete novel

  • by

“یہ روشنی مجھے شروع دن سے ہی مشکوک لگی ہے ،یہ روشنی کوئی بہت بڑا راز ہے ،بی جان بھی اس کے ساتھ ملوث ہیں مگر یہ کرکیا رہی ہے مجھے سمجھ نہیں آرہا ،آیت اور جمال حسین کو دیکھ روشنی کے چہرے کے رنگ بھی اڑگئے تھے ،اسے شاید ڈر ہے کہ اس کی حقیقت نہ کھل جائے،یہ صلہ کی بہن نہیں ہے تو پھر ہے کون اور کس مقصد سے یہ سب کررہی ہے،اس کا جو بھی مقصد ہے وہ میں پتا کرلوں گی”

Intazar e izhar by Bint e Mehrban Complete novel

  • by

یہ میرا دوست ہے اسی وٹامن ایس کی کمی ہے_____ اس نے کہا

اس نے حیرانگئ سے ان دونوں کو دیکھا ____

جی ____اس نےحیرانگی سے زاریان کو دیکھا جیسے وٹامن ایس کی کمی تھی

زاریان نے پاس بیٹھے مرتضی کو دیکھا

مطلب انہیں وٹامن شادی کی کمی ہے____ مسلسسل خود کودیکھتا پاکر وہ بولا

اچھاپھر اس وٹامن کی مڈیسن ماریج بیورو سے ہی ملی گی____ سدرہ بولی

٭٭

یہ کیا بکواس کی تھی اندر____ زاریان بولا

کونسی والی____؟؟؟؟؟

وٹامن والی____اسنے کہا

وہ تجھے بکواس لگتی ہے ____؟؟؟

آئیندہ میری توبہ جومیں تیرے ساتھ کہی اوں زلیل کرکے رکھتا ہے تو ____ غصے سے بولا

ہاں ہاں اب لڑکی جو تجھےڈھونڈ کر دی ہے ایسا ہی کرے گا نا تو_____گاڑی کا دروازہ کھولتا وہ بولا

اپنی بائیک وہ اسکے گھر کھڑی کر ایا تھا کیونکہ زاریان کمزکم اج اس کے ساتھ ہوامیں نہیں اڑ سکتا تھا____

بکواس نا کر مرتضی مجھے اس طرح کی لڑکیاں بلکل بھی نہیں پسند اگر تو یہ سوچ رہا کہ میں اس سےشادی کروں گا تو یہ سوچ اپنے دماغ سے نکال دے_____ وہ بولا

میں نے کب کہا کہ تو اس سے شادی کر توخود ہی اپنےسے باتیں بنا رہا ہے____

اس نے حیرانگی سے اس ادمی کو دیکھا جو ایک لمحے میں بدلتا تھا____

اچھا تو پھر جو اندر بےغیرتیاں کی تھی وہ کیا تھی ____؟؟؟؟

کونسی بےغیرتئاں____انجان بنتا وہ بولا

یہ دیکھ تو مجھے اج سہی سلامت گھر چھوڑ دے _ اس کے اگے ہاتھ جوڑتے وہ بولا

کیا کرے گا پھر اگر شادی نا کی تو___؟؟؟؟ اس نے پوچھا

میں گزارا کرلوں گا تو اپنی بتا____ اسے کچھ یاد ایا

مجھے تو مل گئی ہے اپنی خوابوں کی ملکہ____ گاڑی چلاتا وہ مسکراتا ہوا بولا

اچھا کیا نام ہے اس کا____؟؟؟؟اس نے پوچھا

ان کا نام بہت خوبصورت ہے____

اچھا تو پھر بتا کتنا خوبصورت ہے___

ان کا نام اس قدر خوبصورت ہے کہ مجھے نہیں لگتا میں کبھی اپنی زبان سے ادا کرسکوں گا____ اس نے کہا

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Ruby by Dua Fatima Complete novel

  • by

“آفیسر ہارون اینڈ آفیسر انشرہ۔ یہ بہت ہی بڑی لاپرواہی کا مظاہرہ کیا ہے آپ دونوں نے۔”، ہیرے کا مالک، نوید درانی کاٹ دار انداز میں ان سے بولا تھا۔ وہ تقریبا پچاس سال تک کا آدمی تھا جو نہایت باوقار شخصیت کا مالک تھا۔بھوری آنکھوں اور بھورے بالوں والا۔ چہرہ پہ اس وقت سختی کے آثار صاف واضح تھے۔ہاتھ پیچھے باندھے، اپنی نظروں کو ان دونوں پر ٹکاۓ وہ کب سے انہیں اچھی خاصی سنا رہا تھا۔

“میڈیا پہ یہ بات لیک نہیں ہونی چاہئے۔ ہمیں کچھ بھی کر کے، پرسوں ایونٹ سے پہلے پہلے روبی واپس یہاں، اس بکسے کے اندر موجود چاہئے۔”، نوید درانی نے ایک بار پھر کڑکتی آواز میں کہا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے چلا گيا۔ پیچھے وہ چھ لوگ ایک دوسرے سے نظریں چراتے کھڑے رہ گئے تھے۔ آفیسر ہارون اور آفیسر انشرہ کی کلاس ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔

“Look officers. Find the diamond as soon as possible. My whole team is going to come tomorrow to attend the event. Or should i say, the whole world…I am still regretting that why i chose this country for this event.”

