Skip to content
Home » Archives for Mubarra » Page 165

Mubarra

Khud ba khud by Mishal Ali Complete novel

  • by

“تُم تو جانتی ہو بابا مجھے فورس کر رہے ہیں کہ میں تُم سے شادی کرو لیکن ۔ وہ کچھ رکا “۔

“۔لیکن میں تُم سے شادی نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔”

وہ سنجیدہ ہوکے بولا

“٫ کیا تم مجھے سے شادی نہیں کرنا چاہتے ہو۔

اُسے ایک منٹ کے لئے بھی حیرانی نہیں ہوئی تھی اسکو جیسے الہام ہوا تھا۔۔۔

“مجھے اندازہ تھا اس بات کا__”

لڑکی نے کافی لبوں سے لگايا اُسکی دو لٹیں چہرے پے جھول رہی تھی

وہ شرارتی آنکھوں والا کُچھ حیران ہوا اس نے اپنی جیب سے ایک سفید گلاب نکال کر ٹیبل پر رکھ دیا اور مسکرا کر بولا۔۔۔

“٫یہ ہم دونوں کی اینڈ ہے کیوں نے اس اینڈ کو خوبصورت کیا جائے__”

Safar e hidayat by Memona Noman Complete afsana

  • by

ابا جی ہدایت کیا ہوتی ہے؟” اس نے ان کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر بے تابی سے پوچھا. اس کے جواب میں وہ ہنوز سر جھکائے تسبیح کے دانے گراتے رہے. پھر آخر کار دو منٹ بعد انہوں نے جھکا ہوا سر اٹھایا اور ہلکا سا مسکرائے.

” اپنے دل سے پوچھو. تمہارا دل جانتا ہے.”

” نہیں بابا وہ نہیں جانتا.”

اس نے بغیر سوچے سمجھے کہا.

” میں دماغ کی نہیں دل کی بات کر رہا ہوں. دماغ بے شک نہیں لیکن دل واقف ہے. پوچھو اس دل سے کہ ہدایت کیا ہوتی ہے؟”

“بابا جی آپ بتائیں نا.” وہ بضد ہوئی. دل کی دھڑکن تیز ہوتی جا رہی تھی.

” نماز پڑھتی ہے؟”

“وہ… بچپن میں پڑھتی تھی.” “اب کیوں نہیں پڑھتی؟ اس ذات پہ ایمان نہیں رہا یا بھروسہ یا توکل؟” ان کے سوال پر وہ چپ رہی. بولنے کو کچھ بچا ہی نہیں تھا.

“نماز پڑھا کر.” وہ کہہ کر اپنا جھولا اٹھائے کھڑے ہوئے اور اپنی سیدھے ہاتھ کی شہادت والی انگلی آسمان کی جانب کرتے ہوئے زور سے بولے.

“وہی خدا ہے. وہی بندگی کے لائق. اسی سے مانگو کیونکہ وہی دینے والا ہے. وہی دیتا ہے. اور وہی دے گا.” اس کے بعد وہ رکے نہیں اور آگے بڑھتے چلے گئے اور پیچھے نوری خیالات میں گھری کھڑی رہ گئی.

Khail by Sana Sadia Complete novel

  • by

ایک دو سال سے شرجیل کو یہ بات پتہ لگی ہے اور اب وہ بھی ان کے ساتھ پورا پورا ملوث ہے اور میرا خیال ہے کہ آیاس صاحب کچھ عرصے بعد یہ سارا سمگلنگ کا کام شرجیل کے ذمے کر دیں گے

اور تمہیں کیا پتہ لگا کہ ہمیں انفارمیشن کون دے رہا ہے؟

ہاں سنا مطلب پیچھے جو ویڈیوز وغیرہ تمہیں ملی ہیں اور جو ڈیٹیل تھی ساری سمگلنگ کی

ہاں تھوڑا بہت شک ہے جن کے ساتھ یہ سمگلنگ کرتے ہیں ان میں سے کوئی آدمی ہے کیونکہ نہ صرف انفارمیشن آیاس صاحب کی ملی ہیں بلکہ دوسری سائیڈ کی بھی کافی انفارمیشن ملتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ انفارمیشن دینے والا ایک نہیں کافی ہوں ایسا بھی تو ہو سکتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سمگلر کا کوئی قریبی ہی انفارمیشن دے رہا ہو ان کے ساتھ یہ ڈیلز فائنل کرتے ہیں اسی کے پاس آیاس صاحب کی بھی انفارمیشن ہو سکتی ہے اور جن کے ساتھ یہ ڈیل کر رہے ہیں ان کی بھی

کیا تمہیں ان کا نام نہیں پتہ لگا ابھی تک کافی سمگلرز کا پتہ لگا ہے مگر جو اس بندے کو چلا رہا ہے یا ان کا لیڈر کہہ سکتے ہو اس کا بھی نہیں پتہ

***************

Ehd e intezar (Part 1 of hiyat beismik) by Bint e Aijaz Complete novel

  • by

“خدا کرے تجھے بھی محبّت تڑپاۓ

تیری سانسوں میں میرا نام آۓ

تیری دھڑکن کو میری صدا آۓ

تیری نظر میں اک حجاب آۓ

اس حجاب میں جھکی وہ پلکیں یاد آئیں

جو قدم تونے موڑ لیے…

ان قدموں کو دیکھ تو روز پچھتاۓ

خدا کرے تجھے بھی محبّت ترپاۓ

تو لوٹ کر پھر اس نگر میں جائے

وہ خالی میدان دیکھ تو چیخے چلاۓ

میری خاموشی میں چھپی میری ہسی تجھے یاد آۓ

تو بن چاہے لوٹ آۓ… بس ایک بار لوٹ آۓ

خدا کرے میری طرح تجھے میری محبّت ترپاۓ”

(بنتِ اعجاز)

Naqab posh mafia by Fizza Eman Complete novel

  • by

لالا۔۔ کیا تم اس ۔شادی سے مطمئن ہے ۔۔ہمممم چھوٹے وہ لڑکی میرا پہلا عشق ہے لیکن مجھے اس سے نفرت اور عشق دونوں ہے ۔۔۔ جب جیمین نے گوک خانزادہ کا ہاتھ تھاما لالا بھابھی معصوم ہے آپ انھیں سزا مت دینا ۔۔۔ہمممم تمہیں کیا لگتا ہے اسے تکلیف دے کر مجھے سکون ملے گا تو تم غلط ہو میں اس کو تکلیف دوں گا تو اس سے بڑھ کر تکلیف مجھے ہوگی بس میں زاویار شاہ کو واپس یہاں لانا چاہتا ہوں اور میں جانتا ہوں اس کے لئے مجھے حانیہ شاہ کو تکلیف دینی ہوگی اور اس کے ساتھ ساتھ خود کو بھی ۔۔۔۔ہمممم لالا بس خیال کرنا انھیں تکلیف دیتے دیتے کہی ان کے دل میں اپنی محبت بھی نا ختم کر دینا یہ نا ہو بھابھی نفرت کرنے لگے اتنی تکلیف نے دیجئے گا انھیں ۔۔۔۔

Mere angan mein utra chand by Ayesha Falak Sher Complete novel

  • by

” کیا ہو گیا آہان تُمہارے مُنہ پر بارہ کیوں بج رہے ہیں”۔

میرے پُوچھنے پر آہان مُجھے اِگنور کرتا ہوا بیڈ پر جا کر بیٹھ گیا تو زوہان نے ہنستے ہوۓ بتانا شُروع کیا۔

“ہک ہا اب یہ بیچارہ کیا بتاۓ گا کے تُمہارے جانے کے بعد اس کا رزلٹ چاچو نے دیکھ لیا تھا اور پھر اِس کے ساتھ وہ ہوا۔۔۔وہ ہوا جو ہم نے ابھینندن کیساتھ بھی نہ کیا تھا”۔

یہ بتاتے ہوۓ زوہان کے چہرے پر ہنسی تھی جسے وہ بڑی مُشکل سے کنٹرول کر رہا تھا۔

اب میری سمجھ میں آیا تھا کے آہان کو چاچو سے مار پڑی تھی جسے زوہان انجواۓ کر رہا تھا۔