“دیکھو آفیسرز۔جتنی جلدی ہو سکے ہیرا ڈھونڈو۔ میری پوری ٹیم یہ ایونٹ اٹینڈ کرنے کے لیے آ رہی ہے۔یا مجھے کہنا چاہئے کہ پوری دنیا۔۔۔مجھے اب تک پچھتاوا ہو رہا ہے کہ کیوں میں نے اس ایونٹ کے لیے یہ ملک چنا۔”، آسٹریلین عورت نخوت سے کہتی سر جھٹک کر وہاں سے چلی گئی تھی۔ پاکستان میں ہونے والا اس طرح کا یہ پہلا ایونٹ تھا۔ اور وہ بھی تقریبا بربادی کے دہانے پہ کھڑا تھا۔

“میری تو ابھی تک یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ ہیرا چوری ہوا کیسے۔۔۔بالکل آخری لمحہ پر سائرن بجا، وہ بھی بکسے والا۔ لیزر کا سائرن کیوں نہیں بجا۔”، ایونٹ آرگنائزر نے ان دونوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوۓ ایک اور کمنٹ پاس کیا۔وہ دونوں لب دبا کر خود اسی کشمکش کا شکار تھے کہ آخر ہیرا چوری ہوا تو کیسے ہوا۔ ہارون نے تو اپنا بندہ تک متعین کیا ہوا تھا کیمرہ روم میں۔ پھر کیسے؟

“دیکھو ہارون۔ کہیں سے بھی، کیسے بھی ہیرا پرسوں سے پہلے پہلے یہاں موجود ہونا چاہئے۔ ورنہ سر اور میم تم لوگوں پہ کیس بھی کر سکتے ہیں۔ تم لوگوں کی کوئی کریڈیبلٹی نہیں رہے گی۔ تم دونوں کی جاب تک چلی جاۓ گی۔”، میوزیم مینجر نے ان دونوں کو دیکھتے ہوۓ کچھ نرمی سے کہا تھا۔ ان دونوں نے اب بھی سر جھکاۓ ہی سر اثبات میں ہلا دیا۔ وہ تمام ممکنات سے اچھی طرح واقف تھے۔اور یہی تو ساری ٹینشن تھی۔ ہیرا کہاں سے لے کر آئيں؟

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Sakoon e qalab by Hoorab Mustafa Complete novel

  • by

اس کو بھی ساتھ لے کے جاؤ کوئی تعلق نہیں ہے ہمارا اس سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ہماری شرافت سنجو کے اتنے سال ہم نے اس کو پالا اور اپنے پاس رکھا لے جاؤ اس کو اپنے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔

نہیں چاہیے مجھے نہ یہ نہ ہی کوئی اور ۔۔۔۔۔۔۔۔زرا ن سنائشہ کو گھورتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کم ظرف مرد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی عورت کے ہوتے ہوئے اسے چھوڑ کے جا رہا ہے کیسی مردانگی ہے تمہا۔ری۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔زران کےقدم اربد خان کی اواز سنتے ہوئے دروازے کی طرف چلتے ہوئے رکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔اگر میں کمزور اور کم ظرف ہوں تو تم بھی کوئی طاقتور نہیں ہو مجھے ڈرتے ہو تم لالا سے اس کے نام سے اس کے کردار سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زرا نے اپنے لفظوں پر زور دیتے ہوئے ساؤد کو اس کی کمزوری کے متعلق اشنا کرایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ارے میں تو ایک مرد سے ڈرتا ہوں نا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم کیا ہواپنی بیوی کے ساتھ ہونے کے باوجود میری بیٹی کو لینے ائے شرم نہیں ای تمہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اب اسے ہی چھوڑ کے جا رہے ہوں یہ کہہ کر کے نہیں چاہیے۔۔۔۔۔۔۔تمہیں واہ رے واہ زران ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ار بد نے اسے مردانگی کے ساتھ ساتھ اس کے کمزوری بتائی

صائم اٹھاؤ اسے اور پھینکو باہر کوئی تعلق نہیں ہے ہمارا اس سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب یہ زران شاہ کی بیوی ہے اور میں نہیں چاہتا کہ اس سے متعلق کوئی بھی جنس ہمارے گھر میں ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عربت نے سائن کو حکم دیتے ہوئے زران کو یہ جھٹلایا کہ وہ اس کی بیوی ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی پھکاؤ چیز بھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تب سے اپنے اپ کو سنبھالے ہوئےشفا مضبوط سہارے سے کھڑی تھی اچانک سے زمین بوس ہو۔ی۔ ۔۔۔۔۔۔۔