“اور ہنسو کُھل کر ہنسو نہ بے شرم اِنسان یہ لڑکیوں کی طرح پھنس پھنس کر کیوں ہنس رہے ہو”۔

زوہان کو ہنستے دیکھ کر آہان نے غُصے سے کہا تھا جس پر زوہان کی ہنسی چھوٹ گئ تھی جبکے ہم سب بھی دبا دبا سا ہنس دے تھے۔

پھر زوہان گلا کھنگارتا ہوا آگے ہوا اور بولنا شُروع کیا۔

“بھائیوں اور اُن کی بہنوں اس سیچیوشن کو دیکھتے ہوۓ میرے دماغ میں ایک شعر آرہا ہے جسے میں آپ کی خدمت میں عرض کرنا چاہوں گا”۔

“اِرشاد اِرشاد” ہادیہ اور ارمان نے ایک ساتھ اُونچی آواز میں کہا جبکہ آہان نے آہان نے ناک پُھلا کر اور آنکھیں چھوٹی کرکے زوہان کو دیکھا تھا گویا تنبہیہ کیا تھا کے باز آجاؤ مگر زوہان نے اُسے نظرانداز کرتے ہوۓ بولنا شُروع کیا۔

*تُند باد مُخالف سے نہ گھبرا اۓ عُقاب

یہ تو چلتی ہے تُجھے اُونچا اُڑانے کے لیے*

Al qamar makhzoob by Rimsha Riaz Complete novel

  • by

تم کب مجھے یہاں سے چھٹکارا دلاؤ گے ، گوری نہ جانے کتنی بار اس سے پوچھ چکی تھی، وہ اس کے پیروں کی طرف بیٹھی ہوئی تھی ۔

کیا مصیبت ہے یار! عادی کوفت سے اٹھا جھٹکا لگنے سے گوری پیچھے کو گری۔کہنی زمین پہ لگنے سے کراہی

اب اتنی بھی نہیں لگی جو آوازیں نکال رہی ہو۔وہ بیزارگی سے بولا ۔

بعض اوقات چھوٹی چھوٹی چوٹیں بڑے بڑے درد یاد دلا دیتی ہیں ، عادی، وہ زہریلی مسکراہٹ سے بولی۔

یہ کیا عادی عادی لگا رکھا ہے ، تم جیسی طوائفوں کے منہ سے مردوں کے نام نہیں اچھے لگتے سمجھی، اس نے اس کا بازو مروڑا تو وہ سسکی۔

ہم جیسی ؟ عورت جسم بیچے تو طوائف! اور اس جسم کے خریدار کو کیاکہتے ہوں گے صاحب؟ وہ طنزیہ ہنسی!

شٹ اپ وہ چلایا۔

جانتے ہیں اس کو کہتے ہیں درندہ ، سور اس سے بہتر ہوتا ہے ، گند میں منہ مارتا ہے مگر اس کا صفایا بھی خود کرتا تم جیسا نہیں ہوتا ، ہاں جو عورتوں کو ان کی خوبصورتی کی وجہ سے شادی کی لالچ دیں ، اور پھر کام بن جائے تو نمازی ہونے کا ڈھونگ کریں۔ وہ بھی حلق کے بل چلائی۔

عادی نے ہتھوڑے جیسے ہاتھوں میں اس کا نازک جبڑا زور سے پکڑا، ضبط سے اس کی انکھوں سے آنسو بہنے لگے اس کی آنکھیں بند تھیں۔رخسار گلابی ہو رہے تھے۔ہونٹ پھڑپھڑا رہے تھے مگر ظالم کی گرفت اس کیلے گھٹن بن رہی تھی۔

ھا ھا تم سے شادی؟ وہ بھی عادی خان ؟ طوائف سے ؟ تم جیسی عورتیں صرف باہر کی زینت ہوتی ہیں جس زینت کا ہم مرد اچھے سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، اور رہی بات خوبصورتی کی ، تو پرنسس یہی تو تمھاری دشمن ہے، بیوی میری تمھاری طرح تھوڑی ہو گی! وہ نحوست سے اسے جھٹک گیا۔