شفا۔۔۔۔۔۔۔۔ شفا۔۔۔۔۔۔۔۔سائن جو شفا کو پکڑنے کے لیے بھی اگے بڑھا ہی تھا کیا اچانک اس کو کسی مضبوط ہاتھوں نے تھاما ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خبردار جو تم نے میری بیوی کو لگایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کاٹ ڈالوں گا تمہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زران نے صاءم کے ہاتھوں کو جھڑکتے ہوئے غصے سے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور شفا پ نے مضبوط سہارے میں تھامتے ہوئے وہاں سے چلا ۔کیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Hayat e yousuf by Warisha Zehra Complete novel

  • by

ہمارا معاشرہ عورت کو اس حد تک کم تر سمجھتا ہے کہ اگر اس کے ساتھ حقیقت میں کوئی حادثہ پیش آ جائے تو اس پر الزام لگا دیا جاتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ ان کرداروں میں خود کو تلاش کریں گے اور کچھ نہ کچھ ضرور دیکھیں گے۔ یہ ناول میرے دل کے بہت قریب اس لیے بھی ہے کہ اس میں میری زندگی کے بہت سے پہلو شامل ہیں، اور وہ پہلو ایسے ہیں جو مجھے ہمیشہ تلخ اور خوبصورت یادوں کی طرف لے جاتے ہیں۔ لوگ رہیں یا نہ رہیں، یادیں رہتی ہیں، اور یہ حقیقت ہے کہ یادیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ کو یہ ناول پسند آئے گا اور آپ وہ سب دیکھ سکیں گے جو میں آپ سب کو دکھانا چاہتی ہوں، معاشرتی تلخ پہلو اور کچھ حقیقتیں۔

٭٭

اس دنیا میں نہ تو سیاہ ہے اور نہ ہی سفید، اگر یہاں کوئی رنگ پایا جاتا ہے تو وہ ہے سرمئی، اور اب ان کرداروں کو یہ طے خود کرنا ہے کہ وہ سیاہ ہیں یا سفید، اور کون سا رنگ ان پر پہلے غالب آتا ہے۔

کہانی طواف کرتی ہے یوسف سلیمان اور حیات سلطان کے گرد،کہانی گناہوں، بدلے، اور محبت کی.

کہانی طواف کرتی ہے حمید خان اور داوود سلطان کے گرد کہانی بدعنوانی، طاقت کی بھوک، اور دھوکہ بازی کی.

سیاہ اور سفید کی دھندلی لکیر

Muharar e dil short novel by Bint e Usman

  • by

کہانی ہے ایک ایسی لڑکی کی جو سیدھے راستے سے بھٹک گئی تھی۔جو اپنے ساتھ ظلم کر بیٹھی تھی۔جو اپنی صلاحیت کا انجانے میں غلط استعمال کر بیٹھی تھی۔کہانی ہے مہمل فاروقی کی جو گناہوں کی دلدل میں پھنسنے جا رہی تھی اگر اسے بروقت ہدایت نہ ملتی تو وہ مکمل طور پر اس دلدل میں دھنس جاتی جہاں سے واپسی شاید ہی ممکن ہو پاتی اس کے لیے۔

Dar e mohabbat se humkinar nahi by Aina Noor Complete novel

  • by

آپ دونوں ہر جگہ بن بلائے مہمان بن جایا کرو”۔

” اوہ موٹی تم چپ کرو تم سے کوئی بات کر رہا۔ایویں ہر معاملے میں ٹانگ نہ گھسایا کرو۔ بابا ہم بھی آپ کے ساتھ چلیں گے ” شاہ ویز بولا۔

“آپ کی ہمت بھی کیسی ہوئی مجھے موٹی کہنے کی، ایس پی کی بیٹی ہوں میں”۔

“اور میں کہاں سے موٹی لگتی ہوں اتنی پتلی تو ہوں میں” عاشی نے غصے سے کہا غصے سے عاشی کی چھوٹی سی ناک پھول گئی تھی۔

“میں بھی انہی کا بیٹا ہوں” شاہ ویز نے اس کی پھولی ناک دباتے ہوئےکہا۔

“اور تم پہلے موٹی ہی ہوتی تھی اب ڈائٹ ایکسرسائز کر کے پتلی ہوئی ہو ، تو خود کو زیادہ اوور سمارٹ نہ سمجھو اور اپنا یہ چھوٹا دماغ کم استعمال کیا کرو”۔

عاشی نے غصے سے شاہ ویز کا ہاتھ جھٹک دیا جس سے وہ اس کی ناک دبا رہا تھا۔

“میں تو پھر ڈائٹ ایکسرسائز کر کے پتلی ہو گئی ہوں۔ آپ بھی کچھ کھا پی کر اپنی صحت بناؤ۔ تھوڑی سی تیز ہوا چلے تو مجھے ڈر ہی لگا رہتا ہے کہ کہیں میرا بھائی اس ہوا سے اُڑ ہی نہ جائے، سڑا ہوا مینڈک نہ ہو تو” عاشی نے اس کی صحت پر چوٹ کی۔

“شاہ ویز اب تو تمہیں جم جوائن کر ہی لینی چاہئے” بالاج ہنستے ہوئے بولا۔

شاہ ویز نے بالاج کو غصے سے گھورا جس کا بالاج پر کوئی اثر نہ ہوا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