باہر کی عورت کو ناپاک کر کے تمھیں بیوی پاک چاہیے واہ کمال ! وہ استھزا سے اس کی انکھوں میں دیکھ رہی تھی۔

چچ برا ہوا میں نے تمھیں ناپاک کیا؟ کیا اس سے پہلے تمھیں کسی نے نہ چھوا ہاں؟ وہ اسے مزاحیہ نظر سے جانچنے لگا ۔

اس نے زخمی نظروں سے اسے دیکھا جو اس کو محرم بننے کا وعدہ دے چکا تھا۔

کیا انسان اتنی جلدی وعدوں کو پس پشت ڈال دیتے ، وہ اذیت میں تھی۔

کیا ہوا غصہ اریا ہے ؟ ھا ھا آنا بھی چاہیے تم جیسی معصوم لڑکیوں کو لگتا ہے کہ تمھارا گاہک تمھارا محرم بنے گا ! کیا واہیات ہے ، مرد جس چیز کو خریدتے ہیں ، اس کو استعمال کے بعد مڑ کے دیکھتے تک نہیں ، جب تک وہ کام کی ہے یا جب تک دل نہ بھر جائے ، وہ اس کے کان میں سرگوشی کر کے بولا اور پیچھے ہٹ کے قہقے لگانے لگا۔

خدا تم سے حساب لے گا! وہ ضرور لے گا ، وہ ڈھے سی گئی ، اس کی آواز گھٹ گئ۔

عادی طیش سے اس کی طرف بڑھا اس کا منہ دبوچا۔

تم کون سی پارسا ہو ہاں تم بازار* عورت اس نے تپھڑ جڑ دیا،

مار دو مجھے چھین لو سانیسں، ازاد کر دو مجھے ، کر دو آزاد وہ روتی ہوئی اس کے قدموں میں بیٹھ گئ۔

عادی نے اسے بالوں سے پکڑ کر کھڑا کیا۔

کوئی بھی نکاح نہیں کرتا ، کرنا ہوتا تو یہان نہ آتا اس لیے جو کام کرتی آرہی ہو وہی کرو زیادہ ہوا میں مت اڑو خاص طور پہ جب تمھارے پر کٹے ہوں وہ چبا چبا کے بولا۔

خدا تمھیں بھی تمھارے پیار سے دور کرے گا عادی مکافات عمل ہوگا تمھارے ساتھ ، وہ روتے ہوئے خود کو چھڑانے لگی۔

ھا ھا مکافات عمل ؟ یہ تو صرف کہاوت ہے پرنسس ، اجکل دوسروں کو رلانے والے مخلفیں لگاتے ہیں ، سکون میں ہوتے ہیں، عیش کرتے ہیں ، اور تم جیسے بیوقوف لوگ بس مکافات عمل کا انتظار کرتے ہیں، وہ استھزا سے بولا۔

تم اس ہستی کو بھول گئے عادی تم سفاک ہوگے تم لاپروا ہو گے وہ تمھیں گھٹنوں پہ لے آئے گا، وہ تم سے تمھاری انا غرور چھین لے گا ، پھر تم اسی در پہ تم ، تم عادی آو گے تب میں تمھیں دھتکاروں گی،وہ اس کے سینے پہ انگلی رکھ کر بولی اس کی انکھوں میں خون تھا۔

عادی نے اسے دور کیا اسے خوف آیا ، اس گھن آئی خود سے اسے کچھ سمجھ نہیں آئی ، وہ لمبا سانس لے گیا۔

تمھاری ہنسی جب چھن جائے گی تب تمھیں پتا چلے گا خوف خدا کیا ہوتا ہے، وہ غرائی۔

وہ کانپتے ہوئے پیچھے ہوا اس نے ماتھے پہ آیا پسینہ پونچھا اب وہ ہنس رہی تھی۔ اسے اور ڈر لگنے لگا اس نے شرٹ پہنی اور بھاگ آیا ، پہلی بار اسے طوائف نے ڈرایا تھا ، اسے خدا یاد آیا تھا ، اس نے گندگی میں پاکی تلاش کرنی چاہی ، یہ پہلی بار تھا۔مگر ابھی اسے سفر کرنا تھا